حرمتِ موسیقی کی احادیث اور اہلِ اشراق کے اعتراضات کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد الحق اثری کی کتاب اسلام اور موسیقی پر اشراق کے اعتراضات کا جائزہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

احادیث اور حرمتِ موسیقی

پہلی حدیث

علمائے سلف نے جن احادیث کی بنا پر موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا ہے، اس کی تفصیل شیخ عبداللہ یوسف رحمہ اللہ کی کتاب [أحاديث ذم الغناء والمعازف في الميزان]، علامہ البانی رحمہ اللہ کی [تحريم آلات الطرب] اور مفتی محمد شفیع مرحوم رحمہ اللہ کی احکام القرآن میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اور انھی احادیث میں ایک حدیث حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری (رقم:5590، ج10، ص51مع الفتح) میں ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو شرم گاہ (زنا)، ریشم، شراب اور سازوں کو حلال کر لیں گے۔

ہم نے اس حدیث کے روایتی اور استدلالی دونوں پہلوؤں پر تفصیلاً بحث کی اور اہل اشراق کے تمام ایراداتِ باردہ کا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کافی و شافی جواب دیا، اہل اشراق نے اس حوالے سے شرمندگی کے آثار مدہم کرنے کی کوشش ضرور کی، مگر کوئی نئی بات نہیں کہہ سکے، اور اگر کہی بھی ہے تو وہ بھی ان کی بے خبری کی واضح دلیل ہے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب کی ہوشیاری دیکھیے ایک طرف وہ صحیح بخاری کی حدیث کو صحیح یا حسن روایات کے تحت ذکر کرتے ہیں مگر حاشیہ میں لکھتے ہیں :بخاری کی مذکورہ روایت پر اس کی صحت کے حوالے سے بھی بعض اعتراضات ہیں، ابن حزم المحلی میں اسے منقطع قرار دیتے ہیں۔

ہماری یہ بات اہل اشراق کو بڑی ناگوار گزری تو اپنے دماغ کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے بڑے ملال سے لکھتے ہیں:

ہماری اس ’ہوشیاری‘ پر الاعتصام نے جس ’دیانت‘ کا مظاہرہ کیا ہے اس پر ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم نے اگر ایک عالم کی تنقید نقل کی ہے تو تین علماء کی تائید بھی پیش کی ہے اور اسے صحیح روایات کے زمرے میں درج کر کے اس کے بارے میں اپنا موقف بھی واضح کر دیا ہے۔ (اشراق:ص42)

حالانکہ جب ہم نے واضح کیا ہے کہ غامدی صاحب اسے ایک طرف صحیح یا حسن روایات میں شمار کرتے ہیں، اس کے بعد ’دیانت‘ پر حرف گیری چہ معنی دارد؟ پھر جب غامدی صاحب کے نزدیک یہ صحیح یا حسن ہے تو حاشیہ میں یہ کہنا کہ اس کی صحت کے حوالے سے بھی بعض اعتراضات ہیں، تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کیوں نہیں؟ تاکہ قارئین کے ذہن میں استدلالی پہلو کے ساتھ ساتھ اس کا روایتی پہلو بھی مشکوک بنایا جائے، کہ اگر اسے کچھ صحیح کہنے والے ہیں تو اسے ضعیف کہنے والے بھی ہیں، اور یہی کچھ اہل اشراق نے کیا ہے، بلکہ اپنے حالیہ تبصرہ میں بھی انھوں نے یہی کردار ادا کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

اس حدیث کے بارے میں علما کے مابین آج بھی اختلاف پایا جاتا ہے، دورِ حاضر میں عالم اسلام کے معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی لکھتے ہیں: یہ حدیث اگرچہ صحیح بخاری میں وارد ہوئی ہے، لیکن یہ متصل روایتوں میں سے نہیں بلکہ منقطع روایتوں میں سے ایک ہے، اسی وجہ سے ابن حزم نے اس روایت کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ اس روایت کی سند اور متن دونوں خلل (اضطراب) سے محفوظ نہیں ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس روایت کو متصل ثابت کرنے کی انتھک کوشش کی ہے لیکن ان تمام سندوں میں ایک راوی ایسے ہیں جن کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل نے کلام کیا ہے اور وہ ہشام بن عمار ہیں، ان پر جرح کرنے والے ائمہ میں امام ابو داؤد رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، امام نسائی رحمہ اللہ، ابن سیار رحمہ اللہ اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ بھی شامل ہیں۔ اس لیے اس طرح کے اختلافی امور میں ان کی حدیث قبول نہیں کی جا سکتی۔(اشراق:ص42)

بتلایئے تشکیک پیدا کرنے میں اب بھی کوئی شک باقی ہے؟ الاعتصام نے ان کی اس کمزوری کو بھانپ کر اس کی نشان دہی کی ہے تو اہل اشراق اس پر جزبز کیوں ہیں؟ علامہ ابنِ حزم نے جو کچھ فرمایا: اس کی تردید متعدد اہل علم حضرات کر چکے۔ جیسا کہ قبل ازیں ہم عرض کر آئے ہیں۔ اس کے باوجود علامہ ابن حزم کے نام سے اس پر نقد بڑی بچگانہ حرکت ہے، البتہ علامہ القرضاوی نے اس روایت کے متصل ہونے کو نیم دلی سے قبول کرتے ہوئے یہ بات فرمائی کہ ان تمام متصل روایات کا مدار ہشام بن عمار پر ہے اور ان پر ائمۂ حدیث میں امام ابو داؤد، امام احمد، امام نسائی، ابن سیار اور حافظ ذہبی رحمہم اللہ نے جرح کی ہے۔

اولاً: آئیے ان ائمۂ حدیث کی جرح پر غور کریں کہ وہ کیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:صدوق مكثر له ما ينكر (میزان: ص302 ج4)

نیز فرمایا: ثقة مكثر له ما ينكر (یعنی) وہ صدوق، ثقہ، کثیر الحدیث ہے اس کی کچھ احادیث منکر ہیں۔ (المغنی: ص711 ج2)

اسی طرح من تکلم فیہ وهو موثق (ص:459) میں بھی اسے ذکر کیا جس کے مقدمہ میں انھوں نے فرمایا: ہے کہ اس کتاب کے راویوں کی حدیث حسن سے کم درجہ کی نہیں ہوتی۔ سیر أعلام النبلاء (ص420 ج11) میں انھیں الامام الحافظ العلامہ المقرئ عالم اہل الشام کے بلند القاب سے یاد کیا ہے۔ علامہ ذہبی کی اس توثیق کے بعد یہ کہنا کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے جرح کی ہے، علم الجرح والتعدیل سے بے خبری کی دلیل ہے۔ رہی اس کی منکر روایات جن کی طرف انھوں نے اشارہ کیا ہے تو وہ ہیں جو ہشام نے آخری دور میں تلقین کی صورت میں بیان کی ہیں، جیسا کہ میزان میں خود انھوں نے وضاحت فرما دی ہے۔ بلکہ انھوں نے تو صحیح بخاری اور مسلم کے ان راویوں کے بارے میں جن سے شیخین نے احتجاجاً روایت لی ہے، کے بارے میں فرمایا ہے ان میں سے کسی کی روایات ضعیف نہیں بلکہ وہ حسن ہیں یا صحیح ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں: [فما في الكتابين بحمد الله رجل احتج به البخاري أو مسلم في الأصول، ورواياته ضعيفة بل حسنة أو صحيحة] (الموقظة:ص80)

اس لیے علامہ ذہبی رحمہ اللہ کو ہشام بن عمار کے ناقدین میں شمار کرنا علامہ القرضاوی کا وہم ہے، بالکل اسی طرح جس طرح انھوں نے امام نسائی رحمہ اللہ کو ان کے ناقدین میں شمار کیا ہے۔ حالانکہ التہذیب (ص52 ج11)،التذھیب(ص295 ج9)، التھذیب للمزی(ص273 ج19)، سیر أعلام النبلاء (ص424 ج11)، المیزان(ص302) وغیرہ کتبِ جرح و تعدیل میں امام نسائی سے منقول ہے کہ انھوں نے ہشام کے بارے میں لا بأس به فرمایا ہے۔ اور السنن میں اس کی روایات کی تخریج کی ہے۔ افسوس کہ اہل اشراق نے علامہ القرضاوی کی کورانہ تقلید میں مکھی پہ مکھی ماری، اسی سے ان کی اس بحث میں اصابتِ فکر کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح ان کا یہ فرمانا کہ ابن سیار نے بھی جرح کی ہے من وجہ درست نہیں، اس لیے کہ انھوں نے بس یہ فرمایا ہے کہ ہشام تلقین کو قبول کرتے تھے، گویا انھوں نے ہشام سے آخری دور میں سماع کیا جب تخلیط کی بنا پر تلقین کو قبول کرنے لگے جیسا کہ میزان وغیرہ میں صراحت ہے، اور امام بخاری کے بارے میں ائمۂ فن نے لکھا ہے وہ ایسے راوی سے روایت اختلاط سے پہلے لیتے ہیں یا اسی صورت میں جب ان کی متابعت وغیرہ ثابت ہوتی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ہشام سے احتجاجاً روایات لی ہیں (مقدمہ فتح الباری:ص449) اس لیے ہشام کی یہ روایات صحیح ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے اس پر انقطاع کا حکم تو لگایا ہے ہشام کی وجہ سے اسے ضعیف قرار نہیں دیا۔

رہی امام احمد رحمہ اللہ کی جرح تو وہ بھی حدیث کے حوالے سے ضعیف ہونے کی بنا پر نہیں بلکہ قرآنِ پاک کے بارے میں ان کے اس قول کی بنا پر ہے کہ جبریل علیہ السلام اور رسول اللہ ﷺ کا تلفظ بالقرآن مخلوق ہے۔ اسی طرح خطبہ کے دوران میں ہشام نے ایک جملہ کہہ دیا جس کا تعلق عقیدہ سے تھا نھی وجوہ کی بنا پر امام احمد نے انہیں طیاش، کمزور عقل والا کہا۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے سیر أعلام النبلاء (ص431-437 ج11) میں امام احمد رحمہ اللہ کے کلام کو اسی معنی میں محمول کیا اور اسے کلام الاقران قرار دے کر ایسے کلام سے خاموشی کا فیصلہ فرما دیا ہے۔ غور فرمائیے کہ علامہ ذہبی رحمہ اللہ تو امام احمد رحمہ اللہ کے کلام کا دفاع کرتے ہیں مگر اہل اشراق علامہ القرضاوی کی اقتدا میں اسے ہشام کے مجروح ہونے بلکہ علامہ ذہبی رحمہ اللہ کو بھی ہشام کے جارحین میں شمار کرتے ہیں۔ سبحان اللہ

اسی طرح امام ابو داؤد رحمہ اللہ کا کلام بھی ہشام کی آخری عمر کے بارے میں ہے، جب وہ اختلاط کے عارضہ میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اگر ان کے نزدیک وہ مطلقاً مردود الروایہ ہوتے تو السنن مع العون (ص388 ج3) کتاب الأشربة باب في النبيذ إذا غلا میں اس کی روایت پر خاموشی اختیار نہ کرتے۔ بلکہ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ہشام کیس بڑا سمجھ دار ہے۔ جو کلمۂ توثیق میں شمار ہوتا ہے۔ اس لیے ابو داؤد کے قول سے بھی علی الاطلاق ہشام کو ضعیف قرار دینا صحیح نہیں۔

