شرعی ذبح کا طریقہ اور حلال جانوروں کی شرائط

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

ذبح کرنے کا شرعی طریقہ :

سمندری جانور سب حلال ہیں :

اپنے مسکن و مستقر کے لحاظ سے جانوروں کی دو قسمیں ہیں : بحری اور بری۔
بحری جانور جو پانی کے اندر رہتے ہیں اور پانی ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں، سب حلال ہیں جس حالت میں بھی پائے جائیں۔ خواہ پانی سے زندہ نکالے گئے ہوں یا مردہ، سطحِ آب پر تیرتے ہوئے پائے جائیں یا اس کے علاوہ مچھلی ہو یا سمندری کتا، سمندری خنزیر ہو یا کوئی اور جانور سب یکساں طور پر جائز ہیں اور اس سلسلہ میں اس بات کا بھی اعتبار نہیں کہ ان کو پکڑنے والا مسلمان ہے یا غیر مسلم۔ سمندر اور دریا کے تمام جانوروں کو مباح کر کے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بڑی وسعت فرمائی ہے چنانچہ فرمایا :
وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا
”اس نے سمندروں کو مسخر کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ۔“
(سورۃ النحل : 14)
نیز فرمایا :
أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ
”تمہارے لیے سمندری شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا۔ یہ تمہارے فائدے کے لیے ہے اور قافلہ والوں کے لیے (زادِ راہ) بھی۔“
(سورۃ المائدہ : 96)

حرام بری جانور :

جہاں تک بری جانوروں کا تعلق ہے تو قرآن نے اجمالاً چار چیزوں کو اور تفصیل کے ساتھ دس چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے، جن کا بیان اس سے پہلے گزر چکا ہے اور قرآن کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان بھی بیان فرمائی ہے :
وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ
”یہ رسول ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال ٹھہراتا ہے اور خبیث چیزیں حرام کرتا ہے۔“
(سورۃ الاعراف : 157)
خبیث وہ چیزیں ہیں جن کو بحیثیت مجموعی لوگ عام ذوق کے لحاظ سے گندہ خیال کرتے ہیں، قطع نظر اس سے کہ کچھ افراد ان کو پسند کرتے ہوں۔
اس قبیل کی ایک چیز پالتو گدھے کا گوشت ہے۔ حدیث میں آتا ہے :
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل لحوم الحمر الأهلية يوم خيبر
(صحيح البخاري، كتاب الذبائح والصيد، باب لحوم الحمر الإنسية، رقم الحديث: 45524؛ صحيح مسلم، كتاب الصيد والذبائح، باب في أكل لحوم الخيل، رقم الحديث: 1941، سنن أبي داؤد، كتاب الأطعمة، باب في أكل لحوم الخيل، رقم الحديث: 3788، مسند أحمد بن حنبل، 356/3، رقم الحديث: 14840، إرواء الغليل للألباني، 137/8، رقم الحديث : 2484)
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔“
اور اسی سے متعلق صحیحین کی یہ حدیث ہے:
نهى عن كل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی والے درندوں اور پنجہ سے کھانے والے پرندوں کو کھانے کی ممانعت فرمائی ہے۔“
(صحيح مسلم كتاب الصيد والذبائح، باب تحريم أكل كل ذي ناب من السباع، رقم الحديث: 1934 ، صحيح البخاري، كتاب الذبائح والصيد، باب أكل كل ذي ناب من السباع، رقم الحديث: 533، بدون لفظ وكل ذي مخلب من الطير ، سنن أبي داؤد، كتاب الأطعمة، باب ما جاء في أكل السباع، رقم الحديث: 3803، صحيح ابن حبان، 12/85، رقم الحديث: 65280، مسند أحمد بن حنبل، 1/244، رقم الحديث: 2192)
سباع (درندہ) سے مراد زبردستی پھاڑ کھانے والا جانور ہے جیسے شیر، چیتا، بھیڑیا وغیرہ۔ اور پنجہ والے پرندوں سے مراد وہ پرندے ہیں جو ناخن سے شکار کرتے ہوں۔ جیسے گدھ، باز، شکرہ، چیل وغیرہ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مسلک یہ ہے کہ قرآن میں جو چار چیزیں مذکور ہیں ان کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں۔ غالباً ان کے نزدیک درندوں وغیرہ کی ممانعت والی احادیث سے کراہت کا حکم نکلتا ہے نہ کہ حرمت کا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان تک یہ حدیثیں نہ پہنچی ہوں۔
(بخاري، كتاب الذبائح، باب لحوم الحمر الإنسية، ح 5529 ، أبو داؤد، كتاب الأطعمة، باب ما لم يذكر تحريمه، ح 3800)
بہرحال امام مالک رحمہ اللہ کا رجحان بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی کے مسلک کی طرف ہے۔
حافظ ابن حجر رحمه الله اس حديث كي شرح ميں فرماتے هيں : اس حديث كے ساته حلال هونے پر استدلال كرنا تب ممكن هوتا هے جب اس بارے ميں نبي صلى الله عليه وسلم سے اس كے حرام هونے ميں واضح حكم نه آيا هو. جبكه اس كي تحريم ميں بهت سي احاديث وارد هوئي هيں. حرام قرار دينے كي تخصيص حلال قرار دينے كے عموم پر مقدم هے اور قياس پر بهي مقدم هے. ميں كهتا هوں يهي وجه هے كه مؤلف نے ابن عباس رضي الله عنهما اور مالك رحمه الله كے مذهب كو جس ميں درندے وغيره كو جائز قرار ديا گيا هے اسے اچهے انداز پر بيان نهيں كيا بلكه اس كے ساته اس مذهب كے غلط هونے كي صراحت كر دي هے كيونكه يه ان احاديث كے خلاف هے جن كي جانب حافظ ابن حجر رحمه الله نے اشاره كيا هے. ان ميں سے بعض احاديث خود مؤلف نے بهي ذكر كي هيں. ليكن اس نے اس كو صراحتاً حرام قرار دينے والي نص (واضح حكم) كي اتباع نهيں كي. انهوں نے قارئين كرام كے سامنے ميدان وسيع چهوڑ ديا هے تا كه يه مذكور مذهب اختيار كر سكيں جو كه قرآن پاك كے ظاهر كے موافق هے. حالانكه اس سے كم لوگ هي آگاه هيں كه اس ظاهري معنى كو مراد لينا مناسب نهيں هوتا جبكه سنت صحيحه كي نص اس كے خلاف هو اور رسول الله صلى الله عليه وسلم كا فرمان كس قدر صداقت پر مبني هے خبردار مجهے قرآن پاك اور اس كے ساته اس كي مثل ديا گيا هے. يعني وه سنت هے.

