قیامت کی نشانی : بارش بکثرت ہوگی مگر پیداوار (Production) نہیں ہوگی
عن أنس رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تقوم الساعة حتى يمطر الناس مطرا عاما ولا تنبت الأرض شيئا
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت قائم ہونے سے پہلے (پوری روئے زمین پر) ایک عام بارش ہو گی مگر (بارش کے باوجود) زمین کچھ نہیں اگائے گی۔“
احمد (177/3) مجمع الزوائد (638/7) التاریخ الکبیر (362/7) حاکم (495/4)
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ليست السنة بأن لا تمطروا ولكن السنة أن تمطروا وتمطروا ولا تنبت الأرض شيئا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قحط سالی یہ نہیں کہ بارش رک جائے بلکہ قحط سالی تو یہ ہے کہ بار بار بارش ہو مگر زمین نباتات اگانے سے انکار کر دے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب فی سکنی المدینة وعمارتہا قبل الساعة (2904)
فوائد :
➊ قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ موسلا دھار بارش کے باوجود زمین سے پیداوار نہیں ہوگی۔
➋ بارش اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جس کے ذریعے پانی کی ضرورت بدرجہ اتم پوری ہوتی ہے اور زمین نباتات اگاتی ہے۔ دراصل زمین سے نباتات اگانا بارش کا خاصہ ہے مگر جب اللہ تعالیٰ چاہیں گے بارش کے اس خاصے کو سلب کرلیں گے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آگ کے جلانے کا خاصہ اس وقت سلب کر لیا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تھا۔
➌ قیامت کی مذکورہ نشانی ابھی تک ظاہر نہیں ہوئی۔
➍ جس طرح بارش کے انقطاع سے قحط پیدا ہوتا ہے اسی طرح قیامت کے قریب قحط پیدا ہو گا مگر بارشیں قحط سے نجات نہ دیں گی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہوگا۔
➎ ایک روایت میں ہے :
لا تقوم الساعة حتى لا تمطر
”قیامت کے قریب بارش ہوگی نہ نباتات ہوں گی۔ مگر اس میں لا کا اضافہ غیر محفوظ ہے۔“
أحمد (12429)