قبر کو میلہ گاہ بنانے کی ممانعت صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

قبر پر میلے سے ممانعت

سنن ابی داؤد میں ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں جن میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لا تتخذوا قبرى عيدا وصلوا على حيثما كنتم فإن صلوتكم تبلغنى
”میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنا لینا اور جہاں بھی تم ہو مجھ پر درود بھیجتے رہو، تمہارا درود مجھ تک پہنچا دیا جائے گا۔“
(سنن ابى داؤد كتاب المناسك: باب زيارة القبور، حديث: 2042)
موطا مالک میں مروی حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لا تجعل قبرى وثنا يعبد اشتد غضب الله على قوم اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد
”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بننے دینا کہ جس کی پوجا شروع ہو جائے۔ اس قوم پر اللہ کا غضب نازل ہوا جس نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔“
(موطا امام مالك 172/4 كتاب قصر الصلاة فى السفر، مسند احمد 246/2)

حضرت علی کے پڑپوتے کی اندلسی کو فہمائش

سنن سعید بن منصور میں یہ واقعہ منقول ہے کہ عبد اللہ بن حسن بن حسن بن علی بن ابو طالب، جو حسینی خاندان اور خلافت منصور کے دور میں تبع تابعین میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، وہ خود کہتے ہیں:
رأى رجلا يكثر الاختلاف إلى قبر النبى فقال: يا هذا إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تتخذوا قبرى عيدا وصلوا على حيثما كنتم فإن صلوتكم تبلغنى فما أنت ورجل بالأندلس إلا سواها
”انہوں نے ایک شخص کو بار بار قبر مکرم کے پاس آتے جاتے دیکھا۔ انہوں نے کہا: اے فلاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنا لینا اور جہاں بھی تم ہو مجھ پر درود بھیجتے رہو۔ تمہارا درود مجھ تک پہنچا دیا جائے گا لہذا تم اور اندلس میں رہنے والا شخص برابر ہو۔“
فضل الصلاة على النبي صلی اللہ علیہ وسلم (3020)