عقیدۂ البراء: اسلام دشمن کفار سے بیزاری اور اس کی شرعی حدود

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

البراء سے متعلق دو اہم مبحث:

البراء کے بارے میں اسلامی احکام بیان کرنے سے پہلے ہم درج ذیل دو امور کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں:
① اسلام دشمن کفار او رغیر دشمن کفار میں فرق۔
② جہاد اور دہشت گردی میں فرق۔

[1] اسلام دشمن کفار اور غیر دشمن کفار میں فرق:

اسلام نے تمام کفار کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اسلام دشمن کفار اور غیر دشمن کفار میں فرق کیا ہے اور دونوں کے بارے میں الگ الگ ہدایات دی ہیں۔ غیر دشمن کفار میں بھی دو طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں ایک تو وہ لوگ جو مسلمانوں کے لئے بالکل بے ضرر ہوں اور مسلمانوں سے کسی قسم کا بغض یا عداوت نہ رکھتے ہوں نہ ہی کسی طرح دعوت اسلام اور اشاعت اسلام یا غلبۂ اسلام کا راستہ روکتے ہوں۔
دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے لئے نہ صرف بے ضرر ہوں بلکہ اپنی طبعی شرافت اور عدل پسندی کی وجہ سے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم اور زیادتی پر احتجاج بھی کرتے ہوں۔ دوسری قسم کے لوگ اگر چہ تعداد میں ہمیشہ کم ہوتے ہیں لیکن ہر زمانے میں ہر جگہ کچھ نہ کچھ لوگ ایسے ضرور موجود ہوتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں شعبِ ابی طالب میں مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ کا ظالمانہ معاہدہ تین سال بعد جن پانچ بااثر شخصیتوں کی وجہ سے ختم ہوا وہ سب کافر تھے لیکن مسلمانوں پر ناروا جبر اور ظلم دیکھ کر ان کا ضمیر بیدار ہوگیا اور انہی کی تحریک سے ظلم و ستم کا یہ بے رحمانہ سلسلہ ختم ہوا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسری قسم کے لوگ تو بدرجہ اولیٰ نیکی اور احسان کے مستحق ہیں لیکن اسلام نے پہلی قسم کے بے ضرر کفار کے ساتھ بھی نیکی، رحمدلی اور احسان کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [لَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ] ترجمہ: اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان کافروں سے نیکی اور عدل کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (سورۃ الممتحنہ:8) بے ضرر اور غیر دشمن کفار کے ساتھ عدل و انصاف اور نیک سلوک کرنے پر یقینا اجر و ثواب بھی ہو گا۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب ہذا کا باب ’’بے ضرر کفار کے ساتھ حسن سلوک کا حکم‘‘) یہاں یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ شریعت نے بے ضرر اور غیر دشمن کفار کے ساتھ نیکی اور عدل سے کام لینے کا حکم ضرور دیا ہے لیکن ان کے ساتھ قلبی محبت اور دوستی کی اجازت نہیں دی۔ اس لئے کہ قلبی محبت اور دوستی (الولاء) صرف اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کا حق ہے۔ جہاں تک اسلام دشمن کفار کا تعلق ہے جو اسلام کو مغلوب کرنا چاہتے ہیں لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے ہیں، مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہیں اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں، ایسے کفار کے بارے میں شریعت نے الگ تعلیمات دی ہیں۔ کتاب ہذا میں ’’البراء‘‘ کے تحت جتنے احکام اورمسائل بیان کئے گئے ہیں وہ اسلام دشمن کفار کے بارے میں ہی دیئے گئے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ کفار کے ساتھ دشمنی، اظہار نفرت و بیزاری اور ترک تعلق اور پھر حسب موقع ان کے خلاف قتال او رجہاد کا حکم ان کے کفر کی وجہ سے نہیں دیا گیا بلکہ ان کے اس جرم کی وجہ سے دیا گیا ہے کہ وہ اسلام کا راستہ روکتے ہیں، اسلام کو مغلوب کرنا چاہتے ہیں، مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہیں، ان کا خون بہاتے ہیں، انہیں جلا وطن کرتے ہیں اور ان کے گھر بار برباد کرتے ہیں۔