اہل اشراق کی تسلی کے لیے عرض ہے کہ ابن ماجہ (رقم:1899) کے حوالے سے خود انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث جشنِ موسیقی کے عنوان کے تحت ذکر کی ہے کہ نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لونڈیاں گیت گا رہی تھیں:نحن جوار من بنی النجار، اس روایت کے بارے میں انھوں نے نقل کیا ہے کہ محدثین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ (اشراق: ص24-25 مارچ2004ء)

نیز لکھتے ہیں: ہمارا بنیادی استدلال ابن ماجہ کی صحیح روایت پر ہے۔ (اشراق:ص46 مارچ2006ء)

حالانکہ ابن ماجہ کی یہ صحیح حدیث بھی ہشام بن عمار سے منقول ہے، انصاف شرط ہے کہ اہل اشراق کے موافق ہشام بن عمار کی روایت ابن ماجہ میں ہو تو وہ صحیح، لیکن ان کے مخالف ہو تو ہشام کی روایت بخاری میں ہونے کے باوجود مشکوک اور ہشام مجروح قرار پائے۔ خود غرضی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

ہم یہاں ہشام کے بارے میں کلماتِ توثیق کی تفصیل سے اجتناب کرتے ہوئے ،حافظ الخلیلی رحمہ اللہ کے قول پر اکتفا کرتے ہیں۔ جس سے ہشام کے مقام اور مرتبے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ [ثقة كبير روى عنه البخاري في الصحيح وسمع منه الأئمة والقدماء رضيه الحفاظ. الخ ] وہ بہت بڑے ثقہ ہیں، امام بخاری نے الصحیح میں ان سے روایت لی ہے، ائمہ اور قدماء محدثین نے ان سے سماع کیا ہے اور حفاظ نے انہیں پسندیدہ قرار دیا ہے۔ (الارشاد:ص 445 ج1)

ہشام اس میں منفرد نہیں

ہمیں علامہ القرضاوی کے علم و فضل کا اعتراف ہے، مگر یہ دیکھ کر ہمارے تعجب کی انتہا نہ رہی کہ وہ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ تو لکھتے ہیں کہ انھوں نے اس روایت کو متصل ثابت کرنے کی انتھک کوشش کی اور عملاً نو سندوں سے ثابت بھی کیا ہے لیکن ان تمام سندوں میں ایک راوی ایسے ہیں جن کے بارے میں ائمۂ جرح وتعدیل نے کلام کیا ہے اور وہ ہشام بن عمار ہیں،‘ لیکن یہ بات بھولے سے بھی نہیں بتلاتے کہ ہشام اس میں منفرد نہیں، خود حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے اس کی متابعت ذکر کی ہے۔ چنانچہ تغلیق التعلیق (ص19 ج5) میں تفصیلاً اور فتح الباری (ص54 ج10) میں مختصراً یہی روایت عبد الرحمن بن إبراهيم هو دحيم ثنا ابن بكر ثنا ابن جابر عن عطية بن قيس کی سند سے ذکر کی ہے۔ اور اسی کو امام بیہقی رحمہ اللہ نے السنن (ص272 ج3) میں بھی نقل کیا ہے۔ بلکہ یہی روایت کچھ اختصار کے ساتھ سنن ابی داود (رقم: 4039) میں عبد الوہاب بن نجدة حدثنا بشر بن بكر عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر کی سند سے بھی مروی ہے اور حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے اس کا اشارہ بھی فتح الباری میں کیا ہے جس کے بارے میں حافظ ابنِ قیم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ صحیح متصل ہے۔ إغاثة اللهفان (ص278 ج1)۔ اب یہ امانت و دیانت کی کون سی معراج ہے کہ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ کے حوالے سے ہشام کی متصل اسانید کا حوالہ تو دیا جائے اور جو انھوں نے ہشام کی متابعت میں ذکر کی ہے اس سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لی جائیں؟ موسیقی کو جواز بخشنے والوں کے ایسے عمل و کردار پر جس قدر بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ اسی بحث سے ہماری اس بات کی حقیقت مسلمہ ہو جاتی ہے کہ:اہلِ علم ابنِ حزم کے اعتراض کا جواب دے کر فارغ ہو چکے ہیں۔ہ روایت سنداً متصل ثابت ہے اور راوی پر ضعف کا اعتراض بھی بہر آئینہ کمزور اور حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کا نتیجہ ہے۔

روایت کا استدلالی پہلو

اس حدیث سے چار چیزوں کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ زنا، شراب، ریشم اور ساز۔ اسلوبِ بیان میں فرمایا گیا: ہے کہ میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو ان اشیا کو حلال کر لیں گے، نتیجہ بالکل واضح ہے کہ یہ اشیا حرام ہیں مگر امت کے کچھ افراد انھیں حلال اور جائز بنا لیں گے۔ اس حوالے سے تفصیلی بحث ہم پہلے کر چکے ہیں، اور اہل اشراق کے خدشات و توہمات کا ازالہ بھی قارئین کرام کے سامنے پیش کر چکے ہیں، جس کا کوئی معقول دفاع اہل اشراق نہیں کر پائے، صرف اپنی سابقہ بات کو دہرانے پر اکتفا کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض احادیث میں ریشم کی علت درج ہے، بعض روایتوں میں حرمت کے ضمن میں اسراف اور عورتوں سے مشابہت کی علتیں بھی بیان ہوئی ہیں۔ اس لیے ان کی حرمت انھیں خاص صورتوں پر ہو گی اور عمومی حکم جواز ہی کا قرار پائے گا۔ (اشراق:ص 42-43)

ہم حیران ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ریشم کو دائیں ہاتھ میں اور سونے کو بائیں ہاتھ میں لے کر فرمائیں:

[إن هذين حرام على ذكور أمتي]کہ یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔ (أبو داود:4057)،(نسائی:5147)

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يلبس حريرا ولا ذهبا] کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ ریشم اور سونا نہ پہنے۔ (مسند احمد:22248)

اس کے باوجود اہل اشراق مطلق طور پر فرماتے ہیں کہ ریشم کی حلت کی روایتیں بھی درج ہیں، کن روایتوں میں ہے کہ مردوں کے لئے ریشم کا لباس حلال ہے؟ اس کا جواز ہے تو بس عورتوں کے لئے، یا بیماری کے عذر کی بنا پر، یا بس دو انگلیوں کے برابر۔ علی الاطلاق مردوں کے لئے ان کے حلال ہونے کا فتویٰ اہل اشراق کے تجدد کا نتیجہ ہے۔ علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں: [لا نعلم في تحريم لبس ذلك على الرجال اختلافا إلا لعارض أو عذر] کسی عذر یا عارض کے علاوہ مردوں پر ریشم کے حرام ہونے میں ہم کوئی اختلاف نہیں پاتے۔ (المغنی:ص626 ج1)

مگر اہل اشراق تو مستشرقین کی طرح نئے اسلام سے امت کو روشناس کرانے کی فکر میں ہیں، اس لیے امت کے اجتماعی مسائل سے اختلاف میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے، حرمت کی علت فخر و ریا ہو یا عورتوں سے مشابہت، ریشم بہر حال حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے پر لعنت فرمائی، صریح طور پر ”حرام“ کے لفظ سے حرمت کی صراحت فرمائی اور ”يستحلون“ کے لفظ سے حیلہ گری اور بہانہ بازی سے حلال بنانے والوں سے خبردار فرمایا اور ان کی مذمت بھی کی، اس لیے اہل اشراق کی ”حلال“ بنانے کی کوشش اسی حدیث کا مصداق ہے۔ أعاذنا الله منه

دوسری حدیث

موسیقی کی حرمت پر دوسری حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مسند بزار کے حوالے سے ہم نے ذکر کی تھی جس میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو آوازیں ایسی ہیں جو دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں۔ ایک نعمت کے وقت مزمار، دوسری مصیبت کے وقت چیخنے چلانے کی آواز۔ یہ روایت بھی موسیقی کی حرمت کی ایک دلیل ہے۔ ظاہر ہے جو آواز ملعون ہے اس کا مرتکب کیوں کر ملعون نہیں۔ اہل اشراق اس کے برعکس موسیقی کو فطرتاً مباح قرار دے کر اس آواز اور اس کے مرتکب کو ملعون کی بجائے ”محبوب“ قرار دینےکے درپے ہیں۔

قارئین کے علم میں ہوگا کہ غامدی صاحب نے اپنی بحث میں اس صحیح روایت کو ذکر ہی نہیں کیا۔ جس کی تفصیل ہم پہلے عرض کر چکے ہیں۔ اب اس روایت کے دفاع میں اہل اشراق نے جو عذر پیش کیا ہے وہ عذر گناہ بدتر از گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ اہل اشراق اس حدیث کی سند پر تو کوئی اعتراض نہ کر سکے البتہ دل کا بوجھ کم کرنے کے لئے یہ فرما دیا کہ ”خود امام بزارؒ نے فرمایا ہے کہ ہم اس روایت کو اس سند کے سوا کہیں اور نہیں پاتے۔ (اشراق:ص54)

حالانکہ ہم اس غلط فہمی کا ازالہ پہلے کر چکے ہیں۔ امام بزارؒ نے یہ روایت شبیب بن بشر البجلی عن أنس کی سند سے ذکر کی ہے، ان کے علم میں یہی سند تھی، ہم مختصراً علامہ البانیؒ کے حوالے سے عرض کر چکے کہ امام ابن السماک نے یہ روایت ایک اور سند سے بیان کی ہے،“ اس وضاحت کے باوجود سمجھ نہیں آتی کہ اہل اشراق نے اس کے تفرد کا ذکر کس ”حکمت و دانائی“ کی بنا پر کیا ہے؟ علامہ البانیؒ مسند بزار کی روایت ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: [وتابعه عيسى بن طهمان عن أنس أخرجه ابن السماك، وعيسى هذا ثقة من رجال البخاري كما في مغنى الذهبي، وقال العسقلاني صدوق أفرط فيه ابن حبان والذنب فيما استنكره من غيره، فصح الحديث والحمدلله]

اور شبیب بن بشر کی متابعت انس سے روایت کرنے میں عیسیٰ بن طہمان نے کی ہے۔ جس کی تخریج ابن السماک نے کی ہے اور یہ عیسیٰ ثقہ، بخاری کے راویوں میں سے ہے، جیسا کہ علامہ الذہبیؒ کی المغنی میں ہے۔ اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا ہے کہ وہ صدوق ہے ابن حبانؒ نے اس کے بارے میں افراط سے کام لیا ہے اس کی منکر روایت میں اس کا نہیں دوسرے راوی کا قصور ہے، لہٰذا یہ روایت صحیح ہے۔ والحمد لله (تحريم آلات الطرب: ص 52)

علامہ البانیؒ کے اسی تفصیلی بیان کو پہلے ہم نے اختصار سے ذکر کیا، اس کے باوجود روایت کے بارے میں تشکیک پیدا کرنے کا جو کردار اہل اشراق نے ادا کیا وہ ان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ جیسا کہ پہلی حدیث پر بحث کے ضمن میں ہم اشارہ کر آئے ہیں۔

دوسری بات اس کے بارے میں یہ کہی گئی کہ :اگر خوشی کے موقع پر موسیقی یا آلاتِ موسیقی کی حرمت کا مفہوم اخذ کیا جائے تو ان روایتوں کی نفی ہوتی ہے جو عید اور شادی کے موقع پر موسیقی، آلاتِ موسیقی کے جواز پر دلالت کرتی ہیں۔ (اشراق:ص54)

