مضمون کے اہم نکات
قرآن کریم پر عمل کا انحصار علم حدیث پر ہے
قرآن کریم پر عمل علم حدیث پر موقوف ہے اور یہ امر حجیت حدیث کے لیے صریح دلیل ہے۔ کیونکہ قرآن کریم پر عمل کرنا فرض ہے جس کی فرضیت اور حجیت میں کوئی شک نہیں۔ چونکہ قرآن کریم پر عمل علم حدیث پر موقوف ہے اور فرض کا موقوف علیہ (جس پر وہ منحصر ہو) بھی فرض ہوتا ہے، لہذا علم حدیث بطور حجیت فرض ہے۔ سابقہ باب میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ فہم قرآن علم حدیث پر موقوف ہے اور اس باب میں یہ ثابت کرنا ہے کہ عمل بالقرآن علم حدیث پر موقوف ہے۔ گزشتہ ابواب کے ضمن میں یہ بات ثابت کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم متن ہے اور نبی کریم کی صحیح احادیث اس کی شرح اور توضیح ہیں۔ شرح کے بغیر متن کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا مشکل اور کبھی محال ہوتا ہے۔ اس موقف کی وضاحت کے لیے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
اقامت صلاۃ (نماز)
اسلامی اعمال میں سب سے زیادہ اہم عمل اقامت صلاۃ ہے اور اس کی اہمیت کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم میں اس کا کثرت سے ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں لفظ صلاۃ 83 مرتبہ اور مادہ صلاۃ 95 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ گزشتہ باب میں اس کے مختلف (7) معانی بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ان مختلف صیغوں میں سے امر کا صیغہ بطور مفرد، جمع، مذکر اور مؤنث 20 مرتبہ مذکور ہے۔ لفظ اقامت صلاۃ کے ساتھ مختلف صیغوں کی صورت میں 42 مرتبہ مذکور ہے۔ ان میں سے امر بصیغہ مفرد پانچ مرتبہ، جمع مذکر بارہ مرتبہ، جمع مؤنث ایک مرتبہ اور لفظ ”مقیمین“ دو مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ اقامت صلاۃ کی ایجابی تشریح سورۃ المعارج کی آیت 22 تا 34 اور سلبی طور پر سورۃ الماعون کی آیت 4 تا 7 میں موجود ہے۔ مختلف آیات میں مومنین کی صفات میں صفت اقامت صلاۃ کا ذکر ہے۔ جبکہ جہنم میں جانے کے اسباب میں سے ایک سبب ترک صلاۃ بھی ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا:
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ ﴿٤٢﴾ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ ﴿٤٣﴾
”جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ کون سی چیز تمھیں جہنم میں لے آئی؟ وہ جواب دیں گے ہم نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔“
(74-المدثر:42-43)
قرآن کریم میں کثرت سے اقامت صلاۃ کا ذکر اس کی اہمیت کی صریح دلیل ہے۔ اس اہمیت کی وجہ سے قرآن کریم میں صلاۃ کے اجزائے ترکیبی بھی الگ الگ بیان کیے گئے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
اوقات نماز کا اثبات
➊ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا
”بے شک نماز مومنوں پر مقررہ اوقات میں فرض ہے۔“
(4-النساء:103)
نیز فرمایا:
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قٰنِتِينَ
”نمازوں کی پابندی کرو خصوصاً درمیانی نماز کی اور اللہ کے حضور عاجزی اور ادب سے کھڑے ہو جاؤ۔“
(2-البقرة:238)
اس آیت میں پانچ نمازوں کا تعین کیا گیا ہے۔ قانون عربی کے لحاظ سے لفظ الصلوات جمع ہے اور جمع کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے۔ والصلاة میں واو عاطفہ ہے جس کا لغوی تقاضا مغایرت ہے، یعنی معطوف اپنے معطوف علیہ سے غیر ہوگا اگر چہ درمیان میں مناسبت بھی ہو۔ الوسطي کا لغوی مقتضا یہ ہے کہ ایک چیز کے دو اطراف متساوی ہوں۔ عربیت کے لحاظ سے ان تینوں تقاضوں کو ضرور پورا کرنا ہو تو ادنیٰ سے شروع کریں گے۔ وہ یہ کہ اگر صلوات کو تین پر محمول کریں گے تو پھر وسطی کا مقتضا پورا نہیں ہو سکتا کیونکہ تین عدد کی درمیانی چیز کے دونوں اطراف متساوی نہیں ہو سکتے بلکہ ایک طرف دو اور دوسری طرف ایک نماز آئے گی، لہذا الصلوات (جمع) سے لازمی طور پر چار مراد لیا جائے گا اور الصلاة (واحد) پانچواں عدد ہوگا جو مغایرت کی وجہ سے ہے اور اس طرح الوسطي کا تقاضا بھی پورا ہوتا ہے، یعنی پانچویں نماز کے دونوں طرف دودو نمازیں ہیں۔ اس طرح پانچ کی تعداد پوری ہو گئی، لہذا لفظ صلوات میں چار کے عدد سے ساری مقتضیات پوری ہو گئیں اور چار سے آگے جانے کی ضرورت نہیں۔ یہ پانچ نمازیں تب ہو سکتی ہیں جب ان کے پانچ اوقات الگ الگ ہوں۔ اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فرض نماز کا ایک رکن قیام ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ
”سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نمازیں پڑھا کرو۔ اور فجر میں قرآن پڑھا کرو۔“
(17-بني إسرائيل:78)
اس آیت میں اوقات کا طریقہ اثبات اس طرح ہے کہ ”دلوك“ لغت میں زوال اور غروب کے لیے مستعمل ہے۔ اکثر زوال کے لیے آتا ہے، یہاں لازماً زوال کا معنی مراد لیا جائے گا۔ کیونکہ اگر غروب کا معنی لیا جائے تو غسق الليل بھی غروب ہے، تو پھر کلام کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ زوال آفتاب سے رات کی تاریکی تک نماز پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز ظہر زوال کے فوراً بعد اور پھر نماز عصر، پھر غروب آفتاب کے فوراً بعد نماز مغرب اور پھر نماز عشاء جبکہ نماز فجر طلوع فجر کے بعد۔ منکرین حدیث اس آیت کو تو مانتے ہیں لیکن اوقات کا تعین حدیث کی رو سے نہیں مانتے۔ آیت پر عمل کرتے ہوئے ان پر لازم ہے کہ وہ زوال سے لے کر رات کی پوری تاریکی چھا جانے تک نماز میں مشغول رہیں۔ درمیان میں وقفہ نہ کریں۔ جبکہ زوال سے عشاء تک نماز میں مشغول رہنا تو درکنار یہ لوگ تو سرے سے نماز پڑھنے کے قائل ہی نہیں، اس کا ثبوت بعد میں پیش کیا جائے گا۔
➌ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ
”دن کے دونوں سروں اور رات کی کچھ گھڑیوں میں نماز پڑھا کریں۔“
(11-ھود:114)
