اولاد کے حقوق، نسب کی نسبت، عطیہ اور میراث کے شرعی احکام

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے کو منسوب کرنا موجب لعنت ہے

اسلام میں جس طرح باپ کا اپنی اولاد کے نسب سے بلاوجہ انکار کرنا حرام ہے اسی طرح اولاد کا خود کو کسی دوسرے نسب کی طرف منسوب کرنا اور اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کو اپنا باپ قرار دینا بھی حرام ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا شمار بدترین منکرات (گناہوں) میں کیا ہے جس کے نتیجہ میں آدمی خالق اور مخلوق دونوں کی لعنت کا مستحق بن جاتا ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا
”جس نے اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کا دعویٰ کیا یا اپنے آقا کے علاوہ کسی اور آقا کا غلام ہونے کا دعویٰ کیا تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اللہ اس سے نہ توبہ قبول کرے گا اور نہ ہی کسی قسم کا فدیہ۔“
بخاری کتاب الفرائض باب اثم من تبرأ من موالیہ ح : 6755 ، مسلم کتاب الحج باب فضل المدینۃ ح : 1370
اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام
”جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا اس حال میں کہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا (حقیقی) باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے۔“
بخاری کتاب الفرائض باب من ادعى الى غیر ابیہ ح : 6766 ، مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من رغب عن ابیہ وهو یعلم ح : 63

اولاد کو قتل نہ کرو

اس طرح اسلام نے انساب کا تحفظ کرتے ہوئے اولاد اور والدین، دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق عائد کیے ہیں اور ان حقوق کے تحفظ کی غرض سے چند باتیں دونوں پر حرام کر دی ہیں۔ چنانچہ اولاد کو زندہ رہنے کا حق ہے۔ ماں باپ کو اس کا اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی اولاد کو قتل کر دیں یا زندہ درگور کریں، اولاد کو کسی طرح زندگی سے محروم کر دینے کا حق والدین کو نہیں پہنچتا۔ زمانہ جاہلیت میں بعض عربوں کے ہاں اولاد زندہ درگور کرنے کا رواج بد تھا۔ اسلامی تعلیمات میں لڑکا اور لڑکی دونوں کی زندگیاں یکساں طور پر محترم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا
”اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشہ سے قتل نہ کرو۔ ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی، بے شک ان کا قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔“
(سورہ الاسراء : 31)
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ‎8 بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ
”اور جب زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی ؟“
(سورہ التكوير : 8-9)
اس منکر کا داعیہ خواہ اقتصادی ہو یعنی مفلسی کا ڈر اور رزق کی جنگی یا کوئی غیر اقتصادی وجہ ہومثلا لڑکی کی پیدائش کو اپنے لیے باعث عار سمجھنا وغیرہ۔ اس وحشیانہ فعل کو بہر صورت اسلام نے شدید حرام ٹھهرایا ہے۔ کیونکہ یہ فعل قتل، قطع رحمی اور کمزور نفس پر ظلم جیسے بہت زیادہ منکرات کے مشتمل ہے۔ حدیث نبوی ہے :
سئل النبى صلى الله عليه وسلم أى الذنب أعظم؟ فقال: أن تجعل لله ندا وهو خلقك. قيل: ثم أي؟ قال: أن تقتل ولدك مخافة أن يطعم معك
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا : کونسا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ کا ہمسر ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ پوچھا: اس کے بعد کون سا؟ فرمایا : یہ کہ تم اپنی اولاد کو قتل کرو اس اندیشہ سے کہ وہ تمہارے کھانے میں شریک ہوگی۔“
بخاری کتاب التفسير سورة البقرة : باب قوله تعالى فلا تجعلو الله اندادا ، مسلم کتاب الايمان باب بيان كون الشرك اقبح الذنوب ح : 86
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے اس بات پر بیعت لی تھی کہ وہ اس جرم (قتل کرنے) کے ارتکاب سے باز رہیں گی :
وَلا يَقْتُلْنَ أولادَهُنَّ
”اور وہ نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گے۔“
(سورہ الممتحنة : 12)
بخاری کتاب التفسير سورة الممتحنة ح : 4891 – 4895 – مسلم كتاب الامارة باب كيفية بيعة النساء ح : 1866
باپ کے اوپر بچہ کا ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اس کا نام اچھا رکھے۔ ایسا نام نہ رکھے کہ جب وہ بڑا ہو تو اپنے نام سے اسے کوفت ہونے لگے۔ اسی طرح ایسا نام بھی نہ رکھے کہ غیر اللہ کا بندہ کہلائے، جیسے عبد النبی عبد المسیح وغیرہ۔ اولاد کا یہ حق بھی ہے کہ اس کی نگہداشت اور تربیت کی جائے اور اس پر خرچ کیا جائے۔ ان حقوق کی طرف سے بے اعتنائی و لا پرواہی برتنا یا ان کو ضائع کرنا، جائز نہیں ہے۔ ارشاد نبوی ہے :
كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته
”تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور ہر ایک سے اس کے زیر نگرانی افراد کے بارے میں باز پُرس ہوگی۔“
بخاری کتاب الجمعة باب الجمعة في القرى والمدن ح : 893 ، مسلم كتاب الامارة باب فضيلة الامر العادل : 18329
كفى بالمرء إثما أن يضيع من يقوت
”آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اس پر جن کو کھلانے کی ذمہ داری ہے، ان کی طرف سے بے پروا ہو جائے۔“
ابو داود كتاب الزكوة باب فى صلة الرحم ح : 1692 واللفظ له ـ وهو عند مسلم في كتاب الزكوة باب فضل النفقة على العيال ح : 996 بلفظ آخر وقد تقدم : 303

