ذبحِ عظیم کیا تھا اور ذبیح کون تھے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

عظیم ذبیحہ کیا تھا؟

سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں جو عظیم ذبیحہ عنایت کیا گیا، وہ سفید رنگ کا سینگوں والا خوبصورت مینڈھا تھا، اس کی دلیل سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی آئندہ حدیث ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
ثم تله للجبين، وعلى إسماعيل قميص أبيض، فقال: يا أبت! إنه ليس لي ثوب تكفنني فيه غيره، فاخلعه حتى تكفنني فيه، فعالجه ليخلعه فنودي من خلفه، أن يا إبراهيم قد صدقت الرؤيا فالتفت إبراهيم، فإذا بكبش أبيض أقرن أعين، قال ابن عباس: لقد رأيتنا نبيع هذا الضرب من الكباش
”پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے چہرے کی ایک جانب لٹایا اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے بدن پر سفید قمیص تھی (اس دوران) انہوں نے (اسماعیل علیہ السلام نے) عرض کی: ”ابو جان! اس قمیص کے سوا میرا کوئی اور کپڑا نہیں، جس میں آپ مجھے کفنا سکیں، لہذا اسے اتار لیجیے، تاکہ آپ مجھے اس میں کفن دے سکیں۔“ چنانچہ وہ قمیص اتارنے لگے تو انہیں پیچھے سے آواز دی گئی: اے ابراہیم! تو نے واقعی خواب سچ کر دکھایا ہے۔ اس پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے پیچھے جھانکا تو ناگہاں وہاں انتہائی سفید سینگوں والا بہت خوبصورت مینڈھا تھا۔ سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، یقیناً ہم (قربانی کے لیے) اس قسم کے مینڈھے خریدا کرتے تھے۔“
صحیح: مسند احمد: 297/1، 2707 ۔ سنن بیہقی: 154/5۔ تاریخ دمشق: 210/6۔

فوائد:

① ابو عاصم غنوی ثقہ راوی ہے، یحییٰ بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، لہذا ابو حاتم کا ”لا أعرفه“ کہنا ان کی ثقاہت میں قادح نہیں۔ (دیکھیے میزان الاعتدال، الجرح و التعدیل)
② حماد بن سلمہ ثقہ اور تدلیس سے بری ہیں۔ (ديكهيے فتح المبين فى تحقيق طبقات المدلسين از زبير على زئي ، ص : 108۔ لهذا مسند احمد ميں حماد بن سلمه كا عنعنه قادح نهيں، پهر تاريخ دمشق اور بيهقي ميں عنعنه نهيں بلكه حماد بن سلمه كي تحديث هے۔)

ذبیح کون تھے؟

ذبیح سیدنا اسماعیل علیہ السلام تھے یا سیدنا اسحاق علیہ السلام، اس بارے علماء کا اختلاف ہے، کچھ علماء سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبیح خیال کرتے ہیں اور کچھ علماء کی رائے ہے کہ ذبیح سیدنا اسماعیل علیہ السلام تھے۔ ثانی الذکر علماء کا قول رائج ہے اور اس کے دلائل حسبِ ذیل ہیں:
① سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کے عزم اور ان کے فدیہ میں ذبیحہ ذبح کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو سیدنا اسحاق علیہ السلام کی ولادت اور نبی ہونے کی بشارت دی، اس واقعہ قربانی کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ نوید سنائی:
﴿وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ﴾
”اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، جو صالحین سے نبی ہوگا۔“
سورة الصافات: 112
اسی طرح سیدنا اسحاق علیہ السلام کی ولادت کے ساتھ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری بھی دی گئی:
﴿فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ﴾
”ہم نے اسے (یعنی سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو) اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔“
سورة هود: 71
سو جس کی ولادت پر نبی ہونے اور اس کے بعد اس کی اولاد سیدنا یعقوب علیہ السلام کی ولادت کی نوید دی گئی ہو، اس کے بارے قربانی کا حکم بے سود دکھائی دیتا ہے اور اس سے گزشتہ بشارتوں کی نفی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش پر جو بشارت ملی تھی اس میں یہ مذکور تھا:
﴿ فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ﴾
”ہم نے اسے (ابراہیم علیہ السلام کو) نہایت بردبار لڑکے کی بشارت دی۔“
سورة الصافات: 101
یعنی وہ کسی عظیم سانحے اور کڑی آزمائش کے وقت عظیم حوصلے اور انتہائی صبر کا مظاہرہ کرے گا اور یہ کردار سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے بحسن و خوبی سرانجام بھی دیا، لہذا ذبیح سیدنا اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔
② سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کا حکم مکہ میں ہوا اور سیدنا اسحاق علیہ السلام اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور پیدائش کے بعد بھی ان کا بچپن اور لڑکپن ملک شام میں گزرا تھا۔ جب کہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام مکہ میں رہائش پذیر ہوئے اور انہی کے متعلق ذبح کا حکم نازل ہوا تھا۔
③ مسندِ احمد کی آئندہ حدیث اس تنازع کو دور کرتی ہے کہ ذبیح سیدنا اسماعیل علیہ السلام ہی تھے کیونکہ اس حدیث میں بصراحت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا نام وارد ہے، جو واضح نص ہے کہ ذبیح سیدنا اسماعیل علیہ السلام ہی تھے :
عرض له الشيطان عند المسعى، فسابقه فسبقه إبراهيم ثم ذهب به جبريل إلى جمرة العقبة، فعرض له الشيطان فرماه بسبع حصيات حتى ذهب، ثم عرض له عند الجمرة الوسطى، فرماه بسبع حصيات، ثم تله للجبين، وعلى إسماعيل قميص أبيض، فقال: يا أبت! إنه ليس لي ثوب تكفنني فيه غيره، فاخلعه حتى تكفنني فيه، فعالجه ليخلعه فنودي من خلفه، أن يا إبراهيم! قد صدقت الرؤيا فالتفت إبراهيم فإذا هو بكبش أبيض أقرن أعين
”جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو مناسکِ حج کی تعمیل کا حکم ملا تو مقامِ سعی کے قریب ان سے شیطان کا سامنا ہوا اور اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے دوڑ کر آگے نکلنے کی کوشش کی تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس سے سبقت لے گئے۔ پھر سیدنا جبرئیل علیہ السلام انہیں (یعنی ابراہیم علیہ السلام کو) جمرہ عقبہ کی طرف لے گئے اور شیطان ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں، حتیٰ کہ وہ بھاگ گیا، بعد ازاں شیطان سے جمرہ وسطی کے قریب سامنا ہوا اور انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں، اس جگہ (سیدنا ابراہیم علیہ السلام) نے اسے (سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو) چہرے کی ایک جانب لٹایا اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام پر سفید قمیص تھی، اس نے عرض کیا: ”ابا جان! اس قمیص کے سوا میرا کوئی اور کپڑا نہیں، جس میں آپ مجھے کفن دے سکیں گے۔ اسے اتار لیجیے تاکہ آپ مجھے اس میں کفن دے سکیں۔“ وہ اسے اتارنے لگے تو ان کے پیچھے سے آواز آئی: اے ابراہیم! تو نے واقعی خواب سچ کر دکھایا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے پیچھے دیکھا تو ناگہاں وہاں سینگوں والا سفید خوبصورت مینڈھا تھا۔“
صحيح : مسند أحمد : 297/1 ۔ سنن بیهقی : 154/5۔ شعب الإيمان للبيهقي : 464/3 ۔ تاريخ دمشق : 210/6۔