اولاً: گزارش ہے کہ اس روایت میں دو آوازوں کے ملعون ہونے کا ذکر ہے، کیا اہل اشراق دوسری آواز، مصیبت کے وقت چیخنے چلانے کے بارے میں بھی یہی حکم سمجھتے ہیں؟ اگر ان کے نزدیک اس موقع پر نوحہ حرام ہے تو دوسری آواز غنا اس حکم سے خارج کیوں ہے؟ جب کہ دونوں کو ایک ساتھ ملعون قرار دیا گیا ہے، رہی وہ روایات جن سے عید یا شادی کے موقع پر موسیقی کے جواز سے استدلال کیا گیا ہے ان سے استدلال کی کمزوری ہم پہلے واضح کر چکے ہیں۔

ثانیاً: یہ روایت ان دیگر روایات کی مؤید ہے جن میں موسیقی اور آلاتِ موسیقی کو صراحتاً حرام قرار دیا گیا ہے۔ بالفرض اس کے جواز کا کوئی پہلو ہے تو جہاں حرمت اور جواز کا پہلو ہو وہاں ترجیح حرمت کو ہوتی ہے حتیٰ کہ جو چیز سنت اور بدعت کے مابین متردد ہو اسے بھی فقہائے کرام چھوڑنے کا حکم فرماتے ہیں، جیسا کہ علامہ شامیؒ نے ردالمحتار (ص441 ج2، ص642 ج1) میں لکھا ہے۔ موسیقی اور آلاتِ موسیقی کے آج جو برگ و بار ہیں ان کا تقاضا ہے کہ سدِ ذرائع کے طور پر روایاتِ حرمت کو ہی ترجیح دی جائے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کی بجائے غامدی صاحب نے ”ضعیف روایات“ کے عنوان کے تحت ”گانے کی احمقانہ آواز سے ممانعت“ پر المستدرک للحاکم سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی روایت کو ذکر کیا، جس میں ذکر ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے فرزند حضرت ابراہیم کے سانحۂ ارتحال پر آبدیدہ ہو گئے تو حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جناب آپ رو رہے ہیں جب کہ آپ نے رونے سے منع فرمایا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے رونے سے منع نہیں کیا البتہ دو احمقانہ اور فاجرانہ آوازوں سے روکا ہے ایک خوشی کے موقع پر لہو ولعب اور شیطانی باجوں کی آواز اور دوسری مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے، گریبان چاک کرنے کی آواز۔ یہ روایت محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی وجہ سے واقعی ضعیف ہے جیسا کہ غامدی صاحب نے ذکر کیا۔ البتہ یہ بھی فرمایا کہ ’اس کا وہ طریق قابلِ اعتنا ہے جسے ترمذی نے اپنی صحیح میں نقل کیا۔ کہ آپ نے جناب ابراہیم کی وفات پر فرمایا: میں نے دو احمق فاجر آوازوں سے منع کیا تھا: ایک مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی آواز، اور دوسرے (نوحہ گری کرتے ہوئے) شیطان کی طرح چیخنے چلانے کی آواز، اس طریق میں غنا یا لہو ولعب کا ذکر کسی پہلو سے موجود نہیں۔ البانیؒ نے اس طریق کو حسن قرار دیا ہے۔ (اشراق:ص102-103، مارچ2004ء)

ہم نے اس حوالے سے جو معروضات عرض کیں اور غامدی صاحب کے حوالہ و استدلال کی کجی کو جس طرح بیان کیا اس کی دلچسپ تفصیل پہلے گزر چکی ہے جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

[1] جامع ترمذی کی روایت جسے ’قابلِ اعتنا‘ قرار دیا گیا وہ بھی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ہی کی سند سے مروی ہے۔ یہ کون سی لیاقت ہے کہ ابن ابی لیلیٰ کی وجہ سے المستدرک کی روایت تو ضعیف قرار پائے مگر ترمذی کی روایت ابن ابی لیلیٰ کے باوجود قابلِ اعتنا بلکہ حسن قرار پائے؟

[2] ترمذی کی روایت میں اختصار ہے جیسا کہ خود امام ترمذی اور شارح الترمذی نے ذکر کیا ہے، ترمذی کی روایت میں ایک ہی آواز کا ذکر ہے، دو کا نہیں، جیسا کہ غامدی صاحب نے سمجھا ہے، اور دوسری آواز کا ذکر بیہقی کی روایت میں ہے جو مفصل ہے۔

[3] علامہ البانیؒ نے ترمذی کی روایت کو دیگر شواہد کی بنا پر حسن کہا اور اسے مختصر روایت قرار دیا ہے اس لئے علامہ البانی کے حوالے سے اگر یہ حسن ہے تو مکمل الفاظ میں حسن ہے یوں نہیں کہ ترمذی کی مختصر روایت ہی حسن ہے۔ اہل اشراق نے ہماری ان معروضات پر جو کچھ فرمایا وہ بڑا عجیب ہے چنانچہ اولاً کہا گیا کہ ”ترمذی کی مذکورہ روایت بھی ضعیف ہے تو پھر یہ ہماری تائید ہے کیوں کہ ہم نے ان روایتوں کو ضعیف روایات ہی کے زیر عنوان درج کیا ہے۔ (اشراق:ص53)

گویا ترمذی کی روایت کو علامہ البانیؒ کے فیصلے کے مطابق حسن قرار دے کر جو قابلِ اعتنا قرار دیا گیا تھا اس سے اہل اشراق نے رجوع کر لیا اور ہمارے تبصرہ کی حقانیت کو تسلیم کر لیا ہے کہ اگر آپ کے نزدیک المستدرک کی روایت ابن ابی لیلیٰ کی وجہ سے ضعیف ہے تو ترمذی کی روایت بھی ضعیف ہے کیونکہ اس میں بھی یہی ابن ابی لیلیٰ مجروح ہے، رہی اس سے استدلال کی بات تو اس کی کچھ وضاحت آئندہ آرہی ہے۔

ثانياً: فرمایا گیا کہ ترمذی کی روایت کو اگر ہم نے لائقِ اعتنا سمجھا ہے تو اس کا سبب یہ نہیں کہ اس میں غنا کا ذکر نہیں بلکہ یہ ہے کہ علامہ البانی نے اسے حسن کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ (اشراق:ص53)

اہل اشراق کی یہی بنیادی غلطی ہے کہ علامہ البانیؒ کی صحیح الترمذی میں اس روایت کے حسن کہنے کو وہ سمجھ نہیں سکے۔ ہم پہلے بھی وضاحت کر چکے ہیں کہ علامہ البانیؒ مجموعہٴ طرق اور شواہد کی بنا پر ان کتابوں میں حکم لگاتے ہیں۔ خاص اسی سند کے پیشِ نظر یہ حکم نہیں ہوتا، اہل اشراق اپنی اس غلط فہمی کو بھی تسلیم کر لیں تو ان کا تانا بانا ختم ہو جاتا ہے، اس لیے وہ صرف ترمذی کی روایت کو موضوعِ بحث بناتے ہیں، حالانکہ علامہ البانیؒ ترمذی کی روایت کو مختصر، المستدرک وغیرہ کی روایت کو مفصل کہتے ہیں اور پوری روایت کو شواہد کی بنا پر حسن، یعنی حسن لغیرہ قرار دیتے ہیں۔ چناں چہ انھوں نے پہلے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت، جو پہلے ہم ذکر کر آئے ہیں، کو مسند بزار اور ابن السماک کے حوالے سے نقل کیا اور اسے صحیح قرار دیا، پھر فرمایا: [له شاهد يزداد به قوة من حديث جابر بن عبد الله عن عبد الرحمن بن عوف قال: قال رسول الله ﷺ إني لم أنه عن البكاء ولكني نهيت عن صوتين أحمقين فاجرين ……… أخرجه الحاكم والبيهقي ……… من طرق عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن عطاء عن جابر ومنهم من لم يذكر عبد الرحمن وفيه قصة، ورواه الترمذي عن جابر مختصراً وقال حديث حسن يعني لغيره لحال ابن أبي ليلى إلخ]

اور اس (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث) کا شاہد جس سے اس کی قوت زیادہ ہو جاتی ہے جابر بن عبد اللہ عن عبد الرحمن بن عوف کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے رونے سے منع نہیں کیا بلکہ میں نے دو احمق فاجر آوازوں سے منع کیا ہے۔ اسے حاکمؒ اور بیہقیؒ وغیرہ نے کئی سندوں سے محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ عن عطاء عن جابر کی سند سے نقل کیا ہے بعض راوی اس میں عبد الرحمن کا ذکر نہیں کرتے اور اس میں واقعہ بیان ہوا ہے۔ اور اس کو ترمذی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، یعنی حسن لغیرہ ہے ابن ابی لیلیٰ کی حالت کی بنا پر تقریباً یہی بات انھوں نے السلسلة الصحيحة(428) میں فرمائی کہ ابن ابی لیلیٰ کی روایت استشہاداً اور اعتضاداً کے طور پر مقبول ہے۔ (تحريم آلات الطرب:ص52-53)

علامہ البانیؒ کا یہ مفصل کلام اس بات کی روشن دلیل ہے کہ انھوں نے صرف ترمذی کی مختصر روایت کو ہی نہیں بلکہ مفصل روایت کو حسن قرار دیا ہے، لہٰذا یہ روایت قابلِ اعتنا ہے تو مفصل طور پر ساری کی ساری قابلِ اعتنا ہے صرف ترمذی کی مختصر روایت نہیں۔ ہم نے یہی بات پہلے اختصاراً عرض کی، مگر افسوس اہل اشراق نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

اور اب بڑی سادگی سے فرمایا گیا ہے: آپ علامہ البانیؒ سے اپنا اختلاف بیان کیجیے ہم اگر قائل ہو گئے تو اس کو ضرور قبول کر لیں گے۔ حالانکہ ہمارا اختلاف اہل اشراق سے ہے علامہ البانیؒ سے قطعاً نہیں، جو المستدرک کی مفصل روایت کو ابن ابی لیلیٰ کی وجہ سے ضعیف قرار دیتے ہیں اور ترمذی کی مختصر روایت کو ابن ابی لیلیٰ کے باوجود قابلِ اعتنا سمجھتے ہیں اور علامہ البانیؒ کے موقف سے بے خبری کی بنا پر اس کا حسن ہونا نقل کرتے ہیں، حالانکہ علامہ البانیؒ نے پوری روایت کو حسن، یعنی حسن لغیرہ قرار دیا ہے اور اپنے شاہد کی بنا پر بلا شبہ یہ حسن ہے۔

ترمذی کی روایت کے بارے میں غامدی صاحب نے جو سمجھا تھا کہ اس میں ہی ”صوتان“ دونوں آوازوں کا ذکر ہے اس کے بارے میں عرض کیا گیا کہ یہ بھی ان کی غلط فہمی ہے۔ یہاں صرف ایک آواز کا ذکر ہے اور روایت مختصر ہے دوسری آواز کا ذکر نہیں، اس کا ذکر المستدرک اور بیہقی وغیرہ کی مفصل روایت میں ہے۔ اس حقیقت کو اہل اشراق نے تسلیم کیا ہے اور کہا ہے: یہ بالکل بجا ہے،، بلاشبہ یہاں ایک ہی آواز مراد لینا درست ہے۔ (اشراق:ص53)

عرض ہے کہ جب آپ نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا تو اب انصاف کا تقاضا ہے کہ پوری روایت کو تسلیم کر لیا جائے۔ علامہ البانی نے پوری روایت کو شاہد کی بنا پر حسن کہا ہے، مگر اس کی توقع اہل اشراق سے ممکن نہیں۔