اس آیت میں بھی پانچوں نمازوں کے اوقات کا بیان ہے کیونکہ دن کے دو اطراف ہیں۔ زوال سے پہلے اور زوال کے بعد۔ زوال سے پہلے نماز فجر اور زوال کے بعد نماز ظہر اور نماز عصر۔ زلفا ”زلفة“ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے نزدیکی، یعنی رات کی وہی گھڑیاں جو دن کے قریب ہیں تو اس سے مراد صرف اول وقت غروب ہے۔ اور دوسرا وہ ہے جب شفق غائب ہو جائے، تو اس طرح مغرب اور عشاء اس وقت میں داخل ہو گئیں۔ اس حوالے سے بھی منکرین حدیث سے استفسار کیا جا سکتا ہے کہ جب تم احادیث سے تعین اوقات تسلیم نہیں کرتے تو پھر اس آیت پر عمل کرتے ہوئے دن کے دونوں اطراف میں مسلسل نماز پڑھتے رہو اور رات کی ابتدائی ساعات میں مسلسل نماز پڑھو مگر عجیب معاملہ یہ ہے کہ ان کی سرے سے نماز ہی نہیں، اگر ہے تو وہ بھی ان کی اپنی صوابدید پر۔
➍ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ۖ وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ ﴿١٣٠﴾
”سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور رات کی بعض گھڑیوں میں بھی تسبیح کیا کریں اور دن کے اطراف میں بھی، تاکہ آپ (اس سے) خوش ہوں۔“
(20-طه:130)
اس آیت میں بھی پانچ اوقات کا ذکر ہے۔ طلوع آفتاب سے پہلے نماز فجر اور غروب سے پہلے نماز عصر، آناء الليل میں مغرب اور عشاء کا ذکر ہے اور اطراف جمع بمعنی تثنیہ ہے اور یہ قانون عربی میں مستعمل ہے۔ اس سے مراد وہ وقت ہے جس میں دن کے دونوں اطراف جمع ہوتے ہیں، یعنی وقت ظہر۔
منکرین حدیث اعتراض کرتے ہیں کہ اس آیت میں تو تسبیح اور حمد پڑھنے کا حکم ہے، نماز کا تو ذکر ہی نہیں ہے۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ زبان سے تسبیح و تحمید کرنا ذکر الہی ہے جس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیونکہ ذکر الہی ایسی عبادات میں سے ہے جس کے وقت کی کوئی قید نہیں، جیسا کہ بہت سی آیات سے ثابت ہے۔ اسی طرح دل میں تسبیح و تحمید، یعنی عقیدہ توحید کا دوام ضروری ہے۔ اس کے لیے بھی کوئی وقت مقرر نہیں ہو سکتا، لہذا معلوم ہوا کہ یہ عملی تسبیح و تحمید ہے اور وہ صرف نماز ہے۔
➎ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ ﴿١٧﴾ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ ﴿١٨﴾
”پس تم اللہ کی تسبیح بیان کرو جب شام کرو اور جب صبح کرو۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی ستائش ہے۔ اور اس کی تسبیح کرو پچھلے پہر بھی اور جب تم ظہر کرو۔“
(30-الروم:17-18)
اس آیت میں بھی پانچوں نمازوں کے اوقات کی مکمل تصریح ہے۔ تمسون سے مغرب اور عشاء، تصبحون سے وقت صبح، عشيا سے وقت عصر اور تظهرون سے وقت ظہر مراد ہے۔
ان آیات سے پوری طرح واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے لیے پانچ اوقات مقرر کیے ہیں۔ لیکن ان اوقات کی پوری وضاحت اور ان کی ابتدا و انتہا کے بارے میں تفصیل کتب احادیث میں موجود ہے، یعنی ان آیات پر عمل کرنے کے لیے احادیث کی لازمی ضرورت ہے تا کہ اوقات کی ابتدا و انتہا کے بارے میں کوئی کمی بیشی نہ ہو۔
قرآن کی روشنی میں نماز کے ارکان و شرائط
شرائط نماز قرآن کی روشنی میں:
❀ طہارت: اس کی تین اقسام ہیں: وضو، غسل اور تیمم۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ
”اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہرے اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو، اور اپنے سروں کا مسح کیا کرو اور ٹخنوں تک دونوں پاؤں دھو لیا کرو۔“
(5-المائدة:6)
اس آیت میں وضو کا بیان ہے۔ جبکہ احادیث میں کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، ناک جھاڑنا، داڑھی کا خلال کرنا، انگلیوں کا خلال کرنا اور کانوں کا مسح کرنا کی تفصیل بطور تکمیل فرض بیان کی گئی ہے اور یہ تمام چیزیں مذکورہ چار اعضاء سے خارج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا
”اور اگر تم جنبی ہو تو پھر نہا کر اچھی طرح پاک ہو جاؤ۔“
(5-المائدة:6)
آیت کے اس حصے میں غسل کا ذکر کیا گیا ہے، نیز فرمایا:
وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ
”اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آیا ہو یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو اور تمھیں پانی میسر نہ ہو تو پھر پاک صاف مٹی سے تیمم کر لو، پھر اس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرو۔“
(5-المائدة:6)
آیت کے اس حصے میں تیمم کے جواز کے اسباب اور اس کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔
❀ دوام یعنی ہمیشہ پانچوں نمازیں پڑھنا، کسی وقت کی بھی نماز نہ چھوڑنا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِلَّا الْمُصَلِّينَ ﴿٢٢﴾ الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ ﴿٢٣﴾
”مگر وہ نمازی، جو اپنی نمازیں ہمیشہ ادا کرتے ہیں۔“
(70-المعارج:22-23)
❀ محافظت: یعنی ہمیشہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ ارکان اور شرائط کی پابندی کرنا اور مکروہات و مفسدات نماز سے بچنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ
”نمازوں کی حفاظت کرو۔“
(2-البقرة:238)
اور فرمایا:
وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ
”اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت و پابندی کرتے ہیں۔“
(70-المعارج:34)
سورۃ المعارج میں دائمون کے بعد يحافظون کا بیان اس بات کی دلیل ہے کہ محافظت، دوام سے الگ مستقل صفت ہے اور یہ دوام کو بھی محیط ہے، نیز یہ دوام اور محافظت دونوں حقیقت میں اقامت نماز کے ہم معنی ہیں۔
ارکان نماز قرآن کی روشنی میں:
❀ قیام: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَقُومُوا لِلَّهِ قَٰنِتِينَ
”اور اللہ کے حضور عاجزی اور ادب سے کھڑے ہو جاؤ۔“
(2-البقرة:238)
❀ استقبال قبلہ: ارشاد ربانی ہے:
فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ
”اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لو اور تم جہاں کہیں بھی ہو تو اپنے چہروں کو اسی کی طرف پھیرو۔“
(2-البقرة:144)
