لغویات سے پرہیز کرنے کے فضائل قرآن وحدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

لغویات سے پرہیز کرنے کے فضائل

اللہ رب العزت نے قرآنِ مقدس میں اپنے مومن، چنیدہ بندوں کی کئی ایک صفات بیان فرمائی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ فضول، لایعنی باتوں اور فضول کاموں سے اجتناب کرتے ہیں۔ اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی شبانہ روز مصروفیات فضولیات کی بجائے، اعلاء کلمۃ اللہ کی سرسبلندی کے لیے صرف ہوں۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل چند آیات سے واضح ہوتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ. الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ‎. وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ .﴾
”یقیناً ان مومنوں نے فلاح پالی، جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں اور جو بے کار اور لغو باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔“
(23-المؤمنون:1 تا 3)
ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا﴾
(رحمن کے بندے وہ ہیں) جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے ہیں، اور جب کسی ناپسندیدہ چیز سے ان کا سابقہ پڑتا ہے تو شریفوں کی طرح گزر جاتے۔“
(25-الفرقان:72)
﴿وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ﴾
اور جب بے ہودہ بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں، اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم پر سلام ہو ہم جاہلوں کی ہم نشینی کے طالب نہیں۔“
(28-القصص:55)
عن على رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن فى الجنة لغرفا ترى ظهورها من بطونها ، وبطونها من ظهورها فقام إليه أعرابي فقال: لمن هي يا رسول الله؟ قال:هي لمن أطاب الكلام ، وأطعم الطعام ، وداوم الصيام وصلى لله بالليل والناس نيام .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایسے محلات ہیں جن کے اندر (کھڑے ہوں) تو باہر کی ہر چیز نظر آتی ہے اور باہر (کھڑے ہوں) تو اندر کی ہر چیز نظر آتی ہے۔ ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے نبی! یہ کس آدمی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے لیے ہے جو اچھی بات کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور جب لوگ مزے کی نیند سو رہے ہوں تو اٹھ کر نماز پڑھے۔“
سنن ترمذی، كتاب الجنة، باب ما جاء في صفة غرف الجنة، رقم: 2527 – البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔ التعليق الرغيب: 2/46.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه
بندے کے اسلام کی اچھائی میں سے ہے کہ وہ لایعنی، فضول کاموں کو ترک کرے۔“
سنن الترمذي، كتاب الزهد، رقم: 2317 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