قربانی کے چار دن اور اہل حدیث علماء
رب نواز دیوبندی نے تین دن قربانی والی روایت کے مطابق فتویٰ دینے یا اس سے استدلال کرنے کے بارے میں درج ذیل علماء کے نام لکھے ہیں: شوکانی، حافظ عبد اللہ روپڑی، مولانا عزیز زبیدی، مولانا علی محمد سعیدی، حافظ عبد المنان نورپوری، شیخ عبد القہار وعبد الستار، ڈاکٹر فضل الہی، اشرف سلیم صاحب اور مولانا ابو صہیب محمد داود ارشد وغیرہم۔ (دیکھئے رسالہ تسکین الصدور از شوال 1434 ص 53)
مذکورہ علماء میں سے حافظ روپڑی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث مذکور پر منقطع ہونے کے اعتراض کا جواب دیا ہے اور شوکانی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: ”ابن حبان نے اس حدیث کو موصول ذکر کیا ہے اور اپنی صحیح میں اس کو روایت کیا ہے۔“ نیز حافظ صاحب نے بحوالہ حافظ ابن القیم تیرھویں تاریخ کو قربانی کے جواز پر حدیث ادخار و آثار سلف صالحین سے بھی استدلال کیا ہے۔ (فتاویٰ اہل حدیث ج 2 ص 98)
راقم الحروف (شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ) کے نزدیک یہ روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے، جبکہ مذکورہ علماء کے نزدیک یہ حدیث صحیح، شواہد کے ساتھ حسن یا آثار کی تائید کی وجہ سے قابل استدلال ہے، لہذا فریقین کے درمیان اصولی اختلاف نہیں بلکہ اجتہادی اختلاف ہے۔
رب نواز دیوبندی نے سوال لکھا ہے:
اب سوال یہ ہے کہ ایام تشریق والی روایت پیش کرنے، اس پر فتویٰ دینے اور استدلال کرنے والی بے شمار ضعیف ہیں؟ اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ منقطع ہونے سے مراد منقطع النسب ہے یا کچھ اور؟ الخ (رسالہ تسکین الصدور ج 7 ص 54)
جواب:
مذکورہ علماء نے روایات و آثار کو مد نظر رکھتے ہوئے جو موقف اختیار کیا ہے وہ ہمارے نزدیک مرجوح ہے اور یہ ان کی اجتہادی خطا ہے۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے روایت مذکورہ کو صحیح سمجھ کر اس سے استدلال کیا ہے اور اسے کسی صحیح صریح دلیل کے خلاف پیش نہیں کیا اور نہ کسی دوغلی پالیسی کا ارتکاب کیا ہے۔
دوسرا رخ
صحیح سند سے ثابت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گیارہ رکعات (تراویح) پڑھانے کا حکم دیا تھا۔ (دیکھئے موطا امام مالک ج 1 ص 115 ح 249)
اس اثر کو درج ذیل علماء نے صحیح و قابل استدلال قرار دیا ہے:
➊ عینی حنفی (صححہ في نخب الافکار 103/5)
➋ ضیاء المقدسی
➌ طحاوی (قال: فهذا يدلشرح معانی الآثار 293/1)
نیز نیموی نے بھی اس کے بارے میں ”و إسناده صحیح“ لکھا ہے۔ (آثار السنن: 776)
اس صحیح اثر کے مقابلے میں عالی مقلدین درج ذیل روایات پیش کرتے ہیں:
➊ عن يحيى بن سعيد عن عمر بن الخطاب أنه امر رجلا ان يصلى بهم عشرين ركعة. (بحوالہ ابن ابی شیبہ ص 393 ج 2)
➋ عن الحسن ان عمر بن الخطاب جمع الناس على ابي بن كعب فكان يصلى بهم عشرين ركعة. (بحوالہ نسخہ ابوداود مطبوعہ عرب ص 1429)
➌ عن ابي بن كعب ان عمر بن الخطاب امره ان يصلى بالليل فى رمضان فصلى بهم عشرين ركعة (بحوالہ کنز العمال ص 264 ج 8)
➍ عن السائب بن يزيد ان عمر بن الخطاب جمع الناس فى رمضان على ابي بن كعب و تميم الدارى على احدى وعشرين ركعة۔
(بحوالہ عبد الرزاق ص 260 ج 4)
یہ سب حوالے ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی نے تحقیق مسئلہ تراویح میں پیش کئے تھے۔ (ص 24-25)
روایت نمبر 1 کی سند منقطع ہے۔ (دیکھئے حاشیہ آثار السنن: 780)
روایت نمبر 2 کی سند بھی منقطع ہے، نیز سنن ابی داود کے کئی نسخوں میں ”عشرین رکعۃ“ کی بجائے ”عشرين ليلة“ لکھا ہوا ہے اور یہی متن راجح ہے۔