ثالثاً: اہل اشراق نے فرمایا ہے کہ: ہمارا اصل استدلال روایت پر نہیں درایت پر مبنی ہے، ہمارے نزدیک سیاق وسباق کی روشنی میں زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فقط نوحہ خوانی ہی پر فرمایا ہوگا، یہ بات ہم نے قرینِ قیاس کے الفاظ کے ساتھ بیان کی تھی، اس سے واضح ہے ہم اسے حتمی نہیں سمجھتے اور اس سے مختلف رائے کی صحت کا امکان تسلیم کرتے ہیں۔ (اشراق:ص53-54)

اہل اشراق نے سیاق وسباق کے حوالے سے ہمارے تبصرہ کو بھی تسلیم کر لیا ہے تو اب اس جملے میں کون سی معقولیت ہے کہہمارا استدلال روایت پر نہیں درایت پر ہے،کیا یہ ”درایت“ بلا روایت ہے؟ آپ روایت کے درایتی پہلو سے کہہ لیجیے، جب آپ کے ہاں روایت ہی نہیں تو اس کے درایتی پہلو پر بحث چہ معنی دارد؟ پھر جب یہ آپ تسلیم کر چکے ہیں اس موقع پر نوحہ گری ہی نہیں غنا کے بارے میں بھی ساتھ ہی آپ نے خبردار کیا تو اب مکمل روایت سے انکار محض مجادلہ نہیں تو اور کیا ہے؟ ہماری اس وضاحت سے دوسری روایت کے بارے میں اہل اشراق کے موقف کی کمزوری بالکل نمایاں ہو جاتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی روایت غنا اور موسیقی کی حرمت کے بارے میں بالکل واضح ہے کہ آپ نے اسے ملعون، فاسق و فاجر آواز قرار دیا ہے، موسیقی اگر فطرتاً مباح ہوتی تو آپ اسے ملعون قرار نہ دیتے اور فاسق و فاجر ٹھہرا کر اس سے نفرت نہ دلاتے۔

تیسری حدیث

علمائے امت نے موسیقی اور آلاتِ موسیقی کی حرمت پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے بھی استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب، جوئے اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ یہ روایت ابوداؤد (ص382 ج3 مع العون) وغیرہ کتب میں صحیح سند سے منقول ہے۔ اس روایت میں جن اشیاء کی حرمت بیان ہوئی ہے ان میں ایک الکوبۃ ہے جس سے مراد طبل ہے۔ جیسا کہ راویانِ حدیث نے اس کی تصریح کی ہے۔ بلکہ امام احمدؒ وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس سے ہر وہ کھیل تماشا مراد ہے جس میں انسان ہمہ تن مصروف ہو جائے۔ وہ طبل ہو، نرد ہو، شطرنج ہو بربط ہو یا ڈگڈگی۔ اس حدیث کے بارے میں غامدی صاحب کی حیلہ سازیوں کو ہم پہلے تشت از بام کر چکے ہیں۔ اہل اشراق نے اس حوالے سے جو دفاعی پوزیشن اختیار کی اور جس ہوشیاری کا ثبوت دیا اس کی حقیقت بھی معلوم کر لیجیے، چنانچہ انھوں نے لکھا ہے کہ الاعتصام کی بحث ہمارے ہی بیان کردہ نکات کی تفصیل ہے۔ ہم نے لکھا ہے کوبہ کا معنی طبل بیان کیا جاتا ہے۔ (اشراق: ص88 مارچ2004ء)

الاعتصام کا بیان ہے: الکوبۃ کی تعبیر راویانِ حدیث طبل سے کرتے ہیں۔ (اشراق:ص47-48)

یقین جانیے کہ اہل اشراق اپنے مکمل الفاظ نقل کر دیتے تو قارئین کو یہ دھوکا نہ دیتے کہ ہمارے نکات ہی کی تفصیل الاعتصام نے بیان کی ہے، ان کے مکمل الفاظ یہ ہیں: اس روایت کے لفظ کوبہ کا معنی طبل کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر اس سے موسیقی کی حرمت کے بارے میں استدلال کیا جاتا ہے۔ (اشراق:ص88 مارچ2004ء)

الاعتصام نے کوبہ کے معنی راویانِ حدیث کی توضیح کے مطابق طبل کیے، اور اس سے طبل کی حرمت پر استدلال کیا، اگر یہی موقف اشراق کا ہے تو اس سے طبل کی حرمت سے وہ متفق کیوں نہیں؟ بلکہ اشراق نے تو صاف طور پر لکھا ہے کہ:ہمارے نزدیک یہ معنی (طبل) لائقِ ترجیح نہیں ہیں۔ (اشراق:ص89 مارچ2004ء)

بتلائیے اشراق نے کوبہ کے معنی طبل تسلیم کیے؟ مگر افسوس اس کے باوجود کتنی دلیری سے لکھتے ہیں کہ الاعتصام نے ہمارے نکات کی تفصیل بیان کی ہے۔

انھوں نے خود غرض شکلیں دیکھی نہیں غالب

وہ آئینہ دیکھیں گے تو ہم ان کو دیکھا دیں گے

اسی طرح یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ہم نے لسان العرب کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ کوبہ کے معنی طبل اور نرد کے ہیں، الاعتصام میں ہے: علامہ الخطابی فرماتے ہیں: الکوبۃ کی تفسیر طبل سے کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد نرد ہے۔ الکوبۃ کی یہی تعبیر عموماً اہل لغت نے کی ہے۔ اس میں طبل، نرد، شطرنج، بربط، ڈگڈگی شامل ہے۔ (اشراق:48)

دونوں میں وہ بنیادی فرق ہے جس کی طرف ابھی ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ الاعتصام میں الکوبۃ کے معنی طبل کے اور علامہ خطابی وغیرہ سے نقل کیا کہ یہ لفظ نرد، شطرنج، بربط ڈگڈگی اور تمام آلاتِ ملاحی کو شامل ہے۔ مگر اہل اشراق لغتِ عرب سے الکوبۃ کے معنی طبل نقل کرنے کے باوجود فرماتے ہیں کہ :ہمارے نزدیک یہ معنی لائقِ ترجیح نہیں عقل ونقل کے قرائن کی رو سے نرد کا مفہوم زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔ (اشراق:ص89 مارچ2004ء)

لہٰذا جب اس حدیث میں الکوبۃ کا مفہوم طبل لینا ان کے نزدیک مرجوح ہے اور عقل ونقل کے اعتبار سے نامناسب ہے تو الاعتصام نے ان کے نکات کو کیوں کر تسلیم کیا ہے؟

اسی طرح اشراق کا فرمانا کہ ہم نے بیان کیا کہ مذکورہ روایت میں کوبۃ کا لفظ چوں کہ میسر (جوا) کے ساتھ متصل ہو کر آیا ہے، اس لیے قرینِ قیاس یہ ہے کہ یہاں اس کے معنی طبل کے بجائے نرد کیے جائیں، کیوں کہ نرد کا کھیل اس زمانے میں جوئے کے ساتھ خاص تھا، الاعتصام کا کہنا ہے: چلیے ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ’نرد‘ جوئے کے طور پر کھیلا جاتا تھا اس لیے میسر کے ساتھ ساتھ اس کی حرمت بیان ہوئی۔ (اشراق:ص48)

کاش! الاعتصام نے اس کے بعد جو کچھ لکھا اہل اشراق وہ بھی نقل کر دیتے تو کسی نوعیت کا الجھاؤ باقی نہ رہتا، الاعتصام کی مکمل عبارت یوں ہے۔

چلیے ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ’نرد‘ جوئے کے طور پر کھیلا جاتا تھا۔ اس لیے ’میسر‘ (جوئے) کے ساتھ اس کی حرمت بھی بیان ہوئی، لیکن شراب اور جوئے کی ان محفلوں میں صرف ’نرد‘ ہی کھیلا جاتا تھا یا اس کے ساتھ کچھ اور بھی تھا؟ خود انھوں نے (غامدی صاحب) نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ ’اس امکان کی تردید نہیں کی جاسکتی کہ یہاں کوبۃ سے مراد طبل ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ شراب اور جوئے کی انھی محفلوں میں کیف وسرود کو بڑھانے کے لئے مغنیات اور ان کے ساتھ دف، طبل اور دیگر آلاتِ موسیقی بھی فراہم رہتے تھے۔‘ لہٰذا جب شراب اور جوئے کی محفلوں میں جوئے کا کھیل نرد ہی نہیں کھیلا جاتا تھا بلکہ طبل اور آلاتِ موسیقی کا وجود بھی خارج از امکان نہیں تھا تو کوبہ سے نرد مراد لینے ہی کو قرینِ قیاس قرار دینے میں کون سی معقولیت رہ جاتی ہے؟ (الاعتصام)

فرق بالکل نمایاں ہے کہ اہل اشراق زیرِ بحث میں الکوبۃ سے مراد ’نرد‘ لینا قرینِ قیاس قرار دیتے ہیں اور الاعتصام نے لکھا ہے کہ جب شراب کی محفلوں میں طبل اور دیگر آلاتِ ملاحی کا امکان موجود ہے تو نرد کو قرینِ قیاس کہنا کہاں کا انصاف ہے۔ مگر افسوس اہل اشراق اپنی کج فکری میں اسے بھی اپنی ہمنوائی سمجھتے ہیں۔

اسی حوالے سے ان کی دیانت کا آخری شاہکار بھی دیکھیے، لکھتے ہیں: ہم نے لکھا ہے کہ کوبۃ کے معنی نرد لینا اگرچہ زیادہ قرینِ قیاس ہے لیکن اس امکان کی تردید نہیں کی جاسکتی کہ یہاں کوبۃ سے مراد طبل ہو، یہ عین ممکن ہے کہ اس کے جوئے اور شراب کی مجالس کے ساتھ معروف ہونے کی وجہ سے نبی ﷺ نے اس کی ممانعت کا حکم فرمایا ہو۔ اس پر الاعتصام نے لکھا ہے: جب یہ روایت ان کے ہاں مسلمہ ہے تو کوبۃ (یعنی) طبل کی حرمت کا انکار اور کوبۃ سے صرف نرد مراد لینا بہرحال بے بنیاد ہے۔(اشراق:ص48)

قارئین کرام توجہ فرمائیں جب ان کے ہاں یہ امکان موجود ہے کہ یہاں کوبۃ سے مراد طبل ہو تو کیا  نرد کی طرح اہل اشراق ’طبل‘ کی حرمت کے قائل ہیں؟ قطعاً نہیں، اس کے لئے ان کی حیلہ سازی یوں ہے کہ ”اگر دف کا جواز موجود ہے جو طبل کی ہی طرح بجانے کا آلہٴ موسیقی ہے تو طبل کو علی الاطلاق حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ (اشراق:ص92 مارچ 2004ء)

