قرآن کے ذریعے سوال کرنے، قرآن بھلانے اور اپنی رائے سے گفتگو کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

قرآن کے ذریعے سے لوگوں سے سوال کرنے کی ممانعت

① سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک قاری کے پاس سے گزرے جو قرآن پڑھتا پھر اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کرتا، پس سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ پڑھا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
من قرأ القرآن فليسأل الله به ، وسيجيء أقوام يقرءون القرآن يسألون به الناس
”جو شخص قرآن پڑھے تو وہ اس کے ذریعے اللہ سے سوال کرے، اور عنقریب ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے اور اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کریں گے“۔
ترمذی، کتاب فضائل القرآن 2917۔

قرآن مجید بھلا دینے کی ممانعت

① سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه إلا لقي الله عز وجل يوم القيامة أجذم
”جو شخص قرآن پڑھتا ہو اور پھر اسے بھلا دے تو وہ روزِ قیامت اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ جزام کے مرض میں مبتلا ہو گا“۔
ابو داؤد، کتاب الصلاة 1474. دارمی، کتاب فضل القرآن 3340. مسند احمد، باقی مسند الأنصار 284/5۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عرضت على أجور أمتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد وعرضت على ذنوب أمتي فلم أر ذنبا أعظم من سورة من القرآن أو آية أوتيها الرجل ثم نسيها
”میری امت کے اجر مجھ پر پیش کیے گئے حتیٰ کہ وہ تنکا بھی جسے کوئی آدمی مسجد سے نکال دیتا ہے، اور میری امت کے گناہ بھی مجھ پر پیش کیے گئے اور میں نے ان میں سب سے بڑا گناہ یہ دیکھا کہ کسی آدمی نے قرآن مجید کی کوئی سورت یا کوئی آیت یاد کی اور پھر اسے بھلا دیا“۔
ابو داؤد، کتاب الصلاة 461. ترمذی، فضائل القرآن 2916۔

قرآن مجید کے متعلق رائے سے گفتگو کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتقوا الحديث عني إلا ما علمتم ، فمن كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
”جس قدر تمہیں علم ہے اس کے علاوہ میری طرف سے بات کرنے سے بچتے رہنا، پس جس شخص نے عمداً مجھ پر جھوٹی بات باندھی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔
ترمذی، کتاب تفسير القرآن 2951. مسند احمد، ومن مسند بني هاشم 383/1، حدیث 2679۔
② سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قال فى كتاب الله عز وجل برأيه فأصاب فقد أخطأ
”جس شخص نے اللہ عزوجل کی کتاب (قرآن مجید) کے متعلق اپنی رائے سے کچھ کہا اور اس نے درست کہا تو بھی اس نے خطا کی“۔
ابو داؤد، العلم 3652. ترمذی، کتاب تفسير القرآن 2952۔