قربانی کے دن ، قربانی کب تک کی جا سکتی ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

قربانی کے دن

حضرات ائمہ احمد، ابن حبان اور طبرانی نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”وفي كل أيام التشريق ذبح“
”تشریق کے سب دنوں میں [قربانی کا جانور ذبح کرنا] درست ہے۔“
المسند، جزء من رقم الحديث 316/27،16751؛ والإحسان في تقريب صحيح ابن حبان، کتاب الحج، باب الوقوف بعرفة والمزدلفة والدفع منها، ذكر وقوف الحجاج بعرفات والمزدلفة، جزء من رقم الحديث 166/9،3854، حافظ ہیثمی نے تحریر کیا ہے: احمد اور طبرانی نے اسے اوسط میں روایت کیا ہے اور احمد وغیرہ کی سند کے راوی [ ثقہ ] ہیں ۔ (مجمع الزوائد 25/4) حافظ ابن حجر نے لکھا ہے : احمد نے اسے روایت کیا ہے، لیکن اس[ کی سند] میں انقطاع ہے۔ دار قطنی نے موصول روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (فتح الباري (8/1) شیخ شعیب ارناؤط اور ان کے رفقاء نے اسے (صحیح لغیرہ) قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: هامش المسند 316/27).
اور عید الاضحیٰ کے بعد تشریق تین دن ہیں۔
ملاحظہ ہو: نیل الاوطار 216/5؛ نیز ملا حظہ ہو: المجموع 289/8
اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے چار دن ہیں، ایک دن عید الاضحیٰ کا اور تین دن اس کے بعد۔
اس بارے میں علمائے امت کے دیگر اقوال بھی ہیں۔ علامہ شوکانی نے پانچ اقوال نقل کیے ہیں لیکن مذکورہ بالا حدیث کی بنا پر راجح بات یہی ہے کہ قربانی کے چار دن ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ سعودی عرب کی مجلس دائمی برائے علمی تحقیقات اور افتاء نے اس بارے میں اپنے فتویٰ میں تحریر کیا ہے:
”أيام الذبح لهدي التمتع والقران والأضحية أربعة أيام: العيد وثلاثة أيام بعده وينتهي الذبح بغروب شمس اليوم الرابع فى أصح أقوال أهل العلم“
”اہل علم کے سب سے صحیح قول کے مطابق (حج) تمتع، قران اور عید کی قربانی کے چار دن ہیں، ایک دن عید کا اور تین دن اس کے بعد۔ قربانی کے وقت کا اختتام چوتھے دن غروب آفتاب کے ساتھ ہوتا ہے۔“
فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء 0406/1