قربانی کے وجوب سے متعلق احناف کے دلائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

غلام رسول سعیدی: ایک موضوع روایت اور قربانی کا وجوب؟

الحمد لله رب العالمين والصلوٰة والسلام على رسوله الامين، اما بعد:
غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب نے قرآن مجید کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے: اور قربانی کرنے کا وجوب حسب ذیل احادیث سے ثابت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
ضحوا و طيبوا بها انفسكم
خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔
(سنن ترمذی رقم الحدیث: 1493، مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث: 8167-12234 قدیم، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث: 3126، المستدرک ج 3 ص 221، شرح السنۃ رقم الحدیث: 1124)
اس حدیث میں آپ نے قربانی کرنے کا حکم دیا ہے اور امر اصل میں وجوب کے لئے آتا ہے، خصوصاً جب کہ قرائن صارفہ سے خالی ہو۔ (تبیان القرآن ج 9 ص 937)

جواب

عرض ہے کہ ضحوا یعنی قربانی کرو کے حکم کے ساتھ یہ حدیث نہ تو سنن ترمذی میں موجود ہے اور نہ سنن ابن ماجہ میں ہے، نہ تو مستدرک میں ملی ہے اور نہ شرح السنة للبغوی میں ہے، لہذا مذکورہ تمام حوالے غلط ہیں۔
ہمارے علم کے مطابق یہ حدیث مذکورہ حوالوں میں سے صرف مصنف عبد الرزاق (ح 8167، دوسرا نسخہ: 8198) میں موجود ہے، اسے امام عبد الرزاق نے ابو سعید الشامی قال: حدثنا عطاء بن ابی رباح عن عائشہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ اس روایت کے مرکزی راوی ابو سعید عبد القدوس بن حبیب الشامی کا تذکرہ درج ذیل ہے:
➊ امام عبد الله بن المبارک المروزي رحمہ اللہ نے عبد القدوس بن حبیب کے بارے میں فرمایا: کذاب بڑا جھوٹا۔
(مقدمہ صحیح مسلم: 82 وسندہ صحیح، مع شرح غلام رسول سعیدی ج اصل 231)
➋ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے فرمایا:
متروك الحديث، كان لا يصدق
متروک الحدیث، اسے سچا نہیں سمجھا جاتا تھا یا وہ سچ نہیں بولتا تھا۔
(کتاب الجرح والتعدیل 56/6، نیز دیکھئے عمل الحدیث 1/459 1380)
➌ امام ابو حفص عمر بن علی الفلاس رحمہ اللہ نے فرمایا:
أجمع أهل العلم على ترك حديثه
اس کی حدیث ترک کرنے پر اہل علم کا اجماع ہے۔
(کتاب الجرح والتعدیل 56/6، تاریخ بغداد 11/128، وسندہ صحیح)
➍ امام مسلم بن الحجاج القشیري رحمہ اللہ نے فرمایا:
ذاهب الحديث
یعنی وہ حدیث میں گیا گزرا ہے۔ (کتاب الکنی قلمی مصور 121/25، تاریخ بغداد 11/128، وسندہ صحیح)
ذاہب الحدیث کے بارے میں (دیکھئے اسی سلسلے کا حوالہ نمبر 10)
➎ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا:
فى حديثه مناكير
اس کی حدیثوں میں منکر (روایتیں) ہیں۔
( كتاب الضعفاء تحقیقی : 246 تحفته الاقوياء ص 77 )
➏ امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا:
أبو سعيد الشامي، متروك
(کتاب الضعفاء والمتروكين: 377)
➐ حافظ ابن مندہ نے فرمایا:
اسانید اور متون گھڑنے کے ساتھ عبداللہ بن مسور، عمرو بن خالد، ابو داود اتھی سلیمان بن عمرو، غیاث بن ابراہیم، محمد بن سعید الشامی، عبد القدوس بن حبیب اور غالب بن عبید اللہ الجزری مشہور ہیں۔
(فضل الاخبار و شرح مذاهب الآثار 81/1 تحقیقی مقالات 541/5)
➑ حافظ ابن حبان نے فرمایا:
وكان يضع الحديث على الثقات، لا تحل كتابة حديثه ولا الرواية عنه
وہ حدیثیں گھڑتا تھا اور ثقہ راویوں سے منسوب کر دیتا تھا، اس کی حدیث لکھنا حلال نہیں اور نہ اس سے روایت حلال ہے۔
(کتاب الحجر والتعدیل 131/2، دوسرا نسخہ 113/2)
➒ حافظ ابن عدی نے فرمایا:
وهو منكر الحديث إسنادا و متنا
وہ سند اور متن (دونوں) کے لحاظ سے منکر حدیثیں بیان کرنے والا تھا۔
(الکامل لابن عدی 1981/5، دوسرا نسخہ 46/7)
➓ امام محمد بن عبد اللہ بن عمار الموصلی نے فرمایا:
وهو ذاهب الحديث
وه حديث میں گیا گزرا ہے۔
(تاریخ بغداد 11/138، وسندہ صحیح)
یاد رہے کہ یہ الفاظ شدید جرح پر محمول ہیں۔ دیکھئے کتاب الجرح والتعدیل (37/2)
ان کے علاوہ دوسرے بہت سے محدثین و علمائے اہل سنت نے ابو سعید عبد القدوس بن حبیب الشامی پر جرمیں کی ہیں، جن کی تفصیل لسان المیزان (4/45-48) اور کتب المجروحین میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اس تحقیق سے ثابت ہوا