ہم اہل اشراق کی اس بارے میں غلط فہمی کا ازالہ ”دف پر طبل کا قیاس“ کے عنوان سے کر چکے ہیں۔ اس کا اعادہ مزید تطویل کا باعث ہوگا۔ اہل اشراق نے اس بارے میں سکوت کر کے گویا ہماری ان معروضات کو تسلیم کر لیا ہے۔ اہل اشراق کی بے چارگی اور پھر سینہ زوری دیکھیے کہ ایک طرف شراب اور جوئے کی مجلسوں میں طبل کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اسی بنا پر اس کی ممانعت کا حکم ارشاد فرمایا ہو پھر بھی اس ممانعت کو تحریمی نہ سمجھیں، جب کہ آنحضرت ﷺ اس ”ممانعت“ کا حکم إن الله حرم کہہ کر (کہ اللہ تعالیٰ نے شراب، جوئے اور کوبہ کو حرام ٹھہرایا ہے) حرام قرار دیں۔ پھر طرفہ تماشا یہ کہ اشراق: ص92 کے حاشیہ میں طبرانی اوسط کے حوالے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث بھی نقل کریں کہ نبی ﷺ نے چھ چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں: شراب، جوا، باجے، مزامیر، دف اور کوبہ۔ اور اسی روایت کی بنا پر ہم نے عرض کیا. جسے سوئے فہم میں اہل اشراق اپنی ہمنوائی سمجھتے ہیں.. کہ جب یہ روایت ان کے ہاں مسلمہ ہے تو کوبۃ، یعنی طبل کی حرمت کا اس میں ذکر ہے، اس لیے طبل کی حرمت کا انکار اور کوبۃ سے صرف نرد مراد لینا بہرنوع غلط ہے۔ بلکہ اس روایت کی بنا پر تو ”دف“ بھی حرام قرار پاتی ہے۔ قارئین کرام سے التماس ہے کہ وہ اس حوالے سے ہماری سابقہ معروضات پر ایک نظر ڈال لیں جس سے ان کے حالیہ وساوس کا بھی ازالہ ہوگا اور دف پر طبل کو قیاس کر کے طبل کو حرمت کے حکم سے خارج کرنے کی جو بہانہ سازی کی ہے اس کی حقیقت بھی آشکار ہو جائے گی۔ ان شاء اللہ

چوتھی حدیث

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ ساتھ یہی روایت حضرت قیس بن سعد سے بھی مروی ہے کہ میرے رب نے میرے اوپر حرام ٹھہرایا ہے شراب، جوئے، گانے بجانے والیوں اور کوبہ (طبل) کو۔ یہ روایت السنن الکبریٰ (ص222 ج10) وغیرہ میں مذکور ہے۔ علامہ البانی نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے۔ اس حدیث سے بھی موسیقی اور آلاتِ موسیقی کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ اہل اشراق نے اس روایت سے غالباً اس لیے کوئی تعرض نہیں کیا کہ کوبۃ کے حوالے سے سابقہ روایت پر وہ اپنے نقطہٴ نظر کو واضح کر چکے ہیں۔

پانچویں حدیث

موسیقی کی حرمت پر ہم نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی استدلال کیا کہ میری امت میں قذف (پتھروں کا برسنا) مسخ (شکلوں کا مسخ ہونا) اور خسف (زمین میں دھنسائے جانے) کے واقعات ہوں گے، آپ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ واقعات کب ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب آلات موسیقی، گانے بجانے والیاں اور شراب عام ہو جائے گی۔ یہ حدیث اپنے شواہد کے ساتھ حسن صحیح ہے، علامہ البانیؒ نے اسی بنا پر (الصحیحہ رقم:1604) اور (تحریم آلات الطرب:ص68) میں اس قدر حصہ کو صحیح قرار دیا ہے۔ اب ہر مسلمان سمجھ سکتا ہے جو امور عذابِ الہی کا سبب ہوں کیا وہ فطرتاً مباح قرار دیے جا سکتے ہیں؟ اور ان کے جواز کا کوئی پہلو باقی رہتا ہے؟

جناب غامدی صاحب نے ”ضعیف روایات“ کے تحت سازوں کا عام ہونا اور مصائب کا نزول کے عنوان سے ترمذی کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ذکر کی اور اسے جس انداز پر ضعیف قرار دیا اس کی دلچسپ تفصیل ہم بیان کر آئے ہیں، اہل اشراق نے اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بس اتنی بات کہی کہ: الاعتصام نے اس روایت کے ضعیف ہونے سے اصلاً اتفاق کیا ہے۔ چنانچہ یہ لائقِ استدلال نہیں۔ (اشراق:ص55)

بڑی ہی عجیب بات ہے کہ ہم نے ترمذی کی مکمل روایت کو تو ضعیف کہا مگر شراب، آلاتِ موسیقی اور گانے والیوں کے عام ہونے پر مصائب کے نزول کا جو ذکر ہے اس کو شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا اور علامہ البانیؒ سے نقل کیا کہ [ھذا القدر منہ صحیح بلا ریب لھذہ الشواہد] اس کا اس قدر حصہ اپنے شواہد کی بنا پر بلا ریب صحیح ہے۔ اور مزید لطف کی بات یہ کہ خود اہل اشراق نے ہمارے اس موقف کو نقل بھی کیا کہ ’علامہ البانیؒ ترمذی کی مکمل روایت کو تو ضعیف قرار دیتے ہیں مگر ترمذی کے اس حصے کو شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیتے ہیں۔ (اشراق:ص55)

مگر اس کے باوجود اہل اشراق بڑی دلیری سے لکھتے ہیں:

الاعتصام نے اس روایت کے ضعیف ہونے سے اصلاً اتفاق کیا ہے۔بتلائیے اسے غلط بیانی کہا جائے یا ناقص ترجمانی سے تعبیر کیا جائے جو کچھ بھی ہے بہر حال غلط ہے۔ ترمذی کا یہ حصہ شواہد کی بنا پر صحیح ہے لہٰذا اس سے استدلال بھی صحیح ہے۔

اہل اشراق نے مزید یہ بات بھی کہی کہ یہ روایت اسی مضمون کی حامل ہے جو بخاری میں بیان ہوا ہے۔ چنانچہ حدیثِ بخاری کی روشنی میں اس کے معنی بھی یہی ہوں گے کہ آلاتِ موسیقی اگر شراب نوشی اور دیگر رذائلِ اخلاق کے ساتھ منسلک ہو جائیں تو ان کی شناعت مسلم ہے۔ (اشراق:ص54) اللہ تعالیٰ کی توفیق سے پہلی حدیث کے تحت ہی ”عجیب استدلال“ کے عنوان پر ہم ان کے اس زاویہٴ نظر پر تبصرہ کر چکے ہیں۔ جس پر اہل اشراق نے کچھ کہنے سے گریز کیا۔ اس لیے ہم بھی اس پر مزید بحث مناسب نہیں سمجھتے۔

چھٹی حدیث

موسیقی کی کراہت اور شناعت پر اہل علم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جسے امام مسلم رحمہ اللہ وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھنٹی شیطان کا ساز ہے۔ یہ اور اسی موضوع کی دیگر روایات جن کا ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ گھنٹی اور گھنگھرو شیطانی ساز ہیں۔ جہاں ان کا استعمال ہو وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت نہیں ہوتی۔ اس بارے میں جناب غامدی صاحب کے افکار کا جائزہ بھی ہم پیش کر چکے ہیں۔ اہل اشراق ہماری معروضات سے سخت برہم ہیں۔ بلکہ فرماتے ہیں:

ہزاروں الفاظ صفحہٴ قرطاس پر رقم کیے گئے مگر ان میں دو لفظ بھی ایسے نہیں ہیں جن میں ہمارے استدلال پر نقد کیا گیا ہو۔ ہماری بات فقط اس قدر تھی کہ عربی لغت اور عرب ثقافت کی معلومات اگر سامنے ہوں تو گھنٹی کو من جملہ آلاتِ موسیقی تصور کرنا درست نہیں۔ (اشراق:ص44)

بات دراصل یہ ہے کہ جو حضرات ”مصادرِ دین“ میں ”قدیم صحائف“ کو بھی شمار کرتے ہوں، ان سے یہ بات بالکل ممکن اور درست ہے کہ وہ آلاتِ موسیقی کے لیے صرف ”عربی لغت“ اور ”عرب ثقافت“ کو پیشِ نظر رکھیں، اگر وہ اس فکر سے نکلتے تو انھیں ہماری معروضات میں ان کے ”دو لفظی“ سوال کا جواب نظر آ جاتا۔ قارئین کرام سے معذرت سے عرض ہے کہ وہ اسی حدیث کے تحت ”غامدی صاحب کی کج فکری“ کے عنوان کو پڑھیں اورانصاف فرمائیں کہ کیا ان کے سوال کا جواب موجود ہے یا نہیں؟ چنانچہ ہم نے عرض کیا تھا: چلیے! ہم لمحہ بھر کے لیے تسلیم کرتے ہیں کہ گھنٹی یا گھنگھرو کو آلاتِ موسیقی میں شمار نہیں کیا گیا، لیکن کیا عرب میں آلاتِ موسیقی بس وہی تھے اور آنحضرت ﷺ ان سے ہٹ کر مزید کسی کو آلاتِ موسیقی میں شمار کرنے اور اس کی ممانعت کے مجاز نہ تھے؟ جب رسول اللہ ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے گھنٹی کو شیطان کا ساز قرار دیا ہے، تو اس کے بعد امتی کے لئے اس کی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ تلاش کرے کہ عرب میں یہ آلاتِ موسیقی میں شمار ہوتا تھا یا نہیں۔ حیرت ہے کہ موصوف خود فرماتے ہیں: گھنگھرو کاٹ دینے کے حکم کے بارے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ انھیں چوں کہ پیشہ ور مغنیات استعمال کرتی تھیں اس لیے سیدہ (عائشہ) نے ان سے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ (اشراق:ص78)

لہٰذا جب غامدی صاحب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جلجل (گھنگھرو)، پیشہ ور مغنیات استعمال کرتی تھیں تو اس کے بعد ان کو آلاتِ موسیقی میں شمار نہ کرنا خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟ بلکہ پہلے فتح الباری (ص440-441 ج2) کے حوالے سے گزر چکا ہے کہ یہ جلجل دف کو لگا دی جاتی تھی تو ایسی صورت میں دف بھی باجے میں شمار ہوتی تھی۔ اور کسے معلوم نہیں کہ جلجل کو جرسِ صغیر (چھوٹی گھنٹی) کہا جاتا ہے اس لیے جرس اور جلجل کو آلاتِ موسیقی سے خارج قرار دینا بہرنوع غلط ہے۔

قارئین انصاف فرمائیں کہ اشراق کے موقف پر نقد موجود ہے یا نہیں؟ اور لغتِ عرب میں الجلجل کو الجرس الصغير کہا گیا ہے یا نہیں؟ اور یہی جلجل مغنیات استعمال کرتی تھیں یا نہیں؟ جب ان تمام کا جواب اثبات میں ہے تو جلجل اور جرس کو آلاتِ موسیقی سے خارج کرنا خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ جلجل اپنے حجم کے اعتبار سے پاؤں میں مغنیہ ڈالے یا جانور کے گلے میں حجم کے اعتبار سے گھنٹی ڈالی جائے، دونوں غلط ہیں اور آلاتِ موسیقی میں سے ہیں۔ ان کو آلاتِ موسیقی سے خارج کرنے کے لئے جو تاویلات غامدی صاحب نے کیں ہم ان کا جائزہ پیش کر چکے، بلکہ اس بحث میں جن بے اعتدالیوں کا انھوں نے مظاہرہ کیا ان کی نشان دہی بھی کر دی گئی، اس حوالے سے اہل اشراق کی خاموشی ان کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ البتہ ان میں سے دو باتوں کے بارے میں انھوں نے بڑے جذباتی انداز میں وضاحت چاہی ہے۔ ان میں پہلی بات یہ کہ غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ جانوروں کے گلے میں گھنٹیوں کی آواز دشمن کو خبر کرنے کی صورت پیدا کرتی ہے اس لیے نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا تھا۔ ہم ان کے اس موقف کی کمزوری ”ایک اور بہانہ“ اور ”ایک لایعنی تاویل“ کے عنوان کے تحت بیان کر چکے ہیں۔ اہل اشراق نے اس حوالے سے تو کوئی بات نہیں کہی البتہ یہ بات دہرائی ہے کہ: چلیے کچھ دیر کے لئے الاعتصام کی تاویل مان لیتے ہیں کہ گھنٹی اور کتوں سے اس لیے منع کیا گیا کہ وحی لانے والے فرشتے ان سے کراہت محسوس کرتے تھے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس بات کو تسلیم کرنے سے ہمارے استدلال پر کیا زد پڑی؟ کیا اس کے نتیجے میں گھنٹی آلاتِ موسیقی کے زمرے میں شامل ہوگئی؟ اگر ایسا نہیں تو ان روایتوں کو حرمتِ موسیقی کی بنا ہرگز نہیں بنایا جا سکتا۔ (اشراق:ص45)

