فضول خرچی اور بخل سے بچنے کے فضائل قرآن وحدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

فضول خرچی اور بخل سے بچنے کے فضائل

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾
”اے اولاد آدم! تم لوگ ہر نماز کے وقت اپنا اچھا لباس استعمال کرو، اور کھاؤ اور پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔“
(7-الأعراف:31)
آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے فضول خرچی کرنے والوں سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح ہاتھ روک کر خرچ کرنے، بخل کرنے کو بھی پسند نہیں فرمایا۔ بلکہ راہِ اعتدال کو پسند کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا﴾ ‎
”اور جو خرچ کرتے وقت بھی نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل راہ ہوتی ہے۔“
(25-الفرقان:67)
﴿وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا﴾
”اور آپ اپنے ہاتھ کو (بخل کی وجہ سے) اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھئے اور نہ (فضول خرچ بن کر) اسے بالکل ہی کھول دیجئے، ورنہ آپ لوگوں کی ملامت کے مستحق اور محتاجی سے تھکے ہارے ہو جائیں گے۔“
(17-الإسراء:29)
ڈاکٹر لقمان سلفی حفظہ اللہ رقمطراز ہیں:
”اس آیت کریمہ میں بخیل کو اس آدمی سے تشبیہ دی گئی ہے جس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ باندھ دیے گئے ہوں، کہ ان ہاتھوں سے وہ نہ کسی چیز کو پکڑ سکتا ہے۔ اور نہ ہی ان کے ذریعے کسی کو کوئی چیز دے سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے مومنوں کو نصیحت کی ہے کہ جن لوگوں پر خرچ کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے، ان پر خرچ کرنے میں بخل سے کام نہ لیں۔ اور نہ خرچ کرنے میں اتنی فضول خرچی سے کام لیں کہ سب کچھ لٹا دیں بال بچوں کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑیں، اس لیے کہ بخل کی صورت میں لوگ ملامت کریں گے کہ مال رہتے ہوئے ان کی مدد نہیں کی، اور فضول خرچی کی وجہ سے سارا مال ضائع ہو جائے گا تو باقی عمر کف افسوس ملتے ہوئے گزارے گا، اور دوسروں کا دست نگر رہے گا۔ اور اس کی حالت اس اونٹ کی ہوگی جو راستہ چلتے چلتے تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ آگے نہیں چل سکتا تو اس کا مالک اسے وہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔“ (تيسير الرحمن: 6/1-8)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
قال الله تبارك وتعالى: يا ابن آدم! أنفق أنفق عليك .
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم (دوسروں پر) خرچ کرتے رہو، میں تم پر خرچ کرتا رہوں گا۔“
صحیح بخارى كتاب النفقات، رقم: 5352 – صحیح مسلم، کتاب الزكاة، باب الحث على النفقة، رقم: 993.