مسجد کے احکامات خرید و فروخت، فجر کے بعد بیٹھنا اور قبروں کو مسجد بنانے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

مسجد میں خرید وفروخت کی ممانعت

① سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت سے، شعر گوئی سے اور جمعہ کے دن نمازِ جمعہ سے پہلے حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔
ابو داؤد، کتاب الصلوة، 1079۔ ترمذى، كتاب الصلوة، حدیث 322۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إذا رأيتم من يبيع أو يبتاع فى المسجد فقولوا: لا أربح الله تجارتك، وإذا رأيتم من ينشد ضالة فى المسجد فقولوا: لا رد الله ضالتك
”جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو: اللہ تمہاری تجارت کو نفع مند نہ بنائے، اور جب تم کسی شخص کو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرتے دیکھو تو کہو: اللہ تمہاری گم شدہ چیز واپس نہ لوٹائے۔“
ترمذی، کتاب البيوع، 1321۔ مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلوة، حدیث 568/79۔

سورج طلوع ہونے تک مسجد میں بیٹھنا

① سماک بن حرب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر سورج طلوع ہونے تک اپنی اسی جگہ پر بیٹھے رہتے تھے جہاں نمازِ صبح ادا کرتے تھے۔ جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ کھڑے ہو جاتے۔ اور وہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) زمانہ جاہلیت کی باتیں کیا کرتے تھے اور پھر ہنستے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرمایا کرتے تھے۔
مسلم، حدیث 6700۔
② سماک بن حرب رحمہ اللہ، جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نمازِ فجر ادا کر لیتے تو سورج طلوع ہونے تک اپنی اسی جگہ پر بیٹھے رہتے۔
مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة، 6700۔ ابوداؤد، کتاب الصلوة، 4850۔ ترمذى، كتاب الجمعة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، 585۔

قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قاتل الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد
”اللہ یہود و نصاریٰ کو تباہ و برباد کرے، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“
اور ایک روایت میں ہے:
لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد
”اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“
بخاري، كتاب الصلوة، 437۔ مسلم كتاب المساجد و مواضع الصلوة، 530/20۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، آپ نے لہسن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أكل من هذه الشجرة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا
”جو شخص اس خبیث پودے میں سے کچھ کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“
بخاری، کتاب الاذان، حدیث 856۔ مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة، حدیث 562/70۔