قرآن کی روشنی میں کفر کی حقیقت اور کافروں کی اقسام

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مَــنْ ہُــوَ الْکُفَّــــارُ؟

کافر کون ہیں؟

اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے کافر ہیں۔

رسولوں کا انکار کرنے والے کافر ہیں۔

اللہ تعالیٰ کو ماننے والے اور رسولوں کو نہ ماننے والے بھی کافر ہیں۔

بعض رسولوں کو ماننے والے اور بعض کو نہ ماننے والے بھی کافر ہیں۔

[اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّ نَکۡفُرُ بِبَعۡضٍ ۙ وَّ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا]،[ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا] بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں اور کہتے ہیں کہ کسی پیغمبر کو مانیں گے کسی کو نہیں مانیں گے اور (اس طرح) وہ کفر وایمان کی درمیانی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ سب پکے کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے رسوا کن عذاب تیار کررکھا ہے۔ (سورۃ النساء:150-151)

یہودی کافر ہیں۔

[ہُوَ الَّذِیۡۤ اَخۡرَجَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مِنۡ دِیَارِہِمۡ لِاَوَّلِ الۡحَشۡرِ] وہی ذات ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلے حشر کے وقت نکالا۔ (سورۃ الحشر:2)

وضاحت:

اس آیت میں اہل کتاب کافروں سے مراد بنو نضیر کا یہودی قبیلہ ہے جن کی بار بار بد عہدیوں کے باعث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ منورہ سے باہر نکال دیا۔

عیسائی کافرہیں۔

[لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ] یقینا کفر کیا ان لوگوں نے، جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ (سورۃ المائدۃ:17)

منافق کافر ہیں۔

[وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ ائۡذَنۡ لِّیۡ وَ لَا تَفۡتِنِّیۡ ؕ اَلَا فِی الۡفِتۡنَۃِ سَقَطُوۡا ؕ وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیۡطَۃٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ] ان میں سے کوئی (منافق) ہے جو کہتا ہے مجھے (محاذ جنگ پر جانے سے) رخصت دے دیجئے اور مجھے فتنے میں نہ ڈالئے، سنو! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کر کے) فتنے میں تو یہ پڑ چکے ہیں۔ ایسے کافروں کو جہنم گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ (سورۃ التوبہ:49)

مرتد کافر ہیں۔

[وَ مَنۡ یَّرۡتَدِدۡ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتۡ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ] اور جو شخص اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا اس کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے لوگ جہنمی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (سورۃ البقرۃ:217)

ابلیس بھی کافر ہے۔

[وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اَبٰی وَ اسۡتَکۡبَرَ وَ کَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ] جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا، تکبر کیا اور کافروں سے ہوگیا۔ (سورۃ البقرۃ:34)