قربانی کے گوشت کا مصرف
قربانی کا گوشت خود کھانا، عزیز و اقارب کو کھلانا، صدقہ کرنا، ذخیرہ کرنا اور زادِ راہ بنانا جائز و مباح ہے۔ ان تمام صورتوں کے جواز کے دلائل درج ذیل ہیں۔
①ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾
”اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمھارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے، تمھارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔ سو ان پر اللہ کا نام لو، اس حال میں کہ گھٹنا بندھے کھڑے ہوں، پھر جب ان کے پہلو گر پڑیں تو ان سے کچھ کھاؤ اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ اور مانگنے والے کو بھی۔“
سورة الحج: 36
② اللہ تعالیٰ قربانی کے جانوروں کے گوشت کی تقسیم کے متعلق دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:
﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾
”سو تم اس سے کچھ کھاؤ اور تنگ دست فقیر کو کھلاؤ۔“
سورة الحج: 28
③ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے گوشت کے متعلق فرمایا:
كلوا وأطعموا وادخروا
”قربانی کا گوشت کھاؤ، کھلاؤ، اور ذخیرہ کرو۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحي، باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي: 5569۔ صحیح مسلم، کتاب الأضاحي، باب بيان ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث في أول الاسلام: 1974۔
④ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے استفسار پر کہ تین دن سے زائد قربانیوں کا گوشت ذخیرہ کرنا جائز ہے، فرمایا:
إنما نهيتكم من أجل الدافة التى دفت عليكم، فكلوا وتصدقوا وادخروا
”میں نے تو تمھیں (قربانیوں کا گوشت تین دن سے زائد ذخیرہ کرنے سے) نادار لوگوں کی مفلوک الحالی کی وجہ سے منع کیا تھا سو اب تم قربانیوں کا گوشت کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو۔“
صحیح مسلم، کتاب الأضاحي، باب بيان ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث: 1971۔ سنن أبي داود، کتاب الضحايا، باب جنس لحوم الأضاحي: 2812۔ سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب الادخار من الأضاحي: 4432۔
فوائد:
مذكورہ دلائل کی رو سے قربانی کا گوشت خود کھانا، فقراء و مساکین، اور عزیز و اقارب کو کھلانا، صدقہ کرنا اور ذخیرہ کرنا جائز و مباح ہے۔
صاحبِ قربانی پر گوشت کھانا واجب نہیں
قربانی کرنے والے پر قربانی کا گوشت کھانا واجب ہے یا مستحب، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض اہل علم (ابو طیب بن سلمہ وغیرہ) کے نزدیک قربانی کرنے والے پر قربانی کا گوشت کھانا واجب ہے، ان کے دلائل یہ آیات ہیں۔
﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ﴾
”سو تم اس سے کچھ کھاؤ اور تنگ دست فقیر کو کھلاؤ۔“
سورة الحج: 28
ارشادِ ربانی ہے:
﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾
”تم قربانیوں سے کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے کو بھی کھلاؤ۔“
سورة الحج: 36
قربانی کا گوشت کھانے کے وجوب کے قائلین کے نزدیک ان آیات میں قربانی سے کھانے کا حکم وجوب کا متقاضی ہے اور بعض اہل علم کے نزدیک قربانی سے کھانا واجب ہے اور اس حکم کی وجہ سے تمام قربانی صدقہ کرنا ناجائز ہے۔
المغنى مع الشرح الكبير: 811/11۔
راجح موقف:
قربانی کا گوشت کھانا جائز، مباح اور مستحب ہے، واجب نہیں؛ کیونکہ مفسرین کے نزدیک مذکورہ آیات میں قربانی سے کھانے کا حکم وجوب کے لیے نہیں بلکہ اباحت و استحباب کے لیے ہے۔
① حافظ ابن جریر طبری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
فكلوا منها ”قربانیوں سے کھاؤ۔“
یہاں قربانیوں سے کھانے کا حکم اباحت کے لیے ہے، وجوب کے لیے نہیں۔
② حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بعض علماء نے ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾ سے استدلال کیا ہے کہ قربانیوں کے گوشت سے کھانا واجب ہے، یہ غریب و شاذ قول ہے اور اکثر علماء کا مذہب ہے کہ یہ حکم رخصت و استحباب کے لیے ہے (وجوب کے لیے نہیں)۔
تفسیر ابن کثیر: 240/3۔
③ امام قرطبی رحمہ اللہ ﴿فَكُلُوا مِنْهَا﴾ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ جمہور علماء کے نزدیک یہاں امر استحباب کے لیے ہے اور ہدی اور قربانی سے کھانا اور اکثر گوشت صدقہ کرنا مستحب ہے، نیز تمام قربانی صدقہ کرنا اور تمام گوشت کھانا بھی جائز ہے۔
تفسیر قرطبی: 44/12۔
نیز حافظ ابن جوزی نے زاد المسیر (426/5) اور قاضی شوکانی رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔
④ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قربانی کا گوشت کھانا مستحب ہے، واجب نہیں۔ شافعیہ اور جمیع علماء کا بھی یہی موقف ہے، ماسوائے ابو طیب بن سلمہ کے کہ وہ وجوب کے قائل تھے۔
شرح النووى: 13/13۔
⑤ عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ یا سات اونٹ نحر کیے، پھر جب وہ گر پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ آواز سے بات کی، جسے میں سمجھ نہ سکا، راوی نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ تو عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من شاء اقتطع ”جو چاہے (ان سے گوشت) کاٹ لے۔“
صحیح: سنن أبي داود: 1765۔ مسند أحمد: 35/40۔ صحیح ابن خزیمہ: 2917۔ مستدرک حاکم: 221/4۔
فوائد:
ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے کہ قربانی کا گوشت کھانا مستحب ہے، واجب نہیں، نیز قربانی چونکہ ثوابِ الٰہی کے حصول کے لیے کی جاتی ہے اس لیے عقیقہ کی مثل اس سے کھانا واجب نہیں اور آیت میں مذکورہ قربانی سے کھانے کا حکم استحباب و اباحت کے لیے ہے۔
المغنى مع الشرح الكبير: 110/11۔