بالاجماع یہ آیت دوران نماز قبلہ رو ہونے کے متعلق ہے۔
❀ قراءت: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا
”اور خوب ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھا کرو۔“
(73-المزمل:4)
نیز فرمایا:
فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ
”جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھ لیا کرو۔“
(73-المزمل:20)
❀ رکوع و سجود: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ
”اے ایمان والو! رکوع کرو، سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو۔“
(22-الحج:77)
❀ قنوت: عاجزی، سکون اور ادب کے التزام کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ
”اللہ کے حضور عاجزی اور ادب سے کھڑے ہو جاؤ۔“
(2-البقرة:238)
❀ اخلاص: اخلاص ہر عبادت کی شرط اور رکن ہے، یعنی دل میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف خیال و قصد نہ ہو، چنانچہ فرمایا:
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
”کہہ دیجیے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“
(6-الأنعام:162)
❀ خشوع: دل کی توجہ اور اعضاء کا سکون و حرکت شریعت کے موافق ہو اور آدمی کو قراءت کا فہم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ﴿١﴾ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ﴿٢﴾
”یقیناً مومن کامیاب ہوئے، جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔“
(23-المؤمنون:1-2)
یہاں تک نماز کے اوقات، شرائط اور ارکان قرآن کی روشنی میں بیان کیے گئے۔ ان شرائط و ارکان کو صحیح طور پر ادا کرنے کے لیے احادیث کی طرف عملی طور پر رجوع کرنا پڑے گا کیونکہ ان کی تفصیل احادیث ہی میں دستیاب ہے اور اسی کو نماز نبوی کہا جاتا ہے۔ صحیح طریقے سے وضو کرنے کے بعد نماز کی نیت کر کے قبلہ رخ کھڑے ہوں۔ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا شریعت سے ثابت نہیں، پھر کندھوں یا کانوں کی لو کے برابر ہاتھ اٹھائیں اور الله اكبر کہتے ہوئے دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیں، پھر اس کے بعد دعائے استفتاح اللهم باعد بيني یا سبحانك اللهم وغیرہ پڑھیں، پھر سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت یا چند آیات ملا کر پڑھ لیں۔ اس کے بعد اللہ اکبر کہہ کر رفع الیدین کرتے ہوئے رکوع میں جائیں۔ رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھیں اور کمر اور گردن کو برابر رکھیں۔ رکوع میں کم از کم تین مرتبہ سبحان ربي العظيم پڑھیں، پھر سمع الله لمن حمده کہہ کر رکوع سے سر اٹھائیں اور رفع الیدین کریں۔ رکوع کے بعد کھڑے ہو کر اطمینان کے ساتھ ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا دعا پڑھیں، پھر الله اكبر کہتے ہوئے سجدے میں جائیں۔ پہلے ہاتھ زمین پر لگائیں اور اس کے بعد گھٹنے لگائیں۔ سات اعضاء (دو ہاتھ، دو پاؤں، دو گھٹنے اور ناک سمیت پیشانی) پر سجدہ کریں۔ سجدے میں کم از کم تین مرتبہ سبحان ربي الأعلىٰ پڑھیں، پھر الله اكبر کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھائیں اور قعدے میں رب اغفرلي دعا پڑھیں۔ پھر الله اكبر کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کریں۔ دوسرا سجدہ مکمل کرنے کے بعد الله اكبر کہتے ہوئے جلسہ استراحت کے لیے بیٹھیں، پھر کھڑے ہو کر پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت پوری کریں۔ دوسری رکعت کے دوسرے سجدے کے بعد تشہد میں بیٹھیں، اس میں التحيات، درود شریف اور مسنون دعائیں پڑھیں اور پھر دونوں طرف سلام پھیر دیں۔ نبی کریم نے اسی طریقے سے نماز پڑھی ہے، نیز آپ نے فرمایا:
صلوا كما رأيتموني أصلي
”نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔“
(صحيح البخاري ، الأذان، باب الأذان للمسافرين حديث: 631)
قرآن و حدیث کے مطابق تمام مسلمانوں کے لیے نماز کا عام طریقہ یہی ہے۔ قرآن کریم میں اجزائے ترکیبی بیان کیے گئے ہیں جبکہ ان اجزاء کی ترکیب و ترتیب احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ اگر بعض کیفیات میں اتباع حدیث کی بنا پر اختلاف کیا جائے تو کوئی حرج نہیں اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے اختلافات کی بنا پر آپس میں تشدد، تعصب اور کفر کے فتوے جاری کرنے سے احتراز کریں تا کہ دشمنان اسلام، خصوصاً غلام احمد پرویز کی قبیل کے لوگوں کو امت پر طعن زنی کا کوئی موقع نہ مل سکے۔
اب منکرین حدیث پرویزی گروہ کا اقامت نماز کے متعلق عقیدہ اور چند استفسارات پیش خدمت ہیں تا کہ معلوم ہو جائے کہ یہ لوگ قرآنی نماز کے قائل ہیں نہ ان کے پاس نماز پڑھنے کا کوئی طریقہ ہے۔
➊ اقامت صلاۃ کے متعلق پرویز صاحب کا ایک نظریہ: وہ سلیم کے نام خط میں سورۃ الأعراف کی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ
”جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور انھوں نے نماز قائم کی، یقیناً ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔“
(7-الأعراف:170)
متقی وہ ہے جو قانون خداوند کے ساتھ پورا پورا تمسک رکھتے ہوں، یعنی صلاۃ قائم کرتے ہوں۔ یہی وہ ہموار کرنے والے مصلحین ہیں جن کے اعمال ضرور نتیجہ خیز ہوتے ہیں۔
یہاں انھوں نے تمسک قانون خداوندی کو اقامت صلاۃ کہا ہے۔ اگر چہ آیت میں وأقاموا الصلاة بطور عطف يمسكون پر ہے اور عطف مغایرت چاہتا ہے لیکن پرویز صاحب نے شاید اس کو عطف تفسیر سمجھ لیا ہے۔ ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ تمام روئے زمین پر جتنے مسلمان نماز پڑھتے ہیں وہ قانون خداوندی کے ساتھ تمسک اختیار کرتے ہیں یا نہیں؟ لیکن پرویز صاحب کے بقول تمام عالم میں قانون خداوندی یا قرآنی نظام نہیں تو کسی مسلمان کی کوئی نماز ہی نہیں۔
➋ اقامت صلاۃ کے متعلق جناب پرویز کا دوسرا نظریہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ
”وہ کہیں گے ہم نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔“
(74-المدثر:43)