② جہاد اور دہشت گردی میں فرق:

اسلام دشمن کفار، جو اسلام کا راستہ روک رہے ہوں، اسلام کو مغلوب کرنے اور مٹانے کی کوشش کررہے ہوں، اور اس مقصد کے لئے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہوں، ان کے خلاف جہاد (یعنی قتال) واجب ہے، کفار کی قوت توڑنا، مسلمانوں کو ان کے ظلم سے بچانا اور ان سے ظلم کا بدلہ لینا جہاد سے ہی ممکن ہے لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اسلام میں جہاد اپنے اغراض و مقاصد کے اعتبار سے ایک عبادت ہے بالکل اسی طرح جس طرح نماز، روزہ اور صدقہ و خیرات عبادت ہے۔ جس طرح نماز روزہ ادا کرنے کے لئے شریعت نے اصول و ضوابط بنائے ہیں اسی طرح جہاد کے لئے بھی شریعت نے اصول وضوابط مقرر فرمائے ہیں۔ جہاد اسی وقت عبادت بنے گا جب یہ شریعت کے مقرر کردہ اصول و ضوابط کے مطابق کیا جائے گا۔ ان اصولوں میں سے اہم ترین اصول یہ ہے کہ وہ اسلام دشمن کفار جو مسلمانوں کے خلاف برسر جنگ ہوں ان کا بدلہ ان بے ضرر کفار سے نہ لیا جائے جو برسر جنگ نہ ہوں۔
❀ ایک غزوہ میں عورت قتل کی گئی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو دریافت فرمایا: عورت تو قتال نہیں کررہی تھی، پھر یہ کیوں قتل کی گئی؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ کے لئے حکم دے دیا، کسی عورت اور مزدور کو قتل نہ کرو۔ (ابوداؤد:2669)
❀ لشکر اسامہ کو روانہ فرماتے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت فرمائی تھی ’’کسی بچے، بوڑھے اور درویش کو قتل نہ کرنا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قتال صرف ان اسلام دشمن کفار کے خلاف ہونا چاہئے جو عملاً برسرجنگ ہوں۔ اس سلسلہ میں دوسری گزارش یہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں جبکہ اسلام دشمن کفار پوری منصوبہ بندی کے ساتھ ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو مغلوب کرنے کے لئے ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کررہے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پوری مسلم امہ اپنے حکمرانوں کی بے حسی اور مجرمانہ خاموشی سے شدید نفرت کرتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ مسلم امہ کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آئے جو کفار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکیں۔ مسلم ممالک کی اس صورت حال سے کفار نہ صرف اچھی طرح واقف ہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک کے حکمرانوں اور عوام کے درمیان تصادم اور ٹکراؤ پیدا ہو تاکہ یہ ممالک انتشار اور بدامنی کا شکار ہوکر عدم استحکام سے دوچار ہوں، جس کا بالآخر فائدہ کفار ہی کو ہوگا۔ ہمارے خیال میں مسلمان حکمرانوں کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے کے لئے عوام کو دباؤ کے وہ تمام ذرائع استعمال کرنے چاہئیں جن کی اجازت اس ملک کا قانون اور آئین دیتا ہو، لیکن ایسی کارروائیاں کرنے سے ہر حال میں گریز کرنا چاہئے جس سے حکمرانوں اور عوام کے درمیان تصادم اور ٹکراؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔ ایسی کارروائیاں جہاد نہیں دہشت گردی کہلائیں گی۔ ہمارا دشمن (یہود و نصاریٰ اور ہنود) بہت ہی مکار اور عیار ہے۔ ہمارا گمان ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ مسلم ممالک میں ہونے والی تمام تخریبی کارروائیاں ہمارے دشمنوں ہی کی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ کوئی مسلمان کسی بے گناہ بچے، بوڑھے یا عورت کو قتل کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ مساجد یا امام بارگاہوں میں گھس کر نمازیوں کو بے دریغ قتل کرے یا علماء کرام کو نشانہ بنائے۔ مسلم ممالک میں ایسی کارروائیاں کرکے دشمن یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ مجاہدین ہی دراصل دہشت گرد ہیں، جن سے مسلم حکمرانوں کو ہر قیمت پر چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے۔ اس صورت حال سے پوری طرح چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھئے! جہاد قربانی اور کامیابی کا راستہ ہے جبکہ دہشت گردی تباہی اورناکامی کا راستہ ہے۔ جہاد اجرو ثواب کا باعث ہے جبکہ دہشت گردی گناہ اور سزا کا باعث ہے۔ دونوں میں یہ فرق قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔ کفار سے دوستی کی ممانعت کا حکم :قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جابجا اسلام دشمن کفار سے دوستی اور محبت کرنے سے منع فرمایا ہے۔

