قرآن کی روشنی میں کفار کی دشمنی اور اہل ایمان کے خلاف سازشیں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عــداوۃ الکفــار للاســـلام

کفار کی اسلام دشمنی

کفار اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں۔

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَ عَدُوَّکُمۡ اَوۡلِیَآءَ] اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ (سورۃ الممتحنہ:1)

کفار فرشتوں کے دشمن ہیں۔

[قُلۡ مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِیۡلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلۡبِکَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ]،[مَنۡ کَانَ عَدُوًّا لِّلّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ جِبۡرِیۡلَ وَ مِیۡکٰىلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌّ لِّلۡکٰفِرِیۡنَ] (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کہو جو شخص جبریل کا دشمن ہے (اسے معلوم ہونا چاہئے) کہ جبرائیل نے ہی اس قرآن کو اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر اتارا ہے جو اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اہل ایمان کے لئے ہدایت اور خوش خبری ہے جو شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کے رسولوں کا، جبریل کا اور میکائیل کا دشمن ہے، اللہ خود (ایسے) کافروں کا دشمن ہے۔ (سورۃ البقرۃ:97-98)

کفار، انبیاء کے دشمن ہیں۔

[وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ؕ وَ کَفٰی بِرَبِّکَ ہَادِیًا وَّ نَصِیۡرًا] (اے محمد) ہم نے اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے اور تیرا رب تیری رہنمائی اور مدد کے لئے کافی ہے۔ (سورۃ الفرقان:31)

وضاحت:

اسی طرح سے مراد یہ ہے کہ جس طرح مکہ کے کافر آپ کے دشمن بن گئے ہیں اسی طرح کافر ہر زمانے میں ہر نبی کے دشمن رہے ہیں۔

کفار نے سیدنا نوح علیہ السلام کو سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔

[قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ یٰنُوۡحُ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمَرۡجُوۡمِیۡنَ] کافروں نے کہا اے نوح! اگر تو باز نہ آیا تو تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے۔ (سورۃ الشعراء:116)

کفار نے سیدنا صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش کی۔

[وَ کَانَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ تِسۡعَۃُ رَہۡطٍ یُّفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا یُصۡلِحُوۡنَ]،[قَالُوۡا تَقَاسَمُوۡا بِاللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَ اَہۡلَہٗ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِیِّہٖ مَا شَہِدۡنَا مَہۡلِکَ اَہۡلِہٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ]،[وَ مَکَرُوۡا مَکۡرًا وَّ مَکَرۡنَا مَکۡرًا وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ] شہر میں نو سردار تھے جو ملک میں فساد برپا کرتے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے، انہوں نے آپس میں کہا سارے مل کر قسم کھاؤ کہ ہم رات کو صالح اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے (اور انہیں قتل کر ڈالیں گے) پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم تو اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے ہم واقعی سچ کہہ رہے ہیں۔ کافروں نے یہ چال چلی اور ایک چال ہم نے چلی، جس کی انہیں خبر بھی نہ تھی۔ (سورۃ النمل:48-50)

وضاحت:

اللہ تعالیٰ کی چال یہ تھی کہ کفار پر اس رات اللہ کا عذاب آگیا جس رات وہ سیدنا صالح علیہ السلام کو قتل کرنا چاہتے تھے۔

کفار نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو عبرتناک سزا دینے کے لئے آگ میں ڈال دیا۔

[قَالُوۡا حَرِّقُوۡہُ وَ انۡصُرُوۡۤا اٰلِہَتَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ]،[قُلۡنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ] انہوں نے کہا ابراہیم کو آگ میں جلا ڈالو، اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو (اس طرح) اپنے معبودوں کی مدد کرو، ہم نے آگ کو حکم دیا، اے آگ! ابراہیم کے لئے سلامتی والی ٹھنڈی بن جا۔ (سورۃ الانبیاء:68-69)

کفار نے سیدنا لوط علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں کو جلا وطن کرنے کی سازش کی۔

[فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡۤا اٰلَ لُوۡطٍ مِّنۡ قَرۡیَتِکُمۡ ۚ اِنَّہُمۡ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوۡنَ] لوط کی قوم نے ان کی دعوت کا جواب یہ دیا کہ انہوں نے آپس میں کہا لوط اور اس کے ماننے والوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔ (سورۃ النمل:56)

