شراب نوشی اور ممنوع برتنوں میں کھانے پینے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

شراب نوشی کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل مسكر خمر ، وكل مسكر حرام ، ومن شرب الخمر فى الدنيا فمات وهو يدمنها ولم يتب لم يشربها فى الآخرة
”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس شخص نے دنیا میں شراب نوشی کی اور وہ توبہ کیے بغیر اسی حالت میں فوت ہو جائے تو وہ آخرت میں اسے (شرابِ طہور) نہیں پیئے گا“۔
بخاري، كتاب الاشربة 5575۔ مسلم، كتاب الاشربة 2003/73۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من شرب الخمر فلم ينتش لم تقبل له صلاة ما دام فى جوفه أو عروقه منها شيء ، وإن مات مات كافرا ، وإن انتشى لم تقبل له صلاة أربعين يوما ، وإن مات فيها مات كافرا
”جو شخص شراب پیے اور اسے نشہ نہ آئے تو جب تک وہ شراب اس کے پیٹ یا اس کی رگوں میں رہے گی اس کی نماز قبول نہیں ہوگی اور اگر وہ اسی حالت میں فوت ہو جائے تو وہ کفر کی حالت میں فوت ہوگا۔ اور اگر اسے نشہ چڑھ جائے تو پھر اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہیں ہوگی اور اگر وہ اسی حالت میں فوت ہو جائے تو وہ کفر کی حالت میں فوت ہوگا“۔
النسائی، الأشرب۔283/8
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی وجہ سے دس آدمی پر لعنت کی ہے: شراب بنانے والے، بنوانے والے، پینے والے، پلانے والے، اسے اٹھا کر لے جانے والے، جس کے لیے اٹھائی جا رہی ہے، اس کے بیچنے والے، اس کے خریدنے والے، اسے تحفہ میں دینے والے اور اس کی قیمت (کمائی) کھانے والے پر (سب پر لعنت کی ہے)“۔
ترمذی، البيوع 1295۔
③ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل شراب أسكر فهو حرام
”ہر نشہ آور مشروب حرام ہے“۔
بخاری، کتاب الوضوء و کتاب الأشربة 242۔ مسلم، کتاب الأشربة۔
④ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل مسكر حرام ، وما أسكر منه الفرق فملء الكف منه حرام
”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس شراب کا ایک فرق (تقریباً سات کلو یا بارہ مد) نشہ کرے تو اس کا ایک چلو بھی حرام ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الأشربة 3687۔ ترمذی، کتاب الأشربة۔
⑤ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما أسكر كثيره فقليله حرام
”جس چیز کی کثیر مقدار نشہ کرے تو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الأشربة 3681۔ ترمذی، کتاب الأشربة 1865۔
⑥ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ ایک آدمی جیشان (یمن کے علاقے) سے آیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ملک میں پی جانے والی مکئی کی شراب (مزر) کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ نشہ آور ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل مسكر حرام ، وإن على الله عهدا لمن يشرب المسكر أن يسقيه من طينة الخبال
”ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور اللہ پر یہ عہد ہے کہ وہ نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والے شخص کو طينة الخبال پلائے گا“۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! طينة الخبال کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عرق أهل النار أو عصارة أهل النار
”جہنمیوں کا پسینہ یا ان کا نچوڑ“۔
مسلم، کتاب الأشربة 2002۔ مسند احمد، باقی مسند المکشرین 441/3، حدیث 14893۔

جن برتنوں میں پینا منع ہے

① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: مجھے ان مشروبات کے متعلق بتائیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اور اسے میرے لیے واضح کریں کیونکہ آپ کی زبان ہماری زبان سے مختلف ہے۔ انہوں نے بتایا:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء (کدو کے برتن)، حنتم (سبز مٹی کے گھڑے)، نقیر (لکڑی کے کھدے ہوئے پیالے) اور مُظَفَّت (تارکول ملے ہوئے برتن) میں پینے سے منع فرمایا ہے“۔
مسلم ، کتاب الأشربة 1988/59۔ النسائي، الأشربة 274/8۔

سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے کی ممانعت

① سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من شرب فى إناء من ذهب أو فضة فإنما يجرجر فى بطنه نارا من جهنم
”جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ہی انڈیلتا ہے“۔
بخاري، کتاب الأشربة 5634۔ مسلم، کتاب الأشربة 2065/2۔
② عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ مدینہ میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے پانی طلب کیا تو ایک مجوسی نے چاندی کے برتن میں پانی پیش کیا تو انہوں نے اسے پھینک دیا اور فرمایا: حالانکہ میں نے اسے کہا بھی تھا کہ وہ مجھے اس میں نہ پلائے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
لا تلبسوا الحرير ولا الديباج ولا تشربوا فى آنية الذهب والفضة ، ولا تأكلوا فى صحافهما فإنها لهم فى الدنيا ولكم فى الآخرة
”تم ریشم پہنو نہ ریشمی قیمتی کپڑا، تم سونے اور چاندی کے برتن میں پیو نہ ان کی پلیٹوں میں کھاؤ، کیونکہ یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے“۔
بخاري، کتاب الأطعمة 5426۔ مسلم، اللباس والزينة 2067/4۔