چند آیات کا ترجمہ ملاحظہ ہوں:

① اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو شخص انہیں اپنا دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ (سورۃ المائدۃ:51)
② اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے خلاف (عذاب کے لئے) صریح حجت دے دو۔ (سورۃ النساء:144)
③ مومن اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں جو ایسا کرے گاا س کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔ (سورۃ آل عمران:28)
④ اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ (سورۃ الممتحنہ:1)
⑤ اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا دوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ (سورۃ التوبہ:23)
⑥ وہ لوگ جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں ایسے منافقوں دردناک عذاب کی خوشخبری سنادو۔ (سورۃ النساء:138-139)
⑦ سورہ ہود میں تو کفار کے عقائد، نظریات، کلچر اور تہذیب و تمدن کو محض پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھنے پر ہی جہنم کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ظالموں کی طرف بالکل نہ جھکو ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ (سورۃ ہود:113)
❀ یہاں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کفار کے ساتھ دوستی اور محبت سے اللہ تعالیٰ نے اتنی سختی اور شدت سے کیوں منع فرمایا ہے؟ دنیا میں اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کا آپس میں لین دین، تجارتی تعلقات، سفارتی تعلقات اور آمدو رفت ایسی مجبوریاں ہیں، جن سے کوئی مفر نہیں۔ پھر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اتنی سخت آزمائش میں کیوں ڈالا ہے؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر خود ہی اس کا جواب ارشاد فرمایا ہے۔

چند مقامات پیش خدمت ہیں:

کفار چاہتے ہیں جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہوجاؤ تاکہ تم اور وہ سب برابر ہوجائیں۔ (سورۃ النساء:89)
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اپنے مومن ساتھیوں کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا راز دار نہ بناؤ، کیونکہ وہ تمہیں ہلاک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، جس بات سے تمہیں تکلیف پہنچے اس سے وہ خوش ہوتے ہیں ان کا بغض ان کی زبانوں سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ ان کے سینوں میں چھپا ہے وہ اس سے کہیں بڑاہے۔ (سورۃآل عمران:118)
✿ مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار سے دشمنی رکھنے کے چار بنیادی اسباب بتادیئے ہیں۔
① کافر، مسلمانوں کو ہر قیمت پر ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔
② مسلمانوں کی تکلیف پر کفار کو خوشی ہوتی ہے۔
③ کافر مسلمانوں کے خلاف شدید بغض رکھتے ہیں۔
④ ان کے دلوں میں چھپی ہوئی دشمنی اس دشمنی سے کہیں زیادہ ہے جس کا وہ اظہار کرتے ہیں۔
غور فرمائیے! اگر کسی آدمی کو واقعتا اس بات کا یقین ہو جائے کہ جس شخص سے وہ دوستی کرنے جارہا ہے وہ اس کا اس قدر دشمن ہے کہ اسے ہلاک کرنے کے درپے ہے۔ اس کی تکلیف پر اسے خوشی ہوتی ہے۔ کیا کوئی بھی غیرت مند اور ہوش مند آدمی ایسے دشمن کے ساتھ دوستی کرنے کے لئے تیا رہوگا؟ ہر گز نہیں!
بلکہ ایسے خطرناک دشمن کے بارے میں تو ہر شخص یہ چاہے گا کہ اسے جتنا جلد ممکن ہو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ لیکن افسوس ہمارے حال پر کہ دین کے معاملہ میں اللہ کریم نے بار بار وضاحت کے ساتھ ہمیں کفار کی شدید دشمنی سے آگاہ فرمایا ہے لیکن ہم اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں۔
ایک اور مقام پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: تم ان سے محبت کرتے ہو لیکن وہ تم سے محبت نہیں کرتے۔ تم ساری کتب آسماوی کو مانتے ہو، جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی (تمہاری کتاب اور رسول کو) مانتے ہیں مگر جب تم سے الگ ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ وغضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں، ان سے کہو اپنے غصہ میں جل مرو بے شک اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید تک جانتا ہے۔ (سورۃ آل عمران:119)
❀ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی ٹھوس حقیقت بیان فرمائی ہے جس کا مشاہدہ آج ہر مسلمان اپنی کھلی آنکھوں سے کر رہا ہے اور وہ یہ کہ مسلمان کفار کو اپنا دوست سمجھتے ہیں اور ان سے محبت کررہے ہیں ان کی ساری باتیں مانتے چلے جارہے ہیں جبکہ کافر آئے روز مسلمانوں کے خلاف پہلے سے زیادہ غیظ و غضب کا اظہار کرتے چلے جارہے ہیں انہیں زیادہ سے زیادہ مشکلات اور مصائب میں پھنساتے چلے جارہے ہیں اور آئندہ طرح طرح سے ان پر مظالم توڑنے کے منصوبے بنا رہے ہیں لیکن حیف ہے مسلمانوں کے حال پر کہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کررہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام دشمن کفار کے بارے میں یہاں تک آگاہ فرمادیا ہے کہ وہ تمہارے دین کو ملیا میٹ کرنا چاہتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: کافر اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ تعالیٰ کے نور (اسلام) کو بجھا دینا چاہتے ہیں۔ (سورۃ الصف:8)
❀ حقیقت یہ ہے کہ کسی غیرت مند اور عقل و خرد رکھنے والے شخص کے لئے اپنے دشمن سے انتقام لینے اور اسے انجام تک پہنچانے کے لئے جرائم کی اتنی فہرست بھی بہت ہے جس کا ذکر ہم نے گزشتہ صفحات میں کر دیا ہے جبکہ قرآن مجید میں کفار کے بیان کئے گئے جرائم کی فہرست اس سے کہیں زیادہ طویل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ دوستی کرنے، اتحاد کرنے اور ان کی باتیں ماننے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر ان سے نفرت، بیزاری، قطع تعلق اور بیر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: تمہارے لئے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے صاف صاف کہہ دیا ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے، جن کی تم بندگی کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر، قطعی بیزار ہیں ہم نے(تمہارے دین سے) انکار کیا، ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے عداوت اور بیر پڑ گیا جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لے آؤ۔ (سورۃ الممتحنہ:4)
❀ سورۃ الممتحنہ کی اس آیت سے درج ذیل تین باتیں معلوم ہوتی ہیں:
کفار کے کفر سے واضح طور پر اظہار بیزاری اور اظہار نفرت کرنا مسلمانوں پر واجب ہے۔
کفار کے ساتھ مسلمانوں کو اپنی عداوت دشمنی اور بیر کا کھلا کھلا اظہار اس وقت تک کرنا چاہئے جب تک وہ ایک اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔
آیت کریمہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ "الوَلاَء والبَرَاء” شریعتِ اسلامیہ کا ایک مستقل قانون اور ضابطہ ہے جو پہلی امتوں کے لئے بھی اسی طرح تھا جس طرح امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے۔

،،اَلْبَرَاء،، کے بارے میں انبیاء کرام کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔

❀ سیدنا نوح علیہ السلام نے طوفان کے وقت اپنے کافر بیٹے کے لئے پدری شفقت اور محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور سفارش کی لیکن جب انہیں معلوم ہوگیا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں تو فوراً اس سے بیزار ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں عرض پرداز ہوئے [رَبِّ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِکَ اَنۡ اَسۡـَٔلَکَ مَا لَـیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَ اِلَّا تَغۡفِرۡ لِیۡ وَ تَرۡحَمۡنِیۡۤ اَکُنۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ] اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وہ سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں تباہ ہوجاؤں گا۔ (سورۃ ہود:47)
❀ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جب اپنے باپ کے بارے میں علم ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس سے فوراً براء ت کردی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: [فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنۡہُ ؕ] جب ابراہیم پر یہ بات واضح ہوگئی کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو ابراہیم نے اس سے بیزاری کا اظہار کیا۔ (سورۃ التوبہ:114)
❀ سیدنا لوط علیہ السلام کی بیوی کافر تھی، فرشتے اللہ کا عذاب لے کر آئے تو سیدنا لوط علیہ السلام کو بتایا [اِنَّا مُنَجُّوۡکَ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا امۡرَاَتَکَ کَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ] ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچالیں گے سوائے تمہاری بیوی کے جو (کافروں کیساتھ) پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ (سورۃ العنکبوت:33) جب سیدنا لوط علیہ السلام کو علم ہوگیا کہ ان کی بیوی بھی اسلام دشمنی کی وجہ سے اللہ کی پکڑ میں آنے والوں میں شامل ہے تو پلٹ کر اس کا نام تک نہ لیا نہ ہی اللہ تعالیٰ سے سفارش کی۔
❀ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان کے کفار سے واضح الفاظ میں اظہار برأت فرمایا۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: [الا ان اٰل ابی یعنی فلانا لیسوا لی باولیآء] ترجمہ: سنو! میرے باپ کی اولاد سے فلاں فلاں میرے قطعاً دوست نہیں۔ (مسلم:215)
❀ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عقیدہ البراء کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے اپنے کافر ماں باپ، بہن بھائی اور اعزہ و اقارب کے ساتھ اظہار عداوت اور اظہار نفرت کرکے تاریخ اسلامی کا ایسا زریں باب رقم کیا جس کی تعریف اور توصیف اللہ تعالیٰ نے عرش عظیم پر فرمائی۔

