کن جانوروں کی قربانی درست نہیں ؟ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

جن جانوروں کی قربانی درست نہیں

مسلمان کو چاہیے کہ ایسا جانور قربانی کے لیے خریدے، جو صحت مند، چاق چوبند، اور حتی الامکان خالی از عیوب ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عیوب کی نشاندہی فرمائی ہے، جن میں سے کسی ایک عیب کی ہونا جانور کو قربانی کے لیے نا اہل ٹھہرائے جانے کا سبب ہوگا۔ ذیل میں اس بارے میں دو حدیثیں پیش کی جارہی ہیں:
➊ حضرات ائمہ احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، اور میری انگلیاں، آپ کی انگلیوں سے کوتاہ، اور میری پوریں آپ کی پوروں سے چھوٹی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أربع لا تجوز فى الأضاحي: العوراء بين عورها، والمريضة بين مرضها، والعرجاء بين ظلعها، والكسير التى لا تنقي.
چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں، یک چشم جس کا یک چشم ہونا بالکل صاف طور پر معلوم ہو، بیمار جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہوا اور ایسا بوڑھا، کہ اس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔
اس [عبید بن فیروز] نے کہا: میں نے کہا: میں [قربانی کے جانور کے] دانت میں نقص کو ناپسند کرتا ہوں۔
انہوں [ براء بن عازب رضی اللہ عنہما ] نے جواب دیا: جو تمہیں نا پسند ہے، اس کو چھوڑ دو [یعنی اس کی قربانی نہ کرو] لیکن [اپنی ناپسند کے سبب] دوسروں پر اس جانور کی قربانی کو حرام قرار نہ دو۔
ملاحظه ہو : المسند 300/4.
المسند 300/4 (ط : المكتب الإسلامي؛) سنن أبي داود، كتاب الضحايا، باب ما يكره من الضحايا، رقم الحديث 2799، 357/7 – 358 و جامع الترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما لا يجوز من الأضاحي، رقم الحديث 1530، 67/5؛ وسنن النسائی، کتاب الضحايا، العرجاء 215/7؛ وسنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، ما يكره أن يضحى به، رقم الحديث 207/2،3182. الفاظ حدیث سنن ابی داؤد کے ہیں۔ امام ترمذی نے اسے [حسن صحیح ] امام نووی اور شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: جامع الترمذي 68/5 والمجموع 299/8؛ وصحيح سنن أبي داود 539/2؛ وصحيح سنن ابن ماجه 202/2).
امام نووی نے تحریر کیا ہے:
وأجمعوا أن العيوب المذكورة فى حديث البراء رضي الله عنهما ولا تجزئ التضحية بها، وكذا ما كان فى معناها، أو أقبح منها كالعمي وقطع الرجل وشبهه.
اس بات پر اجماع ہے، کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکورہ چار عیوب والے جانوروں کی قربانی جائز نہیں۔ ان عیوب سے مشابہ یا ان سے بھی سنگین عیب والے جانور کی قربانی بھی درست نہیں، جیسے جانور کا مکمل اندھا ہونا اور اس کی ٹانگ کا اور اس کی مثل کسی (اور عضو) کا کٹا ہونا۔
منقول از تحفة الأحوذي 68/5 .
امام خطابی رقم طراز ہیں:
وفيه دليل على أن العيب الخفيف فى الصحايا معفو عنه: ألا تراه يقول: بين عورها ، ، وبين مرضها ، وبين ظلعها ، فالقليل منه غير بين، فكان معفوا عنه
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے، کہ قربانی کے جانوروں میں معمولی عیب کی معافی ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا یک چشم ہونا صاف طور پر معلوم ہو رہا ہو، اس کی بیماری واضح ہو، اس کا لنگڑا پن نمایاں ہو، اور جو عیب معمولی ہوگا، وہ واضح اور نمایاں نہ ہوا، اس کی معافی ہوگی۔
معالم السنن 230/2 .
➋ حضرات ائمہ احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ:
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نستشرف العين والأذن، وأن لا نضحي بعوراء، ولا مقابلة، ولا مدابرة، ولا شرقاء، ولا خرقاء.
ہمیں رسول اللہ نے حکم دیا، کہ ہم( قربانی والے جانور کی) آنکھوں اور کانوں کی اچھی طرح پڑتال کر لیا کریں اور وہ جانور ذبح نہ کریں، جو یک چشم ہو، یا جس کے کان آگے سے، یا پیچھے سے کٹ کر لٹک گئے ہوں، یا جس کے کان لمبائی میں کٹے ہوں یا عرض میں کٹے ہوں( یا جس کے کانوں میں سوراخ ہو)۔
المسند، جزء من رقم الحديث 315/2،1274. حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ” احمد اور چاروں [ ابو داؤد، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ] نے اسے روایت کیا ہے اور ترندی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (بلوغ المرام ص 281) شیخ احمد شاکر نے بھی اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو هامش المسند315/2)
مذکورہ بالا حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے، کہ درج ذیل عیوب والے جانوروں کی قربانی کرنا درست نہیں۔
● یک چشم، جس کا یک چشم ہونا صاف طور پر معلوم ہو۔
●بیمار، جس کی بیماری واضح ہو۔
●لنگڑا، جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو۔
● بوڑھا، جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔
● جس کے کان آگے سے کٹ کر لٹک گئے ہوں۔
●جس کے کان پیچھے سے کٹ کر لٹک گئے ہوں۔
●جس کے کان لمبائی میں کٹے ہوں۔
●جس کے کان عرض میں کٹے ہوں [یا جس کے کانوں میں سوراخ ہو]۔
اور جن جانوروں میں ان عیوب سے بڑا عیب ہوگا، ان کی قربانی دینا بھی درست نہ ہوگا۔