اوجھڑی کھانے کا شرعی حکم کیا ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

اوجھڑی حلال ہے

مشہور ثقہ تابعی امام محمد بن المنکد رحمہ اللہ سے روایت ہے:
دخلت على فلانة – بعض أزواج النبى ما قد سماها و نسيت – قالت: دخل على رسول الله و عندي بطن معلق فقال: طبخت لنا من هذا البطن كذا وكذا قالت: فصنعناه فأكل و لم يتوضأ.
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے فلانی کے پاس گیا۔ انھوں (محمد بن المنکد) نے نام بیان کیا تھا، لیکن میں (عمارہ بن زاذان) بھول گیا۔ انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس اوجھڑی (وغیرہ) تھی جو لٹک رہی تھی۔ پھر آپ نے فرمایا: اگر تم اس اوجھڑی میں سے ہمارے لئے کچھ اس طرح اس طرح پکا دو۔ انھوں نے فرمایا: پھر میں نے ایسا ہی کیا (یعنی اوجھڑی پکائی) تو آپ نے کھایا، اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔
(شرح معانی الآثار 103/1، وسندہ حسن، عمارہ بن زاذان حسن الحدیث، وثقه الجمهور، نخب الافکار 2/25-26، نسخہ اخری: 387/1-388 وقال: إسناده صحیح) (ماہنامہ اشاعت الحدیث حضرو، شمارہ 93، صفحہ 27)
علامہ عینی بطن معلق کی شرح میں فرماتے ہیں: وأراد بالبطن ما يحتوي عليه البطن من الأحشاء اور بطن سے پیٹ کے ساتھ ملی اوجھڑی وغیرہ مراد ہے۔ (نخب الافکار: 1/388) علامہ عینی کی اسی توضیح کو مد نظر رکھتے ہوئے بطن کا ترجمہ اوجھڑی کیا گیا ہے۔