مخدرات اور مضر صحت چیزوں کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

مخدرات (عقل کو بے حس کرنے والی چیزیں)

شراب سے قرآن میں منع کیا گیا ہے، جاننا چاہیے کہ خمر کیا ہے؟
الخمر ما خامر العقل
”خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانک دے۔“
بخارى كتاب الاشربة : باب ماجاء فى ان الخمر ما خامر العقل ح 5588 – مسلم کتاب التفسير : باب في نزول تحريم الخمر ، ح : 3032
ایک درخشندہ بات ہے جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی انھوں نے برسرِ منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے بیان فرمایا۔ اس سے خمر کا مفہوم متعین ہو جاتا ہے اور کسی شبہ کے لیے گنجائش نہیں رہتی۔ ہر وہ چیز جو عقل پر پردہ ڈالے اور قوت ممیزہ قوت مدرکہ اور قوت فیصلہ کو متاثر کر دے خمر (شراب) ہے، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک کے لیے حرام ٹھہرایا ہے۔
مخدرات مثلا : گانجا کوکین، افیون وغیرہ بھی اسی قبیل کی چیزیں ہیں۔ یہ عقل پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہیں کہ دور کی چیز قریب اور قریب کی چیز دور نظر آنے لگتی ہے۔ جو چیز امر واقع میں موجود ہے اس کے بارے میں ذہول ہونے لگتا ہے اور جو چیز واقعتہ موجود نہیں ہے اس کو آدمی موجود خیال کرنے لگتا ہے۔ اس طرح وہ اوہام و خیالات کے سمندر میں تیرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے نفس اپنے دین اور اپنی دنیا سب کو بھول کر محض خیالات کی وادی میں بھٹکنے لگتا ہے۔
علاوہ ازیں اس سے جسم میں فتور، اعصاب میں بے حسی پیدا ہو جاتی ہے اور صحت کمزور ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ جو پست ہمتی، اخلاقی گراوٹ، ارادہ کا ڈھیلا پن اور شعور میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، اس کے نتیجہ میں ان زہریلی اشیاء کے عادی معاشرہ کے جسم کا ناسور بن کر رہ جاتے ہیں۔
ان تمام خرابیوں کے علاوہ ضیاع مال اور گھروں کی تباہی اس پر مستزاد ہے۔ اور بعض اوقات تو ان منشیات کا عادی اپنے بیوی بچوں کی غذا تک کا پیسہ نشے پر خرچ کر بیٹھتا ہے اور کبھی دیگر غیر شریفانہ طریقے اختیار کرتا ہے۔
اسلام کا یہ اُصول ہم بیان کر چکے ہیں کہ حرام چیزیں خباثت اور مضرت کا باعث ہیں اور حقیقتاً یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ صحت کے نقطہ نظر سے نیز نفسیاتی اجتماعی اور اقتصادی لحاظ سے یہ چیزیں سخت مضر ہیں، جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان خبائث کی حرمت پر اُن تمام فقہاء کا اتفاق ہے جن کے زمانہ میں ان چیزوں کا ظہور ہوا۔ ان کے پیش پیش شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ہیں۔
موصوف فرماتے ہیں :
یہ حشیش (گانجا) حرام ہے خواہ اس سے مدہوشی طاری ہو یا نہ ہو اس میں نشہ ہوتا ہے اس لیے اسے فاجر لوگ ہی استعمال کرتے ہیں۔ اور یہ اپنی خصوصیت کی بنا پر نشہ آور شراب ہی کے قبیل کی چیز ہے۔ شراب محرک ہے اور خصومت (جھگڑے) کے جذبات پیدا کرتی ہے اور گانجا عقل میں فتور پیدا کر کے ذلت کا سامان پیدا کرتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ عقل و مزاج میں خرابی پیدا کرنے کا باعث ہے نیز اس سے شہوت کو شہ ملتی ہے اور بے غیرتی پیدا ہو جاتی ہے۔ ان خرابیوں کے پیش نظر گانجا نشہ آور شراب سے بھی بدتر چیز ہے۔ لوگوں میں اس کا رواج تاتاریوں کے ظہور سے ہوا ہے۔ اس کے پینے پر خواہ تھوڑی مقدار میں پیا جائے یا زیادہ مقدار میں شراب کی حد یعنی اسی یا چالیس کوڑے لگائے جانے چاہئیں۔ جس شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو جائے کہ اس نے گانجا پیا ہے تو اس کی یہ حرکت بمنزلہ شراب نوشی کے ہے بلکہ بعض وجوہ سے اس سے بھی بدتر ہے۔ اور اسے استعمال کرنے والا شراب نوشی ہی کی طرح کی سزا کا مستحق ہے۔ شریعت کا قاعدہ یہ ہے کہ محرمات میں سے جن چیزوں کی دلوں میں اشتہاء پیدا ہوتی ہے جیسے شراب اور زنا ان پر حد جاری کی جائے گی، لیکن جن چیزوں کی اشتہاء پیدا نہیں ہوتی ، جیسے مردار ان پر تعزیر ہے اور گانجا تو پینے والوں کو ایسا مرغوب ہوتا ہے کہ وہ اسے کسی حال میں چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے، حالانکہ کتاب و سنت کی نصوص اس کے حرام ہونے پر اسی طرح دلالت کرتی ہیں جس طرح کہ دوسری قسم کی شراب کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
فتاوى ابن تيمية رحمہ اللہ ج 4 ص 262 اور السياسة الشرعية

