تجارت کی فضیلت، صحابہ کا طرزِ عمل اور حرام تجارت کے احکام

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

تجارت کے ذریعہ کمانا :

اسلام نے قرآنی نصوص اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تجارت کرنے کی پُر زور طریقہ پر دعوت دی ہے اور اس مقصد کے لیے سفر کرنے کی بھی ترغیب دی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے سے تعبیر کیا ہے، نیز تجارت کی غرض سے سفر کرنے والوں کا ذکر مجاہدین فی سبیل اللہ کے ساتھ کیا ہے :
وآخرون يضربون فى الأرض يبتغون من فضل الله ۙ وآخرون يقاتلون فى سبيل الله
”کچھ لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کریں گے اور کچھ لوگ اللہ کی راہ میں قتال کریں گے۔“
المزمل : 20
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے بحری مواصلات کے ذریعہ جو بین الاقوامی تجارت کے لیے نقل و حمل کا سب سے بڑا ذریعہ ہے لوگوں کے لیے داخلی اور خارجی تجارت کی راہیں کھول دی ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سمندر کی تسخیر اور جہاز رانی کے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے :
وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
”اور تم دیکھتے ہو کہ اس میں کشتیاں پانی کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہیں، تاکہ تم اس (اللہ) کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو۔“
الفاطر : 12
اور بعض مقامات پر اس کے ساتھ ہوائیں چلانے کا بھی ذکر کیا ہے :
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِيُذِيقَكُمْ مِنْ رَّحْمَتِهِ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
”اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو خوشخبری دینے اور تمہیں اپنی رحمت سے آشنا کرنے کے لیے بھیجتا ہے۔ اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو (تجارت کرو) اور اس کے شکر گزار بنو۔“
الروم : 46
اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ پر احسان فرما کر ان کے لیے ایسے اسباب مہیا کر دیئے کہ ان کا شہر جزیرہ عرب میں ایک ممتاز تجارتی مرکز بن گیا اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کہ ان کو پھلوں سے رزق دے ان کے حق میں سچی ثابت ہوئی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قریش پر احسان فرما کر ان کے لیے موسم سرما اور موسم گرما کے تجارتی سفر آسان کر دیئے۔
اسلام نے مسلمانوں کو بین الاقوامی سطح پر تجارتی لین دین کا موقع عطا کیا ہے چنانچہ ہر سال حج کے موسم میں یہ موقع فراہم ہوتا ہے۔ جبکہ لوگ حج کے موقع پر تجارت کرنے میں انقباض محسوس کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے واضح طور سے فرمایا :
لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ
”اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم (حالت حج میں) اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“
البقرة : 198
قرآن نے مسجد سے گہری دلچپسی رکھنے والے تاجروں کی تعریف کی ہے جو صبح شام اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں :
رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ
”ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد اور اقامت صلوٰۃ اور ادائیگی زکوۃ سے غافل نہیں کرتی۔“
النور : 37
پس مؤمنین، قرآن کی نظر میں مسجدوں میں بند ہو کر رہنے والے لوگ نہیں ہیں اور نہ تکیوں کے درویش ہیں اور نہ ہی خانقاہوں کے رہبان، بلکہ وہ کام کاج کرنے والے لوگ ہیں اور ان کی خصوصیت یہ ہے کہ دنیوی کام انہیں دینی ذمہ داریوں سے غافل نہیں کرتے۔ تجارت کے سلسلہ میں یہ چند باتیں قرآن سے پیش کی گئیں۔ رہی سنت تو اس سے بھی ان باتوں پر روشنی پڑتی ہے چنانچہ پیغمبر اسلام نے اپنے قول و عمل سے تجارت کی ترغیب دی ہے اور اس کی بنیادوں کو استوار کیا ہے۔ کس قدر حکیمانہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات :
التاجر الأمين الصدوق مع الشهداء يوم القيامة
”سچا اور دیانت دار تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔“
ابن ماجه كتاب التجارات باب الحث على المكاسب ح : 2139 – مستدرك حاكم (2/ 6) (اسناده ضعیف)
التاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشهداء
”سچا اور دیانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔“
ترمذی کتاب البيوع : باب ماجاء في التجار ح : 1209 – مستدرك حاكم (2/ 6) (اسناده ضعيف)
اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچے تاجر کو مجاہد اور شہید کے برابر قرار دیا کیونکہ دنیوی زندگی کے تجربات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں، کہ جہاد میدان قتال ہی میں نہیں ہوتا بلکہ اقتصادی میدان میں بھی ہوتا ہے۔
تاجروں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ فرمایا کہ وہ اللہ کے ہاں بلند درجہ پر فائز ہوں گے اور ثواب جزیل سے نوازے جائیں گے کیونکہ تجارت آدمی کے اندر طمع اور کسی بھی جائز و ناجائز طریقہ سے نفع کمانے کی خواہش پیدا کرتی ہے مال سے مال پیدا ہوتا ہے اور نفع مزید نفع حاصل کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ایسی صورت میں جو تاجر سچائی اور دیانتداری کی حدود پر ٹھہرا رہتا ہے وہ فی الواقع مجاہد ہے، جس نے خواہشات کی جنگ جیت لی ہے لہذا وہ اس لائق ہے کہ اسے مجاہد کے مقام پر فائز کیا جائے۔