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے سلیم کے نام خط میں لکھتے ہیں: وہ کہیں گے ہم ان کے ساتھ شامل نہ ہوئے جنھوں نے نظام صلاۃ کو قائم کیا تھا۔ نظام صلاۃ کیا ہے اس کے متعلق بہت کچھ لکھ چکا ہوں لیکن قرآن نے ان تمام تفاصیل کو سمیٹ کر ایک فقرے میں رکھ دیا ہے، یعنی:
وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ
”ہم مساکین کے رزق کا انتظام نہیں کرتے تھے۔“
(74-المدثر:44)
یہ قرآن میں سراسر تحریف ہے، اس لیے کہ مساکین کو کھلانا الگ مستقل صفت ہے۔ لیکن انھوں نے تو مساکین کو کھلانے کے انتظام کو اقامت صلاۃ قرار دیا، پھر اللہ تعالیٰ کے فرمان:
وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ
”اور ہم حساب کے دن کو جھٹلاتے تھے۔“
(74-المدثر : 46)
کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: عملاً حالت یہ تھی کہ ہم اسے باور ہی نہیں کیا کرتے تھے کہ اس غلط معاشرت کا انجام جس میں مسکین کی روٹی کا انتظام نہیں ہوتا ہلاکت اور بربادی کے سوا کچھ نہیں، ہمیں اس پر بالکل ایمان نہیں تھا۔
(مکتوبات ، ص :274)
یہاں ”يوم الدين“ کی تفسیر مسکین کی روٹی کا انتظام کرنے سے کی گئی ہے۔ ایسی عقل و دانش پر اظہار حیرت و تعجب کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے؟
پرویز صاحب نے اقامت صلاۃ کے لیے قرآنی حکومت کو شرط قرار دیا ہے۔ اس کے بغیر وہ عام نمازوں کو رسمی نماز میں قرار دیتے ہیں۔ سلیم کے نام خط لکھتے ہیں: غور کرو سلیم اگر قیام صلاۃ سے مقصود یہ ہماری رسمی نمازیں ہی ہوں تو ان کے لیے تمكن فى الأرض یعنی ملک میں قرآنی حکومت قائم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ نمازیں تو ہم انگریز کی غلامی میں بھی پڑھا کرتے تھے اور آج بھی ہندوستان کے مسلمان اسی طرح پڑھ رہے ہیں، پھر یہ بھی سوچو کہ قرآن نے اقامت صلاۃ کا فطری نتیجہ استخلاف فى الأرض بتایا ہے۔ ہماری ان نمازوں میں کب استخلاف فى الأرض ملا۔ سورۃ البقرہ میں دیکھو اقامت صلاۃ اور ایتائے زکاۃ کا لازمی نتیجہ یہ بیان کیا گیا۔لا خوف عليهم ولا هم يحزنون ذرا غور کریں کہ ہماری نمازیں اور اڑھائی فی صد زکاۃ یہ نتیجہ پیدا کر رہی ہے کہ ہمیں کسی قسم کا خوف و حزن نہ ہو۔
(مکتوبات، ص: 211)
جناب پرویز نے اس تحریر میں مسلمانوں کے دلوں میں کیسے وسوسے اور خدشات ڈال دیے ہیں۔ مسلمانوں کی عام نمازوں کو رسمی نمازوں سے تعبیر کر کے کہتے ہیں: قرآن نے اقامت صلاۃ کا فطری نتیجہ استخلاف فى الأرض بتایا ہے۔
ہم پوچھتے ہیں کہ اس مضمون کی کوئی آیت قرآن کریم میں سے ہمیں بھی بتادو! اسی طرح پرویز صاحب کا یہ جملہ بھی دیکھو جو سورۃ البقرہ میں اقامت صلاۃ اور ایتائے زکاۃ کا لازمی نتیجہ یہ بیان کیا گیا ہے: لا خوف عليهم ولا هم يحزنون یہاں بھی ہم وہی سوال کرتے ہیں کہ سورۃ البقرہ میں سے ہمیں بھی کوئی ایسی آیت بتاؤ جو اس مضمون پر دلالت کرتی ہو۔ مثال مشہور ہے ”چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد“۔ الحمد للہ قرآن کریم مسلمانوں کے سامنے موجود ہے اور پرویز صاحب نہایت دیدہ دلیری سے تحریف قرآن کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے میں لگے ہوئے ہیں۔ صلاۃ کے متعلق سلیم کے نام خط میں لکھتے ہیں: الصلوۃ صراط مستقیم پر چلنے کا نام ہے، پھر لکھتے ہیں: ”سجدہ سے مراد ہی قانون خداوندی کی اطاعت ہے“ اس کے بعد لکھتے ہیں: رکوع کا معنی قانون خداوندی کی عملی تصدیق اور اس کے سامنے جھک جانا ہے۔
(مکتوبات، ص: 210,209)
آپ نے دیکھا کہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کیسے کیسے کرتب دکھاتے ہیں؟ اس ساری کاوش کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے ذہنوں سے صلاۃ رسول کا نقشہ نکال دیا جائے۔ آخر میں ہم پرویزی جماعت سے درج ذیل سوالات پوچھتے ہیں اور لازم ہے کہ ان کے جوابات صرف قرآنی آیات ہی سے دیے جائیں۔
➊ قرآن کریم میں بار بار وأقيموا الصلاة کا حکم ہے، بتائیں الصلاۃ کیا ہے؟
➋ اسے کس طرح قائم کریں؟
➌ یہ نماز دن اور رات میں کتنی بار قائم کریں؟
➍ اس کے اوقات کیا ہیں؟
➎ اوقات نماز کی ابتدا اور انتہا کی حد بندی کیسے ہوگی؟
➏ ہر نماز کی کتنی رکعتیں ہیں؟
➐ اور ہر رکعت میں کیا پڑھنا چاہیے؟
کیا ان سوالات کے جوابات قرآن کریم سے دیے جا سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں دیے جا سکتے اور احادیث کو آپ مانتے نہیں، لہذا نماز سے چھٹی ہو گئی اور یہی آپ کا مقصد ہے۔
ادائے زکاۃ
ارکان اسلام میں سے صلاۃ کے بعد ادائے زکاۃ کا مسئلہ بہت اہم ہے۔ اس کی اہمیت کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم میں مختلف تعبیرات کی کثرت کے ساتھ اس کا تذکرہ موجود ہے۔ زکاۃ، صدقہ، تصدق اور انفاق کے مختلف صیغوں کے ساتھ اس کا استعمال ہوا ہے۔ پہلی تعبیر (زکاۃ) فرض کے ساتھ خاص ہے اور باقی تعبیرات فرض اور نفل دونوں کے لیے مستعمل ہیں۔ زکاۃ عربی زبان میں طہارت و پاکیزگی کے معنی میں آتا ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ تطہیر معنوی اور روحانی تطہیر کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا
”پاکیزگی میں اس سے بہتر اور شفقت میں اس سے قریب تر ہو۔“
(18-الكهف:81)
نیز فرمایا:
وَحَنَانًا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَوةً
”اور اپنے ہاں سے رحم دلی اور پاکیزگی عطا کی۔“
(19-مریم:13)
یہ مادہ مختلف صیغوں سے اس معنی میں مستعمل ہے اور زکاۃ کا شرعی معنی اللہ تعالیٰ اور رسول کریم کے حکم کے مطابق مال کا مقرر حصہ ادا کرنا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا 30 مرتبہ ذکر ہوا ہے اور مندرجہ ذیل مختلف طریقوں سے اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے:
➊ فرضیت کے لیے صیغہ امر کے ساتھ 9 مرتبہ۔
➋ زکاۃ مؤمنین کی صفات میں سے ہے۔ (البقرة 177:2 و 277، النساء 162:4، المائدة 55:5، التوبة 71:9، المؤمنون 60:23، النور 37:24)