اولاً: گزارش ہے کہ یہ ”الاعتصام کی تاویل“ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی صراحت ہے کہ لا تصحب الملائكة رفقة فيها كلب أو جرس (مسلم 202/2، ابوداؤد: 330/2 مع العون وغیرہ الصحیحہ، رقم 1873)

کہ فرشتے اس قافلے کے ہمراہی نہیں ہوتے جس میں کتا یا گھنٹی ہو۔ محدثینِ کرام پر اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں ہوں، وہ حدیث کی تاویل میں بھی قیاسات سے حتی الوسع اجتناب کرتے ہیں، اسی حکم کے بارے میں کہ آپ نے جانوروں کی گردنوں سے گھنٹی کو اتار پھینکنے کا کیوں حکم دیا۔ الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان (ص101 ج7) میں ہے [ذكر العلة التي من أجلها أمر المصطفى ﷺ بهذا الأمر] اس کے تحت یہی حدیث مذکور ہے جو صحیح مسلم اور ابو داود وغیرہ کے حوالے سے ہم نے ذکر کی ہے کہ: اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی ہمراہی سے محروم ہونا اس ممانعت کی اصل علت ہے وہ فرشتے رحمت کے ہوں، بخشش مانگنے والے ہوں، یا وحی لانے والے حضرت جبرئیل ہوں۔ لہٰذا جب فرشتوں کی ہمراہی سے محرومی اس کی علت ہے تو گھنٹی کی کراہت و شناعت اس سے خود بخود ظاہر ہو جاتی ہے۔ گھنٹی کوکسی ادیب یا مؤرخ نے آلہٴ موسیقی قرار دیا ہو یا نہ دیا ہو، رسول اللہ ﷺ نے بہرحال اسے شیطان کا ساز قرار دیا ہے۔ اسی لیے اس سے فرشتے نفرت کرتے ہیں، جہاں یہ بج رہی ہوں، خواہ وہ جانوروں کی گردن میں ہوں یا مغنیہ کے پاؤں میں ہوں۔ جب اہل اشراق اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ گھنگھرو پیشہ ور مغنیات استعمال کرتی تھیں اس کے بعد گانے بجانے میں انھیں آلہٴ موسیقی تسلیم نہ کرنا محض مجادلہ ہے۔ گھنٹیاں بھی گھنگھرو کی ایک نوع ہیں، فرق صرف حجم کے اعتبار سے ہے، بلکہ گانے بجانے اور ناچنے میں اب بھی یہ دونوں استعمال ہوتی ہیں۔

دوسری بات جو ہماری معروضات کے جواب میں اہل اشراق نے کہی وہ یہ کہ جناب غامدی صاحب نے فرمایا تھا، جرس کے بارے میں مزامیر کا لفظ لغوی مفہوم میں استعمال نہیں ہوا، بلکہ تشبیہ واستعارہ اور مبالغے کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس کے بارے میں الاعتصام میں جو کچھ عرض کیا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دین کے احکام ومسائل کے بیان میں مبالغہ اور افراط وتفريط کا احتمال دیگر انسانوں سے تو ہوتا ہے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں اس قسم کا تصور مقامِ نبوت سے نا آشنائی کا نتیجہ ہے۔ ہماری یہ بات اہل اشراق کو بڑی ناگوار گزری، لیکن اس حوالے سے جو مثالیں پیش کر کے ہمیں زبان ناشناسی کا طعنہ دیا پہلے ان پر ایک نظر ڈال لیجئے، فرماتے ہیں:

سیدنا حمزہ، سیدنا علی، سیدنا خالد بن ولید کی میدانِ جنگ میں آنے کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے تو اسے سن کر سادہ سے سادہ آدمی بھی ”شیر“ اور ”کانپ“ کے وہ معنی نہیں لے گا جو لغت میں ان الفاظ کے تحت لکھے ہوئے ہیں۔ (اشراق:ص46)

غور فرمائیے: کسی شخصیت کے بارے میں یہ اسلوبِ بیان کسی جائز وناجائز یا حلال وحرام کے کسی شرعی مسئلہ میں آتا ہے؟ جرس کو اتار پھینکنا اور اسے مزامیر الشیطان کہنا شرعی مسئلہ ہے اور جرس کے جائز وناجائز ہونے سے اس کا تعلق ہے۔ اہل اشراق جب تسلیم کرتے ہیں کہ ’ان روایتوں سے گھنٹی سے متعلق کوئی حکم تو بے شک اخذ کیا جا سکتا ہے۔ (اشراق:ص44)

تو ان روایات سے جرس کے ناجائز ہونے کا حکم ثابت ہوتا ہے، وہ اگر جرس کو آلہٴ موسیقی قرار نہیں دیتے تو کیا جرس کو جائز قرار دیتے ہیں؟ امید ہے کہ وہ اس کی جسارت نہیں کریں گے۔ ہم نے ’دینی احکام ومسائل‘ کے حوالے سے بات کہی تھی اہل اشراق ان الفاظ پر غور کر لیتے تو یہ مثال پیش کرنے سے گریز کرتے۔

جہمئیہ اور معتزلہ کے نقشِ قدم پر

اسی حوالے سے دوسری مثال انھوں نے یہ دی کہ الاعتصام نے خود نبی ﷺ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،انھیں پڑھ کر اگر کوئی شخص یہ نتیجہ اخذ کرے کہ انسانوں کی طرح خدا کے بھی اعضا و جوارح ہیں (معاذ اللہ) اور جان بھی کوئی مجسم شے ہے تو اس کی عقل کا ماتم کیا جائے گا۔ (اشراق: ص 46)

عرض ہے کہ یہ ماتم کوئی جہمئی وال، معتزلی یا بدعتی تو کرے گا، سلف میں کوئی بھی اللہ کی ’ذات‘ کا انکار نہیں کرتا، نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ’ہاتھوں‘ کا انکار کرتا ہے۔ اور نہ انھیں انسانوں کی طرح سمجھتا ہے۔ حدیثِ پاک میں والذي نفسي بیدہ کے الفاظ ہیں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بارے میں نفس اور ید کا اطلاق قرآنِ مجید اور متعدد احادیث میں آیا ہے۔ ائمہٴ سلف ان صفاتِ الہیہ کو بلا تشبیہ و بلا تاویل اجمالاً اسی طرح تسلیم کرتے ہیں۔ امام ابن خزیمہؒ نے کتاب الایمان (ص6) میں باب ذکر البیان من خبر النبي ﷺ في إثبات النفس لله الخ اور (ص: 53تا74) میں باب ذکر إثبات اليد کے تحت اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر کیا ہے۔ امام المحدثین امام بخاریؒ نے صحیح بخاری کی کتاب الرد علی الجھمیة وغیرھم اور کتاب التوحید میں باب قول اللہ ويحذركم اللہ نفسہ ذکر فرمایا: اور اس کے بعد باب قول اللہ تعالیٰ لما خلقت بیدی ذکر کر کے اللہ تعالیٰ کی ان دونوں صفات کا تذکرہ کیا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور ان کے تلمیذِ رشید علامہ ابن قیمؒ نے اپنی متعدد تصانیف میں اس پر بڑی تفصیل سے بحث کی ہے۔ علامہ ابن ابی العزؒ نے شرح عقیدہ الطحاویہ اور علامہ السَفارینیؒ نے لوامع الأنوار البهية میں اس پر بڑی نفیس گفتگو کی ہے، اہل اشراق اگر معتزلہ اور جہمئیہ کے نقشِ قدم پر چل نکلے ہیں تو انھیں اس سے کون روک سکتا ہے۔ واللہ یہدی السبیل

جہمیت کے اسی غلبہ کا شاید نتیجہ ہے انھوں نے بلا تأمل لکھ دیا ”جان بھی کوئی مجسم شے ہے۔ حالانکہ الاعتصام میں ”جان“ کا اطلاق نبی کریم ﷺ کے حوالے سے ہے۔ الفاظ دوبارہ پڑھ لیجیے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ”میری“ ”جان“ سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ ”جان“ سے مراد روح بھی ہو سکتی ہے اور روح کا بھی جسم ہے حافظ ابن قیمؒ نے کتاب الروح (ص54-55) میں اس پر نفیس بحث کی ہے۔ یہ انکار اسی اسلوب میں ہے جیسے معتزلہ اعمال کو اعراض سمجھ کر وزنِ اعمال کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے مزید عرض ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے لکھا ہے کہ کتاب وسنت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے بارے میں لفظ ”جسم“ نفیاً یا اثباتاً استعمال نہیں ہوا۔ اور جن بعض حضرات نے یہ لفظ استعمال کیا وہ فرماتے ہیں کہ: [إنه جسم لا كالأجسام كما يقال ذات لا كالذوات وموصوف لا كالموصوفات وقائم بنفسه لا كالقائمات وشيء لا كالأشياء] وہ جسم ہے انسانوں کے جسم کی طرح نہیں، ذات ہے انسانی ذوات کی طرح نہیں، موصوف ہے دوسرے موصوفات کی طرح نہیں، قائم بالنفس ہے دوسرے قائمین کی طرح نہیں، وہ شے ہے دوسری اشیاء کی طرح نہیں۔ (بيان تلبيس الجهمية: ص50-54 ج1)

امام ابو حنیفہؒ کی طرف منسوب معروف کتاب الفقہ الأکبر میں ہے: [وله يد ووجه ونفس فما ذكره الله تعالى في القرآن من ذكر الوجه واليد والنفس فهو له صفات بلا كيف]

کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے، چہرہ ہے، نفس ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن میں چہرہ، ہاتھ اور نفس کا ذکر کیا تو وہ اللہ کی صفات ہیں اور بلا کیفیت ہیں۔ (الفقہ الأکبر:ص36)

علامہ ابن ابی العزؒ نے شرح العقیدہ الطحاویہ (ص219) میں بھی الفقہ الاکبر کی یہ عبارت نقل کی اور اس کی تفصیلاً تائید کی ہے۔ اس لیے اس حدیث میں کہ: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ سلف کے ہاں اپنے اصلی معنی پر ہی مشتمل ہے، اس میں کوئی استعارے کی بات نہیں۔ جہمئیہ یا معتزلہ اور ان کے جانشین کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تو یہ ان کی محض عقل پرستی کا نتیجہ ہے۔ صفاتِ باری تعالیٰ کا مسئلہ محدثین اور مبتدعین کے مابین مشہور اختلافی مسئلہ ہے، دوسرے کئی مسائل کی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اہل اشراق اس مسئلہ میں مبتدعین جہمئیہ اور معتزلہ کے ہمنوا ہیں۔ أعاذنا اللہ منہم

