قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھایا جا سکتا ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھایا جا سکتا ہے

أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نهى عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث ثم قال بعد: كلوا وتصدقوا وتزودوا وادخروا
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قربانی کے) تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا، پھر اس کے بعد فرمایا: ”کھاؤ اور صدقہ کرو، زادِ راہ بناؤ اور ذخیرہ کر لو۔“
تحقیق: صحیح
تخريج: مسلم
الموطا (روایت یحییٰ 384/2 ح 1065، ک 23 ب 46) التمہید 163/12، الاستذکار: 999
وأخرجه مسلم (1972/29) من حدیث مالک به ورواہ عطاء بن ابی رباح عن جابر به والمعنی وابوالزبیر مصرح بالسماع عند احمد (378/3 ح 15042)

تفقہ :
➊ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع والا حکم منسوخ ہے۔ نیز دیکھئے موطا (39)
➋ قربانی کے گوشت کو خود استعمال کرنا اور ذخیرہ کر لینا صحیح ہے اور اسے صدقہ کر دینا یا رشتہ داروں، دوستوں وغیرہ کو تحفہً دینا اچھا کام ہے۔
➌ اس حدیث کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے تین دن ہیں۔ اس سلسلے میں مختصر تحقیق درج ذیل ہے:
جن روایات میں آیا ہے کہ تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں، وہ سب کی سب ضعیف و غیر ثابت ہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قربانی والے دن کے بعد (مزید) دو دن قربانی (ہوتی) ہے۔“
(موطا امام مالک 638/2 ح 1071، وسندہ صحیح)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قربانی کے دن کے بعد دو دن قربانی ہے اور افضل قربانی نحر والے (پہلے) دن ہے۔“
(احکام القرآن للطحاوی 205/2 ح 1571، وسندہ حسن)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قربانی والے (اول) دن کے بعد دو دن قربانی ہے۔“
(احکام القرآن للطحاوی 206/2 ح 1576، وهو صحیح)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”قربانی کے تین دن ہیں۔“
(احکام القرآن للطحاوی ح 1569، وهو حسن)
یہی موقف جمہور صحابہ کرام و جمہور علماء کا ہے اور یہی رائج ہے۔
(تفصیل کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو: 44 ص 11-16)
➍ قربانی کے گوشت کے حصے بنانا جائز ہے۔ ایک اپنے لئے، دوسرا غریبوں کے لئے اور تیسرا رشتہ داروں و دوست احباب کے لئے اور اگر حصے نہ بنائیں تو بھی جائز ہے۔
➎ شریعت اسلامیہ میں تاریخ و منسوخ کا سلسلہ تربیت اور اصلاح معاشرہ کی غرض سے تھا لہذا اب منسوخ کے بجائے ثابت شدہ آخری حکم پر ہی عمل کرنا چاہئے۔
[موطا روایت ابن القاسم ص 188]
عن عبد الله بن واقد أنه قال: نهى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث فقال عبد الله بن أبى بكر: فذكرت ذلك لعمرة بنت عبد الرحمٰن فقالت: صدق، سمعت عائشة زوج النبى صلی اللہ علیہ وسلم تقول: دف ناس من أهل البادية حضرة الأضحى فى زمان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: ادخروا ثلاثا وتصدقوا بما بقي قالت: فلما كان بعد ذٰلك قيل لرسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: يا رسول الله! لقد كان الناس ينتفعون بأضاحيهم ويجملون منها الودك ويتخذون منها الأسقية فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: وما ذاك؟ أو كما قال، قالوا: يا رسول الله! إنك نهيت عن إمساك لحوم الأضاحي بعد ثلاث فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: إنما نهيتكم من أجل الدافة التى دفت عليكم فكلوا وتصدقوا وادخروا
عبد اللہ بن واقد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع فرمایا، عبد اللہ بن ابی بکر (راوی حدیث) فرماتے ہیں کہ پھر میں نے اس بات کا ذکر عمرہ بنت عبد الرحمن سے کیا تو انہوں نے کہا: اس (عبد اللہ بن واقد) نے سچ کہا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کے وقت کچھ (خانہ بدوش) لوگ مدینہ آگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن (گوشت کا) ذخیرہ کرو اور باقی صدقہ کر دو۔“ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: یا رسول اللہ! لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتے تھے، چربی پگھلاتے اور (کھالوں کی) مشکیں بناتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت روکے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں ان لوگوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو تمہارے پاس (مدینہ میں) آئے تھے۔ پس (اب) کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو۔“
تحقیق: سندہ صحیح
تخريج: مسلم
الموطا (روایت یحییٰ 484، 485/2 ح 1066، ک 23 ب 47) التمہید 207/17، الاستذکار: 1000, وأخرجه مسلم (1971) من حدیث مالک به۔ ,وفي رواية يحيى بن يحيى: ”لِثَلَاثٍ“
تفقہ :
➊ علماء کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ تین دنوں سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے سے ممانعت والا حکم منسوخ ہے۔ دیکھئے التمہید (216/3)
➋ حافظ ابن عبد البر نے فرمایا کہ جس طرح قرآن میں ناسخ و منسوخ ہے اسی طرح حدیث میں بھی ناسخ و منسوخ ہے اور یہ اوامر و نواہی (احکام) میں تخفیف و مصالح وغیرہ کے لئے ہوتا ہے۔ اخبار سابقہ میں قطعاً نسخ نہیں ہوتا۔ روافض اور خوارج نے اس کا انکار کر کے یہود کی موافقت کی ہے اور یاد رہے کہ یہ بدا کے باب میں سے نہیں ہے۔
(التمہید 215/3 ملخصاً)
بعض رافضیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کے بارے میں پہلے سے علم نہیں ہوتا اور بعد میں جب اس کا علم ہو جائے تو اس کی رائے بدل جاتی ہے، اسے بدا کہتے ہیں۔ یہ عقیدہ صریحاً کفر ہے۔
➌ ممانعت کے بعد جو حکم ہوتا ہے وہ اباحت پر محمول ہوتا ہے۔ (التمہید 217/3) لہذا اب یہ جائز ہے کہ ساری قربانی کا گوشت خود کھایا جائے یا سارا صدقہ کر دیا جائے یا پھر ذخیرہ کر لیا جائے۔ بعض علماء اس گوشت کے تین حصے کرنا پسند کرتے ہیں: ایک تہائی خود کھایا جائے، ایک تہائی صدقہ کر دیا جائے اور ایک تہائی ذخیرہ کر لیا جائے لیکن پہلی بات رائج ہے۔ (نیز دیکھئے سورۃ الحج: 36، 28)
➍ حج کے علاوہ دوسرے مقامات مثلاً مدینہ اور ساری زمین پر قربانی کرنا مسنون و مشروع ہے لہذا بعض منکرین حدیث کا یہ دعویٰ کہ قربانی حج کے ساتھ مخصوص ہے، غلط ہے۔
➎ بات کی تصدیق یا تحقیق کے لئے کسی دوسرے کے سامنے بیان کرنا نہ صرف جائز بلکہ بہتر امر ہے۔
(موطا روایت ابن القاسم ص 389)