عاشوراء کے روزے کی فضیلت اور شرعی حکم صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عاشوراء کا روزہ

سوال:

عاشورا کے روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب:

عاشوراء دس محرم کا روزہ مشروع و مستحب ہے۔
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
لا يختلف العلماء أن يوم عاشوراء ليس بفرض صيامه ولا فرض إلا صوم رمضان
”اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں کہ عاشوراء کا روزہ فرض نہیں ہے، فرض صرف رمضان کے روزے ہیں۔“
(التمهيد: 7/203)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
العلماء مجمعون على استحبابه وتعيينه للأحاديث
”اہل علم کا اجماع ہے کہ عاشوراء کا روزہ مستحب و متعین ہے، اس پر کئی احادیث مبارکہ ہیں۔“
(شرح مسلم: 8/5، التوضيح لابن الملقن: 13/532)
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم
”ماہِ رمضان کے بعد سب سے بافضیلت روزے محرم کے ہیں۔“
(صحيح مسلم: 1163)
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے برسر منبر بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
هذا يوم عاشوراء ولم يكتب الله عليكم صيامه وأنا صائم فمن شاء فليصم ومن شاء فليفطر
”یہ عاشوراء کا دن ہے، اللہ نے اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا۔ جو چاہتا ہے روزہ رکھ لے، جو چاہتا ہے روزہ چھوڑ دے، البتہ میں روزے سے ہوں۔“
(صحيح البخاري: 2003، صحيح مسلم: 1129)
❀ سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
يكفر السنة الماضية
”یہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“
(صحيح مسلم: 1162)
❀ اسود بن یزید نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ما رأيت أحدا كان آمر بصوم عاشوراء من علي بن أبي طالب وأبي موسى رحمهما الله
”میں نے سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما سے زیادہ کسی کو عاشوراء کے روزے کی تاکید کرتے نہیں دیکھا۔“
(مسند أبي داود الطيالسي: 1308، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن عشت إن شاء الله إلى قابل صمت التاسع مخافة أن يفوتني يوم عاشوراء
”اگر زندگی رہی تو ان شاء اللہ اگلے سال نو محرم کا (بھی) روزہ رکھوں گا، اس ڈر سے کہ کہیں یوم عاشوراء چھوٹ نہ جائے۔“
(المعجم الكبير للطبراني: 10/330، شعب الإيمان للبيهقي: 3507، وسنده صحيح)
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:
أما حديث التاسع فيحتمل عندي وجوها أحدها أن يريد صومه احتياطا فربما نقص الهلال ويكون الغيم فتكمل العدة ثلاثين فيكون التاسع في العدد هو العاشر من الهلال فأحب أن لا يفوته
”نو محرم کے روزے والی حدیث کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو محرم کے روزے کا ارادہ احتیاطی طور پر کیا ہے، وہ اس طرح کہ (ذوالحجہ کا چاند 29 کا ہو اور اس دن بادل ہوں جس کے پیش نظر ذوالحجہ کے تیس دن مکمل کر لیے جائیں، اس طرح (جب نو محرم کا روزہ رکھا جائے تو) جسے نو محرم سمجھا گیا ہے وہ دراصل دس محرم ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ کہیں (اس طرح) عاشوراء کا روزہ چھوٹ نہ جائے۔“
(معرفة السنن والآثار: 6/350)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع قال فلم يأت العام المقبل حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم
”اگلے سال ہم ان شاء اللہ نو محرم کا روزہ (بھی) رکھیں گے۔ لیکن اگلے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔“
(صحيح مسلم: 1134)
❀ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع
”اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو نو محرم کا روزہ (بھی) رکھوں گا۔“
(صحيح مسلم: 1134)
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
ليس فيه دليل على ترك صوم العاشر بل وعد أن يصوم التاسع مضافا إلى العاشر
”اس حدیث میں دس محرم کا روزہ چھوڑنے پر دلیل نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ کیا تھا کہ دس کے ساتھ ساتھ نو کا بھی روزہ رکھیں گے۔“
(تفسير القرطبي: 1/391)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
إذا رأيت هلال المحرم فاعده وأصبح يوم التاسع صائما قلت هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصومه قال نعم
”محرم کا چاند دیکھیں تو دن گنا شروع کر دیجئے اور نو محرم کو روزہ رکھیے، میں (حکم بن اعرج) نے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں۔“
(صحيح مسلم: 1133)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عاشوراء کے متعلق فرمایا:
هو يوم التاسع
”عاشوراء سے مراد نو محرم ہے۔“
(صحيح ابن خزيمة: 2098، وسنده صحيح)
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:
كأنه رضي الله عنه أراد صومه مع العاشر وأراد بقوله في الجواب نعم ما روي من عزمه صلى الله عليه وسلم على صومه
”سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد یہ ہے کہ دس محرم کے ساتھ نو کا بھی روزہ رکھا جائے، (حکم بن اعرج راوی) کے سوال کے جواب میں جو ’جی ہاں‘ کہا ہے اس سے مراد دوسری روایت میں موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم کیا تھا (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس عزم کو فعل نبوی قرار دیا)۔“
(السنن الكبرى: 4/287)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) نقل کرتے ہیں:
قال الزين بن المنير قوله إذا أصبحت من تاسعه فأصبح يشعر بأنه أراد العاشر لأنه لا يصبح صائما بعد أن أصبح من تاسعه إلا إذا نوى الصوم من الليلة المقبلة وهو الليلة العاشرة قلت ويقوي هذا الاحتمال ما رواه مسلم أيضا من وجه آخر عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع فمات قبل ذلك فإنه ظاهر في أنه صلى الله عليه وسلم كان يصوم العاشر وهم بصوم التاسع فمات قبل ذلك ثم ما هم به من صوم التاسع يحتمل معناه أنه لا يقتصر عليه بل يضيفه إلى اليوم العاشر إما احتياطا له وإما مخالفة لليهود والنصارى وهو الأرجح وبه يشعر بعض روايات مسلم
