حدثنا شعبة قال سمعت قتادة قال سمعت أنس بن مالك رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال ما أحد يدخل الجنة يحب أن يرجع إلى الدنيا وله ما على الأرض من شيء إلا الشهيد يتمنى أن يرجع إلى الدنيا فيقتل عشر مرات لما يرى من الكرامة.
”ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں میں نے قتادہ سے سنا وہ کہتے ہیں میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہو گا جو جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں دوبارہ آنا پسند کرے خواہ اسے ساری دنیا مل جائے، سوائے شہید کے وہ یہ تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس جائے پھر وہ دس مرتبہ قتل ہو، کیونکہ وہ جنت میں شہادت کی عزت کو دیکھ رہا ہے۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواہ البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب تمنی المجاہد أن یرجع إلی الدنیا واللفظ لہ، الرقم: 2817 / مسلم، کتاب الإمارة، باب فضل الشہادة فی سبیل اللہ تعالیٰ، الرقم: 1877)
تشریح
جہاد میں شہید ہونے والا شخص فوراً جنت میں داخل کر دیا جاتا ہے شہید کی زندگی کا دنیا کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔
امام ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں صرف جہاد وہ نیک عمل ہے کہ اس میں مجاہد اپنی جان کو داؤ پر لگا دیتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا ثواب بھی بہت زیادہ رکھا ہے۔