قیامت کی نشانی : ہر طرف دھواں چھا جائے گا
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ 10 يَغْشَى النَّاسَ ۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ
”آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ظاہر دھواں لائے گا جو لوگوں کو گھیر لے گا یہ دردناک عذاب ہے۔“
سورة الدخان : 10 ، 11
احادیث کی روشنی میں :
عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال : إن النبى صلى الله عليه وسلم لما رأى من الناس إدبارا قال : اللهم سبعا كسبع يوسف فأخذتهم سنة حصت كل شيء حتى أكلوا الجلود والميتة والجيف وينظر أحدهم إلى السماء فيرى الدخان من الجوع فأتاه أبو سفيان فقال يا محمد ! إنك تأمر بطاعة الله وبصلة الرحم وإن قومك قد هلكوا فادع الله لهم ، قال الله تعالى : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ إلى قوله : إِنَّكُمْ عَائِدُونَ 15 يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کفار قریش کی سرکشی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی، یا اللہ ! سات برس کا قحط ان پر بھیج جیسے یوسف علیہ السلام کے وقت میں بھیجا تھا چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ ہر چیز تباہ ہو گئی اور لوگوں نے چمڑے اور مردار تک کھا لیے۔ بھوک کی شدت کا یہ عالم تھا کہ آسمان کی طرف نظر اٹھائی جاتی تو دھوئیں کی طرح معلوم ہوتا تھا آخر مجبور ہو کر ابو سفیان حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ لوگوں کو اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں ۔ اب تو آپ ہی کی قوم ہلاکت سے دوچار ہے، اس لیے آپ خدا سے ان کے حق میں دعا کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کہ اس دن کا انتظار کرو جب آسمان صاف دھواں نظر آئے گا نیز جب ہم سختی سے ان کی گرفت کریں گے ۔ سخت گرفت بدر کی لڑائی میں ہوئی۔ دھوئیں کا معاملہ بھی گزر چکا (جب سخت قحط پڑا تھا) جس میں پکڑ اور قید کا ذکر ہے یا سورۃ روم کی آیات میں جو ذکر ہے وہ سب ہو چکا ہے۔
بخاری : کتاب الاستسقاء : باب دعاء النبي اجعلها سنین کسنی یوسف 1007 مسلم 2789 ترمذی 3254 دلائل النبوة 2/324 احمد 1/552 طبرانی کبیر 9/244
عن مسروق رحمه الله قال : بينما رجل يحدث فى كندة ، فقال : يجيء دخان يوم القيامة فيأخذ بأسماع المنافقين وأبصارهم يأخذ المؤمن كهيئة الزكام ففزعنا فأتيت ابن مسعود وكان متكئا فغضب فجلس فقال من علم فليقل ومن لم يعلم فليقل : الله أعلم فإن من العلم أن يقول لما لا يعلم : لا أعلم فإن الله قال لنبيه صلى الله عليه وسلم قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ وإن قريشا أبطأوا عن الإسلام فدعا عليهم النبى صلى الله عليه وسلم قال : اللهم أعني عليهم بسبع كسبع يوسف فأخذتهم سنة حتى هلكوا فيها وأكلوا الميتة والعظام ويرى الرجل ما بين السماء والأرض كهيئة الدخان فجاءه أبو سفيان فقال : يا محمد ! جئت تأمرنا بصلة الرحم وإن قومك قد هلكوا فادع الله فقرأ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ إلى قوله عَائِدُونَ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے کان، آنکھ بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مؤمن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہوگا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے پھر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا (اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے اسے سن کر غصے میں آگئے اور سیدھے بیٹھ کر فرمانے لگے اگر کسی کو کسی بات کا حتمی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہیے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہیے کہ اللہ زیادہ جانے والا ہے یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی لاعلمی کا اقرار کر لے اور صاف کہہ دے کہ میں نہیں جانتا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا کہ آپ کہہ دیں کہ میں اپنی دعوت و تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا اور نہ میں تکلف (بناوٹ) کرتا ہوں۔ در اصل واقعہ یہ ہے کہ قریش کسی طرح اسلام نہیں لاتے تھے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں بد دعا کی کہ اے اللہ ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ جیسا قحط بھیج کر میری مدد کر پھر ایسا قحط پڑا کہ لوگ تباہ ہو گئے اور مردار اور ہڈیاں کھانے لگے کوئی اگر فضا میں دیکھتا تو فاقہ کی وجہ سے اسے دھواں سا دکھائی دیتا پھر ابوسفیان آئے اور کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں لیکن آپ کی قوم تباہ ہورہی ہے، اللہ سے دعا کیجئے (کہ ان کی یہ مصیبت دور ہو) اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : ”اس دن کا انتظار کرو جب آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قحط کا یہ عذاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ختم ہو گیا۔