سیدنا شعیب علیہ السلام کو کفار نے سنگسار کرنے کی دھمکی دی۔

[قَالُوۡا یٰشُعَیۡبُ مَا نَفۡقَہُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَقُوۡلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡنَا ضَعِیۡفًا ۚ وَ لَوۡ لَا رَہۡطُکَ لَرَجَمۡنٰکَ ۫ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡنَا بِعَزِیۡزٍ] کافروں نے کہا اے شعیب! تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تجھے اپنے درمیان ایک کمزور آدمی پاتے ہیں اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے اور تو ہم سے زیادہ طاقتور نہیں ہے۔ (سورۃ ہود:91)

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو فرعون نے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔

[وَ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُوۡنِیۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰی وَ لۡیَدۡعُ رَبَّہٗ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّبَدِّلَ دِیۡنَکُمۡ اَوۡ اَنۡ یُّظۡہِرَ فِی الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ] (بالآخر) فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا چھوڑو مجھے میں موسیٰ کو قتل کئے دیتا ہوں اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کردے گا۔ (سورۃ المؤمن:26)

یہودیوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش تیار کی۔

[وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا]،[بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا] بنی اسرائیل نے خود کہا ہم نے مسیح، عیسیٰ بن مریم کو قتل کیا ہے حالانکہ انہوں نے قتل کیا نہ اسے پھانسی دی بلکہ ان کے لئے معاملہ مشتبہ بنا دیا گیا اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں محض گمان کی پیروی ہے انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اللہ تعالیٰ زبردست ہے اور بڑی حکمت والا ہے۔ (سورۃ النساء:157-158)

کفار نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرنے، جلا وطن کرنے یا قتل کرنے کی سازشیں کیں لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر سازش سے محفوظ رکھا۔

[وَ اِذۡ یَمۡکُرُ بِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِیُثۡبِتُوۡکَ اَوۡ یَقۡتُلُوۡکَ اَوۡ یُخۡرِجُوۡکَ ؕ وَ یَمۡکُرُوۡنَ وَ یَمۡکُرُ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ] اور جب کافروں نے آپ کے خلاف تدبیریں کیں کہ آپ کو قید کردیں یا قتل کر ڈالیں یا جلاوطن کردیں، وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔ (سورۃ الانفال:30)

وضاحت:

اللہ تعالیٰ کی چال یہ تھی کہ جس رات کافروں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اسی رات اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں کے گھیرے سے محفوظ نکال کر غار ثور میں پہنچا دیا۔ یاد رہے کفار نے مکی اور مدنی زندگی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کم از کم سترہ مرتبہ قتل کرنے کی سازش کی جو اللہ کے فضل و کرم سے ہر مرتبہ ناکام ثابت ہوئی۔

کفار تمام اہل ایمان کے دشمن ہیں۔

[اِنَّ الۡکٰفِرِیۡنَ کَانُوۡا لَکُمۡ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا] بے شک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں۔ (سورۃ النساء:101)
[لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الۡیَہُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚ] مسلمانوں سے دشمنی کرنے میں یہودیوں اور مشرکوں کو تم باقی سارے لوگوں کے مقابلہ میں سخت پاؤ گے۔ (سورۃ المائدۃ:82)

کافر قرآن مجید کے دشمن ہیں۔

[وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ بِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ ؕ] اورکافر کہتے ہیں ہم اس قرآن پر ہر گز ایمان نہیں لائیں گے نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو مانیں گے۔ (سورۃ سبا:31)
[وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ ۙ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَیۡرِ ہٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡہُ ؕ] جب ہماری واضح آیات انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں اس قرآن کے بجائے کوئی اور لاؤ یا اس کی آیات بدل دو۔ (سورہ یونس:15)
[وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَ الۡغَوۡا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ] کافر (آپس میں ایک دوسرے سے) کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو (اور جب پڑھا جائے) تو خوب شور مچاؤ شاید اسی طرح تم غالب ہو جاؤ۔ (سورۃ حٰمٓ السجدۃ:26)

کافر مساجد کے دشمن ہیں۔

[مَا کَانَ لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ اَنۡ یَّعۡمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ بِالۡکُفۡرِ ؕ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ ۚۖ وَ فِی النَّارِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ] مشرکوں کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں اس لئے کہ وہ (اپنے طرز عمل سے) اپنے بارے میں کفر کی گواہی دے چکے ہیں ان کے سارے اعمال ضائع ہو گئے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔ (سورۃ التوبہ:17)