”زین بن منیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ جب آپ نو محرم کو صبح کریں تو روزے کی حالت میں صبح کیجئے۔ اس میں اشارہ ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد دس محرم تھی، کیونکہ نو محرم کی صبح کر لینے کے بعد روزے کی حالت میں صبح اسی صورت ہو سکتی ہے کہ جب وہ اگلی رات روزے کی نیت کرے، وہ رات دس محرم کی رات ہے۔ میں (ابن حجر رحمہ اللہ) کہتا ہوں: اس توجیہ کی تائید صحیح مسلم (1134) میں ابن عباس رضی اللہ عنہما والی دوسری حدیث سے ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نو محرم کا (بھی) روزہ رکھوں گا‘۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی وفات پا گئے، یہ واضح دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے اور نو محرم کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا تھا مگر اگلے محرم سے پہلے ہی وفات پا گئے۔ پھر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو محرم کے روزے کا ارادہ کیا اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نو محرم پر اکتفا نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ دس محرم کے ساتھ نو محرم کو بھی شامل کرنا چاہتے تھے، ایسا یا تو احتیاط کے طور پر کرنا چاہتے تھے یا یہود و نصاریٰ کی مخالفت میں، یہ (آخر الذکر) ہی راجح معلوم ہوتا ہے، صحیح مسلم کی بعض روایات بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہیں۔“
(فتح الباري: 4/245)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لأصومن عاشوراء يوم التاسع
”میں عاشوراء نو محرم کا روزہ رکھوں گا۔“
(صحيح مسلم: 1134، شرح معاني الآثار للطحاوي: 2/77، واللفظ له)
❀ امام طحاوی رحمہ اللہ (321ھ) فرماتے ہیں:
قوله لأصومن عاشوراء يوم التاسع إخبار منه على أنه يكون ذلك اليوم يوم عاشوراء وقوله لأصومن يوم التاسع يحتمل لأصومن يوم التاسع مع العاشر أي لئلا أقصد بصومي إلى يوم عاشوراء بعينه كما يفعل اليهود ولكني أخلطه بغيره فأكون قد صمته بخلاف ما تصومه يهود وقد روي عن ابن عباس ما يدل على هذا المعنى
”فرمان نبوی: ’میں عاشورا نو محرم کا روزہ رکھوں گا‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خبر ہے کہ نو محرم کا دن عاشورا ہے۔ نیز فرمان نبوی: ’میں نو محرم کا (بھی) روزہ رکھوں گا‘ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ میں دس محرم کے ساتھ نو کا بھی روزہ رکھوں گا تا کہ یہود کی طرح میں بھی خاص عاشوراء کے دن کا قصد نہ کروں بلکہ میں اس کے ساتھ دوسرے دن کو بھی ملا لوں، یوں میرا روزہ یہود کے روزہ کے مخالف ہو جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی معنی کی تائید منقول ہے۔“
(شرح معاني الآثار: 2/77)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
ذهب جماهير العلماء من السلف والخلف إلى أن عاشوراء هو اليوم العاشر من المحرم … وهذا ظاهر الأحاديث ومقتضى اللفظ
”پہلے اور بعد کے جمہور اہل علم کا مذہب یہ ہے کہ یوم عاشوراء سے مراد دس محرم ہے۔ احادیث کے ظاہر اور الفاظ کا تقاضا یہی ہے۔“
(شرح النووي: 8/12)
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
من تأمل مجموع روايات ابن عباس تبين له زوال الإشكال وسعة علم ابن عباس فإنه لم يجعل عاشوراء هو اليوم التاسع بل قال للسائل صم اليوم التاسع واكتفى بمعرفة السائل أن يوم عاشوراء هو اليوم العاشر الذي يعده الناس كلهم يوم عاشوراء فأرشد السائل إلى صيام التاسع معه وأخبر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصومه كذلك
”جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تمام روایات پر غور کر لے تو اس سے اشکال رفع ہو جائے گا اور اسے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی علمی وسعت کا اندازہ ہو جائے گا، کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نو محرم کو عاشوراء قرار نہیں دیا بلکہ سوال کرنے والے (حکم بن اعرج) سے فرمایا کہ نو محرم کا روزہ رکھیے، آپ کو معلوم تھا کہ سائل جانتا ہے کہ عاشوراء سے مراد دس محرم ہے جیسا کہ تمام لوگ جانتے تھے، تو سائل (حکم بن اعرج) کو دس کے ساتھ ساتھ نو محرم کے روزے کی بھی راہنمائی کر دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آگاہ کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے ہی روزہ رکھا کرتے تھے۔“
(زاد المعاد في هدي خير العباد: 2/78)
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
إنه كان يصوم العاشور اليوم العاشر فأكثروا فقالوا إن ابن عباس قال هو التاسع فكان يصوم التاسع والعاشر
”آپ رحمہ اللہ دس محرم کا روزہ رکھتے تھے تو کئی ساتھیوں نے بتایا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نو محرم کو عاشوراء کہتے ہیں تو ابن سیرین رحمہ اللہ نو اور دس محرم کا روزہ رکھنے لگ گئے۔“
(تهذيب الآثار (مسند عمر) للطبري: 669، وسنده صحيح)
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بهذا الحديث يقول الشافعي وأحمد وإسحاق
”امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کا موقف اسی (دس محرم کے روزے والی) حدیث کے مطابق ہے۔“
(سنن الترمذي، تحت الحديث: 755)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے:
صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود
”نو اور دس محرم کا روزہ رکھیں اور یہود کی مخالفت کریں۔“
(مصنف عبد الرزاق: 7839، السنن الكبرى للبيهقي: 4/287، وسنده صحيح)