تجارت کا معاملہ ایسا ہے کہ تاجر رأس المال اور نفع کا حساب جوڑتا رہتا ہے اور اسی چکر میں پھنسا رہتا ہے۔ عہد رسالت میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک تجارتی قافلہ آتا ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے ہوتے ہیں۔ لوگ قافلہ کی آواز سُن لیتے ہیں اور خطبہ چھوڑ کر اس کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس پر عتاب کی صورت میں یہ آیت نازل فرماتا ہے :
وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا ۚ قُلْ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ ۚ وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
”اور جب وہ تجارت یا لہو کی چیز دیکھ لیتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ کہہ دیجئے ! جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ لہو اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔“
الجمعة : 11
لہذا جو شخص اس چکر میں پڑنے کے باوجود اپنے یقین کو قوی، اپنے دل کو خشیت سے معمور اور اپنی زبان کو ذکر الٰہی سے تر رکھے وہ یقیناً ان لوگوں کی رفاقت کے لائق ہے جن پر اللہ نے انعام فرمایا، یعنی انبیاء، صدیقین اور شہداء۔
تجارت کے معاملہ میں ہماری رہنمائی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اُسوہ کافی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں رُوحانی پہلو کو پوری اہمیت کے ساتھ ملحوظ رکھا، جیسے کہ مدینہ میں تقویٰ کی اساس پر مسجد قائم کی (تاکہ وہ عبادت، علم، دعوت اور حکومت سب کا مرکز بنے) وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقتصادی پہلو کا بھی پورا پورا لحاظ فرمایا۔ چنانچہ خالص اسلامی بازار قائم کر کے یہودیوں کے تسلط کو ختم کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کا نظام مرتب کیا اور اس کی نگرانی بھی فرماتے رہے اور ساتھ ہی اس سے متعلق تعلیمات اور ہدایات جاری فرماتے رہے۔ اس بازار کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ فریب، ناپ تول میں کمی، ذخیره اندوزی اور دوسروں کو زک پہنچانے والی باتوں سے یکسر پاک تھا۔ ان تمام باتوں کے ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ماہر قسم کے تاجر، کاریگر، کاشتکار اور ہر کام اور پیشہ کو اختیار کرنے والے لوگ موجود تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی طرف سے آیتیں نازل ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے آسمانی باتیں کرتے، روح الامین صبح و شام وحی لے کر آتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حال یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منٹ کے لیے جدا ہونا گوارا نہ کرتے۔ ان تمام باتوں کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ کوئی شخص تجارتی سفر کر رہا ہے تو کوئی اپنے نخلستان میں مصروف ہے اور کوئی اپنے پیشے اور کاریگری میں مشغول ہونے کی وجہ سے رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو سننے کا موقع نہیں پاتا تو وہ اپنے بھائی سے معلوم کر لیتا ہے !
انصار رضی اللہ عنہم زیادہ تر زراعت پیشہ اور نخلستان کے مالک تھے اور مہاجرین رضی اللہ عنہم زیادہ تر بازاروں میں کاروبار کیا کرتے تھے۔
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ مہاجر کی مثال ہمارے سامنے ہے ان کے دینی بھائی سیدنا سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ انہیں اپنا نصف مال اور اپنے دو مکانوں میں سے ایک مکان اور اپنی دو بیویوں میں سے ایک بیوی کو طلاق دے کر ان کے نکاح میں دینے کی پیشکش کرتے ہیں، لیکن وہ اس عظیم ایثار کا جواب بڑی خود داری سے دیتے ہیں۔ وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور گھر والوں میں برکت دے، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ تجارت کے لیے کوئی بازار ہے تو بتاؤ۔ سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”ہاں بنی قینقاع کا بازار ہے۔“ دوسرے روز صبح وہ پنیر اور گھی لے کر بازار جاتے اور فروخت کرتے ہیں۔ اس کاروباری سلسلہ کو جاری رکھتے ہیں یہاں تک کہ کافی دولتمند ہو جاتے ہیں۔ اپنی وفات کے وقت انہوں نے کثیر مال چھوڑا۔
بخاری کتاب البیوع باب الخروج فى التجارة ح : 2048 ، 2049
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مثال ہے کہ برابر تجارت میں لگے رہے اور دوڑ دھوپ کرتے رہے یہاں تک کہ جس دن خلیفہ بنائے گئے اس دن بھی بازار جانے کا ارادہ کیا۔
طبقات ابن سعد (3/ 184 ، 185)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مثال ہے کہ اپنے بارے میں فرماتے : مجھے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بازار کے سودے نے مشغول رکھا۔
بخارى كتاب البيوع باب الخروج فى التجارة ح : 2062 – مسلم کتاب الادب باب الاستئذان ح : 2153
اور اس کے علاوہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وغیرہ بہ کثرت صحابہ رضی اللہ عنہم کی مثالیں ہیں۔