بخاری : کتاب التفسیر : تفسیر سورة الم غلبت الروم 4774
وعن حذيفة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات فذكر الدخان
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت ہرگز قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذکر کیا ان میں سے ایک یہ ہے کہ دھواں ظاہر ہو گا۔
مسلم : کتاب الفتن: باب في الآيات التي تكون قبل الساعة 2901 ترمذی 2183 ابو داؤد 4311 شرح السنة 7/432 الحلية 1/355 احمد 2/588
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ثلاث إذا خرجن لم ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت فى إيمانها خيرا طلوع الشمس من مغربها والدخان ودابة الأرض
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تین علامات (قیامت) ظاہر ہو جائیں گی تو پھر کسی نفس کو اس کا ایمان لانا فائدہ مند نہ ہو گا کہ جو پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی حاصل نہیں کی۔
(1) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
(2) دھواں نکلنا
(3) اور زمین کے جانور (کا نکلنا)
احمد 2/588 مسلم 249 ترمذی 3072 ابن ابي شيبة 8/669 ابو عوانة 1/107
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : بادروا بالأعمال ستا : الدجال والدخان ….
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چھ چیزوں سے پہلے پہلے نیک عمل کر لو :
(1) دجال
(2) دھواں خارج ہونے سے پہلے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب فی بقیة من أحادیث الدجال 2947 احمد 2/428 ابن حبان 15/199 حاکم 4/561 شرح السنة 7/431 ابو یعلی 11/397 طیالسی 2549
فوائد :
➊ آسمان پر دھوئیں کے بادلوں کا چھا جانا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، مجاہد رحمہ اللہ، ابو العالیہ رحمہ اللہ، ضحاک رحمہ اللہ، عطیہ رحمہ اللہ وغیرہ کے نزدیک قیامت کی مذکورہ نشانی واقع ہو چکی ہے جیسا کہ بخاری و مسلم کی گذشتہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے اور مفسر ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اس کو راجح قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ ”آپ اس دن کا انتظار کریں کہ جب آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔“ لہذا اس میں مشرکین کے لیے وعید بھی تھی جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پورا ہونا ناگزیر ہے لہذا اس کا وقوع رونما ہو چکا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے : تفسیر طبری 15/114، تفسیر قرطبی 16/131، تفسیر ابن کثیر 7/233
➌ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، ابو سعید رضی اللہ عنہ، حسن بصری رحمہ اللہ، حذیفہ رضی اللہ عنہ، ابو مالک رضی اللہ عنہ اور کئی تابعین وغیرہ کا موقف یہ ہے کہ مذکورہ نشانی قیامت کی علامات میں سے ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگی۔
راجح مسئلہ :
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
أنه لم يات بعد وانما يكون قريبا من قيام الساعة
”مذکورہ نشانی تا حال ظاہر نہیں ہوئی اور یقینا یہ قیامت کے قریب ظاہر ہوگی۔“
شرح مسلم للنووی 18/12
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ مفصل بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :
مما فيه مقنع ودلالة ظاهرة على ان الدخان من الآيات المنتظرة مع أنه ظاهر القرآن
اس سے ثابت ہوا کہ دھواں قیامت کی ان نشانیوں میں شامل ہے جو تا حال قابل انتظار ہیں اور یہی معنی قرآن کے ظاہر کے موافق ہے۔
تفسیر ابن کثیر 7/235 النهاية 1/224
➍ بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ یہ دو طرح کا دھواں ہے ایک ظاہر ہو چکا ہے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں) اور دوسرا قرب قیامت کے وقت رونما ہوگا۔ مجاہد رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کا ایک قول روایت کیا ہے۔
تفصیل کے لیے ملاحظه ہو : التذكرة 655 شرح مسلم للنووی 27/18
➎ بعض اہل علم کے نزدیک عہد نبوی میں ظاہر ہونے والا دھواں مجازی ہے یعنی قحط کی وجہ سے آسمان یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ دھوئیں کی لپیٹ میں ہے اور فی الحقیقت ایسا نہیں تھا بلکہ یہ لوگوں کا وہم و گمان اور تخیل تھا جبکہ قیامت کے قریب ایک حقیقی دھواں ظاہر ہو گا جو قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور تا حال ظاہر نہیں ہوئی۔
دیکھئے التذكرة 655 ابن كثير 233/7