اسی حوالے سے کہ الفاظ تشبیہ ومشاہبت کے لیے استعمال ہوتے ہیں ہمارے ایک اور اقتباس کو بھی اہل اشراق نے پیش کیا ہے جس میں بیان ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی تلاوت سن کر فرمایا: اے ابو موسیٰ! تجھے تو قومِ داود کے سازوں میں سے ایک ساز دیا گیا ہے۔ یہاں ”ساز“ سے الاعتصام نے بھی حسنِ صوت مراد لیا ہے۔ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں: مزمار آلہ ہے اس کا آواز پر اطلاق اس کی خوبصورتی کی مشابہت کی بنا پر ہوا ہے۔ (اشراق:ص46)

مگر یہاں اہل اشراق نے اس بنیادی فرق کو ملحوظ نہیں رکھا جس کی طرف اشارہ ہم پہلے کر آئے ہیں۔ یہ کسی لفظ کا تشبیہ ومشاہبت کے طور پر استعمال کرنا اور دینی مسئلہ کے جائز وناجائز، حلال وحرام ہونے کے ناطے کسی بات کو بیان کرنا دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ کی خوبصورت آواز سن کر اسے ”مزامیرِ آلِ داود“ کے مشابہ قرار دیا، اور اس کی تحسین فرمائی، اور قرآنِ پاک کو خوبصورتی سے پڑھنے کا حکم فرمایا۔ اس کے برعکس حدیثِ زیرِ بحث میں گھنٹیوں اور گھنگھروؤں کے اتار پھینکنے کا حکم فرمایا اور آگاہ کیا کہ یہ ”شیطانی ساز“ ہے۔ نتیجہ ظاہر ہےکہ یہاں آپ نے ان سے نفرت کا اظہار فرمایا اور اسے شیطانی ساز قرار دیا۔ اب دونوں کے اتار پھینکنے کے حکم سے صرفِ نظر کر کے ”الجرس مزمار الشيطان“ کی روایت کو محض مشابہت کے مفہوم میں لینا کوئی عقل مندی نہیں۔ ہماری اس وضاحت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اہل اشراق نے بنیادی طور پر ہماری بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اور جو مثالیں اس حوالے سے انھوں نے پیش کی ہیں وہ بھی ہمارے مدعا کے قطعاً منافی نہیں ہیں۔

ساتویں حدیث

موسیقی کے ناجائز اور حرام ہونے کے بارے میں ہم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت بھی ذکر کی جس میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چرواہے کی بانسری کی آواز سن کر کانوں میں انگلیاں لے لی تھیں، اور ذکر کیا تھا کہ اہل علم نے اس حدیث سے آلاتِ موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا ہے۔ اسی ضمن میں جناب غامدی صاحب کے وساوس کا ازالہ بھی کیا، ان کا اہل اشراق نے کسی حد تک دفاع کیا۔ قارئین کرام ہماری معروضات کو دیکھ کر اس کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، اپنی شرمندگی کو مٹانے اور اپنے حلقہٴ اثر کو مطمئن کرنے کے لئے جس انداز سے معتزلانہ عقل مندی کا مظاہرہ اہل اشراق نے اب کیا ہے اس کی حقیقت بھی معلوم کر لیجیے۔

غامدی صاحب نے اس حدیث کو ’صحیح اور حسن روایات‘ کے تحت ”بانسری کی حرمت“ کے عنوان سے بیان کیا، اور حاشیے میں نقل کیا کہ ’ابوداؤد نے اسے منکر قرار دیا ہے، علامہ البانیؒ کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے۔ راقم اثیم نے غامدی صاحب کا نام لیے بغیر امام ابو داؤد کے قول کا دلائل سے رد کیا اور ذکر کیا ہے کہ اسے منکر کہنا درست نہیں۔ افسوس کہ ہماری یہ وضاحت بھی اہل اشراق کو ناگوار گزری تو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے لکھ دیا:

الاعتصام نے متعدد حوالے نہایت تفصیل سے اس کی صحت ثابت کرنے کے لئے دیے یہ اہتمام اس کے باوجود ہے کہ ہم نے اسے صحیح روایت کے طور پر قبول کیا ہے۔ ایسی مفصل توضیحات سے مقصود غالباً اس لیاقت کا اظہار ہے کہ وہ حدیث کی کتابوں سے مراجعت کر سکتے ہیں۔ (اشراق:ص49)

اشراق میں بلا شبہ انھوں نے اس روایت کو صحیح اور حسن روایات کے ضمن میں ذکر کیا، مگر حاشیے میں دو مختلف آرا پیش کر کے ایک متشکک کے لئے تشکیک کی جو راہ ہموار کر دی اس کا ازالہ اگر کر دیا ہے تو اہل اشراق کو وہ بھی گوارا نہیں۔ وہی از راہِ انصاف غور فرمائیں کہ صرف دو مختلف آرا نقل کرنے پر ہی اکتفا نہیں کی گئی بلکہ روایت کے متن میں اختلاف واضطراب ثابت کرنے کے لئے یہ بھی کہا گیا کہ ابن ماجہ رقم (1901) میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے اسی مضمون کی روایت نقل ہوتی ہے۔ اس میں زمارہ بانسری کی بجائے طبل ڈھول کے الفاظ آئے ہیں۔ (اشراق: ص93 مارچ2004ء)

کیا ان کی یہ ساری سعیِ راہِ گم گشتہ کے لئے مزید تشکیک کا باعث نہیں ہو سکتی؟ کیا اس کے بعد بھی یہی معنی سمجھے جائیں کہ روایت کے تمام الفاظ کی نشان دہی اس زمرے میں آئی ہے کہ وہ اپنی ”لیاقت کا اظہار“ کرنا چاہتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ابن ماجہ کی یہ روایت ذکر کر کے غامدی صاحب اور اہل اشراق نے خاموشی اختیار کی اور یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ یہ صحیح ہے یا ضعیف، اب ہم اگر اس کی وضاحت کر دیں تو وہ ظنِ باطن کے مطابق یہی کہیں گے یہ بھی اپنی ”لیاقت کا اظہار ہے“ یہ روایت جو ابن ماجہ (رقم:1901) کے حوالے سے انھوں نے نقل کی علامہ البوصیریؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں: [وهذا إسناده فيه ليث وهو ابن أبي سليم وقد ضعفه الجمهور] اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (مصباح الزجاجہ:ص335 ج1)

یہی بات ان کے حوالے سے علامہ محمد فواد عبد الباقی نے بھی ابن ماجہ میں کہی ہے۔ اس لیے صحیح روایت کے مقابلے میں طبل کا ذکر منکر اور ضعیف ہے۔

اہلِ اشراق کی دوسری لب کشائی یہ ہے کہ: حدیث کے مطالب تک رسائی ایک بالکل مختلف چیز ہے۔ اس کے لئے جو تفحص، جو وسعتِ نظر اور جو مجتہدانہ بصیرت درکار ہے، اہل الاعتصام اور ان کے ہم قبیل چوں کہ اسے لائقِ اعتنا ہی نہیں سمجھتے اس لیے ان سے اس کا تقاضا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ (اشراق:ص49-50)

اہلِ اعتصام بفضلِ اللہ تعالیٰ سلف کی راہنمائی میں حدیث کے مطالب ومقاصد کو سمجھنے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں، البتہ اہلِ اشراق کی معتزلہ تعبیرات و تاویلات کو قطعاً تسلیم نہیں کرتے بلکہ انھیں دین میں بدترین تحریف تصور کرتے ہیں، اور معتزلہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عقل پرستی کا جو وہ مظاہرہ کرتے اور اسے دین کی تفہیم و تعبیر سمجھتے ہیں اہل الاعتصام اس پر فکر مند ہیں اور اسے سبیل المؤمنین سے انحراف سمجھتے ہیں۔ زیرِ بحث روایت کے بارے میں ان کی عقل پسندی دیکھیے، لکھتے ہیں:

روایت کے اندر آلہٴ موسیقی بانسری کی حرمت، شناعت یا کراہت کا نتیجہ ہرگز نہیں نکلتا، فقط کانوں میں انگلیاں رکھنے کے عمل کی بنا پر نفرت و کراہت کا حتمی فیصلہ ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ (اشراق:ص50)

حالانکہ ہم عرض کر چکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ان کی اتباع میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بانسری کی آواز سن کر کانوں میں انگلیاں ہی نہیں ڈالیں بلکہ وہ راستہ ہی تبدیل کر لیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کان بند کر لینے کے باوجود آپ ﷺ اور عبداللہ بن عمر نے راستہ چھوڑا اور اپنے لیے مشقت برداشت کی؟ اسی لیے کہ بانسری ہو یا دیگر آلاتِ موسیقی یہ سب شیطانی آلات اور شیطانی ساز ہیں۔ جہاں یہ بج رہے ہوں وہاں شیطان کا عمل دخل ہوتا ہے، اللہ کی رحمت وہاں نہیں ہوتی اس لیے آپ ﷺ نے وہ راستہ تبدیل کیا اور آپ کی پیروی میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اپنا راستہ چھوڑا۔ جس آواز کو سن کر رسول اللہ ﷺ نے کانوں میں انگلیاں ڈال لی ہوں اور اپنا سیدھا راستہ تبدیل کر لیا ہو اس آواز کی کراہت و شناعت کا انکار اہل اشراق کی ”فقاہت“ اور ”مجتہدانہ بصیرت“ کا شاہکارہے۔ ابن حجر ہیتمی کے حوالے سے ہم نقل کر آئے ہیں کہ علمائے کرام نے اس حدیث سے مزامیر کی حرمت پر استدلال کیا ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسی حدیث پر [باب ما جاء في ذم الملاهي من المعازف والمزامير ونحوها] قائم کر کے اس کی شناعت و کراہت کو بیان کیا، امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے بھی اس پر باب [كراهية الغناء والزمر] کا عنوان قائم کر کے اس کی کراہت کی طرف اشارہ کیا، امام ابوبکر الآجُرِّی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب تحریم النرد والشطرنج والملاهي (ص125) میں باب [تنزيه العقلاء اسماعهم عن استماع الملاهي] کے تحت ذکر کیا اسی طرح امام ابن ابی الدنیا نے ”ذم الملاہی“ میں لا کر آلاتِ ملاہی کی حرمت و شناعت بیان کی۔ دیگر فقہائے کرام کی مزید کتابوں سے تفصیل نقل کی جائے تو اہل اشراق کی طبعِ نازک پر یہ بھی ناگوار گزرے گا اور اسے بھی وہ ”لیاقت کا اظہار“ کی پھبتی میں اڑانے کی سعیِ بلیغ کریں گے۔ اس لیے ان تمام حوالہ جات کو ہم نظر انداز کرتے ہیں۔

قارئینِ کرام! غور فرمائیں کہ یہ سب حضرات اس حدیث سے اسی طرح آلاتِ ملاہی کی حرمت و شناعت پر استدلال کرتے ہیں جس طرح اہلِ اعتصام نے کیا۔ اہل اشراق ہم فقیروں پر بے بضاعتی اور عدمِ تفحص کا بے شک الزام دیں مگر ان ائمہٴ کرام کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے؟ کیا وہ بھی وسعتِ نظر اور مجتہدانہ بصیرت سے محروم تھے۔ اور ان کے نزدیک یہ امور لائقِ اعتنا نہیں تھے؟ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ

