قیامت کی نشانی : ایک قحطانی حکمران ہوگا
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى يخرج رجل من قحطان يسوق الناس بعصاه
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ قحطان سے ایک آدمی نکلے گا جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا۔
بخاری : کتاب الفتن : باب تغير الزمان حتى تعبد الأوثان (7117) مسلم (2910) احمد (2/417) الفتن لنعيم بن حماد (237) بغوی (4254)
فوائد :
➊ قحطانی آدمی کا خروج جو لوگوں پر بادشاہت کرے گا، قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ وہ قحطانی اپنے ڈنڈے سے لوگوں کو ہانکے گا، اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ حاکم نافرمانوں اور باغیوں کو اپنی لاٹھی سے سیدھا کر دے گا اور ان پر سختی کر کے امن و امان قائم کرے گا اور دوسرے یہ کہ سب لوگ اس کے حکم پر لبيك کہیں گے اور اس کی اطاعت گزاری و فرمانبرداری کریں گے۔
➌ یہ ایک نیک بادشاہ ہوگا جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
رجل من قحطان كلهم صالح
ایک قحطانی آدمی ہوگا اور تمام قحطانی صالح لوگ ہیں۔
فتح البارى (6/535)
➍ اس نشانی کا وقوع ابھی تک نہیں ہوا۔
دیکھئے فتح الباری (6/630)
➎ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے خروج قحطانی پر انکار کیوں کیا؟ اس کے کئی جواب دیئے گئے ہیں۔ مثلاً :
◈ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حدیث کا انکار نہیں کیا بلکہ اس کے مفہوم کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ بعض لوگ سمجھتے تھے کہ وہ اسلام کے ابتدائی دور میں ظاہر ہوگا جبکہ اس کا ظہور قیامت کے قریب ہوگا۔
◈ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود یہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیا کہ جب تک قریشی دین کو قائم رکھیں گے اللہ تعالی انہیں خلافت پر قائم رکھیں گے، لہذا قریشیوں کی خلافت میں دین قائم تھا مگر جب یہ دین قریشیوں سے نکل گیا اور خلافت پارہ پارہ ہوگئی تو اب قحطانی کا ظہور قریب المکن ہے۔
◈ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس لئے انکار کیا کہ مبادا کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ خلافت غیر قریشیوں کے لئے بھی جائز ہے۔
فتح الباری (23/83-115)
◈ یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ قحطانی امیر خلافت عالمیہ قائم نہیں کرے گا بلکہ کسی مخصوص علاقے میں اسلامی امارت کا نفاذ کرے گا۔
◈ قحطانی اور جہجاہ نامی بادشاہ الگ الگ شخصیات ہوں گی۔