مضمون کے اہم نکات
بسم الله الرحمن الرحيم
كِتَابُ التَّوْحِيدِ
7375: حدثنا محمد حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثنا عمرو، عن ابن أبي هلال: أن أبا الرجال محمد بن عبد الرحمن حدثه، عن أمه عمرة بنت عبد الرحمن، وكانت في حجر عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث رجلا على سرية، وكان يقرأ لأصحابه في صلاته فيختم بقل هو الله أحد فلما رجعوا ذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: سلوه لأي شيء يصنع ذلك. فسألوه فقال: لأنها صفة الرحمن، وأنا أحب أن أقرأ بها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أخبروه أن الله يحبه.
انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا: کہ نبی کریم ﷺ ایک صاحب کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ وہ صاحب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے، اور نماز میں ختم قل ھو اللہ احد پر کرتے تھے۔ جب لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کہ ان سے پوچھو کہ وہ یہ طرز عمل کیوں اختیار کئے ہوئے تھے ۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ یہ اللہ کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا عزیز رکھتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کہ انہیں بتا دو کہ اللہ بھی انہیں عزیز رکھتا ہے۔
فوائد و استنباطات: فضيلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ
سبب نزول:
عن أبي بن كعب رضي الله عنه،أن المشركين، قالوا: يا محمد، انسب لنا ربك. فأنزل الله عز وجل,[قل هو الله أحد]،[الله الصمد]،[لمۡ يلدۡ ولمۡ يولدۡ]،[ولمۡ يكن لهۥ كفوا أحدۢ]
سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے کہا: اے محمد ﷺ! ہمارے سامنے اپنے رب کا نسب بیان کیجیے۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں: [قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ]،[اللَّهُ الصَّمَدُ]،[لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ]،[وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ] (المستدرك على الصحيحين ط العلمية:3987)
[غزوہ اور سریہ میں فرق]
غزوہ اور سریہ کا عطف کے ساتھ استعمال اکھٹا ہو تو دونوں کے معنی میں فرق ہوگا۔
غزوہ:
وہ لشکر جس میں نبی علیہ السلام بنفسہ موجود ہوں۔ (مثلا) بدر، احد، تبوک، وغیرہ
سریہ:
وہ لشکر جس کو آپ ترتیب دے کر بھیج دیں اور خود تشریف نہ لے جائیں۔
◈ غزوہ اور سریہ دونوں کا جب اکیلا استعمال ہو تو غزوہ بمعنی سریہ، اور سریہ بمعنی غزوہ استعمال ہوسکتا ہے۔
(عربی کے کچھ الفاظ ایسے ہیں: اذا اجتمع تفرّق واذا تفرّق اجتمع)
◈ اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کے ایک رکعت میں ،،فرض نماز،، میں دو سورتیں اکھٹی کر سکتے ہیں۔
◈ اس حدیث سے عقیدہ اسماء وصفات کی فضيلت ثابت ہوتی ہے۔
◈ اس حدیث میں اللہ تعالی کے نسب کی نفی ہے اور رحمن کی صفات کا ذکر ہے۔
[لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ]: میں نسب کی نفی ہے۔
◈ یہ سورت توحید کی ایسی جامع سورت ہے کہ نفی واثبات دونوں بنیادوں کو جمع کرتی ہے۔
[قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ]،[اللَّهُ الصَّمَدُ]: میں اثبات ہے۔
[لَمۡ يَلِدۡ وَلَمۡ يُولَدۡ]: میں نفی ہے(اور یہ نفی کے جملے ہیں)
◈ اللہ کے اسماء وصفات کی معرفت سے اللہ رب العزت کی محبت کا حصول ہوگا۔
◈ یہ سورت نفیاً واثباتاً رحمن کی صفات پہ مشتمل ہے۔
◈ یہ سورت تنزیہ پہ مشتمل ہے۔
مزید تفصیل: سنن ترمذی:2901 [إن حبها أدخلك الجنة]
◈ اس حدیث سے اسماء وصفات کے علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ کہ بندہ جب اسماء وصفات کا علم سیکھنے کا اہتمام کرے گا اور اسماء وصفات سے محبت کرے گا۔(مراد) اسماء وصفات کا فہم اور اس فہم سے جو عقیدہ سامنے آئے گا اس پر ڈٹ جانا اور استقامت اختیار کرنا۔ اللہ رب العزت کو اس کے ناموں کے ساتھ پکارو اور اسماء وصفات کی معرفت حاصل کرو۔ اللہ کے اسماء وصفات سے محبت کرنے والا اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ اور اللہ کے اسماء وصفات سے محبت کرنے والے کو جنت کی خوشخبری ملتی ہے۔