تکبیرات کا بیان
عشرہ ذوالحجہ میں تکبیرات کا آغاز و اختتام:
عشرہ ذوالحجہ میں تکبیرات کا آغاز و اختتام کب کیا جائے، اس بارے میں علماء کے مختلف اقوال و مذاہب ہیں:
① احمد بن حنبل، ابو یوسف اور امام محمد کا موقف ہے کہ تکبیرات کا محل عرفہ (نو ذوالحجہ) کی فجر سے لے کر ایام تشریق (تیرہ ذوالحجہ) کے آخر تک ہر نماز کے بعد ہے۔
② سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، زید بن علی رضی اللہ عنہ، امام مالک کا قول اور امام شافعی کا ایک قول ہے کہ تکبیرات کا وقت دس ذوالحجہ کی ظہر سے لے کر تیرہ ذوالحجہ کی فجر تک ہے۔
③ امام شافعی کا ایک قول یہ بھی ہے کہ تکبیرات کا وقت دس ذوالحجہ کی نماز مغرب سے لے کر تیرہ ذوالحجہ کی فجر تک ہے۔
④ امام ابو حنیفہ کہتے ہیں: تکبیرات کا وقت عرفہ، نو ذوالحجہ کی فجر سے لے کر دس ذوالحجہ کی عصر تک ہے۔
نيل الأوطار : 333/3.
⑤ داؤد ظاہری، زہری اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ تکبیرات کا وقت دس ذوالحجہ کی ظہر سے تیرہ ذوالحجہ کی عصر تک ہے۔
راجح موقف:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عید الاضحیٰ کے دنوں میں تکبیرات کی تعیین کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح منقول اقوال کی رو سے راجح ترین موقف یہ ہے کہ تکبیرات کا وقت عرفہ (نو ذوالحجہ) کی صبح سے لے کر منیٰ کے آخری دن (تیرہ ذوالحجہ) کی عصر تک ہے۔
فتح الباري : 595/2.
اس موقف کے قرین صواب ہونے کے دلائل حسب ذیل ہیں:
① عمر بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ:
كان يكبر من صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق
”عرفہ کے دن نماز فجر سے لے کر تشریق کے آخری دن (تیرہ ذوالحجہ) کی عصر تک تکبیرات کہتے تھے۔“
صحيح : مصنف ابن ابي شيبة.
② حکم بن فروخ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن ابن عباس كان يكبر من غداة عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق
”بلاشبہ ابن عباس رضی اللہ عنہ عرفہ (نو ذوالحجہ) کی صبح سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن (تیرہ ذوالحجہ) کی نماز عصر تک تکبیرات کہا کرتے تھے۔“
صحيح : مستدرك حاكم : 289/1 ۔ سنن بیهقی : 314/3.
امام اوزاعی رحمہ اللہ کا فتویٰ:
ولید بن مزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ سے عرفہ کے دن تکبیرات کہنے کے بارے میں سوال ہوا تو انھوں نے کہا:
يكبر من غداة عرفة إلى آخر أيام التشريق كما كبر على وعبد الله
”یوم عرفہ کی صبح سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن (کی نماز عصر) تک تکبیرات کہی جائیں جیسے (ان دنوں میں) علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تکبیرات کہی ہیں۔“
حسن : مستدرك حاكم : 300/1 ، عباس بن ولید بن مزید صادق راوی ہے۔
ضعیف روایات کی نشاندہی:
یوم عرفہ کی صبح سے لے کر تیرہ ذوالحجہ کی عصر تک تکبیرات کے بارے میں جتنی مرفوع روایات منقول ہیں، وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں۔
① سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى الصبح من غداة عرفة يقبل على أصحابه فيقول: على مكانكم ويقول: الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله والله أكبر ولله الحمد، فيكبر من غداة عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یوم عرفہ کی صبح نماز فجر ادا کرتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرماتے، اپنی جگہوں پر قائم رہو اور یہ کلمات اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر وللہ الحمد کہتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کی صبح سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک تکبیرات کہتے رہتے تھے۔“
ضعيف جداً : دار قطنی : 1719 ، ارواء الغليل : 124/3 ، اس حدیث کی سند میں عمرو بن شمر متروک راوی اور جابر جعفی ضعیف راوی ہے۔
② سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر فى صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق حين يسلم من المكتوبات
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ کے دن نماز فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک فرض نمازوں سے سلام کے بعد تکبیرات کہا کرتے تھے۔“
ضعيف جدا : دارقطنی : 1718/2 : 49۔
اس میں عمرو بن شمر متروک ہے اور جابر جعفی ضعیف و کذاب راوی ہے۔ اس بارے کئی اور ضعیف روایات بھی ہیں لیکن بخوف طوالت انھیں بیان کرنے سے اجتناب کیا گیا ہے۔