مسجد الحرام :
مسجد اقصی اور مسجد نبوی ہر تین کو تعمیر کرنے کا شرف چار انبیاء علیہم السلام کو حاصل ہے جنہوں نے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ ان مساجد کی طرف عبادت کے لیے سفر کریں۔ان مساجد کے علاوہ کوئی مسجد ایسی تعمیر نہیں کی گئی جس کی طرف سفر کر کے عبادت کا حکم دیا گیا ہو۔ یہ بھی یاد رہے کہ ان مساجد کے علاوہ اور مساجد بھی تھیں جن میں انبیاء کرام علیہم السلام نے نمازیں ادا کی ہیں، لیکن ان کی طرف سفر کرنے کو نہیں کہا گیا، جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کے علاوہ اور دوسری جگہ بھی نماز ادا کرتے تھے البتہ لوگوں کو صرف حج بیت اللہ کی دعوت دی۔
انبیاء کرام میں سے کسی نے یہ دعوت نہیں دی کہ لوگ اس کی قبر یا اس کے گھر یا کسی اور مقدس مقام کی طرف سفر کریں بلکہ اس بات کی دعوت دی کہ وہ صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کریں۔ اللہ تعالیٰ اولو العزم انبیاء کا تذکرہ کرنے کے بعد فرماتا ہے:
ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٨٨﴾ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ ﴿٨٩﴾ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ
”یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا۔ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس کے منکر نہیں ہیں۔ اے نبی! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے انہی کے راستہ پر تم چلو۔“
(6-الأنعام:88-90)
مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں ثابت ہوا کہ ان تین مساجد کو ان کی اصل جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ تعمیر کرنا جائز نہیں۔ رہیں دوسری مساجد! تو ان کی فضیلت بایں معنی مسلم ہے کہ وہ اللہ کے ایسے گھر ہیں جہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور یہ ایسی قدر مشترک ہے جو ان مساجد اور ان کے علاوہ دوسری مساجد میں پائی جاتی ہے۔ ان تین مساجد میں بھی تفاوت ہے اس لحاظ سے کہ کسی میں کم اور کسی میں زیادہ عبادت ہوتی ہے۔ یا ایک مسجد دوسری سے قدیم ہے۔ یہ تفاوت دوسری مساجد میں بھی موجود ہے اگر اسی وجہ سے سفر کرنا مسنون ہوتا تو عام مساجد کی طرف بھی سفر کرنے کا حکم ہوتا۔