کہ غلام رسول سعیدی صاحب کی پیش کردہ روایت اصول حدیث کی رو سے موضوع ہے، جسے وہ تفسیر قرآن کے تحت عام سادہ لوح لوگوں میں بغیر جرح کے بلکہ بطور استدلال پھیلا رہے ہیں۔

دوسری سند :

حافظ ابن عبدالبر کی کتاب التمہید میں اس روایت کی دوسری سند بھی ہے، جس کی سند میں نصر بن حماد الوری ہے اور اسماء الرجال کی رو سے اس کا مقام درج ذیل ہے:
➊ امام یحیی بن معین نے فرمایا:
نصر بن حماد كذاب
(کتاب الضعفاء للعقیلی 301/4، دوسرا نسخہ 1426/4، وسندہ صحیح)
➋ امام ابو حاتم الرازی نے فرمایا:
هو متروك الحديث
(کتاب الجرح والتعدیل 470/8)
➌ امام ابو زرعہ الرازی نے فرمایا:
لا يكتب حديثه
اس کی حدیث لکھی نہیں جاتی۔
(کتاب الجرح والتعدیل 470/8)
➍ امام مسلم نے فرمایا:
ذاهب الحديث
(کتاب الکنی مخطوط مصور ص 29/102، تاریخ بغداد 282/13 وسندہ صحیح)
➎ عقیلی نے فرمایا:
ونصر بن حماد متروك
كتاب الضعفاء 301/4، دوسر النسخه 4/ 1426
➏ امام یعقوب بن شیبہ نے فرمایا:
ليس بشيء
وہ کوئی چیز نہیں۔
(تاریخ بغداد 281/13 ت 7244)
➐ حافظ ابن عبدالبر نے نصر بن حماد الوراق کے بارے میں خود لکھا ہے:
يروي عن شعبة مناكير، تركوه
اس نے شعبہ سے منکر روایتیں بیان کیں، انھوں (محدثین) نے اسے ترک کر دیا ہے۔
(التمہید 50)
➑ امام دار قطنی نے اسے کتاب الضعفاء والمتروکین (ص 380 رقم 546) میں ذکر کیا۔
➒ حافظ ذہبی نے فرمایا:
حافظ متهم
(الکاشف 213/3 ت 5805)
➓ ہیثمی نے فرمایا:
وهو متروك
(مجمع الزوائد 6/91 باب فیمن قتل من المشرکین یوم بدر)
ان کے علاوہ مزید جروح کے لئے تہذیب التہذیب وغیرہ کی طرف رجوع کریں اور اپنے آپ کو حفیظ کی طرف منسوب کرنے والوں کو چاہیے کہ ذرا نصب الرایہ (387/2) بھی پڑھ لیں۔
یہ دوسری روایت بھی موضوع ثابت ہوئی، لہذا سعیدی صاحب کا اپنی پیش کردہ روایت میں صیغہ امر سے وجوب ثابت کرنا باطل و مردود ہوا۔
ان پر یہ ضروری تھا کہ پہلے اپنی پیش کردہ روایت کی تحقیق کرتے، موضوع اور مردود روایات پیش کرنے سے حیا کرتے پھر تخت پر نقش نگاری کرتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا کہ کذا بین کی روایت سینے سے لگائے عید الاضحی کی قربانی کا وجوب ثابت کر رہے ہیں۔

کیا شارح قرآن اور شارح صحیحین کا یہی طرز عمل ہوتا ہے؟

بطور تنبیہ عرض ہے کہ سعیدی صاحب کے پیش کردہ دیگر حوالوں میں ضحوا کا لفظ موجود ہی نہیں اور سنن ترمذی (1493، وقال: حسن غریب) سنن ابن ماجہ (3126) اور مستدرک الحاکم (221/4، 222ح7523 وقال: صحيح الاسناد فرده الذهبي بقوله: سلیمان واه وبعضهم تركه) والی روایت میں قربانی کی فضیلت کے آخر میں: فطيبوا بها نفسا پس اپنے دلوں کو خوش کرو۔
کے الفاظ ہیں اور ان سے قربانی کا وجوب ثابت نہیں ہوتا، دوسرے یہ کہ یہ روایت حسن یا صحیح نہیں بلکہ ضعیف ہے۔ اس کے راوی ابوالمثنی سلیمان بن یزید الکعبی کو جمہور محدثین نے ضعیف و مجروح قرار دیا ہے، جن میں سے بعض گواہیاں درج ذیل ہیں:
ذكره ابن الجوزی فی الضعفاء (1550)
و قال ابن عبد الهادی: وهو شيخ غير محتج بحديثه وقال في موضع: منكر الحديث غير محتج به (الصارم المستكي في الرد على اسكمي: ص 176-174) [معاذ]

