زوجین کے باہمی تعلقات اور حیض کے احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

زوجین کے باہمی تعلقات

قرآن کریم نے نکاح کے مقاصد نہایت مہتم بالشان طریقہ پر بیان کیے ہیں۔ یہ وہ ستون ہیں جن پر ازدواجی زندگی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جنسی اضطراب کی جگہ زوجین کے درمیان پیار و محبت اور سکونِ نفس، بیوی اور شوہر کے خاندانوں کے درمیان مودت و الفت کے تعلقات، انسانی ہمدردی اور مشفقانہ جذبات کا مکمل ظہور اور والدین کی حیثیت میں اولاد کے ساتھ جذباتی وابستگی وغیرہ وہ مقاصد ہیں جو رشتہ نکاح کے ذریعہ مطلوب ہیں۔ ان مقاصد کی طرف سورہ روم کی درج ذیل آیت اشارہ کر رہی ہے :
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تا کہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان مودت و رحمت پیدا کی۔ یقیناً اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔“
(سورہ الروم : 21)
مذکورہ مقاصد کے علاوہ قرآن نے حسی پہلو اور زوجین کے درمیان جسمانی تعلق کو بھی نظر انداز نہیں کیا ہے بلکہ اس معاملہ میں بھی بالکل سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کی ہے جس پر چل کر انسان گندے اور غلط طریقوں سے بچتے ہوئے اپنی فطری خواہش کو پورا کر سکتا ہے۔ روایتوں میں آیا ہے کہ یہود اور مجوسی عورتوں سے حالت حیض میں کنارہ کشی اختیار کرنے کے معاملہ میں بڑا غلو کرتے تھے اور نصاری حیض کی پرواہ کیے بغیر عورتوں سے مجامعت کرتے تھے، رہے اہل جاہلیت تو وہ حائضہ کے ساتھ نہ کھاتے پیتے تھے اور نہ اُٹھتے بیٹھتے تھے بلکہ اس کو گھر سے باہر نکال دیتے تھے۔ ان کا سلوک بالکل یہودیوں اور مجوسیوں جیسا تھا۔
اس صورت حال کے پیش نظر بعض مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حائضہ کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جائے؟ اس معاملہ میں حلال کیا ہے اور حرام کیا؟ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ
وہ تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو وہ گندگی ہے۔ اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان سے قربت نہ کرو جب تک کہ وہ پاک نہ ہو جائیں، پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ اس طرح جس طرح کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
(سورہ البقرة : 222)
حيض میں عورتوں سے علیحدہ رہنے کا مطلب بعض بدوؤں نے یہ سمجھا کہ ان کے ساتھ رہنا سہنا جائز نہیں ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کا مفہوم واضح کرتے ہوئے فرمایا :
”میں نے تمہیں عورتوں سے حالت حیض میں مجامعت (مباشرت، ہمبستری) سے باز رہنے کا حکم دیا تھا۔ عجمیوں کی طرح انہیں گھر سے نکالنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ جب یہودیوں نے یہ بات سنی تو کہا : اس شخص نے ہر معاملہ میں ہماری مخالفت کرنے کی ٹھان لی ہے۔“
تفسیر رازی ج 2 ص : 66 ، قال الشيخ الالبانى لم اجده بهذا السياق في شتى من الكتب السنة التي عندي و قريب منه ماذكره السيوطي في الدر المنثور : 258/1 من تخريج ابن أبي حاتم : 4012 عن ابن عباس. واخرجه مسلم في كتاب الحيض باب جواز غسل الحائض رأس زوجها ح : 302 بلفظ مختلف عن انس بن مالك رضى الله عنه، غاية المرام : 148-149
مسلمان اپنی بیوی سے حالت حیض میں متمتع (فائدہ مند) ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ حیض کی جگہ سے دور رہے۔ اس طرح اسلام نے جیسا کہ اس کا مستقل اصول ہے دو انتہاؤں کے درمیان اعتدال کا موقف اختیار کیا۔ یعنی حائضہ سے اس قدر دوری بھی نہیں کہ اس کو گھر سے نکال دیا جائے اور اس حد تک اختلاط بھی نہیں کہ مجامعت کو جائز سمجھ لیا جائے۔
جدید علم طب نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ حیض کے خارج شدہ خون میں ایک قسم کا مسموم مادہ ہوتا ہے جو اگر جسم کے اندر رہ جائے تو مضر (صحت) ہوتا ہے۔ اسی طرح حالت حیض میں جماع سے اجتناب کرنے کے راز پر سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔ چنانچہ عورت کے صنفی اعضاء دوران حیض خون کے مجتمع ہونے کی وجہ سے سکڑے ہوئے ہوتے ہیں اور اعصاب داخلی غدود کے سیلان کے باعث حالت اضطراب میں ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں جنسی اختلاط اس کے لیے مضر ہوتا ہے اور کبھی حیض کی رکاوٹ کا سبب بن جاتا ہے جس سے اسے اعصابی تکلیف ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض اوقات صنفی اعضاء میں سوزش بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
ملاحظہ ہو : الاسلام والطب الحدیث از ڈاکٹر عبد العزيز اسمعيل مرحوم