➌ زکاۃ سابقہ امتوں پر بھی فرض تھی۔ سارے انبیاء علیہم السلام میں سے ہر ایک کی ملت میں (الأنبياء 73:21)، ملت اسماعیل علیہ السلام میں (مریم 55:19)، ملت بنی اسرائیل میں (البقرۃ 43:2 و 83)، (البينة 5:98) اور ملت عیسیٰ علیہ السلام میں (مریم 31:19) فرض تھی۔
➍ زکاۃ ادا کرنے کے فوائد اور منافع: یہ نیک اعمال میں سے ہے (البقرة 177:2)، یہ اسباب اجر میں سے ہے (البقرة 277:2)، سیئات اور گناہوں کا کفارہ اور جنت میں داخلے کا سبب ہے (المائدة 12:5)، اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے (الأعراف 156:7)
➎ جان و مال کی حفاظت کا باعث ہے (التوبة 5:9)
➏ مال کی زیادتی اور فراوانی کا باعث ہے (الروم 39:30)
➐ محسنین کی صفات میں سے ہے (لقمان31 : 4 )
➑ زکاۃ ادا نہ کرنا مشرکین کی صفات میں سے ہے (حم السجدة 7:41)۔
تصدق اور انفاق کے مختلف صیغوں سے بھی مستعمل ہے۔ قرآن کریم نے زکاۃ کے آٹھ مصارف بھی لفظ صدقات کے ساتھ بیان کیے ہیں، جیسا کہ (سورۃ التوبہ 60:9) میں مذکور ہیں۔
شریعت میں مال کا ایک خاص حصہ ادا کرنے کا نام فرض زکاۃ ہے۔ اس کے لیے دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم کی اکثر آیات میں مومنوں کی صفت انفاق کے حوالے سے بیان کی گئی ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا:
وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ
”اور ہم نے جو رزق انھیں عطا کیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“
(2-البقرة:3)
عربیت کے لحاظ سے یہاں ”مما“ تبعیض کے لیے ہے، یعنی بعض اور کچھ حصے کو بیان کرتا ہے۔ اس طرح قرآن مجید میں احکام میراث بیان کرنا اور مال کے متعلق وصیت کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمان زکاۃ ادا کرنے کے بعد اپنے پاس مال رکھ سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک مسلمان اس کے کچھ حصے کے بارے میں کسی کے حق میں وصیت بھی کر سکتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ شریعت میں یہ طریقہ نہیں کہ انسان اپنی ضروریات سے زائد سارا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دے۔ اس قسم کا نظریہ غلط ہے۔ ہاں! مستحب جان کر بعض افراد ایسا کر سکتے ہیں جو ان کے لیے کمال کا درجہ رکھتا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں تجارت، صنعت اور ملازمت کے ذریعے سے کمائے ہوئے مال اور زمین کی آمدنی میں انفاق کے فریضے کا ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ہوا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ
”اے ایمان والو! اپنی حلال کمائی میں سے اور ان حلال اشیاء میں سے جو ہم نے تمھارے لیے زمین سے پیدا کی ہیں ہماری راہ میں خرچ کرو۔“
(2-البقرة:267)
یہاں تک زکاۃ کے متعلق قرآنی احکام کی تفصیلات بیان ہوئیں۔ ان احکامات پر پوری طرح عمل کرنے کے لیے احادیث کی طرف رجوع کرنا لازم ہے۔ احادیث سے ثابت شدہ تفصیلات کچھ یوں ہیں۔
➊ سونا، چاندی اور اس کی مصنوعات پر شرح زکاۃ چالیسواں حصہ ہے۔ جس کو عربی میں ربع العشر کہا جاتا ہے، یعنی اڑھائی فی صد۔
➋ سونے کا نصاب تقریباً ساڑھے سات تولے جبکہ چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولے۔
➌ چاندی کے نصاب کے حساب سے نقد روپوں پر شرح زکاۃ اڑھائی فی صد ہے۔
➍ اونٹوں کا نصاب یہ ہے: پانچ اونٹوں پر ایک بکری، دس پر دو بکریاں، پندرہ اونٹوں پر تین بکریاں، بیس پر چار بکریاں اور چھبیس اونٹوں پر اونٹ کا ایک سالہ بچہ۔ مزید تفصیل کتب احادیث میں دیکھی جا سکتی ہے۔
➎ بھیڑ بکریوں میں چالیس پر ایک بھیڑ یا بکری۔
➏ گائے بیل کی صورت میں تیس پر ایک گائے کا بچہ۔ مزید تفصیل کے لیے کتب حدیث ملاحظہ فرمائیں۔
➐ مال تجارت روپوں کے حساب سے اڑھائی فی صد، چالیسواں حصہ۔
اس تفصیل کے بغیر قرآن کریم میں مذکور حکم زکاۃ پر عمل نہیں ہو سکتا۔ اب منکرین حدیث پرویزیوں کا نظریہ زکاۃ ملاحظہ فرمائیں:
1) سلیم کے نام خط میں لکھا ہے: قرآن نے زکاۃ کا حکم دے کر اس کی شرح و قیود کو غیر متعین چھوڑ دیا ہے تا کہ ہر دور کی اسلامی حکومت اپنی اپنی ضروریات کے مطابق اسے خود متعین کرتی رہے۔ قرون اولیٰ میں اگر خلافت راشدہ نے اپنے زمانے کی ضرورت کے مطابق اڑھائی فی صد مناسب سمجھا تھا اس وقت یہی شرح شرعی تھی۔ اگر آج کوئی اسلامی حکومت کہے کہ اس کی ضروریات کا تقاضا دس فی صد ہے تو یہی دس فی صد شرعی شرح قرار پائے گی۔
(مکتوبات، ص: 82-83)
پرویز صاحب کے اس نرالے اجتہاد میں پہلی کذب بیانی یہ ہے کہ خلافت راشدہ نے نصاب اڑھائی فی صد مقرر کیا تھا۔ یہ بات جھوٹ کا پلندہ ہے۔ خلفائے راشدین نے ہرگز ایسے نہیں کیا تھا بلکہ یہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مرفوعہ میں مذکور ہے، لہذا یہ نصاب خلفاء نے اپنی طرف سے قطعاً مقرر نہیں کیا تھا۔
ہم پرویز صاحب سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ شرح مقرر کرنا اسلامی حکومت کے اختیار میں ہے، یہ قرآن کریم کی کون سی آیت میں ہے؟
ہم یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ آپ کہتے ہیں کہ ہم وہ احادیث مانتے ہیں جو قرآن کے خلاف نہ ہوں۔ زکاۃ کی شرح میں وارد احادیث قرآن کریم کی کون سی آیت سے متصادم ہیں؟
آج تک مسلمانوں کا زکاۃ اور اس کی شرح کے متعلق (جو احادیث صحیحہ میں مذکور ہے) اجماع ثابت ہے۔ لیکن پرویز صاحب نے خود ساختہ شرح مقرر کرنے کی جسارت کر کے مسلمانوں کے درمیان تفرق اور الحاد پھیلانے کی مذموم و ملعون حرکت کی ہے۔
2) ایک جگہ لکھتے ہیں: زکاۃ کے لیے قرآن میں حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں سے زکاۃ وصول کرے:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً
”ان کے مالوں سے صدقہ قبول کر۔“
(9-التوبة:103)
اس لیے زکاۃ اس ٹیکس کے سوا اور کچھ نہیں جو اسلامی حکومت مسلمانوں پر عائد کرے۔ اس ٹیکس کی کوئی شرح متعین نہیں کی گئی، اس لیے کہ شرح زکاۃ کا انحصار ضروریات ملی پر ہے حتی کہ وہ ہنگامی صورتوں میں سب کچھ وصول کر سکتی ہے جو کسی کی ضرورت سے زائد ہو۔
وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلِ الْعَفْوَ
”وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے: جو ضروریات سے زائد ہو۔“
(2-البقرة:219)
لہذا جب کسی جگہ اسلامی حکومت نہ ہو تو زکاۃ بھی باقی نہیں رہتی۔
(قرآنی فیصلے، ص: 35)
دیکھیے پرویز صاحب نے اس عبارت میں زکاۃ کے لیے اسلامی حکومت کی شرط عائد کر دی۔ یہ شرط کس آیت میں مذکور ہے؟ زکاۃ اور اس کے معلوم شدہ متعین حق ہونے کا تذکرہ مکی سورتوں میں ہے، مثلاً: سورۃ المعارج، الذاریات، المؤمنون اور حم السجدہ۔ اب سوال یہ ہے کہ مکہ میں تو اسلامی حکومت نہیں تھی تو پھر زکاۃ فرض کرنے کا کیا فائدہ تھا؟
مزید برآں پرویز صاحب نے زکاۃ کو ٹیکس کہا ہے۔ یہ ایک اسلامی فریضے کا مذاق اڑانے اور اسے غیر اسلامی عمل کے ساتھ تشبیہ دینے کے مترادف ہے، حالانکہ شریعت میں زکاۃ مسلمانوں سے وصول کی جاتی ہے، جبکہ ٹیکس تو وہ جزیہ اور خراج ہے جو غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے۔
پرویز صاحب نے حکومت کو شرح کی تبدیلی کا بھی حق دیا ہے، حالانکہ یہ اس آیت کریمہ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ﴿٢٤﴾ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ﴿٢٥﴾
”اور ان کے اموال میں معین حصہ مقرر ہے سوال کرنے والوں اور محتاجوں کے لیے۔“
(70-المعارج:24-25)
لفظ ”معلوم“ دلیل ہے کہ مقادیر زکاۃ کا علم اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور وہ علم احادیث میں موجود ہے۔ جب زکاۃ کا حق معین ہے تو پھر حکومت کو اس کی تبدیلی کا حق کس نے دیا اور کیسے ملا؟
مزید برآں قل العفو ”کہہ دیجیے: جو زائد ہے“( 2-البقرة: 219 ) سے استدلال کرتے ہوئے پرویز صاحب کہتے ہیں کہ ہنگامی حالت میں اسلامی حکومت سب کچھ حاصل کر سکتی ہے۔ یہ استدلال سراسر غلط ہے۔ سب سے پہلے یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ یہاں آیت میں ہنگامی صورت کا ذکر کس لفظ سے معلوم ہوتا ہے؟
دوم یہ کہ العفو سے مراد مِنَ الْعَفْوِ ہے، یعنی اس مال سے جو زائد ہو کچھ خرچ کیا کرو اور اس کے لیے قرینہ وہی آیات ہیں جن میں ”من“ تبعیض کے لیے آیا ہے، مثلاً: ومما رزقناهم ( 2-البقرة: 3 ) خذ من أموالهم (9 – التوبة: 103) یہ تھا فریضہ زکاۃ کے متعلق پرویزی نظریہ جبکہ اس کے برعکس قرآن و سنت کے مطابق نظام پر نظر ڈالنے سے صریحاً معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآن و سنت کا جو اسلام ہے، پرویز صاحب کا اسلام اس سے یکسر مختلف ہے۔
حج
اسلام میں اعمال کے لحاظ سے ایک عظیم فریضہ اور ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن کی حیثیت سے حج کی حیثیت مسلمہ ہے۔ قرآن کریم میں دو مرتبہ اس کا ذکر آیا ہے۔ اور اس کی فرضیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
”اور اللہ کے لیے اس گھر (بیت اللہ) کا حج کرنا لوگوں پر فرض ہے، جو اس کی طرف راہ چلنے کی طاقت رکھے اور جو کوئی (اس حکم کی پیروی سے) انکار کرے اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔“
(3-آل عمران:97)
حج کی ادائیگی کا طریقہ قرآن کریم کی دو سورتوں (البقرۃ اور الحج) میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔
➊ حج کا اعتبار چاند کے حساب سے ہے۔ (البقرۃ 2:189)
➋ حج اور عمرے کا پورا کرنا صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ (البقرة 2:196)
➌ اس آیت میں حج تمتع، ہدی (قربانی) کا وجوب اور حالت احصار (حج و عمرے سے کسی کو روک دیا جائے تو کس حد تک اسے حج و عمرے کی تکمیل کرنی چاہیے اس کے احکام) کا ذکر بھی ہے۔
➍ احرام حج کے لیے ”أشهر معلومات“ (معین مہینے، یعنی شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ) کا وقت مقرر ہے اور اس میں تین منہیات ہیں۔ (البقرة 2:197)
➎ وقوف عرفات اور وقوف مزدلفہ۔ (2-البقرة :198،199)
➏ وقوف منی اور ذکر الہی (جمرہ عقبہ کی رمی کے ساتھ تکبیر)۔ (البقرة 2:200)
➐ وقوف منی (تین دن گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخ کو) جمرات کی رمی (کنکریاں مارنے) کے ساتھ ذکر الہی۔ (البقرة 2:203)
➑ ذبح یوم النحر اور ایام تشریق مع ذکر الہی۔ (الحج 22:28)
➒ طواف زیارت۔ (الحج 22:29)
➓ صفا و مروہ کے درمیان سعی۔ (البقرة 2:158)
⓫ طواف وداع۔ (الحج 22:33)
⓬ اونٹ کے ذبح کے متعلق احکام، قربانی کے گوشت کے مصارف، ذبح و نحر کے وقت بسم اللہ اور تکبیر۔ (22-الحج :36، 37)
حج کے متعلق یہ قرآنی احکام کی تفصیل ہے۔ اس میں تشریح طلب امور صحیح احادیث میں مذکور ہیں، مثلاً:
● استطاعت سبیل (حج کے راستے) کی شرح کیا ہے؟
● احصار کس چیز سے ہوتا ہے؟
● احرام حج کے مہینوں کے نام کیا ہیں؟
● وقوف عرفات، وقوف مزدلفہ اور وقوف منی کا دن اور وقت کون سا ہے؟
● جمرات کتنے ہیں اور کتنی کنکریاں ماری جائیں؟
● رمی جمرات کے وقت کون سا ذکر کرنا چاہیے؟
● ذبح کا کیا مقصد ہے؟
● رمی جمرات کا کیا مقصد ہے؟
● ہدی اور قربانی کو ذبح کرنے کے بعد سخت بھوکے فقیر، صبر کرنے والوں اور سوال کرنے والوں کو کھلانا۔
● جنایات کے احکام۔
یہ تمام تفاصیل احادیث میں موجود ہیں۔
لیکن اس کے برعکس پرویز صاحب کے نزدیک حج کیا ہے؟ بظاہر انھوں نے اسے تسلیم کیا ہے لیکن حقیقت میں وہ حج کو ایک سیاسی معاملہ سمجھتے ہیں بلکہ اسے امراء کی ایک کانفرنس کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔
(قرآنی فیصلے ، ص : 65-71)
ان کی بعض تحریر میں ملاحظہ فرمائیں: فرماتے ہیں: ”جس کا مقصود تمام نوع انسانی کو ایک برادری تصور کر کے جمعیت اقوام کے بجائے جمعیت آدم کی عملی تشکیل کرنا ہے اگر چہ اسلام کے تمام احکام اور فرائض اسی نقطہ کی طرف قدم اٹھاتے ہیں لیکن اس کی تشکیل حج کے اجتماع میں ہوتی ہے جو اسلام کا آخری رکن ہے۔“
آگے فرماتے ہیں: ”اپنے اپنے ملکوں سے اپنے نمائندے چن لیں۔ یہ نمائندے اپنے میں سے ایک منتخب کردہ امیر کی زیر قیادت مرکز وحدت انسانیت، یعنی کعبۃ اللہ کی طرف روانہ ہوں۔ عرفات کے میدان میں ان تمام نمائندگان کا باہمی تعارف ہو، پھر یہ تمام امرائے ملت اپنے میں سے ایک امیر الامراء کا انتخاب کر لیں اور مختلف ممالک کے احوال و ظروف کو سامنے رکھ کر باہمی مشاورت سے ایک ایسا پروگرام مرتب کر لیں۔“