➊ امام ابو حاتم الرازی نے فرمایا: منكر الحديث، ليس بقوي وہ منکر حدیثیں بیان کرنے والا تھا، وہ قوی نہیں۔
(کتاب الجرح والتعدیل 149/4)
➋ دار قطنی نے فرمایا: وأبو المثنى ضعيف
(کتاب العلل 51/15 سوال 3823)
➌ حافظ ذہبی نے فرمایا: واه کمزور ہے۔ (تلخیص المستدرک: 7523)
➍ حافظ ابن حجر نے فرمایا: ضعيف (تقريب التهذيب: 8340)
حافظ ابن حبان نے توثیق بھی کی اور جرح بھی کی، لہذا ان کے دونوں اقوال باہم متعارض ہو کر ساقط ہیں اور جمہور محدثین کے مقابلے میں ترمذی و حاکم کی توثیق مرجوح ہے، نیز ہشام بن عروہ سے ابوالمثنی کے سماع میں بھی نظر ہے۔
و قال ابن عبد الهادی: فقد تبين أن ابن حبان تناقض في ذكره أبا المثنى في الكتابين كتاب الثقات وكتاب المجروحين، وكأنه توهم أنه رجلان، وذلك خطأ، بل هو رجل واحد منكر الحديث غير محتج به (الصارم المكي: ص 176) [معاذ]

خلاصہ یہ کہ سنن ترمذی والی روایت ضعیف بھی ہے اور سعیدی صاحب کے دعوی پر دلیل بھی نہیں۔

ایک اور حنفی دلیل

غلام رسول سعیدی صاحب نے مزید لکھا ہے:

نیز آپ نے فرمایا:
على اهل كل بيت فى كل عام أضحية و عتيرة
ہر گھر والے پر ہر سال قربانی اور عتیرہ ہے
(سنن ابی داود رقم الحدیث: 2788، سنن الترمذی رقم الحدیث: 1518 سنن النسائی رقم الحدیث: 4224، سنن ابن ماجه رقم الحدیث: 3125)

اور علی وجوب کے لئے آتا ہے یعنی ہر گھر والے پر ہر سال قربانی کرنا واجب ہے، اور عتیرہ ابتدائے اسلام میں منسوخ ہو گیا تھا (تبیان القرآن 937/9)

جواب

علیٰ ہر جگہ وجوب کے معنی میں آتا ہے یا نہیں؟ اس بات سے قطع نظر اس روایت کی سند میں ابور ملہ عام مجہول الحال راوی ہے، اسے (ہمارے علم کے مطابق) ترمذی کے علاوہ کسی نے بھی ثقہ و صدوق یا حسن الحدیث قرار نہیں دیا۔
بلکہ حافظ ذہبی نے فرمایا: فيه جهالة اس میں جہالت یعنی مجہول پن ہے۔ (میزان الاعتدال 363/2 ت 4097)
اور فرمایا: لا يعرف وہ غیر معروف ہے۔ (دیوان الضعفاء والمتروكين 2/ است 2061)
حافظ ابن حجر نے فرمایا: لا يعرف وہ غیر معروف ہے۔ (تقریب التہذیب: 3113)
حافظ عبد الحق اشبیلی نے اس سند کو ضعیف کہا اور ابن القطان (الفاسی) نے عامر کی جہالت (مجہول ہونے) کی وجہ سے ان کی تصدیق کی۔
الاحكام الوسطی 126/4،
بیان الو ہم والا یہام 577/3، ابن عبد الہادی نے کہا: وفيه جهالة (تنقیح التحقیق: 2377565/3) ابن حزم نے کہا: مجهول، لا يدرى (أحلى: 8/6) [معاذ]
(میزان الاعتدال 363/2)

اگلی حنفی دلیل

ان موضوع وضعیف روایات کے بعد سعیدی صاحب نے سنن ابن ماجہ (3123) وغیرہ کی وہ روایت بھی پیش کی ہے کہ جو قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
سعیدی صاحب نے لکھا ہے: اس حدیث میں قربانی نہ کرنے پر وعید ہے اور وعید صرف واجب کے ترک پر ہوتی ہے (تبیان القرآن 937/9)