البراء سے متعلق سیرت صحابہ رضی اللہ عنہم کے چند واقعات ملاحظہ ہوں۔

❀ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو ماں نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ سیدنا سعد ماں کو کھانے پینے کے لئے کہتے تو ماں کہتی میں اس وقت تک کچھ نہیں کھاؤں پیوں گی جب تک تو یہ دین نہ چھوڑے گا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کی ضد دیکھی تو اسے صاف صاف کہہ دیا امی جان! مجھے بلا شبہ آپ سے بڑی محبت ہے لیکن آپ سے کہیں زیادہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے۔ اللہ کی قسم! اگر تیرے جسم میں ہزار جاں بھی ہو اور وہ ایک ایک کر کے میرے سامنے نکلتی رہے تب بھی میں اللہ اور اس کے رسول کے دین کو نہیں چھوڑوں گا۔ [صحیح مسلم:1748]
❀ غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر ایک جگہ انصار، مہاجرین میں جھگڑا ہوگیا تو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے یہ بات کہی، مدینہ پہنچ کر ہم میں سے عزت والے ذلیل لوگوں کو نکال باہر کریں گے۔ لشکر جب مدینہ پہنچا تو عبداللہ بن ابی کا اپنا بیٹا عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والا وفادار صحابی تھا، تلوار سونت کر اپنے باپ کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: تم نے کہا تھا مدینہ پہنچ کر عزت والا ذلیل کو نکال باہر کرے گا، اب تمہیں معلوم ہوگا کہ عزت والے تم ہو یا اللہ اور اس کا رسول ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اپنے باپ کو مدینہ جانے دو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ کاحکم ہے تو پھر یہ جا سکتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ساتھ ہی یہ بات بھی عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ میرے باپ کو (توہین رسالت کے جرم میں) قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو مجھے حکم دیں، اللہ کی قسم! میں اس کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کردوں گا۔
[جامع الترمذی:3315]،[السيرة النبوية لابن هشام، روایت ابن إسحاق، غزوۂ بنی المصطلق]
❀ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کا باپ ابو عامر تورات اور انجیل کا عالم تھا لیکن جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ابو عامر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں اس قدر دیوانہ ہوگیا کہ مدینہ چھوڑ کر مشرکین مکہ کے ہاں جاکر رہائش پذیر ہوگیا۔ لوگوں کو ہر وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکاتا اور مشتعل کرتا رہتا۔ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر تو برداشت کیا لیکن ایک روز توہین رسالت کے اس جرم پر غیرت ایمانی کو یارائے ضبط نہ رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اجازت ہو تو اپنے باپ کا سر اتار لاؤں؟ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! ہم اس سے برا سلوک نہیں کریں گے۔
[الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر، ترجمہ: حنظلة بن أبي عامر]
❀ غزوہ تبوک کے لئے روانگی کا حکم ہوا تو منافقین نے مختلف حیلوں بہانوں سے رخصت لینی شروع کردی اس موقع پر درج ذیل تین مخلص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محض سستی کی بنا ء پر پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھے۔ ① سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ۔ ② سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ۔ ③ سیدنا مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا کے طور پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ ان تینوں حضرات سے قطع تعلق کرلیا جائے۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا مرارہ رضی اللہ عنہ تو گھر بیٹھ گئے لیکن سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بازار اور مسجد آتے جاتے اس لئے انہیں اس مقاطعہ کی وجہ سے شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ایک روز انہیں قیصر روم کے گورنر شاہ غسان کا خط ملا کہ ہمیں پتہ چلا ہے تمہارے نبی نے تم پر بڑا ظلم کیا ہے حالانکہ تم ذلیل آدمی نہیں ہو نہ ہی ضائع کرنے کے لائق ہو ہمارے پاس آجاؤ، ہم تمہیں عزت بخشیں گے۔ یہ خط سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے ایمان کا بہت بڑا امتحان تھا۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے پریشانی کے اس عالم میں بھی ’’الولاء والبراء‘‘ کی ایسی عظیم مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک اہل ایمان کے ایمان کو جلا بخشتی رہے گا۔ جیسے ہی قیصر روم کا خط پڑھا، ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اسے آگ میں جھونک دیا اور قیصر روم کو عملاً یہ پیغام دے دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے مقابلہ میں کفار کی دی ہوئی عزت اور وقار آگ میں جھونک دینے کے لائق ہے۔ [صحیح البخاری:4418]
❀ غزوہ بدر میں سیدنا عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا باپ مشرکین مکہ کے ساتھ تھا۔ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں بڑی شجاعت اور استقامت سے لڑے ان کا والد بار بار سامنے آتا لیکن سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ پہلو تہی کرجاتے۔ جب باپ نے بیٹے کو مقابلہ کے لئے مجبور کردیا تو سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کا سر اتارنے میں ذرہ برابر بھی تامل نہیں کیا۔ باپ سامنے آیا تو اس کے سر پر ایسا زبردست وار کیا کہ سر کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ اسی جنگ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ولید بن عتبہ کو، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے شیبہ کو اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن ربیعہ کو قتل کیا، جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔ اللہ تعالیٰ کو غزوہ بدر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ،،الولاء اور البراء،، کا یہ طرز عمل اتنا پسند آیا کہ ان کے حق میں سورۃ المجادلہ کی یہ آیات نازل فرمائیں: [لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ وَ یُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ] تم کبھی نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے۔ خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح (یعنی نور ایمان) عطا کر کے ان کی مدد فرمائی ہے وہ انہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ اللہ کے لشکر والے ہیں خبردار رہو اللہ کے لشکر والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ (سورۃ المجادلہ:22)

مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پانچ باتوں کا وعدہ فرمایا ہے۔

① اللہ تعالیٰ نے نور ایمان سے ان کی مدد فرمائی۔
② وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
③ اللہ ان سے راضی ہوگیا وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔
④ وہ اللہ کے لشکر میں شامل ہوگئے۔
⑤ وہ دنیا و آخرت میں فلاح پا گئے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام وعدے برحق اور سچ ہیں جو لوگ آج بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے "الولاء والبراء” کے تقاضوں کو پورا کریں گے وہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو یقینا سچ پائیں گے۔ [اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ] بے شک اللہ تعالیٰ وعدوں کی خلاف ورزی نہیں فرماتا۔ (سورۃ الرعد:31)