تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ وہ باطل کی مجلسوں میں حاضر نہیں ہوتے، جن میں مشرکین حاضر ہوتے ہیں۔ وہ لہو و لعب، گانے بجانے، غیبت یا بدکاری کی مجلسیں ہوں یا ظلم و زیادتی یا کسی بھی گناہ کی منصوبہ بندی کی مجلسیں، یا کفار کے جشنوں، ان کے کھیل تماشوں کی مجلسیں، غرض ایسی ہر مجلس میں شرکت سے وہ اجتناب کرتے ہیں۔ اس صورت میں لفظ {”الزُّوْرَ “ ” لَا يَشْهَدُوْنَ “} کا مفعول بہ ہو گا۔ یہی مفہوم سورۂ انعام میں بیان ہوا ہے، فرمایا: «{ وَ اِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ وَ اِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ }» [الأنعام: ۶۸] ”اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات کے بارے میں (فضول) بحث کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کر، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ بات میں مشغول ہو جائیں اور اگر کبھی شیطان تجھے ضرور ہی بھلا دے تو یا د آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھ۔“ اور {”يَشْهَدُوْنَ“} کا معنی گواہی بھی ہو سکتا ہے، اس صورت میں {” لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ “} سے مراد {”لَا يَشْهَدُوْنَ بِالزُّوْرِ“} یا {”لَا يَشْهَدُوْنَ شَهَادَةَ الزُّوْرِ“} ہو گا کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْإِشْرَاكُ بِاللّٰهِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَيْنِ وَ قَتْلُ النَّفْسِ وَ شَهَادَةُ الزُّوْرِ] [بخاري، الشھادات، باب ما قیل في شھادۃ الزور: ۲۶۵۳] ”اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کو ستانا، کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”آیات کے سیاق سے زیادہ ظاہر بات یہی ہے کہ وہ جھوٹ اور باطل کی مجلس میں شریک نہیں ہوتے۔“
➋ { وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا:” كِرَامًا “} کریم کا اصل معنی وہ چیز ہے جو اپنی قسم میں سب سے عمدہ ہو، جیسا کہ فرمایا: «{فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ کَرِیْمٍ}» [لقمان: ۱۰] ”پھر ہم نے اس میں ہر طرح کی عمدہ قسم اگائی۔“ ”لغو“ کا معنی بے فائدہ اور بے کار چیز، یعنی {”كُلَّ مَا يَنْبَغِيْ أَنْ يُّلْغٰي وَ يُطْرَحُ “} کہ ہر وہ چیز جو بے کار کیے جانے اورپھینکے جانے کے لائق ہو۔ (کشاف) اس میں ہر گناہ آ جاتا ہے، یعنی رحمان کے بندے بے ہودہ مجالس میں شریک نہیں ہوتے اور اگر ایسی کسی مجلس پر ان کا گزر ہو تو الجھنے اور لڑنے کے بجائے بہت باعزت اور عمدہ ترین طریقے سے گزر جاتے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ ذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا }» [الأنعام: ۷۰] ”اور ان لوگوں کو چھوڑ دے جنھوں نے اپنے دین کو کھیل اور دل لگی بنا لیا۔“ اور فرمایا: «{ وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ }» [القصص: ۵۵] ”اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ سلام ہے تم پر، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جہاں کوئی لغو اور بے ہودہ قسم کا کام ہو رہا ہو۔ اللہ کے بندے وہاں حاضر ہو کر تماشائی نہیں بنتے اور ان کی طبیعت قطعاً یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ ایسی مجالس میں شریک ہوں جیسا کہ اس آیت کے اگلے حصہ سے یہی مفہوم متبادر ہوتا ہے۔ جہاں ایسے بے ہودہ قسم کے کھیل تماشے یا مجالس منعقد ہوں گے وہاں وہ نہ رکنا گوارا کرتے ہیں نہ انہیں دیکھنا پسند کرتے ہیں بلکہ شریفانہ طور پر وہاں سے آگے گزر جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حدیث میں بھی ہے کہ { سچے مومن کو چاہئے کہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر دور شراب چل رہا ہو اور یہ مطلب ہے کہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ } ۱؎ [مسند احمد:20/1:حسن]
بخاری و مسلم میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ بتا دوں؟ تین دفعہ یہی فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ اس وقت تک آپ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے، اب اس سے الگ ہو کر فرمانے لگے: سنو اور جھوٹی بات کہنا، سنو اور جھوٹی گواہی دینا، اسے باربار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے دل میں کہنے لگے کہ کاش! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جاتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2654]
زیادہ ظاہر لفظوں سے تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ کے پاس نہیں جاتے۔
اللہ کے ان بزرگ بندوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ قرآن کی آیتیں سن کر ان کے دل دہل جاتے ہیں، ان کے ایمان اور توکل بڑھ جاتے ہیں بخلاف کفار کے کہ ان پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا، وہ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں رہتے۔ نہ اپنا کفر چھوڑتے ہیں نہ سرکشی، طغیانی اور جہالت و ضلالت سے باز آتے ہیں۔
ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور بیمار دل والوں کی گندگی ابھر آتی ہے۔ پس کافر اللہ کی آیتوں سے بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں۔ ان مومنوں کی حالت ان کے برعکس ہے، نہ یہ حق سے بہرے ہیں، نہ حق سے اندھے ہیں۔ سنتے ہیں، سمجھتے ہیں، نفع حاصل کرتے ہیں، اپنی اصلاح کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اندھا پن، بہرا پن نہیں چھوڑتے۔
شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص آتا ہے اور وہ دوسروں کو سجدے میں پاتا ہے لیکن اسے نہیں معلوم کہ کس آیت کو پڑھ کر سجدہ کیا ہے؟ تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ سجدہ کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی یعنی سجدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ اس نے سجدے کی آیت پڑھی، نہ سنی، نہ سوچی تو مومن کا کوئی کام اندھا دھند نہ کرنا چاہیے جب تک اس کے سامنے کسی چیز کی حقیقت نہ ہو، اسے شامل نہ ہونا چائیے۔
اس دعا سے ان کی غرض خوبصورتی اور جمال نہیں بلکہ نیکی اور خوش خلقی کی ہے۔ مسلمان کی سچی خوشی اسی میں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ وہ ظالم نہ ہوں، بدکار نہ ہوں۔ سچے مسلمان ہوں۔
{ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر ایک صاحب فرمانے لگے: ان کی آنکھوں کو مبارک باد ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ کاش کہ ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور تمہاری طرح فیض صحبت حاصل کرتے۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے تو نفیر کہتے ہیں: مجھے تعجب معلوم ہوا کہ اس بات میں کوئی برائی نہیں، پھر یہ کیوں خفا ہو رہے ہیں؟ اتنے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ کہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں کہ جو قدرت نے انہیں نہیں دی۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ یہ اگر اس وقت ہوتے تو ان کا کیا حال ہوتا؟ واللہ وہ لوگ بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی، نہ تابعداری کی اور اوندھے منہ جہنم میں گئے۔ تم اللہ کا یہ احسان نہیں مانتے کہ اللہ نے تمہیں اسلام میں اور مسلمان گھروں میں پیدا کیا؟ پیدا ہوتے ہی تمہارے کانوں میں اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پڑی اور ان بلاؤں سے تم بچالئے گئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے جس وقت دنیا کی اندھیر نگری اپنی انتہا پر تھی۔ اس وقت دنیا والوں کے نزدیک بت پرستی سے بہتر کوئی مذہب نہ تھا۔ آپ فرقان لے کر آئے، حق و باطل میں تمیز کی۔ باپ بیٹے جدا ہو گئے۔ مسلمان اپنے باپ دادوں، بیٹوں، پوتوں، دوست احباب کو کفر پر دیکھتے، ان سے انہیں کوئی محبت پیار نہیں ہوتا تھا بلکہ کڑہتے تھے کہ یہ جہنمی ہیں اسی لیے ان کی دعائیں ہوتی تھیں کہ ہمیں ہماری اولاد اور بیویوں سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما کیونکہ کفار کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہوتی تھیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:3/6:صحیح]
اس دعا کا آخر یہ ہے کہ ہمیں لوگوں کا رہبر بنا دے کہ ہم انہیں نیکی کی تعلیم دیں، لوگ بھلائی میں ہماری اقتداء کریں۔ ہماری اولاد ہماری راہ چلے تاکہ ثواب بڑھ جائے اور ان کی نیکیوں کا باعث بھی ہم بن جائیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں ؛ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے یا علم جس سے اس کے بعد نفع اٹھایا جائے یا صدقہ جاریہ۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:3084]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين لا يشهدون الزُّورَ}؛ أي: لا يحضُرونَ الزُّورَ؛ أي: القول والفعل المحرم، فيجتنبون جميع المجالس المشتملة على الأقوال المحرَّمة أو الأفعال المحرَّمة؛ كالخوض في آيات الله، والجدال الباطل، والغيبة، والنميمة، والسب، والقذف، والاستهزاء، والغناء المحرم، وشرب الخمر، وفرش الحرير والصور ... ونحو ذلك، وإذا كانوا لا يشهدون الزور؛ فمن باب أولى وأحرى أنْ لا يقولوه ويفعلوه، وشهادة الزُّور داخلة في قول الزُّور، تدخل في هذه الآية بالأولوية، {وإذا مَرُّوا باللغوِ}: وهو الكلام الذي لا خيرَ فيه ولا فيه فائدةٌ دينيةٌ ولا دنيويةٌ؛ ككلام السفهاء ونحوهم {مَرُّوا كِراماً}؛ أي: نَزَّهوا أنْفُسَهم، وأكرموها عن الخوض فيه، ورأوا الخوضَ فيها وإن كان لا إثم فيه؛ فإنَّه سفهٌ ونقصٌ للإنسانيَّة والمروءة؛ فربؤوا بأنفسهم عنه. وفي قوله: {إذا مَرُّوا باللغوِ}: إشارة إلى أنهم لا يقصدون حُضورَه ولا سماعَه، ولكن عند المصادفةِ التي من غير قصدٍ يُكْرِمونَ أنفسهم عنه.