عطا و بخشش کے معاملہ میں مساویانہ سلوک

باپ پر لازم ہے کہ بخشش کے معاملہ میں اپنی اولاد کے ساتھ مساویانہ سلوک کرے تا کہ سب بچے اپنے باپ کے ساتھ نیک سلوک کر سکیں۔ بخشش کے معاملہ میں اپنی بعض اولاد کو بلا ضرورت یا کسی وجہ جواز کے بغیر ترجیح دینا حرام ہے کیونکہ اس سے باہمی اشتعال پیدا ہو جاتا ہے اور آپس میں بغض و عداوت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ یہ ہدایت جس طرح باپ کے لیے ہے اسی طرح ماں کے لیے بھی ہے۔ ارشاد نبوی ہے :
اعدلوا بين أبنائكم اعدلوا بين أبنائكم اعدلوا بين أبنائكم
”اپنے بیٹوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کرو اپنے بیٹوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کرو اپنے بیٹوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کرو۔“
مسند احمد : 4 / 275 ، 278 ، ابو داؤد کتاب البيوع باب في الرجل يفضل بعض ولد في النحل : 3544 نسائی کتاب النحل : 3717 وهو متفق عليه بلفظ اعدلوا بين أولادكم دون التكرار انظر الاحاديث الآتيه
امر واقع یہ ہے کہ صحابی رسول سیدنا بشیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی نے خاص طور سے اپنے لڑکے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے لیے مالی عطیہ کا مطالبہ کیا اور اس بخشش کی توثیق کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنانے کے لیے کہا۔ سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی چاہتی ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے اور بھائی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں! فرمایا :
فكلهم أعطيت مثل ما أعطيته؟ قال لا – قال فليس يصلح هذا وإني لا أشهد إلا على الحق
”کیا تو نے اسی طرح سب کو ہبہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : پھر یہ بات درست نہیں ہے اور میں سوائے حق کے کسی اور چیز پر گواہ نہیں بنتا۔“
مسلم کتاب الهبات باب كراهية تفصيل بعض الاولاد في الهبة ح : 1623 – وهو عند البخاري في کتاب الهبة باب الهبة للولد ح : 2576 ، 2587 ، 2650 بلفظ مختلف
دوسری روایت میں ہے :
لا تشهد على جور إن لبنيك عليك من الحق أن تعدل بينهم كما لك عليهم من الحق أن يبروك
”مجھے ظلم پر گواہ نہ بناؤ۔ تمہارے بیٹوں کا تم پر حق ہے کہ ان کے ساتھ یکساں سلوک کرو جس طرح تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے ساتھ نیک سلوک کریں۔“
ابو داؤد كتاب البيوع باب في الرجل يفضل بعض ولده في النحل : 3542 ، رواه مسلم في كتاب الهبات : باب كراهة تفضيل بعض الاولاد فى الهبة ح : 17 ، 18 معناه
تیسری روایت میں ہے :
اتقوا الله واعدلوا فى أولادكم
”تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے معاملہ میں عدل اختیار کرو۔“
بخاري كتاب الهبة باب الاشهاد في الهبة ح : 2587 ، مسلم حواله سابق – ح : 1623/13
امام احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ان سے سوال کیا گیا کیا کسی سبب کی بنا پر اپنی اولاد میں سے کسی کو ترجیح دینا جائز ہے؟ جیسے کسی لڑکے کے معذور یا حاجتمند ہونے کی بنا پر اسے ترجیح دینا۔ المغنی میں ہے :
”اگر اولاد میں سے کسی کو کسی خاص وجہ سے ترجیح دی جائے مثلاً حاجتمند معذور نابینا یا کثیر العیال ہونے یا مصروفیت علم وغیرہ کی بنا پر ترجیح دی یا کسی لڑکے کو فسق اور بدعت وغیرہ میں مبتلا ہونے یا معصیت کی راہ میں خرچ کرنے کی وجہ سے بخشش سے محروم رکھا تو ایسی صورت میں امام احمد رحمہ اللہ جواز کے قائل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک بعض اولاد کے لیے وقف کر دینے کا تعلق ہے ضرورتاً ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر بلا ضرورت بعض اولاد کو بعض کے مقابلہ میں ترجیح دی جائے تو میں اسے مکروہ خیال کرتا ہوں۔ رہا عطا و بخشش کا معاملہ تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔“
المغنى – ج 5 ص : 5-6

