سورة یٰسین
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن لكل شيء قلبا وقلب القرآن يس، ومن قرأ يس كتب الله له بقراءتها قراءة القرآن عشر مرات
”ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۃ يسین ہے، اور جو شخص سورۃ يسین پڑھتا ہے اس کے پڑھنے کی وجہ سے اللہ پڑھنے والے کے لیے دس مرتبہ قرآن پڑھنے کے برابر ثواب لکھ دیتا ہے۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2887۔ اس کی سند ضعیف ہے۔
سورة الدخان
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قرأ حم الدخان فى ليلة الجمعة غفر له
”جو شخص جمعہ کی رات سورۃ حم الدخان کی تلاوت کرے تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2888, 2889۔ یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
سورۃ حشر کی آخری آیات
① سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال حين يصبح ثلاث مرات: أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم، ثم قرأ ثلاث آيات من آخر سورة الحشر، وكل الله به سبعين ألف ملك يصلون عليه حتى يمسي، وإن مات فى ذلك اليوم مات شهيدا، ومن قالها حين يمسي كان بتلك المنزلة
”جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم اور پھر سورۃ حشر کی آخری تین آیات تلاوت کرے تو اللہ اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے مامور کر دیتا ہے جو شام تک اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں، اور اگر وہ اسی روز فوت ہو جائے تو وہ شہادت کی موت سے سرفراز ہوتا ہے۔ اور جو شخص شام کے وقت اسے پڑھے تو وہ بھی اسی (صبح کے وقت پڑھنے والے کی) طرح ہے۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2922۔ مسند احمد، أول مسند البصريين 26/5۔ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں خالد بن طہمان راوی ضعیف ہے۔
سورة تبارک
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن سورة من القرآن ثلاثون آية شفعت لرجل حتى غفر له، وهى تبارك الذى بيده الملك
”قرآن کی تیس آیات والی سورت نے ایک آدمی کی شفاعت کی حتیٰ کہ اسے بخش دیا گیا۔ اور وہ سورت تبارک الذی بیدہ الملک ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الصلاة 1400۔ ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2891۔ روایت صحیح ہے۔
ابو داؤد رحمہ اللہ نے فرمایا:
شفعت لصاحبها
”اپنے پڑھنے والے کے لیے سفارش کرے گی۔“
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، کسی صحابی نے کسی قبر پر اپنا خیمہ لگا لیا، اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ قبر ہے۔ اس میں ایک انسان تھا جو سورۃ الملک پڑھنے لگا حتیٰ کہ اس نے اسے مکمل طور پر پڑھا۔ پس وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے ایک قبر پر اپنا خیمہ لگا لیا، لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ قبر ہے، تو اچانک اس میں ایک انسان سورۃ الملک پڑھنے لگا حتیٰ کہ اس نے اسے مکمل طور پر پڑھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هي المانعة، هي المنجية، تنجيه من عذاب القبر
”وہ سورت (عذاب سے) مانع ہے اور وہ نجات دہندہ ہے جو اسے عذابِ قبر سے بچائے گی۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2890۔