قیامت کی نشانیاں : قسطنطنیہ (استنبول) کی فتح

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانیاں : قسطنطنیہ (استنبول) کی فتح

عن عبد الله بن بشر الخثعمي عن أبيه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لتفتحن القسطنطينية فلنعم الأمير أميرها ولنعم الجيش ذلك الجيش
”حضرت بشر خثعمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی سنا : تم ضرور قسطنطنیہ فتح کرو گے اور (بوقت فتح تمہارا) وہ امیر بہترین امیر ہوگا اور وہ لشکر بھی بہترین ہوگا۔“
احمد (451/4) حاکم (468/4) الطبرانی الکبیر (39/2) التاریخ الکبیر (81/2)
عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه قال : سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أى المدينتين تفتح أولا : قسطنطينية أو رومية ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : مدينة هرقل تفتح أولا يعني قسطنطينية
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ قسطنطنیہ اور روما میں سے کون سا ملک پہلے فتح ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہرقل کا علاقہ یعنی قسطنطنیہ پہلے فتح ہو گا۔“
احمد (234/2) دارمی (1371) حاکم : کتاب الفتن والملاحم (468/4) الدر المنثور (60/6) السلسلة الصحیحة (33/1)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیت المقدس کی آبادی یثرب (مدینہ) کی بربادی (کا پیش خیمہ) ہے، مدینے کی بربادی جنگوں کا آغاز ہے، جنگوں کا آغاز قسطنطنیہ کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا خروج (کا نقارہ) ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کے کندھے یا ران پر ہاتھ مار کر فرمایا : ”یہ باتیں اسی طرح برحق ہیں جس طرح تم یہاں (کھڑے ہو یا) بیٹھے ہو۔“
ابو داؤد : کتاب الفتن (4294) حاکم (467/4)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ رومی اعماق یا دابق (ملک شام کے) مقام پر پڑاؤ کریں گے۔ ان کی طرف مدینے سے ایک لشکر (مقابلے کے لئے) نکلے گا جو اس وقت روئے زمین کا سب سے بہترین لشکر ہو گا۔ جب وہ مقابلے پر آئیں گے تو رومی کہیں گے تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جو ہم میں سے قیدی ہو گئے ہیں ہم صرف انہی سے لڑنے آئے ہیں۔ مسلمان کہیں گے قسم خدا کی ہم ہرگز ایسا نہیں کر سکتے کہ تمہارے لئے اپنے (ان نو) مسلم بھائیوں کو چھوڑ دیں تو پھر لڑائی چھڑ جائے گی۔ مسلمانوں کا ایک تہائی حصہ پیٹھ دکھا کر بھاگ جائے گا اور ان کی توبہ اللہ تعالیٰ کبھی قبول نہیں کریں گے۔ ایک تہائی حصہ لڑائی میں شہید ہو جائے گا جو اللہ کے ہاں افضل ترین شہید سمجھے جائیں گے اور ایک تہائی (آخری) حصہ فتح حاصل کرے گا جو کبھی فتنے کا شکار نہیں ہوگا اور پھر یہی قسطنطنیہ کو فتح کر لے گا۔
مسلم : کتاب الفتن : باب فی فتح قسطنطنیہ وخروج الدجال ونزول عیسی ابن مریم (2897)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے ایسے شہر کے متعلق سنا ہے جس کا ایک حصہ سمندر اور دوسرا حصہ خشکی کی طرف ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ فرمایا : قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ ستر (70) ہزار بنی اسحاق اس کی طرف پیش قدمی کریں گے۔ جب وہ شہر کے پاس پہنچیں گے تو پڑاؤ کر لیں گے اور وہ تیر و تلوار (اسلحہ) سے لڑائی نہیں کریں گے بلکہ وہ لا اله الا الله والله اكبر کہیں گے تو اس شہر کی ایک جانب گر جائے گی پھر وہ لا اله الا الله والله اكبر کہیں گے تو اس کی دوسری جانب گر جائے گی۔ پھر وہ لا اله الا الله والله اكبر کہیں گے تو وہ شہر ان کے لئے کھول دیا جائے گا اور وہ اس میں داخل ہو کر مال غنیمت حاصل کریں گے۔ جب وہ مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے تو ایک چیخنے والا (شیطان) چیخ کر کہے گا: بلاشبہ دجال نکل چکا ہے تو وہ لوگ سب مال و دولت چھوڑ کر واپس چلے آئیں گے۔
مسلم (2920)

فوائد :

➊ قسطنطنیہ کا موجودہ نام استنبول ہے جسے قسطنطین نے اپنا دارالخلافہ بنایا اور اسی کے نام سے اس کا نام قسطنطنیہ مشہور ہوا۔ قسطنطنیہ اور عموریہ کے درمیان ساٹھ میل کی مسافت ہے۔
➋ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسطنطنیہ کی طرف پیش قدمی کرنے والے پہلے لشکر کو جنت کی خوشخبری سنائی ہے جیسا کہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أول جيش من أمتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم
”میری امت کا وہ پہلا لشکر (جہنم کی آگ سے) بخش دیا گیا ہے جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) پر حملہ آور ہوگا۔ اس پہلے لشکر کا امیر یزید بن معاویہ تھا۔“
بخاری : کتاب الجہاد باب ما قیل فی قتال الروم (2924)
➌ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسطنطنیہ (استنبول) فتح کرنے والے لشکر اور امیر لشکر کو بہترین کے خطاب سے نوازا ہے۔
➍ قسطنطنیہ 857ھ بموافق 1453ء میں محمد بن مراد جو سلطان محمد الفاتح کے نام سے مشہور ہے، کے ہاتھوں فتح ہوا۔ اس فتح میں سلطان کے ساتھ دو لاکھ کا فوجی لشکر اور اپنے دور کے تمام جدید ہتھیار میسر تھے لیکن حدیث کے مطابق اسے تسبیح و تکبیر سے فتح کیا جائے گا اور ہتھیار استعمال نہیں ہوں گے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قسطنطنیہ دوبارہ کافروں کے قبضے میں چلا جائے گا اور پھر مسلمان بلا ہتھیار اسے فتح کریں گے۔
➎ تسبیح و تکبیر سے فتح ہونے والا شہر یہی قسطنطنیہ (استنبول) ہے کیونکہ حدیث کی تمام علامات اس پر چسپاں ہوتی ہیں مگر تا حال یہ پیش گوئی ظاہر نہیں ہوئی تاہم ترکی کی سیکولر ریاست کے اسلام کے خلاف جارحانہ اقدامات اور اسلام کش پالیسی اسی پیش گوئی کا پیش خیمہ ثابت ہورہے ہیں۔