ملاقات میں جھکنے، رات کو گھر آنے اور راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

دوست سے ملاقات کرتے وقت جھکنے کی ممانعت

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جب کوئی شخص اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملاقات کرے تو کیا وہ اس کے سامنے جھکے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا نہیں!
اس نے پوچھا: ”کیا وہ اسے گلے لگائے اور اس کا بوسہ لے؟“ فرمایا:
لا نہیں!
اس نے پوچھا: ”کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کرے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم ہاں!
ترمذی، کتاب الاستئذان والادب عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2728۔

آدمی کا رات کے وقت اپنے اہل و عیال کے پاس آنے کی ممانعت

① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أطال أحدكم الغيبة فلا يطرقن أهله ليلا
جب تم میں سے کوئی شخص طویل مدت تک گھر سے غائب رہے تو وہ پھر رات کے وقت اپنے گھر نہ آئے۔
بخاری، کتاب الحج 1801، مسلم، کتاب الامارة 715/184، ترمذی، کتاب الاستئذان والاداب عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2713۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو منع فرمایا کہ وہ رات کے وقت بیویوں کے پاس آئیں۔
فائدہ: یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو سفر سے واپس آ رہا ہو تو رات کے وقت نہ جائے، اس لیے کہ اس کی بیوی کو بناؤ سنگھار کرنے میں دشواری ہو گی۔ واللہ اعلم۔

راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت

① سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياكم والجلوس على الطرقات
راستوں میں بیٹھنے سے اجتناب کرو۔
انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہماری مجلسیں وہیں ہوتی ہیں، ہم وہاں گفتگو کرتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فإذا أبيتم إلا المجلس فأعطوا الطريق حقه
اگر تم نے وہیں بیٹھنا ہے تو پھر راستے کو اس کا حق دو۔
انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! راستے کا حق کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
غض البصر، وكف الأذى، ورد السلام، والأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر
نظر نیچے رکھنا، تکلیف نہ پہنچانا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا۔
بخاری، کتاب المظالم والغصب 2465، مسلم، کتاب اللباس والزینة 2121/114۔
② سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں بیٹھے ہوئے چند انصاریوں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن كنتم لا بد فاعلين فردوا السلام، وأعينوا المظلوم، واهدوا السبيل
اگر تم نے لازمی طور پر بیٹھنا ہی ہے تو پھر سلام کا جواب دو، مظلوم کی مدد کرو اور راستہ بتاؤ۔
ترمذی، کتاب الاستئذان والآداب 2726۔