زراعت کے ذریعہ روزی کمانا :
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انسان پر اپنے فضل و احسان کا ذکر فرماتے ہوئے وہ اصولی باتیں بیان فرمائی ہیں جو زراعت کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بنایا ہے کہ وہ اگانے اور پیدا کرنے کی خدمت انجام دیتی ہے۔ اور اسے فرش بنا دیا ہے جو مخلوق کے لیے ایک نعمت بھی ہے۔ اس نعمت کو یاد رکھنا اور اس کی قدر کرنا نہایت ضروری ہے۔
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا 19 لِّتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا
”اللہ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا تاکہ تم اس کے کھلے راستوں پر چلو۔“
(نوح : 19-20)
وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ 10 فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ 11 وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ 12 فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
”اور زمین کو اس نے مخلوقات کے لیے بنایا۔ اس میں پھل ہیں، کھجور کے درخت ہیں غلاف والے، غلہ ہے بھوسے والا۔ اور پھول ہیں خوشبو دار۔ پھر تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کا انکار کرو گے؟“
(الرحمن : 10-13)
اور پانی کو اللہ تعالیٰ نے بارش کی صورت میں اتارا اور اس کی نہریں جاری کیں۔ اس سے وہ مردہ زمینوں کو زندگی بخشتا ہے :
وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاكِبًا
”وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس کے ذریعہ ہر قسم کی نباتات اگائیں، پھر اس سے سرسبز شاخیں پیدا کیں، جن سے ہم تہہ بہ تہہ دانے نکالتے ہیں۔“
(الانعام : 99)
اور ہواؤں کو اللہ تعالیٰ خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجتا ہے جس سے بادل چلنے لگتے ہیں اور نباتات بار آور ہوتی ہیں :
وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونٍ 19وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ 20 وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ 21 وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَاكُمُوهُ وَمَا أَنتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ
اور زمین کو ہم نے بچھایا۔ اور اس میں پہاڑ رکھ دیئے۔ اور اس میں ہر قسم کی چیز تناسب کے ساتھ اگائی اور تمہاری معیشت کا سامان بھی رکھا اور ان کی معیشت کا بھی جن کو تم رزق نہیں دیتے۔ ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس موجود ہیں اور اسے ہم مقررہ اندازہ کے ساتھ ہی اتارتے ہیں۔ اور ہواؤں کو ہم بار آور بنا کر بھیجتے ہیں پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں اور تم کو اس سے سیراب کرتے ہیں، اور تم اس کے ذخیرہ کو جمع نہیں کر سکتے تھے۔
(الحجر : 19-22)
ان تمام آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے زراعت کی نعمت اور اس کے سہل الحصول ذرائع کی طرف انسان کو متوجہ فرمایا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
ما من مسلم يغرس غرسا أو يزرع زرعا فيأكل منه طير أو إنسان إلا كان له به صدقة
”جو مسلمان بھی پودا لگاتا ہے یا کھیتی باڑی کرتا ہے اور اس میں سے پرندے یا انسان جو کچھ کھا لیتے ہیں ، وہ اس کے لیے صدقہ ہو جاتا ہے۔“
بخاری کتاب الحرث باب فضل الزرع والغرس ح : 232 ، مسلم كتاب المسافاة باب فضل الغرس والزرع ح : 1553
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ثواب جاری رہتا ہے جب تک کہ پودا یا کھیتی سے کھانے وغیرہ کا فائدہ اٹھایا جاتا رہے اگرچہ پودا لگانے والا یا کھیتی کرنے والا مر چکا ہو یا اس کی ملکیت دوسرے کی طرف منتقل ہو گئی ہو۔
علماء کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی فیاضی سے یہ بعید نہیں کہ وہ ایسے شخص کو اس کے مرنے کے بعد بھی ثواب سے نوازتا رہے، جس طرح اس کی زندگی میں نوازتا رہا ہے یعنی چھ باتوں کے سلسلہ میں۔ ایک صدقہ جاریہ، دوسرے وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، تیسرے نیک اولاد جو اپنے والد کے لیے دعا کرے، چوتھے پودا، پانچویں کھیتی اور چھٹے پاسبانی یعنی دشمنوں کے مقابلہ میں سرحد وغیرہ کی حفاظت کرنا۔
روایت ہے کہ ایک شخص کا سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا جبکہ وہ اخروٹ کا پودا لگا رہے تھے۔ اس شخص نے کہا : آپ بڑھاپے میں اخروٹ کا پودا لگا رہے ہیں ! اس کو پھل لانے میں تو کئی سال لگ جاتے ہیں۔ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس میں کیا حرج ہے کہ میں اجر کماؤں اور دوسرے اسے کھائیں؟
مسند احمد (6 / 444)
اور ایک صحابی سے روایت ہے کہ میں نے اپنے دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
من نصب شجرة فصبر على حفظها والقيام عليها حتى تثمر فإن له فى كل شيء يصاب من ثمرها صدقة عند الله عزوجل
جس نے درخت لگایا پھر اس کی حفاظت اور نگرانی کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ درخت پھل لے آیا تو اس کے پھلوں کا جو نقصان بھی ہوگا اس کا اجر اللہ عزوجل کے پاس اسے ملے گا۔
مسند احمد (5 / 374) (واسناده ضعيف)
ان احادیث سے اور اس قسم کی دوسری احادیث سے بعض علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ زراعت کمانے کے دیگر ذرائع سے بہتر ہے۔ لیکن دوسرے علماء کہتے ہیں کہ صنعت اور دستکاری افضل ہے اور کچھ علماء تجارت کو افضل بتاتے ہیں۔
بعض محققین کہتے ہیں کہ مختلف حالات میں مختلف چیزیں افضل ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جب غذا کی ضرورت شدید ہو تو زراعت افضل ہوگی کیونکہ اس کا فائدہ عام ہے۔ اور جب ڈاکا زنی وغیرہ کی وجہ سے منڈیوں میں مال کم آرہا ہو تو تجارت افضل ہوگی۔ اور جب مصنوعات کی ضرورت ہو تو صنعت افضل ہوگی۔ (ملاحظہ ہو : شرح القسطلانی علی البخاری)
اخیر میں جو تفصیل بیان کی گئی اس سے موجودہ اقتصادی علم، ہم آہنگ ہے۔
حرام کاشت کاری :
ہر وہ نباتات جس کو نوش کرنا اسلام نے حرام ٹھہرایا ہے یا جس کا استعمال مضر ہے، اس کی کاشت کرنا بھی حرام ہے مثلاً : گانجا وغیرہ
اور تمباکو کا بھی یہی حکم ہے۔ اگر ہمارے نزدیک تمباکو نوشی حرام ہے۔ اور راجح قول یہی ہے۔ تو اس کی کاشت کرنا بھی حرام ہوگا۔ اور اگر ہمارے نزدیک وہ مکروہ ہے تو اس کی کاشت کرنا بھی مکروہ ہوگا۔
کسی مسلمان کاشتکار کے لیے روا نہیں کہ وہ حرام چیز کی کاشت اس لیے کرے کہ آخر کار اسے غیر مسلموں کے ہاتھ فروخت کر دینا ہے۔ مسلمان حرام چیز کی کبھی ترویج نہیں کرتا چنانچہ اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ سوروں کی پرورش کرے تاکہ ان کو نصاری کے ہاتھ بیچ دے۔ اور اس سے پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ اسلام نے حلال انگور بھی ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کرنا حرام ٹھہرایا ہے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ اس سے شراب بنائے گا۔