آگے لکھا ہے: ”مقام منی میں جمع ہو کر اس اصولی پروگرام کی تفصیلات و جزئیات پر غور کریں اور یہ سوچیں کہ ایک دوسرے ملک پر اس کا عملی اثر اور رد عمل کیا ہوگا۔ وہاں باہمی مذاکرات بھی ہوں، دعوتیں اور ضیافتیں بھی ہوں جس کے لیے قربانی تجویز کی گئی ہے۔“ آگے لکھا ہے: ”قرآن کریم نے حج کے اس مقصد اور عنایت کو دو مقامات پر دو دو الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ حج کے اجتماع سے مقصود یہ ہے: ليشهدوا منافع لهم تاکہ وہ اپنے فوائد کے لیے آموجود ہوں۔
دوسری جگہ فرمایا:
قِيَمًا لِّلنَّاسِ
”یعنی اس سے دنیا میں انسانیت قائم رہے۔“
(5-المائدة:97)
ان تمام عبارتوں پر غور کریں اور قرآنی آیات بھی سامنے رکھ کر سوچیں کہ آخر ان آیات اور پرویزی خرافات کے درمیان کیا مناسبت ہے اور یہ مفہوم کہاں سے اخذ کیا گیا ہے؟ اور پھر اسے قرآنی فیصلے کا نام دینا بہت بڑی تلبیس اور دھوکا نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ طریقہ پرویز صاحب کا اپنا تجویز کردہ ہے، تاہم حج کے متعلق قرآنی آیات کا یہ مقصد ہرگز نہیں۔
حج کے لیے نمائندگان کا انتخاب کس نے کیا؟ وہاں تو سب لوگ اپنی مالی استطاعت کی وجہ سے حج میں شامل ہوتے ہیں۔ کیا تمام حاجی امرائے ملت ہو سکتے ہیں؟ کیا وہاں کا خطیب انھی حجاج کے انتخاب سے امیر الامراء بن جاتا ہے؟ کیا وہاں حجاج صاحبان آپس میں اپنے ممالک کے متعلق مشورے کرتے ہیں؟ وہ تو اذکار مسنونہ اور ادعیہ ماثورہ وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں۔ مقام منی میں جمع ہو کر لوگ کون سی تفصیلات و جزئیات پر غور کرتے ہیں وہاں تو وہ جمرات کو کنکریاں مارنے، جانوروں کو ذبح اور نحر کرنے، بالوں کو کترانے یا منڈوانے اور اذکار کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔
کیا منی میں قربانی کا مقصد باہمی دعوتیں اور ضیافتیں ہے۔ قرآنی آیات میں البائس الفقير ”بھوکے فقیر کو“ اور القانع والمعتر قناعت صفت غرباء اور مانگنے والے فقراء کا ذکر کیا گیا ہے۔ پرویز صاحب کی یہ ساری باتیں احکام حج سے اخذ کردہ نہیں بلکہ ان کے اپنے ذہن کی اختراع ہیں۔ اسی لیے انھوں نے حج میں عبادت کا پہلو بیان نہیں کیا اور مقاصد حج میں درج ذیل مقاصد پیش نظر نہیں رکھے، جو مندرجہ ذیل فرامین الہی سے واضح ہوتے ہیں۔ فرمایا:
وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ
”اور تاکہ معین دنوں میں ان چوپائے مویشیوں (کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام پڑھیں۔“
(22-الحج:28)
نیز فرمایا:
وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ
”اور تم بھوکے فقیر کو (قربانی کا گوشت) کھلاؤ۔“
(22-الحج:28)
اور فرمایا:
فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا
”لہذا اونٹوں (کو ذبح کرتے وقت ان) پر اللہ کا نام لو۔“
(22-الحج:36)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ
”اور قناعت کرنے والے اور (محتاج) سوال کرنے والے کو بھی ان کا گوشت کھلاؤ۔“
(22-الحج:36)
نیز فرمان الہی ہے:
وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ
”بلکہ اللہ تعالیٰ تک تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔“
(22-الحج:37)
اور ارشاد الہی ہے:
لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ
”تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمھیں ہدایت دی۔“
(22-الحج:37)
پرویز صاحب نے ان عظیم مقاصد کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ بالخصوص قابل ذکر بات یہ ہے کہ سائل کے سوال میں یہ جملہ موجود ہے کہ وہ (حج) کس طرح پورا ہوتا ہے۔ اس سوال کا جواب ان کی تحریر میں موجود ہی نہیں۔ حج کے ارکان اور وہ اعمال جو قرآن اور احادیث میں مذکور ہیں وہی فریضہ حج کا اصل مقصد ہیں۔ لیکن پرویز صاحب نے ان اعمال کا تذکرہ نہیں کیا۔
پرویز صاحب نے حج کا جو مقصد بیان کیا ہے وہ تو کسی زمانے میں بھی پورا نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔ ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک لوگ صرف رسمی حج ادا کرتے ہیں جن میں سے کسی کا بھی حج قبول نہیں بلکہ ان کے نزدیک مقاصد حج سے صراحتا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندے دین اسلام کے اس انتہائی اہم رکن سے بالکل چھٹی کر لیں۔
قربانی
دس ذوالحجہ کو حسب استطاعت کوئی حلال جانور (اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری) ذبح کرنا اور ذبح کے وقت بسم الله الله أكبر پڑھنا اور یہ سارا عمل اخلاص کے ساتھ کرنا۔ یہ عمل، خواہ منی میں ہو یا دیگر ممالک میں یہ ایک مالی عبادت ہے جو مال کی استطاعت کے ساتھ مشروط ہے۔ اس سے قطع نظر کہ یہ فرض ہے یا سنت مؤکدہ، یہ بات قطعی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مدنی زندگی میں کسی سال بھی اس عبادت کو مہمل جان کر نہیں چھوڑا۔ قرآن کریم میں اس کے لیے وانحر ”قربانی کرو“ (108-الکوثر:2) کا لفظ مذکور ہے۔
جبکہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ
”اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے تا کہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔“
(22-الحج:34)
احادیث میں اس عبادت کے لیے مشروط اوقات اور ذبح کرنے کا شرعی طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ لیکن پرویز صاحب نے اس قربانی کے متعلق اپنے فریب کارانہ ذہن کی وجہ سے تمام اہل اسلام کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ وہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: ”یہ بالکل درست ہے کہ حضرت خلیل اکبر اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے تذکار جلیلہ کے ضمن میں قرآن نے کہیں نہیں کہا کہ اس واقعہ عظیم کی یاد میں جانوروں کو ذبح کیا کرو حتی کہ اسماعیل علیہ السلام کی جگہ مینڈھا ذبح کرنے کا واقعہ بھی قرآن میں نہیں تورات میں ہے۔“
( قرآني فيصلے ، ص: 54)
یہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام کی اس قربانی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
”اور ہم نے ایک بڑی قربانی کے عوض اسے (اسماعیل کو) بچا لیا۔“
(37-الصافات:107)
لفظ فِدَاء کا معنی ہے کہ کسی کی جانب سے کچھ دے کر اسے مصیبت سے بچا لینا اور یہاں ذبح بمعنی مذبوح (ذبح کیا گیا) ہے۔ یہ بالکل صریح ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کے بدلے میں ایک عظیم شان والا مذبوح دیا گیا۔ اگر اس مذبوح کے نام کا ذکر قرآن میں نہ ہو اور تورات میں ہو تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
پرویز صاحب نے ذبح عظیم کا مفہوم تولیت بیت اللہ بیان کیا ہے۔
(قرآنی فیصلے ، ص : 97)
کیا کوئی عقل مند شخص یہ ماننے کے لیے تیار ہو گا کہ ذبح کا معنی تولیت ہے۔ یہ کس لغت اور کس محاورے میں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ صاحب تو تحریف میں یہود سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔
مزید لکھتے ہیں: مقام حج کے علاوہ کسی دوسری جگہ (اپنے اپنے شہروں میں) قربانی کے لیے کوئی حکم نہیں۔ تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں قربانی نہیں کی۔
(قرآنی فیصلے ، ص : 56)
پھر مزید یہ بھی لکھا ہے: اس لیے یہ ساری دنیا میں اپنے اپنے طور پر قربانی کرنا ایک رسم ہے۔
(قرآنی فیصلے ، ص : 56)
اس تحریر میں اعلانیہ اسلام دشمنی کا ثبوت دیا گیا ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ وہ تاریخ کی کون سی کتاب ہے جس میں لکھا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں کوئی قربانی نہیں کی۔ تمام کتب حدیث اور خصوصاً کتب ستہ میں تو صاف مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام بنام مدینہ میں قربانی کیا کرتے تھے، البتہ پرویز صاحب نے یہاں بھی تلبیس سے کام لیا ہے۔ وہ اس طرح کہ حج کے موقع پر جو قربانی کی جاتی ہے، قرآن وحدیث میں اسے ”ہدی“ کہتے ہیں اور وہ حج کے علاوہ کسی دوسری جگہ ثابت نہیں۔ دیگر شہروں میں جو قربانی کی جاتی ہے اسے ”أضحية“ اور ”أضاحي“ کہتے ہیں اور وہ بے شمار احادیث سے ثابت ہے، نیز قرآن کریم میں وانحر اور قربانی کیجیے۔ ( 108 – الكوثر: 2) کے لفظ سے ثابت ہے۔
پرویز صاحب مزید لکھتے ہیں: ”سارے قرآن میں ایک جگہ بھی نہیں کہ مکہ کے علاوہ کسی اور جگہ قربانی کی جائے گی۔ قربانی کا لفظ بھی قرآن میں نہیں۔“ (قرآنی فیصلے ، ص : 56) یہ تو بالکل جہالت ہے، لگتا ہے پرویز صاحب نے قرآن دیکھا ہی نہیں۔
قرآن کریم میں ہے:
إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ
”جب ان دونوں (آدم علیہ السلام کے بیٹوں) نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی تو قبول ہو گئی مگر دوسرے کی قبول نہ ہوئی۔“
(5-المائدة:27)
اس آیت سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوئیں:
➊ قربانی کا لفظ ”قربانا“ قرآن کریم میں ہے اور قربانی کا لفظ اس کا عجمی معنی ہے۔
➋ قربانی کا عمل آدم علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہوا۔
➌ صرف مکہ میں قربانی کی تخصیص کا کوئی ثبوت نہیں۔
➍ اس آیت کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں قربانی کی قبولیت کا طریقہ یہ تھا کہ آسمان سے آگ آتی اور اس قربانی کو جلا دیتی۔ یہ بظاہر مال کا ضیاع اور بربادی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی جانب سے قبولیت کا ایک اشارہ تھا۔
دوسری آیت میں فرمایا:
الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١٨٣﴾
”جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بے شک اللہ نے ہم سے عہد لے رکھا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں حتی کہ ہمارے پاس ایسی قربانی لے آئے جسے آگ کھا جائے، ان سے کہہ دیجیے: مجھ سے پہلے کئی رسول کھلی نشانیاں اور وہ چیز لے کر تمھارے پاس آئے جو تم نے (مجھے) کہی۔“
(3-آل عمران:183)
اس آیت میں مندرجہ ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں۔
➊ سابقہ امتوں میں بھی قربانی کا طریقہ تھا۔
➋ بقربان (قربانی) کا لفظ قرآن میں موجود ہے۔
➌ قربانی کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا جسے انبیاء علیہم السلام اور ان کی امتیں بجا لاتیں۔
➍ اس کی قبولیت کی علامت یہ تھی کہ آگ اسے کھا جاتی۔ بظاہر یہ مال کا ضیاع تھا۔
پرویز صاحب مزید لکھتے ہیں: ”اگر حکومت عادل کو یہ رقم (قربانی کی رقم اکٹھی کر کے) دے دی جائے تو حکومت بڑے مفید کام کر سکتی ہے۔“
یہاں ہم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جب آپ قربانی کا حکم ہی نہیں مانتے تو پھر اس طرح کا مشورہ دینے کی کیا ضرورت ہے اور آپ نے یہ موقف قرآن کریم کی کون سی آیت سے اخذ کیا ہے؟ پرویز صاحب کی یہ عجیب و غریب منطق ملاحظہ فرمائیں کہ ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو حجت نہیں مانتے لیکن دوسری طرف اپنے مقصد کے لیے انھوں نے ایک جگہ المحلی میں مذکور بلال بھی ان کے سند ضعیف قول سے اور صاحب ہدایہ کے قول سے استدلال کیا ہے۔
ان مثالوں سے صریحاً ثابت ہو گیا کہ قرآن کے اوامر پر عمل کرنا علم حدیث پر منحصر ہے۔ ہم نے صلاۃ، زکاۃ، حج اور قربانی کے احکام قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیے ہیں۔ اگر ان احکام کی شرح میں وارد احادیث حجت نہیں تو پھر ان احکام قرآنی کی تعمیل کس طرح ہوگی؟ اب ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی شرح موجود ہے اور دوسری طرف پرویز صاحب کی تحریفات اور تاویلات سے ان عبادات کے خود ساختہ معانی اور عملی طریقے ہیں۔ کیا کوئی مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر پرویز صاحب کے دجل و فریب کو ترجیح دے سکتا ہے؟ اگر کوئی ترجیح دیتا ہے تو یہ صریح کفر ہوگا۔ نعوذ بالله من ذلك.