تنبیہ:

❀ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
أقول الأولى أن يقال إن ابن عباس أرشد السائل له إلى اليوم الذي يصام فيه وهو التاسع ولم يجب عليه بتعيين يوم عاشوراء أنه اليوم العاشر لأن ذلك مما لا يسأل عنه ولا يتعلق بالسؤال عنه فائدة فابن عباس لما فهم من السائل أن مقصوده تعيين اليوم الذي يصام فيه أجاب عليه بأنه التاسع
”میں کہتا ہوں: یہ مفہوم زیادہ بہتر ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سوال کرنے والے کو اس دن کی خبر دے دی جس دن روزہ مشروع ہے اور وہ دن ہے نو محرم کا۔ سائل کو یہ جواب نہیں دیا کہ یوم عاشوراء ہے کب؟ کیونکہ ایسی باتوں کے متعلق سوال نہیں کیا جاتا نہ کہ ایسے سوال کا کوئی فائدہ ہے۔ لہذا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سمجھ گئے تھے کہ سائل کا مقصد اس دن کا تعین تھا جس میں روزہ مشروع ہے تو اسے جواب دے دیا کہ یہ نو محرم کا دن ہے۔“
(نيل الأوطار: 4/287)
❀ محدث محمد عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ (1353ھ) فرماتے ہیں:
تأويل الشوكاني أيضا بعيد فتفكر
”علامہ شوکانی رحمہ اللہ کی تاویل بعید ہے، غور کیجئے!“
(تحفة الأحوذي: 3/382)
ثابت ہوا کہ عاشوراء کا روزہ مشروع اور مستحب ہے، اس کی تعیین میں اختلاف ہے، درست یہی معلوم ہوتا ہے کہ نو اور دس محرم دو دن کا روزہ رکھا جائے گا۔

سوال:

عاشوراء میں اگر نو محرم کا روزہ نہ رکھ سکے تو کیا دس اور گیارہ محرم کا روزہ رکھا جائے گا؟

جواب:

عاشوراء کے روزے میں مشروع اور مستحب یہ ہے کہ نو اور دس محرم کے دو روزے رکھے جائیں، البتہ جو نو محرم کا روزہ نہ رکھ سکے وہ صرف دس محرم کا روزہ رکھ لے، گیارہ محرم کا روزہ ملانا ثابت نہیں، گیارہویں محرم کے بارے میں مروی تمام روایات ضعیف اور ناقابل احتجاج ہیں۔