اہل اشراق کی اس سے آگے کی بات پڑھیے اور پھر فیصلہ فرمائیے کہ یہ اتباع ہے یا حدیث سے انحراف! ہم نے عرض کیا تھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کو جو کچھ کرتے دیکھا وہی کیا، اس پر اہل اشراق لکھتے ہیں: اتباع کے اس اصول کو اگر بعینہ اختیار کیا جائے تو اس سے جو حکم مستنبط ہو گا وہ یہ ہے کہ راستے میں جاتے ہوئے اگر بانسری کی آواز سنائی دے تو کانوں میں انگلیاں رکھ لینی چاہئیں اور راستہ تبدیل کر لینا چاہیے، یہ ضروری ہے کہ اس موقع پر کوئی شخص آپ کے ہم راہ ہو جس سے آپ یہ معلوم کر سکیں کہ آیا بانسری کی آواز آ رہی ہے یا نہیں، اس کا التزام بھی ہونا چاہیے کہ وہ آدمی سنِ بلوغ کو نہ پہنچا ہوا ہو ورنہ وہ خود کانوں میں انگلیاں رکھنے کا مکلف ہو جائے گا اور آپ اس سے بانسری کی آواز سنتے رہنے اور اس کے بند ہو جانے سے آگاہ کرنے کی خدمت نہیں لے سکیں گے۔ (اشراق:ص50-51)

یہ ہے اہل اشراق کی مجتہدانہ بصیرت ”استنباط“ کا نمونہ، جناب من! یہ ”استنباط“ نہیں حدیث اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کا استہزا اور مذاق ہے، حالانکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بانسری کی صرف آواز سن کر کانوں میں انگلیاں ڈالیں، اپنا راستہ بدلا اور فرمایا کہ میں نے اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا۔ آپ ﷺ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے راستہ کیوں بدلا، ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ آلہٴ موسیقی کی آواز سن کر، کیوں کہ یہ آلہٴ موسیقی شیطانی ساز ہے جہاں یہ بج رہا ہو وہاں شیطان کا عمل دخل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت وہاں نہیں ہوتی۔

آنحضرت ﷺ نے وہ جگہ چھوڑ دی تھی جہاں سفر کے دوران میں آپ نے آرام فرمایا تھا تا آنکہ سورج نکل آیا اور صبح کی نماز قضا ہو گئی آپ ﷺ نے فرمایا: [هذا منزل حضرنا فيه الشيطان] کہ اس جگہ میں شیطان آ گیا ہے۔ [مسلم:680]

جہاں بانسری بج رہی تھی اس راستے کو بھی آپ ﷺ نے چھوڑ دیا کہ وہاں شیطانی ساز بج رہا تھا، اور یہی کچھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کیا۔ آج بھی جہاں یہ شیطانی عمل جاری ہو وہاں نہیں جانا چاہیے، مگر جن کے نصیبوں میں شیطان کو خوش کرنا ہے وہ اس کی مجلس کو سجائیں گے اور اس کا راستہ ترک نہیں کریں گے۔ یہ تو اپنے اپنے نصیبے کی بات ہے کوئی وہ راستہ چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کا طریقہ اختیار کرتا ہے اور کوئی اس کی مجلس کو سجانے کی دعوت دیتا ہے اور اسے نہ چھوڑنے کا ”فقہی فتویٰ“ صادر کر کے شیطان کی راہ چلتا ہے۔ پسند اپنی اپنی نصیب اپنا اپنا۔

قرآنِ مجید میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس جگہ بیٹھے رہنے کی اجازت نہیں دی جہاں دین کا مذاق اڑایا جا رہا ہو، اشراق کے محبوب مفسر لکھتے ہیں: شریعت کا مذاق جہاں بھی اڑایا جائے وہاں بیٹھنا بے غیرتی اور اس سے راضی رہنا نفاق و کفر ہے۔ (تدبر القرآن:ص78 ج3، الانعام:68) اس لیے جہاں شریعت کی کھلم کھلا مخالفت ہو رہی ہو، شیطانی ساز بج رہے ہوں وہاں نہ جانا عینِ شریعت کا منشا ہے، اسی کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے عمل کیا اور اس کی اتباع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کی، اور وہ بھی چرواہے کی بانسری کی آواز سن کر، چہ جائیکہ ماہرینِ فنِ موسیقی سے آلاتِ موسیقی کی سُریں سن کر سر دھنا جائے۔ علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے بجا فرمایا ہے کہ: [إذا كان هذا فعلهم في حق صوت لا يخرج عن الاعتدال فكيف بغناء الزمان وزمورهم] جب غیر معتدل آواز کے بارے میں ان کا یہ رویہ ہے۔ تو اس دور کے غنا اور ان کی بانسریوں کا کیا حکم ہو گا؟ (تلبیس ابلیس:ص203)

اہل اشراق نے اسی ضمن میں یہ بات بھی فرمائی کہ: نبی ﷺ کے اعمال کی ان کے ظاہر کے لحاظ سے بعینہٖ پیروی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا خاص مزاج ہے، چنانچہ ان کی مرویات سے علماء و فقہاء اس مزاج کی رعایت کرتے ہوئے احکام کا استنباط کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے بعض تفردات کا انھوں نے ذکر کیا اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی اقتضاء (ص387) سے بھی ایک عبارت نقل کی، اور یہ تاثر دیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ایسے منفرد مسائل میں جن میں انھوں نے اتباعِ رسول ﷺ سمجھ کر پاسِ لحاظ کیا ان کی پیروی کرنا گویا درست نہیں۔ (اشراق:ص51)

ہم حیران ہیں کہ اہل اشراق کی اس حیلہ گری اور عذر سازی کو ہم کیا نام دیں، بلکہ افسوس ہے کہ یہ ”اجتہاد“ ”پوری“ ”فقہی بصیرت“ سے کیا جا رہا ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اتباعِ رسول ﷺ میں خاص مزاج تھا اور اس حوالے سے ان کے کچھ تفردات بھی ہیں، مگر اہل اشراق نے غور نہیں کیا کہ اس مسئلہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اتباع ایسا نہیں کہ اس میں وہ منفرد ہوں، ائمہٴ محدثین وفقہائے کرام نے ان کی اس حدیث سےبانسری اور آلاتِ موسیقی کی شناعت و حرمت پر استدلال کیا ہے، جیسا کہ پہلے باحوالہ اس کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ جن کے حوالے سے اہل اشراق نے یہ تاثر دیا خود انھوں نے ذکر کیا ہے ائمہٴ اربعہ کا مذہب یہ ہے کہ بانسری کا شغل حرام ہے، اس حوالے سے معترضین نے جو اعتراضات کیے ہیں ان کا جواب بھی تفصیل سے انھوں نے دیا ہے۔ ملاحظہ ہو: (مجموع فتاویٰ: ص 212-214 ج30)

مجموعۃ الرسائل الکبریٰ جلد اول میں ان کا رسالہ السماع والرقص (ص302 ج1)، نیز دیکھیے کشف الغطاء من حکم سماع الغناء (ص270) لابن قیم اور تلبیس ابلیس وغیرہ۔ لہٰذا اس حدیث اور اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کو ان کے منفرد مسائل میں شمار کر کے اس کے متروک العمل ہونے کا تاثر دینا علم کی کوئی خدمت نہیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان

موسیقی اور آلاتِ موسیقی کی حرمت و شناعت کی سابقہ روایات کے علاوہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:[الغناء ينبت النفاق في القلب] کہ غنا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔ (بیہقی:ص243 ج10)

اس حوالے سے غامدی صاحب کی نکتہ آفرینی کی حقیقت ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، جس کے بارے میں اہل اشراق نے بالکل خاموشی اختیار کی۔ البتہ اس کے دفاع میں اب یہ فرمایا گیا ہے کہ: یہ حدیث نہیں بلکہ اثر ہے۔ چنانچہ اسے دین کے کسی قطعی حکم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ مزید برآں اس کے الفاظ بھی حرمت کے مفہوم میں صریح نہیں ہیں۔ (اشراق:ص55)

حالانکہ یہ بھی ان کا عذرِ لنگ اور فضول بھرتی ہے، ہم پہلے نقل کر آئے ہیں کہ یہ گو موقوف ہے مگر حکماً مرفوع ہے۔ نفاق اور موسیقی میں جو قدرِ مشترک ہے اس کی طرف اشارہ بھی پہلے ہو چکا۔ ایمان کے مقابلے میں جو چیز نفاق پیدا کرے اسے انسانی فطرت قطعاً قرار نہیں دیا جا سکتا، اہل اشراق کو اگر اس میں حرمت کی صراحت نظر نہیں آتی تو کیا موسیقی کی شناعت و کراہت کے لئے بھی یہ صریح نہیں؟

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان

ہم نے اس کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان بھی ذکر کیا کہ:دف حرام ہے، آلاتِ ملاہی حرام ہیں، طبل حرام ہے، بانسری حرام ہے۔ (بیہقی:ص222 ج10)

گویا آلاتِ ملاہی کی حرمت کا یہ فتویٰ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے۔ کیا اس میں حرمت کی صراحت نہیں؟ مگر دیکھا آپ نے کہ اہل اشراق نے اس سے صرفِ نظر ہی میں عافیت سمجھی۔ ان دونوں آثار کے پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم میں ان جلیل القدر ہستیوں نے بھی آلاتِ ملاہی کی حرمت اور شناعت ہی بیان کی ہے۔ کسی ایک صحابی سے بھی بسندِ صحیح ان کا جواز ثابت نہیں بلکہ علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ غنا نبی کریم ﷺ کی عادت نہ تھی، نہ ہی آپ کی موجودگی میں یہ کام کسی نے کیا، نہ گانے والے بلائے گئے، اور نہ ہی اس کا کوئی اہتمام کیا گیا۔ اس لیے کہ غنا آپ ﷺ کی سیرت نہیں، نہ آپ کے بعد آپ کے خلفاء کی یہ سیرت ہے، نہ دوسرے صحابہ کا طریقہ ہے، نہ ہی آپ کی آل اولاد کا۔ اس لیے آپ کی طرف غنا کی نسبت صحیح نہیں اور نہ ہی آپ کی شریعت ہے۔ (کف الرعاع:ص280 ج2)

ہمیں اعتراف ہے کہ بعض حضرات نے موسیقی کے جواز کا فتویٰ دیا ہے، مگر جمہور فقہاء ومحدثین کرام بہرحال اس کی حرمت کے قائل ہیں۔ ”حرام“ کا صریح اور صحیح فرمانِ نبوی اور صحابہ کا فتویٰ اس کی حرمت کی بین دلیل ہے۔ جس کا انکار محض مجادلہ ہے۔ اس کے برعکس کسی ایک صحابی سے بسندِ صحیح موسیقی کے جواز کا قول و عمل ثابت نہیں، گویا عہدِ صحابہ میں اس کی حرمت و شناعت پر اتفاق تھا، فتنہ کے دور میں اس کا آغاز ہوا، چنانچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کی صراحت فرمائی ہے کہ: [إظهارك المعازف والمزامير بدعة في الإسلام] تیرا آلاتِ ملاہی اور مزامیر کو رواج دینا اسلام میں بدعت ہے۔ (النسائی، رقم: 4140، الحلیہ: ص270 ج5)

اس لیے قرونِ متاخرہ میں بعض حضرات نے اگر اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے تو وہ قابلِ قبول کیوں کر ہو سکتا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں صراطِ مستقیم پر گامزن فرمائے اور ”سبیل المؤمنین“ سے گریز کی راہ اختیار کرنے سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین