طلب علم کی فضیلت
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من خرج فى طلب العلم فهو فى سبيل الله حتىٰ يرجع
”جو شخص طلب علم کے لیے نکلتا ہے تو وہ واپس آنے تک اللہ کی راہ میں ہوتا ہے۔“
(ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2647)
② سیدنا قیس بن کثیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں مسجد دمشق میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی ان کے پاس آیا تو اس نے کہا: اے ابو درداء! میں ایک حدیث کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے آپ کے پاس آیا ہوں، مجھے پتا چلا ہے کہ آپ وہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، اور میں اس کے علاوہ کسی اور ضرورت کے لیے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من سلك طريقا يطلب فيه علما سهل الله له به طريقا من طرق الجنة، وإن الملائكة لتضع أجنحتها رضا لطالب العلم، وإن العالم يستغفر له من فى السماوات ومن فى الأرض والحيتان فى جوف الماء، وإن فضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر الكواكب، وإن العلماء ورثة الأنبياء، وإن الأنبياء لم يورثوا درهما ولا دينارا وإنما ورثوا العلم فمن أخذه أخذ بحظ وافر
”جو شخص طلب علم کے لیے کسی راہ پر چلتا ہے تو اللہ اس وجہ سے اس کے لیے جنت کی راہوں میں سے ایک راہ آسان فرما دیتا ہے، اور فرشتے طالب علم کی رضامندی کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں، اور زمین و آسمان کی ہر چیز اور پانی میں موجود مچھلیاں عالم کے لیے استغفار کرتی ہیں، اور عالم کو عابد پر اس طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح چاند کو دیگر ستاروں پر فضیلت حاصل ہے، اور علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔ نیز انبیاء درہم و دینار چھوڑ کر نہیں جاتے وہ تو علم کی میراث دے کر جاتے ہیں۔ پس جس نے اسے حاصل کر لیا اس نے وافر حصہ حاصل کر لیا۔“
(ابوداؤد، کتاب العلم، حدیث: 3641۔ ابن ماجه، کتاب المقدمة، حدیث: 223) روایت حسن ہے۔
③ سیدنا سخبرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من طلب العلم كان كفارة لما مضى
”جو شخص علم حاصل کرتا ہے تو وہ اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“
(ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2648۔ دارمی، کتاب المقدمة، حدیث: 561) یہ ابوداؤد الاعمی کے طریق سے مروی ہے، یہ روایت موضوع ہے کیونکہ الاعمی متہم ہے۔
علم کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة: صدقة جارية، وعلم ينتفع به، وولد صالح يدعو له
”جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو تین اعمال: صدقہ جاریہ، نفع مند علم اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے، کے سوا اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔“
(مسلم، کتاب الوصایا، حدیث: 1631۔ ابوداؤد، کتاب الوصایا، حدیث: 2880۔ ترمذی، کتاب الاحکام، حدیث: 1376)
② سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
العلم ثلاثة وما سوىٰ ذٰلك فهو فضل: آية محكمة، أو سنة قائمة، أو فريضة عادلة
”علم تین چیزوں: آیتِ محکمہ، یا سنتِ قائمہ (صحیح طور پر ثابت شدہ)، یا وراثت کی منصفانہ تقسیم کے علم کا نام ہے۔ “
ابوداؤد، کتاب الفرائض، حدیث: 2885. ابن ماجه، المقدمة، حدیث: 54. یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں عبداللہ بن زیاد افریقی اور عبدالرحمن بن رافع تنوخی ضعیف الحدیث ہیں.
③ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من يرد الله به خيرا يفقهه فى الدين، وإنما أنا قاسم ويعطي الله، ولن تزال أمر هذه الأمة مستقيما حتىٰ تقوم الساعة وحتىٰ يأتى أمر الله
”اللہ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے، میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں، جبکہ عطا کرنے والا اللہ ہے، اور اس امت کا معاملہ درست اور مستقیم رہے گا حتیٰ کہ قیامت آ جائے اور حتیٰ کہ اللہ کا حکم آ جائے۔“
(بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة، حدیث: 71، 7312. مسلم، کتاب الزکاة، حدیث: 1073)
④ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من يرد الله به خيرا يفقهه فى الدين
”اللہ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین میں سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔“
(ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2645. مسند احمد: 306/1)