صحابہ کرام کے فضائل قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو عبیدہ محمد ثاقب
مضمون کے اہم نکات

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے فضائل

اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین امت کے سب سے افضل، سب سے پاکیزہ اور سب سے معتبر طبقہ ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لایا، آپ ﷺ کی نصرت کی، دین کے لیے ہجرت و جہاد کیا، اپنی جان و مال قربان کیے، اور قرآن و سنت کو امت تک پہنچایا۔ اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت، ان کا احترام، ان کے فضائل کا اقرار، اور ان کے بارے میں زبان کو محفوظ رکھنا اہلِ سنت کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اللہ تعالیٰ کی رضا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ تَحۡتَہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ]

اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ [التوبة: 100]

یہ آیت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، خصوصاً سابقینِ اولین مہاجرین و انصار کے عظیم مقام پر واضح دلیل ہے۔

بیعتِ رضوان والے صحابہ سے اللہ کی رضا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحۡتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَثَابَہُمۡ فَتۡحًا قَرِیۡبًا]

بلاشبہ یقینا اللہ ایمان والوں سے راضی ہوگیا، جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، تو اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا، پس ان پر سکینت نازل کر دی اور انھیں بدلے میں ایک قریب فتح عطا فرمائی۔ [الفتح: 18]

یہ آیت بیعتِ رضوان والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا پر صریح نص ہے۔

مہاجرین و انصار کی سچائی

اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے بارے میں فرمایا: [لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُہٰجِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اَمۡوَالِہِمۡ یَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا وَّ یَنۡصُرُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ]

(یہ مال) ان محتاج گھر بار چھوڑنے والوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوںسے نکال باہر کیے گئے۔ وہ اللہ کی طرف سے کچھ فضل اور رضا تلاش کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔ [الحشر: 8]

اور انصار کے بارے میں فرمایا: [وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الۡاِیۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ یُحِبُّوۡنَ مَنۡ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ]

اور (ان کے لیے) جنھوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو۔ [ الحشر: 9]

ان آیات میں مہاجرین کی سچائی اور انصار کے ایثار و محبت کو بیان کیا گیا ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم امت کے بہترین لوگ ہیں

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [خير الناس قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم]

سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔ [صحیح بخاری: 3651، صحیح مسلم: 2533]

یہ حدیث صراحتاً بتاتی ہے کہ امت کا بہترین طبقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طبقہ ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم امت کے لیے امان ہیں

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [النجوم أمنة للسماء، فإذا ذهبت النجوم أتى السماء ما توعد، وأنا أمنة لأصحابي، فإذا ذهبت أتى أصحابي ما يوعدون، وأصحابي أمنة لأمتي، فإذا ذهب أصحابي أتى أمتي ما يوعدون]

ستارے آسمان کے لیے امان ہیں، جب ستارے چلے جائیں گے تو آسمان پر وہ چیز آئے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ میں اپنے صحابہ کے لیے امان ہوں، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ چیز آئے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں، جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ چیز آئے گی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ [صحیح مسلم: 2531]

یہ حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عظیم مقام کو واضح کرتی ہے کہ ان کا وجود امت کے لیے امان اور خیر کا سبب تھا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا کہنے کی ممانعت

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [لا تسبوا أصحابي، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا، ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه]

میرے صحابہ کو برا نہ کہو؛ کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔[صحیح بخاری: 3673، صحیح مسلم: 2541]

یہ حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام کو نہایت واضح کر دیتی ہے کہ بعد والے لوگوں کا بڑا عمل بھی صحابہ کے معمولی عمل کے برابر نہیں ہو سکتا۔

انصار سے محبت ایمان کی علامت ہے

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [آية الإيمان حب الأنصار، وآية النفاق بغض الأنصار]

انصار سے محبت ایمان کی علامت ہے، اور انصار سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ [صحیح بخاری: 17، صحیح مسلم: 74]

یہ حدیث انصار رضی اللہ عنہم کے مقام اور ان سے محبت کی دینی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

انصار سے بغض رکھنے والا اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ہے

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے بارے میں فرمایا: [لا يحبهم إلا مؤمن، ولا يبغضهم إلا منافق، من أحبهم أحبه الله، ومن أبغضهم أبغضه الله]

انصار سے مؤمن ہی محبت کرتا ہے، اور ان سے منافق ہی بغض رکھتا ہے۔ جس نے ان سے محبت کی اللہ اس سے محبت کرے گا، اور جس نے ان سے بغض رکھا اللہ اس سے بغض رکھے گا۔ [صحیح بخاری: 3783، صحیح مسلم: 75]

یہ حدیث انصار رضی اللہ عنہم سے محبت اور ان سے بغض کے بارے میں نہایت سخت معیار بیان کرتی ہے۔

اہلِ بدر کی فضیلت

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہلِ بدر کے بارے میں فرمایا: [لعل الله اطلع على أهل بدر، فقال: اعملوا ما شئتم، فقد غفرت لكم]

یقیناً اللہ نے اہلِ بدر کی طرف نظر فرمائی اور فرمایا: تم جو چاہو عمل کرو، میں نے تمہیں بخش دیا۔ [صحیح بخاری: 3007، صحیح مسلم: 2494]

یہ حدیث اہلِ بدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عظیم مقام اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص فضیلت پر واضح دلیل ہے۔

بیعتِ رضوان والوں کی فضیلت

سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [لا يدخل النار، إن شاء الله، من أصحاب الشجرة أحد، الذين بايعوا تحتها]

درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی شخص، ان شاء اللہ، آگ میں داخل نہیں ہوگا۔ [صحیح مسلم: 2496]

یہ حدیث بیعتِ رضوان والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظیم فضیلت پر واضح نص ہے۔

صحابہ کے بعد آنے والوں کا طریقہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ الَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ]

اور (ان کے لیے) جنھوں نے ان سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔ [الحشر: 10]

یہ آیت بعد والوں کا منہج واضح کرتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں دل صاف رکھا جائے، ان کے لیے مغفرت کی دعا کی جائے، اور ان کے خلاف بغض و کینہ نہ رکھا جائے۔

خلاصہ

قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین امت کا بہترین طبقہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا، بیعتِ رضوان والوں کی تعریف فرمائی، مہاجرین کو سچا کہا، انصار کے ایثار کو بیان فرمایا، اور بعد والوں کو یہ تعلیم دی کہ وہ صحابہ کے لیے مغفرت کی دعا کریں اور اپنے دلوں کو ان کے بارے میں کینہ سے پاک رکھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو امت کے لیے امان قرار دیا، انہیں برا کہنے سے منع فرمایا، اور انصار سے محبت کو ایمان کی علامت قرار دیا۔ اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت، ان کا احترام، ان کے فضائل کا اقرار، اور ان کے قاتلوں و گستاخوں سے براءت اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے اور منہج کا لازمی حصہ ہے۔