مضمون کے اہم نکات
اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل
اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک اہلِ بیتِ نبوی رضی اللہ عنہم سے محبت، ان کا احترام، ان کے حقوق کی رعایت، اور ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے والوں سے براءت دین و ایمان کا حصہ ہے۔ اہلِ بیت کی محبت میں غلو درست نہیں، مگر ان کے مقام و مرتبہ کو کم کرنا، ان کے فضائل کو نظر انداز کرنا، یا ان پر ظلم کرنے والوں کا دفاع کرنا بھی اہلِ سنت کا طریقہ نہیں۔
اہلِ بیت کی طہارت کا قرآنی بیان
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا]
اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے ، خوب پاک کرنا۔ [الأحزاب: 33]
حدیثِ کساء اور اہلِ بیت کا خصوصی شرف
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ صبح کے وقت ایک سیاہ بالوں والی چادر اوڑھے ہوئے تشریف لائے۔ پھر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے تو آپ ﷺ نے انہیں چادر میں داخل کر لیا، پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں بھی داخل کر لیا، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں تو انہیں بھی داخل کر لیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں بھی داخل کر لیا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: [اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا]
اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں خوب پاکیزہ کر دے۔ [صحیح مسلم: 2424]
یہ حدیث صراحتاً بتاتی ہے کہ سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم اہلِ بیتِ نبوی میں خصوصی طور پر شامل ہیں۔
اہلِ بیت کے بارے میں نبوی وصیت
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [وأهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي]
اور میرے اہلِ بیت؛ میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں۔ [صحیح مسلم: 2408]
یہ حدیث اہلِ بیت کے حق، احترام اور مقام پر نہایت عظیم دلیل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ اہلِ بیت کے بارے میں امت کو اللہ کا خوف دلایا۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کا حصہ ہیں
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [فاطمة بضعة مني، فمن أغضبها أغضبني]
فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ [صحیح بخاری: 3714]
اور صحیح مسلم میں ہے: [إنما فاطمة بضعة مني، يؤذيني ما آذاها]
فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو چیز اسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔ [صحیح مسلم: 2449]
یہ حدیث سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے عظیم مقام پر واضح دلیل ہے۔ ان کو اذیت دینا رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینے کے مترادف ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مقام
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه لا نبي بعدي]
کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے ہارون، موسیٰ علیہ السلام کے لیے تھے، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ [صحیح بخاری: 3706، صحیح مسلم: 2404]
یہ حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قربت، فضیلت اور رسول اللہ ﷺ کے ہاں ان کے بلند مقام پر صریح دلیل ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے محبوب ہیں
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [لأعطين هذه الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه، يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله]
کل میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا؛ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔
پھر آپ ﷺ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ [صحیح بخاری: 4210، صحیح مسلم: 2406]
یہ حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت پر واضح دلیل ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے محبوب ہیں۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی محبت
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مجھے ایک ران پر بٹھاتے اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دوسری ران پر، پھر دونوں کو سینے سے لگاتے اور فرماتے: [اللهم ارحمهما، فإني أرحمهما]
اے اللہ! ان دونوں پر رحم فرما، کیونکہ میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں۔ [صحیح بخاری: 3747]
یہ حدیث سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی محبت اور شفقت کو واضح کرتی ہے۔
حسن و حسین رضی اللہ عنہما دنیا میں رسول اللہ ﷺ کے دو پھول ہیں
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا: [هما ريحانتاي من الدنيا]
یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ [صحیح بخاری: 3753، صحیح بخاری: 5994]
یہ حدیث سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ ﷺ کی شدید محبت اور ان کے بلند مقام کو واضح کرتی ہے۔
حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة]
حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ [جامع الترمذی: 3768]
یہ حدیث سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عظیم مقام پر واضح نص ہے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کا حکم
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [حسين مني وأنا من حسين، أحب الله من أحب حسينا، حسين سبط من الأسباط]
حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے، حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں۔ [جامع الترمذی: 3775]
یہ حدیث سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔ پس جو شخص سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے، اسے ان کے قاتلوں، معاونین اور ان کے قتل پر راضی رہنے والوں سے براءت بھی رکھنی چاہیے۔
خلاصہ
ان آیات و احادیث سے ثابت ہوا کہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کا مقام نہایت بلند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو اہلِ بیت کے بارے میں اللہ کا خوف دلایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت بیان فرمائی، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنا حصہ قرار دیا، اور سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے اپنی محبت کا اعلان فرمایا۔ اس لیے اہلِ بیت سے محبت، ان کا احترام، ان کے فضائل کا اقرار، اور ان پر ظلم کرنے والوں سے براءت اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے اور منہج کا لازمی حصہ ہے۔