تجارت کے بارے میں کنیسہ کا موقف :

اسلامی معاشرہ نے دین کے زیر سایہ اپنا دنیوی تجارتی سفر جاری رکھا۔ یہ لوگ تجارت اور خرید و فروخت کرتے تھے لیکن یہ چیزیں انہیں ذکر الٰہی سے غافل نہیں کرتی تھیں۔ جبکہ قرونِ وسطیٰ کے بڑے بڑے ممالک اور مسیحی یورپ کی حکومتوں کے جمہور تجارت کے سلسلہ میں دو کے درمیان متردد تھے۔
➊ ایک طرف نظریہ تخلیص تھا یعنی کاروبار اور تجارت میں سرگرمی دکھانے سے نفس کے اندر گناہوں کی جو کدورت پیدا ہو جاتی ہے، اس سے اسے پاک کیا جائے۔
➋ اور دوسری طرف تصور یہ تھا کہ اپنے دینی بزرگوں کی تعلیمات کے برخلاف جب لوگ تجارت اور صنعت و حرفت میں مشغول ہو جاتے ہیں تو وہ لعنت زدہ ہو کر رہ جاتے ہیں، کیونکہ یہ گناہ محض ایک برائی ہی نہیں ہے بلکہ ابدی گناہ اور ہمیشگی کی لعنت ہے جو زمین میں بھی ہے اور آسمان میں بھی اور دنیوی زندگی میں بھی ہے اور اُخروی زندگی میں بھی۔
قدیس اگیتن کہتا ہے کہ کاروبار (Business) حقیقتاً گناہ ہے کیونکہ اس سے نفس کی توجہ حق یعنی اللہ کی طرف سے ہٹ جاتی ہے۔

حرام تجارت :