مانوس جانوروں کی اباحت کے لیے ذبح کرنے کی شرط :

خشکی کے جن جانوروں کا کھانا جائز ہے ان کی دوقسمیں ہیں :
◈ ایک قسم تو ان جانوروں کی ہے جو انسان کے قابو میں ہیں۔ مثلاً : اونٹ، گائے، بکری جیسے چوپائے اور وہ پرندے جو پالے جاتے ہیں۔
◈ دوسری قسم ان جانوروں کی ہے جو انسان کے قابو میں نہ ہوں۔
پہلی قسم کے جانوروں کے جواز کے لیے اسلام نے یہ شرط عائد کی ہے کہ انہیں شرعی طریقہ پر ذبح کر دیا جائے۔

شرعی طریقہ پر ذبح کرنے کی شرائط :

ذبح کرنے کے شرعی طریقہ کی تکمیل کی شرائط درج ذیل ہیں :
جانور کو کسی تیز دھار آلہ سے ذبح کیا جائے جس سے خون بہہ پڑے اور رگیں کٹ جائیں، خواہ وہ آلہ لوہے کا ہو پتھر کا ہو یا لکڑی کا۔
سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
قلت يارسول الله إننا نصيد الصيد فلا نجد سكينا إلا الضرار وشقة العصا فقال أمر الدم بما شئت، واذكر اسم الله عليه
”میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم شکار کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی سوائے دھار والے پتھر اور بانس کے ٹکڑے کے؟ فرمایا : جس چیز سے چاہو خون بہاؤ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لو۔“
مسند احمد 4 / 256، ابو داود كتاب الضحايا باب الذبيحه بالمروة ح 2924، نسائی کتاب الصيد باب الصيد اذا انتن ح 4309، ابن ماجه كتاب الذبائح باب التسمية عند الذبح ح 3177
حلق پر چھری چلائی جائے یا لبہ (گلے کے نچلے حصہ) میں چھرا گھونپ دیا جائے، جس کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہو۔
اور ذبح کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ حلق، کھانے کی نالی اور گلے کے اندر کی دو بڑی رگیں کاٹ دی جائیں۔
بعض فقہاء نے مزید شرائط عائد کی ہیں، لیکن ہم نے ان کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ ان شرائط پر کوئی صریح نص وارد نہیں ہوئی ہے۔ اور ذبح کرنا ایک ایسا فعل ہے جو فطری طور پر معروف ہے اور لوگ عادۃ اس کو جانتے ہیں، لہذا تعمق و تشدد کی ضرورت نہیں۔ مثلاً یہ سوال کہ یہ چیزیں پوری طرح کٹ جانی چاہئیں یا ان کے اکثر حصہ کا کٹ جانا کافی ہے؟ اور کیا یہ بھی شرط ہے کہ ذبح کرنے کا کام مکمل ہو جانے سے پہلے ہاتھ نہ اٹھایا جائے؟ وغیرہ۔ حلق (گلے) پر چھری چلانے کی شرط اس صورت میں ساقط ہو جاتی ہے جبکہ ذبح کرنے کا موقع نہ ہو مثلاً جانور کنویں میں سر کے بل گر گیا ہو اور اس کا حلق ہاتھ نہ آئے۔ یا وہ بدک جائے۔ ایسی صورت میں اس کے ساتھ شکار کا سا معاملہ کیا جائے گا۔ لہذا کسی بھی تیز چیز سے اس کے کسی بھی جسم کے حصہ کو زخمی کر دینا کافی ہوگا۔
صحیحین میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
كنا مع النبى صلى الله عليه وسلم فى سفر فند بعير من إبل القوم ولم يكن معهم خيل فرماه رجل بسهم فحبسه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن لهذه البهائم أوابد كأوابد الوحش فما فعل منها هذا فافعلوا به هكذا
”ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک اونٹ قابو سے باہر ہوگیا۔ لوگوں کے ساتھ گھوڑے نہیں تھے (کہ آگے جا کر اسے پکڑ لیں) ایک شخص نے تیر چلا کر اونٹ کو روک لیا۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان چوپایوں کی خصلت وحشی جانوروں کی طرح ہوتی ہے لہذا جب کوئی چوپایہ ایسی حرکت کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو۔“
بخاری کتاب الذبائح باب اذا اصاب قوم غنيمة فذبح بعضهم ح 5543، مسلم كتاب الاضاحی باب جواز الذبح بكل ما انهر الدم ح 1968
اس پر غیر اللہ کا نام نہ لیا جائے۔ اس بات پر سب کا اتفاق ہے، کیونکہ اہل جاہلیت اپنے معبودوں اور بتوں کے تقرب کے لیے جانوروں کو ذبح کرتے تھے، جس کی صورت یہ ہوتی کہ ذبح کرتے وقت ان کا نام لیتے یا استھانوں پر ذبح کرتے۔ قرآن نے ان تمام صورتوں کو حرام قرار دیا۔ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔
ذبیحہ پر صرف اللہ کا نام لیا جائے جیسا کہ نصوص شرعیہ سے ظاہر ہے۔ قرآن میں ہے :
فَـكُلُوۡا مِمَّا ذُكِرَ اسۡمُ اللّٰهِ عَلَيۡهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ بِاٰيٰتِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَ‏
”اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اس کو کھاؤ۔“
(الانعام : 118)
وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسْقٌ
”جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اس کو نہ کھاؤ کیوں کہ یہ فسق ہے۔“
(الانعام : 121)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
ما أنهر الدم وذكر اسم الله عليه فكلوا
”جس جانور کا خون بہایا گیا ہو اور (ذبح کے وقت) اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاؤ۔“
بخارى كتاب الذبائح باب اذا اصاب قوما غنيمة فذبح بعضهم ح 5543، مسلم کتاب الاضاحی باب جواز الذبح بكل ما أنهر الدم ح 1968
اس شرط کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں شکار کے لیے تیر چلاتے وقت یا سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بعض علماء کی رائے میں اللہ کا نام لینا تو ضروری ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ذبح کے وقت ہی نام لیا جائے بلکہ کھاتے وقت نام لینا بھی کافی ہے کیونکہ جو شخص کھاتے وقت اللہ کا نام لیتا ہے اس پر یہ بات منطبق نہیں ہوتی کہ وہ ایسی چیز کھا رہا ہے جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہے۔ صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
إن قوما حديثي عهد بجاهلية قالوا للنبي : إن قوما يأتوننا باللحم لا ندري أذكروا اسم الله عليها أم لم يذكروا؟ أنأكل منها أم لا؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم سموا اسم الله وكلوا
کچھ لوگوں نے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں، نہیں معلوم کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا تھا یا نہیں، ایسی صورت میں ہم اسے کھائیں یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا نام لو اور کھاؤ۔
بخاری کتاب التوحيد باب ان لله مائة اسم الا واحدة ح 2057، 7398

