قراءتِ قرآن، درسِ قرآن، مخصوص سورتوں اور سورۃ الکہف کے فضائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

قراءتِ قرآن کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
اقرأوا القرآن فإنه يأتى يوم القيامة شفيعا لأصحابه
”قرآن پڑھا کرو اس لیے کہ وہ روزِ قیامت اپنے پڑھنے والے کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔“
مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 804۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة، والذي يقرأ القرآن ويتتعتع فيه وهو عليه شاق له أجران
”ماہرِ قرآن (روزِ قیامت) کراماً کاتبین کے ساتھ ہوگا۔ اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ رک رک کر پڑھتا ہے اور اسے دشواری ہوتی ہے اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔“
بخاری، کتاب التفسير 4937۔ مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 798۔
③ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يقال لصاحب القرآن اقرأ وارتق ورتل كما كنت ترتل فى الدنيا فإن منزلتك عند آخر آية تقرؤها
”(روزِ قیامت) قرآن پڑھنے والے سے کہا جائے گا: پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور جس طرح تو دنیا میں ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا ویسے ہی ترتیل کے ساتھ پڑھ، اور جہاں تیری قراءت کی آخری آیت ہوگی وہی تیری منزل ہوگی۔“
ابو داؤد، کتاب الصلاة 1464۔ ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2914۔ روایت صحیح ہے۔
④ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من قرأ حرفا من كتاب الله فله به حسنة، والحسنة بعشر أمثالها، لا أقول الم حرف، ولكن ألف حرف ولام حرف وميم حرف
”جو شخص اللہ کی کتاب سے ایک حرف پڑھے تو اس کے لیے اس کے بدلے میں ایک نیکی ہے اور نیکی دس گنا کے برابر ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2910۔ روایت صحیح ہے۔
⑤ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يقول الله تبارك وتعالى: من شغله قراءة القرآن عن مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين
”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص قراءتِ قرآن میں مشغول ہونے کی وجہ سے مجھ سے کچھ مانگ نہ سکے تو میں اسے مانگنے والوں کو دینے کی نسبت بہتر و افضل چیز عطا کرتا ہوں۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2926۔ دارمی، کتاب فضائل القرآن 3356۔ یہ روایت نہایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں محمد بن حسن ہمدانی متروک ہے۔ جبکہ عطیہ مدلس ہے اور اس کا حافظہ درست نہیں۔
⑥ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يجيء القرآن يوم القيامة فيقول: يا رب حله، فيلبس تاج الكرامة، ثم يقول: يا رب زده، فيلبس حلة الكرامة، فيقول: يا رب ارض عنه، فيرضى عنه، فيقال له: اقرأ وارق، وتزاد بكل آية حسنة
”روزِ قیامت قرآن آئے گا تو کہے گا: اے رب! اسے (صاحبِ قرآن کو) زیور پہنا، پس وہ اسے تاجِ کرامت پہنائے گا۔ پھر کہے گا: اے رب! اسے مزید عطا فرما، پس وہ اسے عزت کا چوغہ پہنائے گا۔ پھر کہے گا: اے رب! اس سے راضی ہو جا، پس وہ اس سے راضی ہو جائے گا اور اسے کہا جائے گا: پڑھتا جا اور بلند درجات پر چڑھتا جا، اور ہر آیت کے بدلے میں ایک نیکی کا اضافہ کر دیا جائے گا۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2915۔ روایت صحیح ہے۔
⑦ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما اجتمع قوم فى بيت من بيوت الله تبارك وتعالى يتلون كتاب الله عز وجل ويتدارسونه بينهم إلا نزلت عليهم السكينة، وغشيتهم الرحمة، وحفتهم الملائكة، وذكرهم الله فيمن عنده
”جب کچھ لوگ اللہ تبارک و تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اکٹھے ہو کر اللہ عزوجل کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے آپس میں پڑھتے پڑھاتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ اپنے پاس موجود فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔“
مسلم، کتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار 2699۔ ابو داؤد، کتاب الصلاة 1455۔ ترمذی، کتاب القراءات 2945۔
⑧ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قرأ القرآن فاستظهره فأحل حلاله وحرم حرامه أدخله الله به الجنة وشفعه فى عشرة من أهل بيته كلهم قد وجبت لهم النار
”جس شخص نے قرآن پڑھا، اسے زبانی یاد کیا، اس کی حلال کردہ چیزوں کو حلال سمجھا اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھا تو اللہ اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے خاندان کے ایسے دس افراد کے بارے میں سفارش قبول کرے گا جن کے لیے جہنم واجب ہو چکی ہوگی۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2905۔ یہ روایت نہایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں حفص بن سلیمان راوی ہے جو کہ متروک الحدیث ہے۔

