مجلس میں بیٹھنے کے آداب، مخنثوں کے داخلے اور گھروں میں جھانکنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھنے کی ممانعت

① عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجلس بين رجلين إلا بإذنهما
دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو۔
ابوداؤد، کتاب الادب 4844۔
② انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل لرجل أن يفرق بين اثنين إلا بإذنهما
کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر جدائی پیدا کرے۔
ترمذی، کتاب الادب 2752، حدیث حسن صحیح ہے۔

کسی کی جگہ پر بیٹھنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يقيمن أحدكم رجلا من مجلسه ثم يجلس فيه ولكن توسعوا وتفسحوا يفسح الله لكم
تم میں سے کوئی شخص اپنے بیٹھنے کے لیے کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے بلکہ وسعت اور کشادگی پیدا کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا کر دے گا۔
بخاری، کتاب الاستئذان 6269، مسلم، کتاب السلام 27 / 2177۔
② انہی سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دوسرا آدمی اس کے لیے اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔ وہ آدمی وہاں بیٹھنے کے لیے گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔
ابوداؤد، کتاب الادب 4828۔

مخنثوں کا گھروں میں داخلہ ممنوع ہے

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک مخنث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے پاس آیا کرتا تھا اور وہ اسے ان لوگوں میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی۔ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج مطہرات کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ ایک عورت کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ وہ (اس قدر موٹی ہے کہ) جب سامنے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل ہوتے ہیں اور جب پشت کرتی ہے تو آٹھ بل ہوتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا أرى هذا يعرف ما هاهنا لا يدخلن عليكن
میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ اس قدر جانتا ہو گا، آئندہ یہ تمہارے پاس نہ آئے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، انہوں نے اسے روک دیا۔
مسلم، کتاب السلام 33/ 2181، ابوداؤد، اللباس 4107۔
اور یہ اضافہ کیا: اور اسے نکال دیا اور وہ مقام بیداء پر چلا گیا اور ہر جمعہ کھانا مانگنے آتا تھا۔
اور ایک روایت میں ہے: عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اس طرح تو وہ بھوک سے مر جائے گا“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جمعہ میں دو مرتبہ آنے کی اجازت دی، پس وہ آتا، سوال کرتا اور چلا جاتا۔

لوگوں کے گھروں میں دیکھنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من اطلع فى بيت قوم بغير إذنهم فقد حل لهم أن يفقئوا عينه
جو شخص بلا اجازت کسی کے گھر میں جھانکے تو اہل خانہ کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔
بخاری، کتاب الدیات 6888، مسلم، کتاب الآداب 43 / 2158۔
② اور ایک روایت میں ہے:
ففقئوا عينه فلا دية ولا قصاص
اگر وہ اس کی آنکھ پھوڑ ڈالیں تو اس کی نہ دیت ہے اور نہ قصاص۔
النسائی، القسامة 55/8۔