ذبح کرنے کے اسلامی طریقہ کی حکمت و مصلحت :

اسلامی طریقہ کے مطابق ذبح میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ جانور کی جان ایسے طریقہ سے نکال لی جائے کہ اُسے کم سے کم تکلیف ہو۔ اسی لیے آلہ کے تیز ہونے اور حلق کو ذبح کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ ساتھ ہی دانت اور ناخن سے ذبح کرنے کی ممانعت بھی کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان چیزوں سے جانور کو تکلیف ہوتی ہے اور گلا گھٹنے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری کو تیز کرنے اور ذبیحہ کو آرام پہنچانے کی ہدایت فرمائی ہے، فرمایا :
إن الله كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته
”اللہ نے ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہدایت فرمائی ہے لہذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ تمہارا ہر ایک اپنی چھری کو تیز کرے اور ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔“
مسلم کتاب الصيد باب الامر باحسان الذبح والقتل ح 1955
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بکری کو لٹایا اور پھر چھری تیز کرنے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أتريد أن تميتها موتات؟ هلا أحددت شفرتك قبل أن تضجعها؟
”اس بکری کو تم کتنی مرتبہ مارنا چاہتے ہو؟ اسے لٹا دینے سے پہلے چھری کیوں نہ تیز کر لی؟“
مستدرك حاكم 4/231، طبراني في الكبير 11916
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ بکری کو ذبح کرنے کے لیے اس کے پاؤں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: تم پر افسوس! اسے اچھے طریقے سے موت کی طرف لے چلو۔
السنن الكبرى للبيهقى 9/281 واسناد ضعيف لانقطاعه بين محمد بن سیرین و عمر بن الخطاب رضى الله عنه
اس طرح اسلام نے جانوروں کے ساتھ نرمی برتنے اور ممکن حد تک ان کو تکلیف سے بچانے کا سامان بیہم کیا ہے۔ اہلِ جاہلیت زندہ اُونٹ کا کوہان اور دُنبہ کی چکیاں کاٹ لیا کرتے تھے جس سے ان جانوروں کو بڑی تکلیف ہوتی، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور کے اجزا کاٹ کر کھانے کو بھی حرام قرار دیا۔ فرمایا :
ما قطع من البهيمة وهى حية فهو ميتة
”زندہ جانور کا جو جزء کاٹ لیا جائے وہ مردار کے حکم میں ہے۔“
مسند احمد 1/218، ابوداود کتاب الصيد باب في صيد قطع منه قطعة ح 2858، ترمذی کتاب الاطعمة باب ماقطع من الحي فهو ميت ح 1480

ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینے کی مصلحت :

اسلام نے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا ضروری قرار دیا ہے۔ اس میں جو لطیف نکتہ پوشیدہ ہے اسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ اسلام میں بت پرست اور اہلِ جاہلیت ذبح کرتے وقت اپنے معبودوں کا نام لیا کرتے تھے۔ اس کی بجائے اللہ کا نام لینے کا طریقہ رائج کر دیا گیا، کیونکہ جب ایک مشرک ذبح کرتے وقت اپنے بت کا نام لیتا ہے تو ایک مؤمن اپنے رب کا نام کیسے اور کیونکر نہ لے؟
دوسری بات یہ ہے کہ جانور بھی انسان کی طرح اللہ کی جاندار مخلوق ہیں۔ انسان کو ان کی جان اللہ کی اجازت ہی سے لینا چاہیے۔ اور اللہ کا نام لینا اذنِ الہی کا اعلان کرنے کے مترادف ہے۔ گویا انسان کہتا ہے میں یہ کام ان کو کمزور پا کر یا ظلم و زیادتی کی بنا پر نہیں کر رہا ہوں، بلکہ اللہ کی اجازت سے اس کا نام لے کر ذبح کرتا ہوں اور اس کا نام لے کر شکار کرتا ہوں اور اس کا نام لے کر کھاتا ہوں۔