جھگڑا، خیانت، وعدہ خلافی اور مسلمان کو بے یار و مددگار چھوڑنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

جھگڑے کی ممانعت

① سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے کے پاس کسی جھگڑے کا شور و غل سنا تو آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:
إنما أنا بشر وإنما يأتيني الخصم فلعل بعضكم أن يكون أبلغ من بعض فأحسب أنه صادق فأقضي له بذلك فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من النار فليحملها أو يدرها
”میں بھی ایک انسان ہوں، میرے پاس جھگڑا آتا ہے تو ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے کی نسبت زیادہ بلیغ انداز میں بات کر سکتا ہو اور میں اسے سچا سمجھ کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں، اگر میں کسی کو کسی مسلمان کا حق دے دوں تو وہ آگ کا ٹکڑا ہے چاہے تو وہ اسے لے لے یا اسے چھوڑ دے۔“
بخاری، کتاب المظالم والغصب 2458، مسلم، کتاب الاقضیة 1713/5۔
② سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنما أنا بشر وإنكم تختصمون إلى ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي نحو ما أسمع، فمن قضيت له بحق أخيه فإنما أقطع له قطعة من النار
”میں ایک انسان ہوں اور تم میرے پاس اپنے جھگڑے لے کر آتے ہو، ممکن ہے کہ تم میں ایک دوسرے کی نسبت اپنی دلیل کے ہر پہلو سے زیادہ واقف ہو اور میں جو سنوں اس کے مطابق فیصلہ کر دوں، پس اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا حق دے دوں تو میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا کاٹ رہا ہوں۔“
بخاری، المظالم والغصب 2680، مسلم، کتاب الاقضیة 1713/5۔
③ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كفى بك إثما أن لا تزال مخاصما
”تیرے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ تو جھگڑا کرتا رہے۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 1994، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔
④ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
”انتہائی جھگڑالو شخص اللہ کے ہاں انتہائی ناپسندیدہ ہے۔“
بخاری، کتاب الأحکام 7188، مسلم، کتاب العلم 2668/5۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من خاصم فى باطل وهو يعلمه لم يزل فى سخط الله حتى ينزع
”جو شخص جانتے بوجھتے ناجائز جھگڑا کرتا ہے تو وہ جب تک اس سے الگ نہیں ہو جاتا اللہ کی ناراضی میں رہتا ہے۔“

خیانت کی ممانعت

① سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر
”جس شخص میں چار خصلتیں ہوں وہ پکا منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی حتی کہ وہ اس خصلت کو ترک کر دے۔ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب عہد کرے تو عہد شکنی کرے اور جب جھگڑا وغیرہ کرے تو گالی گلوچ کرے۔“
بخاری، کتاب الإیمان 34، مسلم، کتاب الإیمان 58/106۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں:
أن الله عز وجل يقول: أنا ثالث الشريكين ما لم يخن أحدهما صاحبه، فإذا خانه خرجت من بينهما
”اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں شراکت داروں میں تیسرا ہوتا ہوں جب تک ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے خیانت نہ کرے، پس جب وہ اس سے خیانت کرتا ہے تو میں ان سے الگ ہو جاتا ہوں۔“
ابو داؤد، کتاب البيوع 3383۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أد الأمانة إلى من اؤتمنك، ولا تخن من خانك
”جو شخص تیرے پاس امانت رکھے تو اس کو امانت لوٹا دے اور جو شخص تجھ سے خیانت کرے تو اس سے خیانت نہ کر۔“
ابو داؤد، کتاب البيوع 3535، ترمذی، کتاب البيوع 1264، حدیث حسن غریب ہے۔

وعدہ خلافی کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
آية المنافق ثلاث، وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان
”منافق کی تین نشانیاں ہیں، خواہ وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور سمجھے کہ وہ مسلمان ہے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرے۔“
بخاری، کتاب الشهادات 2682، امام بخاری رحمہ اللہ نے اگرچہ ”نماز پڑھے، روزہ رکھے اور وہ سمجھے کہ وہ مسلمان ہے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے، مسلم، کتاب الإیمان 59/109، حدیث کے الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تمار أخاك ولا تمازحه ولا تعده موعدة فتخلفه
”اپنے بھائی سے جھگڑا کر نہ مزاح اور نہ ہی اس سے وعدہ کر کے خلاف ورزی کر۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 1995، حدیث حسن غریب ہے۔

مسلمان کو بے یار و مددگار چھوڑنے کی ممانعت

① سیدنا جابر و ابو طلحہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من امرئ مسلم يخذل امرأ مسلما فى موضع تنتهك فيه حرمته وينتقص فيه من عرضه إلا خذله الله فى موطن يحب فيه نصرته، وما من امرئ مسلم ينصر مسلما فى موضع ينتقص فيه من عرضه وينتهك فيه من حرمته إلا نصره الله فى موطن يحب فيه نصرته
”اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو ایسے موقع پر بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے جہاں اس کی بے حرمتی اور بے عزتی ہو رہی ہو تو اللہ اس شخص کو ایسے موقع پر بے یار و مددگار چھوڑ دے گا جہاں وہ چاہتا ہوگا کہ اس کی مدد کی جائے، اور اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کی ایسے موقع پر مدد کرتا ہے جہاں اس کی بے حرمتی اور بے عزتی کی جا رہی ہو تو اللہ اس کی ایسے موقع پر مدد فرمائے گا جہاں وہ چاہتا ہوگا کہ اس کی مدد کی جائے۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب 4884، مسند احمد، اول مسند المدنیین اجمعین 39/4 حدیث 16374۔