جو چیز بھی ضرر رساں ہو اس کا کھانا پینا حرام ہے :

اسلامی شریعت کا عام قاعدہ یہ ہے کہ مسلمان کے لیے کسی ایسی چیز کا کھانا پینا جائز نہیں ہے جو اسے فورا یا آہستہ آہستہ ہلاک کر دے۔ مثلاً : ہر قسم کا زہر یا اور کوئی مضر چیز۔ اسی طرح بکثرت کھانا پینا بھی جائز نہیں کہ بسیار خوری کے نتیجہ میں بیمار پڑ جائے۔ مسلمان کی تحویل میں صرف اس کا نفس ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کا دین اس کی ملت اس کی زندگی، اس کی صحت اس کا مال اور اللہ کی ساری ہی نعمتیں اس کے پاس امانت ہوتی ہیں، لہذا ان کو ضائع کرنا جائز نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَا تَقْتُلُوا انْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا
”اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقینا اللہ تم پر مہربان ہے۔“
(النساء : 29)
اور فرمایا :
وَلَا تُلْقُوا بِايْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلَكَةِ
”اور اپنے ہاتھوں کو اپنے آپ ہلاکت میں نہ ڈالو۔“
(البقرة : 195)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
لا ضرر ولا ضرار
”ضرر پہنچانا، اپنی تمام صورتوں کے ساتھ نا جائز ہے۔“
مسند احمد (1/ 313) ابن ماجه كتاب الاحكام باب من بنى في حقه ما يضر بجاره ح 2341 ، 2340 من رواية عبد الله بن عباس ، عبادة بن الصامت رضي الله عنهما
اس اُصول کی مناسبت سے ہم کہتے ہیں کہ تمباکو خبیث ہونے کے علاوہ اگر استعمال کرنے والے کے لیے مضر ثابت ہو رہا ہو تو دو وجوہ سے حرام ہے۔ خاص طور سے جبکہ ڈاکٹر کسی خاص شخص کے بارے میں یہ بتلائے کہ تمباکو کا استعمال اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ اگر بالفرض تمباکو مضر صحت نہ ہو، تب بھی وہ مال کا ضیاع ہے جس میں نہ دینی فائدہ ہے نہ دنیوی۔ حدیث میں ہے :
نهى النبى صلى الله عليه وسلم عن إضاعة المال
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔“
بخاری کتاب الرقاق باب ما يكره من قيل وقال ح : 6473 – مسلم كتاب الاقضية باب النهي عن كثرة المسائل ح : 593/14
اور یہ ممانعت اس صورت میں اور مؤکدہ ہو جاتی ہے جبکہ آدمی اپنی ذات یا اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کا ضرورت مند ہو۔