جواب

عرض ہے کہ اس میں وعید نہیں بلکہ ممانعت ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے: جو شخص تھوم (لہسن) کھائے تو وہ ہمارے مسجد کے قریب نہ آئے۔
(صحیح بخاری: 853)
ایک روایت میں ہے: جو شخص لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے دور رہے یا ہماری مسجد سے دور رہے۔ (صحیح بخاری: 5352)
اور فرمایا: ہمارے قریب نہ آئے اور ہرگز ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔ (بخاری: 852 مسلم: 562)
کیا اگر کوئی شخص کچا پیاز یا لہسن کھالے تو آپ بریلی کے نزدیک اس پر واجب ہے کہ مسجد میں داخل نہ ہو اور مسلمانوں کے ساتھ نماز با جماعت نہ پڑھے؟! اگر ہے تو حوالے پیش کریں اور اگر نہیں تو سعیدی صاحب کا استدلال باطل ہے۔

ایک اور حنفی استدلال

سعیدی صاحب نے لکھا ہے: نیز آپ کا ارشاد ہے:
من ذبح قبل الصلاة فليعد اضحيته
جس نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کی وہ اپنی قربانی دہرائے۔
(صحیح بخاری رقم الحدیث: 5556، صحیح مسلم رقم الحدیث: 1552 سنن الترمذی رقم الحدیث: 1508، مسند احمد ج 2 ص 297)

اس حدیث میں آپ نے قربانی دوبارہ کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ واجب کی علامت ہے۔ الخ (تبیان القرآن ج 9 ص 937)

جواب

اس حدیث کے آخر میں آیا ہے کہ و من ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه وأصاب سنة المسلمين اور جس نے عید کی نماز کے بعد ذبح کی تو اس کی قربانی مکمل ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کو پالیا۔
(صحیح بخاری: 5556 صحیح مسلم: 1961، دار السلام: 5079)
جو لوگ اس حدیث سے وجوب ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اُن کے بارے میں حافظ ابن حجر العسقلانی نے لکھا ہے:
ورده الطحاوي بأنه لو كان كذلك لتعرض إلى قيمة الأولى ليلزم بمثلها، فلما لم يعتبر ذلك دل على أن الأمر بالاعادة كان على جهة الندب.
اور اسے طحاوی نے رد کر دیا ہے، کیونکہ اگر یہ بات ہوتی تو پہلی قربانی کی قیمت اس کے ذمے لگانی تھی تا کہ اس کا مثل لازم ہو سکے، لہذا جب اس کا اعتبار نہیں کیا گیا تو یہ اس کی دلیل ہے کہ اعادے کا حکم استحباب کے طور پر ہے۔
(فتح الباری ج 10 ص 16 تحت ح 5556-5557)
امام شافعی رحمہ اللہ کا قول آگے قربانی سنت مؤکدہ ہے کے تحت آرہا ہے۔ ان شاء اللہ طحاوی کا یہ خیال ہے کہ ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے خود اپنے آپ پر پہلی قربانی کو واجب قرار دے رکھا تھا، لہذا انھیں اعادے کا حکم دیا گیا۔
(دیکھئے شرح مشکل الآثار 379/12 تحت ح 4877)
❀ نیز طحاوی نے لکھا ہے:
وذهب أكثر أهل العلم سواه إلى أنها ماموربها، محضوض عليها، غير واجبة
امام ابو حنیفہ کے علاوہ اکثر اہل علم کا یہ مذہب ہے کہ یہ مامور بہا ہے یعنی ایسا حکم ہے جس کی بہت ترغیب دی گئی ہے، یہ واجب نہیں ہے۔ (مشکل الآثار 379/12)
❀ قرطبی نے لکھا ہے:
ولا حجة فى شي من ذلك واضحة لأن المقصود بيان كيفية مشروعية الأضحية لمن أراد أن يفعلها أو من التزمها فأوقعها على غير الوجه المشروع غلطا أو جهلا فبين له النبى صلى الله عليه وسلم وجه تدارك ما فرط فيه.
اور اس استدلال میں کوئی واضح دلیل نہیں کیونکہ مقصود تو مسنون قربانی کی کیفیت ہے اس کے لئے جو کرنا چاہتا ہے یا اس نے اسے اپنے آپ پر لازم قرار دیا ہے پھر وہ غلطی یا نا سمجھی کی وجہ سے مسنون طریقے کے بغیر یہ کر دیتا ہے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ بات بتادی جس سے وہ اپنی غلطی کا تدارک کر سکتا ہے۔
(المفہم لمااشکل من تلخیص کتاب مسلم ج 5 ص 352)
اس سے ثابت ہوا کہ سعیدی صاحب کا حدیث مذکور سے استدلال غلط ہے، نیز قرائن صارفہ کا ذکر آگے آرہا ہے۔ ان شاء اللہ
[مقالات 276/9]