عینی حنفی نے بھی حسن عن عمر والی اس سند کے بارے میں لکھا ہے: اس روایت میں انقطاع ہے کیونکہ حسن (بصری) نے عمر بن خطاب کو نہیں پایا۔
(شرح سنن ابی داود 333/5)
روایت نمبر 3 کی سند بھی منقطع ہے، جیسا کہ آثار السنن کی حدیث نمبر 78 کے حاشیے سے ثابت ہے۔
روایت نمبر 4 کی سند امام عبد الرزاق (ثقہ مدلس) کے ”عن“ کی وجہ سے ضعیف ہے، نیز موطا امام مالک کے خلاف ہونے کی وجہ سے منکر بھی ہے۔
امین اوکاڑوی کے نزدیک شاذ روایت پیش کرنا پادری اور پنڈت کا کام ہے، نیز شاذ روایت پیش کرنے والے کا انجام ”منہ کالا ہے۔“ (دیکھئے تجلیات صفدر 2/616، 4226)
جب شاذ روایت پیش کرنے والے کا منہ کالا ہے تو صحیح حدیث کے خلاف منکر روایت پیش کرنے والے کا منہ اور سارا جسم کالا ہی کالا ہوگا۔
راقم الحروف نے اوکاڑوی وغیرہ کے اس طرز عمل اور باطل پالیسی پر رد کی وجہ سے لکھا تھا:
”امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے باسند صحیح متصل بیس رکعات تراویح قطعاً ثابت نہیں ہے۔ یحییٰ بن سعید الانصاری اور یزید بن رومان کی روایتیں منقطع ہیں (اس بات کا اعتراف حنفی و تقلیدی علماء نے بھی کیا ہے) اور باقی جو کچھ ہے وہ نہ تو خلیفہ کا حکم ہے اور نہ خلیفہ کا عمل، اور نہ خلیفہ کے سامنے لوگوں کا عمل۔ ضعیف و منقطع روایات کو وہی شخص پیش کرتا ہے جو خود ضعیف و منقطع ہوتا ہے۔“
(امین اوکاڑوی کا تعاقب ص 82 طبع جدید ص 94، تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ ص 36)
اس عبارت کا مطلب واضح ہے کہ صحیح حدیث کے مقابلے میں جو شخص بھی جان بوجھ کر ضعیف و منقطع روایات پیش کرتا ہے تو وہ شخص بذات خود ضعیف و منقطع ہوتا ہے۔
مذکورہ علمائے حدیث میں سے کسی ایک نے بھی صحیح حدیث کے مقابلے میں جان بوجھ کر ضعیف و منقطع روایت پیش نہیں کی، بلکہ ایک مختلف فیہا مسئلے میں ایک حدیث صحیح سمجھ کر بیان کی ہے اور آثار سے بھی استدلال کیا ہے۔
جبکہ دوسری طرف مشہور بدعتی اور غالی مقلد ماسٹر اوکاڑوی نے صحیح حدیث کے مقابلے میں ضعیف و منقطع آثار پیش کر کے اپنے ضعیف و متروک ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
راقم الحروف کی عبارت مذکورہ میں ضعیف و منقطع کے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں ”منقطع“ سے مراد سخت ضعیف یعنی متروک ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک کا مذاق اڑانے والوں میں ماسٹر امین اوکاڑوی بہت آگے تھا، مثلاً: ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر (کالا) کتا سامنے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔“
(صحیح مسلم 197/1 510 )
اس حدیث کا مذاق اُڑاتے ہوئے آنجہانی اوکاڑوی نے لکھا ہے:
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے رہے اور کتیا سامنے کھیلتی رہی ، اور ساتھ گدھی بھی تھی، دونوں کی شرمگاہوں پر بھی نظر پڑتی رہی ۔“ (تجلیات صفدر ج 5 ص 488)
یادر ہے کہ یہ کتاب اوکاڑوی مذکور کے دستخطی اجازت نامے اور اس کی موت کے بعد آل اوکاڑوی وغیرہ کے تصدیق ناموں کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔
(دیکھئے تجلیات صفدرج 1ص 29-32)
لہذا اس عبارت کو کا تب کی غلطی قرار دینا غلط ہے۔
ثابت ہوا کہ اوکاڑوی نے بد عقیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ صحیح احادیث کے خلاف ضعیف و منقطع روایات پیش کیں، لہذا عبارت مذکورہ میں ضعیف و منقطع (متروک) کا فتوئی اوکاڑوی اور اس جیسے دوسرے بد عقیدہ لوگوں پر ہے۔
( مقالات 454/6)