لیکن اسلام میں تجارت حرام نہیں ہے الا یہ کہ اس میں ظلم، فریب، نفع اندوزی اور ممنوعات کی ترویج جیسی خرابیاں شامل ہوں۔
لہذا شراب، مخدرات، خنزیر، بت، مجسمے وغیرہ جن سے استفادہ کرنا اسلام میں حرام ہے ان کی تجارت کرنا بھی حرام ہے اور ہر وہ کمائی جو ایسی چیزوں کے ذریعہ حاصل ہو، حرام اور خبیث ہے۔ اور جو گوشت اس حرام سے پرورش پائے، وہ آگ ہی کے لائق ہے۔
سونے اور ریشم کی تجارت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ چیزیں عورتوں کے لیے جائز ہیں الا یہ کہ ان سے بنی ہوئی کسی ایسی چیز کا کاروبار کیا جائے جن کو صرف مرد استعمال کرتے ہوں اور جائز تجارت کی صورت میں ایک تاجر کو درج ذیل باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ اس کا حشر قیامت کے دن فاجروں کے ساتھ نہ ہو۔
◈ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز کے لیے نکلے۔ دیکھا کہ لوگ کاروبار میں مصروف ہیں۔ فرمایا : اے تاجرو ! یہ سن کر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر لبیک کہا اور اپنی گردنیں اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن التجار يبعثون يوم القيامة فجارا إلا من اتقى الله وبر وصدق
”تاجر قیامت کے دن فاجر کی صورت میں اٹھائے جائیں گے سوائے ان کے جو اللہ سے ڈرتے رہے نیک روی اختیار کی اور سچ بولتے رہے۔“
ترمذی كتاب البيوع : باب ما جاء فى التجار ح : 1210 ، ابن ماجه كتاب التجارات : باب التوقى فى التجارة ح : 2146 – اسناده ضعیف
◈ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لایا کرتے اور فرماتے :
يا معشر التجار إياكم والكذب
”اے تاجرو! جھوٹ سے بچو۔“
طبراني في الكبير (22/ 56) كما فى المجمع (4/ 73) (اسناده ضعیف)
لہذا تاجر کو جھوٹ سے بچنا چاہیے کہ جھوٹ تجارت کی آفت ہے اور وہ بدکرداری کی طرف لے جاتا ہے اور بد کرداری دوزخ میں لے جاتی ہے۔
◈ تاجر کو بہ کثرت قسمیں کھانے اور خاص طور سے جھوٹی قسمیں کھانے سے احتراز کرنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
ثلاثة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم أحدهم المنفق سلعته بالحلف الكاذب
”تین اشخاص ایسے ہیں کہ اللہ قیامت کے دن ان کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہ دیکھے گا اور نہ ان کو پاک ٹھہرائے گا اور وہ درد ناک عذاب کے مستحق ہوں گے۔ ان میں سے ایک شخص وہ ہوگا جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا مال فروخت کرتا تھا۔“
مسلم كتاب الایمان باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار ح : 106
اور ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
مر أعرابي بشاة فقلت تبيعها بثلاثة دراهم؟ فقال لا والله ثم باعها فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال باع آخرته بدنياه
”ایک بدو بکری لے کر گزر رہا تھا، میں نے اس سے پوچھا : ”اس بکری کو تین درہم میں بیچو گے؟“ اس نے کہا : اللہ کی قسم! نہیں۔ اس کے بعد اس نے (تین درہم میں) فروخت بھی کر دی۔ میں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس نے دنیا کے بدلے اپنی آخرت بیچ دی۔“
صحيح ابن حبان موارد (1099) : (الاحسان 7/ 205)
◈ اور تاجر کو فریب دہی سے احتراز کرنا چاہیے کہ فریب دہی ملتِ اسلامیہ سے خارج کر دیتی ہے۔
◈ ناپ تول میں کمی کرنے سے بھی احتراز کرنا چاہیے کہ ایسے لوگوں کے لیے تباہی و بربادی ہے۔
◈ ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ اللہ اور اس کا رسول اس شخص کی ذمہ داری سے دست کش نہ ہو جائیں۔
◈ سود سے بچنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے۔ حدیث میں ہے :
درهم ربا يأكله الرجل وهو يعلم أشد من ستة وثلاثين زنية
”ایک درہم سود جانتے بوجھتے کھانا چھتیس (36) بار زنا کرنے سے زیادہ شدید ہے۔“
مسند احمد (5/ 225)
ان چیزوں کی تفصیل آگے معاملات کے ذیل میں آئے گی۔