حیوانات پر رحم، نبی کریم ﷺ پر سلام، سلام کے احکامات اور سلامِ جاہلیت کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

کتاب السلام

حیوانات پر رحم کرنے کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بينما رجل يمشي بطريق اشتد عليه العطش فوجد بئرا فنزل فيها فشرب ثم خرج فإذا كلب يلهث يأكل الثرى من العطش، فقال الرجل: لقد بلغ هذا الكلب من العطش مثل الذى كان بلغ مني، فنزل البئر فملأ خفه ماء ثم أمسكه بفيه حتى رقي فسقى الكلب فشكر الله له فغفر له
ایک شخص چلا جا رہا تھا، اسے جب شدت کی پیاس لگی تو اس نے ایک کنواں پایا اور اس میں اترا اور پانی پیا، پھر باہر نکل آیا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے گیلی زمین چاٹ رہا ہے۔ اس آدمی نے اپنے دل میں کہا: اس کتے کو بھی پیاس کی وجہ سے وہی تکلیف پہنچی ہے جو مجھے پہنچی تھی۔ پس وہ کنویں میں اترا اور اپنا موزہ پانی سے بھرا، پھر اسے اپنے منہ سے پکڑ کر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ نے اس کے اس فعل کی قدر کی اور اسے بخش دیا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا جانوروں کی خدمت سے ہمیں اجر ملے گا؟“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
في كل كبد رطبة أجر
ہر جاندار کی خدمت میں اجر و ثواب ہے۔
بخاری، کتاب المساقات 2363، مسلم، کتاب السلام 2244۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دخلت امرأة النار فى هرة ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض
ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں گئی، اس نے اسے باندھ رکھا تھا، اسے خود کھلاتی تھی نہ اسے چھوڑتی تھی کہ حشرات الارض میں سے کچھ کھا لیتی۔
بخاری، کتاب المساقات 2365، مسلم، کتاب السلام 2242۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
قرصت نملة نبيا فأمر بقرية النمل فأحرقت فأوحى الله إليه أن قرصتك نملة أحرقت أمة من الأمم
کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے اس کی پوری بل کو جلا دینے کا حکم دے دیا اور انہیں جلا دیا گیا۔ تو اللہ نے اس (نبی) کی طرف وحی کی کہ ایک چیونٹی نے تمہیں کاٹ لیا اور تم نے ایک امت کو جلا دیا!
نسائی کی ایک روایت میں ہے:
فإنهن يسبحن
وہ تو تسبیح بیان کرتی تھیں۔
بخاری، کتاب بدء الخلق 3319، مسلم، کتاب السلام 3241، نسائی، الصید والذبائح 211/7۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجنے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من أحد يسلم على إلا رد الله تبارك وتعالى على روحي حتى أرد عليه السلام
جب کوئی مسلمان مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ میری روح لوٹا دیتا ہے حتیٰ کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
ابوداؤد، کتاب المناسک 2041، مسند احمد: باقی مسند المکثرین 527/2۔

سلام کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا انتهى أحدكم إلى مجلس فليسلم فإذا بدا له أن يجلس فليجلس ثم إذا قام فليسلم فليست الأولى بأحق من الثانية
جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں آئے تو اسے چاہیے کہ سلام کرے، جب اسے بیٹھنے کے لیے کہا جائے تو اسے بیٹھ جانا چاہیے، پھر جب کھڑا ہو تو سلام کرے، پس پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں۔
ابوداؤد، کتاب الادب 5208، ترمذی، کتاب الاستئذان 2706، روایت حسن ہے۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا لقي أحدكم أخاه فليسلم عليه فإن حالت بينهما شجرة أو جدار أو حجر ثم لقيه فليسلم عليه أيضا
جب تم میں سے کوئی اپنے (مسلمان) بھائی کو ملے تو اسے سلام کرے، اگر ان کے درمیان درخت یا دیوار یا کوئی پتھر حائل ہو جائے اور پھر دوبارہ اسے ملے تو پھر بھی سلام کرنا چاہیے۔
ابوداؤد، کتاب الادب 5200، روایت صحیح ہے۔
③ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:
يا بني إذا دخلت على أهلك فسلم يكن سلامك بركة عليك وعلى أهل بيتك
اے بچے! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو سلام کرو، تمہارا سلام تمہارے اور تمہارے اہل خانہ کے لیے باعث برکت ہو گا۔
ترمذی، کتاب الاستئذان والادب عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2698، روایت ضعیف ہے، عقیلی نے الضعفاء 106/2 میں روایت کیا ہے۔
④ سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے انہیں سلام کیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے کیا کرتے تھے۔
بخاری، کتاب الاستئذان 6247، مسلم، کتاب السلام 2168۔
⑤ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: دو آدمی ملیں تو ان میں سے پہلے کون سلام کرے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أولاهما بالله
ان میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے۔
ابو داؤد، کتاب الادب 5197، ترمذی، کتاب الاستئذان والآداب عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2694، روایت حسن ہے۔
⑥ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يسلم الراكب على الماشي، والماشي على القاعد، والقليل على الكثير
سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور قلیل کثیر کو سلام کرے۔
بخاری، کتاب الاستئذان 6232، مسلم، کتاب السلام 2160، ابو داؤد، کتاب الادب 5199۔
⑦ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کون سا اسلام بہتر ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تطعم الطعام وتقرأ السلام على من عرفت ومن لم تعرف
کھانا کھلانا اور جس کو تو جانتا ہے اسے اور جسے نہیں جانتا اسے بھی سلام کرنا۔
ابوداؤد، کتاب الادب 5194، بخاری، کتاب الایمان 12، مسلم، کتاب الایمان 39۔

سلام جاہلیت کی ممانعت

① سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، زمانہ جاہلیت میں ہم یوں کہا کرتے تھے: ”اللہ تمہاری وجہ سے آنکھیں ٹھنڈی کرے“ اور ”صبح بخیر“۔ پس جب اسلام آیا تو ہمیں اس سے منع کر دیا گیا (اور اس کے عوض السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے کلمات عطا کر دیے گئے)۔
ابوداؤد، کتاب الادب 5227۔