مضمون کے اہم نکات
فوت شدہ کی طرف سے قربانی کرنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے وقت دعا میں کہا کرتے تھے:
❀ ”اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد کی طرف سے قبول فرما۔ “
(صحیح مسلم: 1966، 1967، 1965سنن ابوداؤد: 2792)
❀ ”اے اللہ! یہ (قربانی) تیری ہی عطا کردہ ہے اور تیرے ہی لیے ہے، (تو) اسے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما۔“
(سنن ابوداؤد: 2795، سنن ابن ماجہ: 3121، مسند احمد: 3/375)
وضاحت:
اگر میت اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات دیتی رہی ہو تو میت کی طرف سے صدقہ کرنا جائز ہے۔ لہذا میت کی طرف سے قربانی بھی کی جا سکتی ہے۔
قربانی کے جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا
قربانی کے جانور کو خود ذبح کرنا افضل ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے قربانی کے جانور ”نحر“ یا ”ذبح“ کیا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری: 5565،7399 صحیح مسلم: 1967 سنن ابوداؤد: 2792 – 2795 سنن ترمذی: 1494، سنن ابن ماجہ: 3121)
قربانی نیابتاً کسی سے ذبح کروانا
قربانی کے جانور کو نیابتاً بھی کسی سے یا قصاب سے ذبح کرایا جا سکتا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 37 اونٹ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نحر کروائے۔
(صحیح مسلم: 1218 سنن ابن ماجہ: 3074، سنن ابوداؤد: 1764، مسند احمد: 1/159)
قصاب کو کھال یا گوشت اجرت میں دینا جائز نہیں
قصاب کو بطور اجرت ذبیحہ کا گوشت یا کھال دینا جائز نہیں۔ اسے مزدوری علیحدہ سے دی جائے۔
(صحیح بخاری: 1716، صحیح مسلم: 1317 سنن ابوداؤد: 1769، سنن ابن ماجہ: 3099)
پورے کنبے کی طرف سے قربانی
ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے جہاں ایک ہی جگہ کھانا پکتا ہو، گھر کے سربراہ کی طرف سے دی ہوئی قربانی گھر کے باقی افراد کے لیے کفایت کر جاتی ہے۔
(سنن ابن ماجہ: 3147، سنن ترمذی: 1505)
چھترا یا گائے ذبح کرتے وقت چھری کہاں پھیری جائے؟
چھترا / بکرا، دنبہ اور گائے ذبح کرنے کی جگہ حلق اور لبہ ہے۔
(صحیح بخاری: قبل از حدیث 5510)
اونٹ کی قربانی کیسے کرنی چاہیے؟
اونٹ یا اونٹنی کو کھڑا کر کے، اس کا ایک پاؤں (بایاں) باندھ کر نحر کرنا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
(صحیح بخاری: 1713، صحیح مسلم: 1320، سنن ابوداؤد: 1768)
قربانی کے جانور کے پیٹ کے بچے کا مسئلہ
قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے بعد اگر اس کے پیٹ سے مکمل بچہ نکل آئے (اور وہ مر چکا ہو) تو فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ”اگر چاہو تو کھا لو، بلاشبہ اس کی ماں کا ذبح کرنا ہی اس کے لیے ذبح ہے۔“
(سنن ابوداؤد: 2828، سنن ترمذی: 1476، سنن ابن ماجہ: 3199)
وضاحت:
قربانی کے جانور کے پیٹ سے بچہ زندہ نکل آئے تو قربانی مکمل کرنے کے لیے اسے بھی لازماً ذبح کرنا ہو گا۔
ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول جانا
ذبح کرتے وقت اگر بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو ایسا جانور حلال ہے، کیونکہ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھول چوک معاف ہے۔
(سنن ابن ماجہ: 2043 – 2045)
وضاحت:
کیونکہ نیت خالص اللہ کی رضا کے لیے قربانی کرنا ہے۔
ذبح کرتے وقت گردن علیحدہ ہو جانا
ذبح کرتے وقت چھری کی تیزی کی وجہ سے اگر گردن علیحدہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔
(صحیح بخاری: قبل از حدیث 5510)
قربانی کی کھالیں
قربانی کی کھالوں کا مصرف بھی وہی ہے جو کہ زکوٰۃ کا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جھول اور چمڑے کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
(صحیح بخاری: 1707،1716 صحیح مسلم: 1310 سنن ابوداؤد: 1769، سنن ابن ماجہ: 3099)
کیا غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے؟
غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ
”پھر اس میں سے (خود بھی) کھاؤ اور قناعت کرنے والے (محتاج) کو اور مانگنے والے (محتاج) کو بھی کھلاؤ۔“
(22-الحج:36)