درسِ قرآن کی فضیلت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما اجتمع قوم فى بيت من بيوت الله يتلون كتاب الله ويتدارسونه بينهم إلا نزلت عليهم السكينة وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملائكة وذكرهم الله فيمن عنده، ومن بطأ به عمله لم يسرع به نسبه
”جب کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں بیٹھ کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں پڑھتے پڑھاتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور اللہ فرشتوں کے پاس ان کا ذکر کرتا ہے۔ اور جس شخص کو اس کے اعمال پیچھے چھوڑ دیں تو اس کا نسب اسے آگے نہیں پہنچا سکتا۔“
مسلم، کتاب الذكر والدعاء الخ 2647۔ ابو داؤد، کتاب الصلاة 1455۔

مخصوص سورت کی قراءت کے متعلق احکامات

① سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما أنزل الله تعالى فى التوراة ولا فى الإنجيل مثل أم القرآن، وهى السبع المثاني، وهى مقسومة بيني وبين عبدي ولعبدي ما سأل
”اللہ تعالیٰ نے تورات اور انجیل میں سورۃ الفاتحہ جیسی کوئی سورت نہیں اتاری۔ یہ سبع مثانی (بار بار پڑھی جانے والی سات آیتیں) ہے، یہ میرے (رب تعالیٰ) اور میرے بندے کے درمیان (نصف نصف) تقسیم ہے، اور میرے بندے کے لیے ہے جو اس نے طلب کیا۔“
ترمذی، کتاب تفسیر القرآن 3125۔ نسائی 139/2۔ روایت صحیح ہے۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجعلوا بيوتكم مقابر، إن الشيطان ينفر من البيت الذى تقرأ فيه سورة البقرة
”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اس لیے کہ جس گھر میں سورۃ البقرہ پڑھی جائے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔“
مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 780۔ ترمذی، فضائل القرآن 2877۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لكل شيء سنام، وسنام القرآن سورة البقرة، وفيها آية هي سيدة آي القرآن آية الكرسي
”ہر چیز کی کوہان (چوٹی) ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان سورۃ البقرہ ہے۔ اس میں ایک آیت یعنی آیت الکرسی ہے جو کہ قرآن کی سیدہ (سردار) ہے۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2878۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ اس میں حکیم بن جبیر راوی ضعیف ہے۔
④ سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قرأ بالآيتين من آخر سورة البقرة فى ليلة كفتاه
”جو شخص رات کے وقت سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھے تو یہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔“
بخاری، کتاب فضائل القرآن 5009۔ مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 807, 808۔ ابو داؤد، کتاب الصلاة 1397۔
⑤ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله كتب كتابا قبل أن يخلق السماوات والأرض بألفي عام، أنزل منه آيتين ختم بهما سورة البقرة، ولا يقرآن فى دار ثلاث ليال فيقربها شيطان
”اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی اور اس سے دو آیتیں اتار کر سورۃ البقرہ کو مکمل کیا اور جس گھر میں تین روز انہیں پڑھا جائے تو شیطان اس کے قریب نہیں آتا۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2882۔ الدارمي، فضائل القرآن۔ مسند احمد 274/4۔ روایت صحیح ہے۔

سورة الكهف

① سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حفظ عشر آيات من أول سورة الكهف عصم من فتنة الدجال
”جو شخص سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کر لے تو وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔“
اور ایک روایت میں ہے:
من آخر سورة الكهف
”سورۃ الکہف کے آخر سے (دس آیات)۔“
مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 809۔ ابو داؤد، کتاب الملاحم 4323۔