قربانی کا جانور ذبح کرنے کے آداب احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

ذبح کرنے کے آداب

قربانی کو اچھے طریقے سے ذبح کرنا:

قربانی کو اچھے طریقے سے ذبح کرنا کہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو اور ذبح سے قبل چھری کو خوب تیز کرنا تاکہ آسانی سے جانور ذبح ہو جائے مستحب و مسنون فعل ہے۔
① سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں:
ينتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته، فليرح ذبيحته
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے دو خصلتیں یاد کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے اچھا برتاؤ کرنا فرض قرار دیا ہے، چنانچہ جب تم (مقتول کو) قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم جانور ذبح کرو تو ذبیحے کو عمدہ طریقے سے ذبح کرو، تم ذبح سے قبل چھری خوب تیز کر لو اور ذبیحہ کو راحت پہنچاؤ۔“
صحيح مسلم، كتاب الصيد والذبائح، باب الامر باحسان الذبح والقتل: 1955. سنن أبی داود کتاب الضحايا، باب في النهى عن ان تصبر البهائم: 3814۔ جامع ترمذي، کتاب الديات باب ما جاء في النهي عن المثلة: 1409۔ سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب الأمر بإحداد الشفرة: 4410۔ سنن ابن ماجه، ابواب الذبائح، بأن اذا ذبحتم فأحسنو الذبح: 3170۔ مسند أحمد: 122/4۔

فوائد:

① امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ چھری تیز کرنے اور تیزی سے چھری پھیرنے سے ذبیحہ کو راحت پہنچائی جائے (کیونکہ کند چھری اور آہستہ چھری چلانا ذبیحہ کی تکلیف و تعذیب کا باعث بنتا ہے)۔
شرح النووى 107/13۔
② ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حدیثِ الباب کی رو سے تیز چھری سے جانور ذبح کرنا مستحب فعل ہے۔
المغنى مع الشرح الكبير : 47/11۔
③ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قربانی ذبح کرنے سے قبل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو چھری تیز کرنے کا حکم دینا بھی اس عمل کے استحباب پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ذبح کرنے سے قبل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا:
هلمي المدية ثم قال: إشحذيها بحجر، ففعلت، ثم أخذها وأخذ الكبش فأضجعه، ثم ذبحه
”چھری لاؤ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پتھر پر تیز کرو۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حکم کی تعمیل کی اور ازاں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈھا پکڑ کر اسے لٹایا، پھر اسے ذبح کیا۔“
صحيح مسلم، كتاب الأضاحی، باب استحباب استحسان الضحية: 1967۔ سنن ابی داؤد، کتاب الضحايا، باب ما يستحب من الضحايا: 2792۔ صحیح ابن حبان: 5915۔ سنن بیهقی: 267/9۔

جانور کے سامنے چھری تیز کرنا:

جس جانور کو ذبح کرنا مقصود ہو، ذبح کرنے سے قبل اس کے سامنے چھری تیز کرنا مکروہ فعل ہے، کیونکہ یہ عمل اس کی تکلیف کا باعث ہے، لہذا اس کو لٹانے سے قبل اس کی آنکھوں سے اوجھل چھری تیز کی جائے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أن رجلا أضجع شاء يريد أن يذبحها وهو يحد شفرته، فقال النبى صلى الله عليه وسلم: أتريد أن تميتها موتات، هلا حددت شفرتك قبل أن تضجعها
ایک آدمی نے بکری کو لٹایا، وہ اسے ذبح کرنا چاہتا تھا جب کہ وہ اسے لٹا کر چھری تیز کر رہا تھا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اسے کئی موتیں مارنا چاہتا ہے؟ تو نے اسے لٹانے سے قبل چھری تیز کیوں نہیں کی؟“
صحیح: مستدرك حاكم: 231/4۔ سنن بیهقی: 280/9۔

فوائد:

① امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ذبح کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ مذبوح جانور کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے۔
شرح النووى: 107/13۔
② ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جانور کے سامنے چھری تیز کرنا مکروہ فعل ہے۔
المغنى مع الشرح الكبير: 47/11۔

ذبیحہ کو دوسرے جانوروں سے چھپا کر ذبح کرنا:

جانوروں کو ایک ساتھ یا ایک دوسرے کے سامنے ذبح کرنا جائز عمل ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن قرطبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
وقرب لرسول الله صلى الله عليه وسلم بدنات خمس أو ست فطفقن يزدلفن إليه بأيتهن يبدأ
(یومِ نحر) کو پانچ یا چھ اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کیے گئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ذبح کریں، تو وہ اونٹ از خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسے پہلے ذبح کرتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذبح کیا۔
صحيح سنن أبي داود، كتاب المناسك، باب: 1765۔ مسند أحمد: 35/4۔ صحیح ابن خزیمه: 2917۔ مستدرك حاكم: 221/4۔ سنن بیهقی: 25/5۔

فوائد:

یہ حدیث دلیل ہے کہ قربانی و غیر قربانی کے جانوروں کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح کرنا جائز ہے اور یہ عمل مکروہ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ عمل اگر جانوروں کی تکلیف و تعذیب کا باعث بنتا تو رحمۃ للعالمین اس عمل سے ضرور گریز کرتے ، نیز جس روایت سے یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ ایک جانور کے سامنے دوسرا جانور ذبح کرنا مکروہ ہے، وہ روایت ضعیف ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں:
أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بحد الشفار وأن توارى من البهائم وقال: إذا ذبح أحدكم فليجهز
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح سے قبل چھری تیز کرنے اور ذبیحہ کو دوسرے جانوروں سے چھپا کر ذبح کرنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ذبح کرو تو تیزی سے چھری چلاؤ۔“
ضعيف : سنن ابن ماجه، کتاب ابواب الذبائح، باب إذا ذبحتم فأحسنو الذبح: 3172۔ مسند احمد: 108/2۔۔ طبرانی کبیر: 12966۔ سنن بیهقی: 430/10۔ اس حدیث میں عبد اللہ بن لھیعہ اور امام زہری کی تدلیس ہے ۔