میراث کے معاملہ میں قانونِ الہی کی پابندی

اسی طرح میراث کے معاملہ میں اپنی کسی اولاد کو یا اپنی لڑکیوں کو یا اپنی غیر محبوب بیوی کی اولاد کو، میراث سے محروم کر دینا جائز نہیں ہے۔ اور نہ ہی کسی دوسرے رشتہ دار کا میراث کے مستحق رشتہ دار کو کسی حیلہ کے ذریعہ محروم کر دینا روا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میراث کا نظام اپنے علم، عدل اور حکمت و علم کی بنا پر مرتب فرمایا اور ہر حق دار کو اس کا حق عطا کیا ہے اور لوگوں کو قانونِ الہی اور شریعت کی پابندی کرنے کی ہدایت کی ہے لہذا جو شخص اس نظام وراثت کی مخالفت کرتا ہے وہ اپنے رب کو الزام دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میراث کے مسائل نہایت تفصیل کے ساتھ مختلف تین آیتوں میں بیان فرمائے ہیں اور پہلی آیت کے خاتمہ پر فرمایا ہے :
آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
”تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ اور تمہارے بیٹوں میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ فریضہ من جانب اللہ ہے۔ بے شک اللہ علم و حکمت والا ہے۔“
(سوره النساء : 11)
دوسری آیت کے خاتمہ پر ارشاد فرمایا :
غَيْرَ مُضَارٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ‎12 تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
”بغیر کسی کو ضرر پہنچائے۔ یہ اللہ کی طرف سے وصیت ہے اور اللہ علم و حلم والا ہے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے اللہ انہیں ایسے باغوں (جنتوں) میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں رواں ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرے گا اسے ایسی آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔“
(سوره النساء : 12-13)
اور تیسری آیت کے اختتام پر واضح فرمایا :
يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
”اللہ وضاحت کے ساتھ بیان فرماتا ہے تاکہ تم بھٹکو نہیں۔ اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔“
(سوره النساء : 176)
لہذا جو شخص میراث کے معاملہ میں شریعت کی مخالفت کرتا ہے وہ اللہ کے واضح کردہ حق (وراثت) سے منحرف ہو کر گمراہی میں جا پڑا ہے اور حدود الہی سے تجاوز کرتا ہے۔ ایسی صورت میں اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اس وعید کا انتظار کرے :
نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ
”نار جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔“
(سوره النساء : 14)