قرآن کی روشنی میں مسلمانوں کے خلاف کفار کے عزائم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عزائم الکفار ضد المسلمین

کفار کے مسلمانوں کے خلاف عزائم

کافر چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی ہماری طرح کافر ہوجائیں۔

[وَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ کَمَا کَفَرُوۡا فَتَکُوۡنُوۡنَ سَوَآءً]

وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ تا کہ تم اور وہ سب یکساں ہوجائیں۔ (سورۃ النساء:89)

کافر مسلمانوں سے حسد رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنا دین چھوڑ دیں۔

[وَدَّ کَثِیۡرٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یَرُدُّوۡنَکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِکُمۡ کُفَّارًا ۚۖ حَسَدًا مِّنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِہِمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الۡحَقُّ ۚ فَاعۡفُوۡا وَ اصۡفَحُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ]

اپنے نفس کے حسد کی وجہ سے اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں ایمان سے پھیر کر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں حالانکہ حق (اسلام) ان پر واضح ہو چکا ہے تم ان کے معاملے میں عفو و درگزر سے کام لو حتی کہ اللہ تعالیٰ خود ہی ان کے بارے میں اپنا فیصلہ نافذ فرمادے، بے شک اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے۔ (سورۃ البقرۃ:109)

کافر مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ برسر جنگ رہیں گے تاآنکہ مسلمان اپنے دین سے پھر جائیں۔

[وَ لَا یَزَالُوۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ حَتّٰی یَرُدُّوۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ؕ]

کافر تمہارے ساتھ ہمیشہ قتال کرتے رہیں گے حتی کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے پھیر لے جائیں۔ (سورۃ البقرۃ:217)

کفار، مختلف چالوں سے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔

[وَ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَ اکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ]

اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی کے ماننے والوں پرجو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صبح کے وقت ایمان لاؤ اور شام کو اس کا انکار کر دو تا کہ مسلمان بھی (شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر) اپنے دین سے پھر جائیں۔ (سورہ آل عمران:72)

کافر مسلمانوں کی زبانی چاپلوسی کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں مسلمانوں کے لئے نفرت ہوتی ہے۔

[یُرۡضُوۡنَکُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ تَاۡبٰی قُلُوۡبُہُمۡ ۚ وَ اَکۡثَرُہُمۡ فٰسِقُوۡنَ]

کافر اپنی زبانوں سے تمہیں راضی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کے دل انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ (سورۃ التوبہ:8)

مشرک اوریہودی مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں۔

[لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الۡیَہُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا ۚ]

تم اہل ایمان کی دشمنی میں سب سے زیادہ مشرکین اور یہود کو پاؤ گے۔ (سورۃ المائدۃ:82)

کافر مسلمانوں سے کبھی محبت اور دوستی نہیں کریں گے۔

کافرمسلمانوں کے خلاف شدید غیظ و غضب رکھتے ہیں۔

[ہٰۤاَنۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَہُمۡ وَ لَا یُحِبُّوۡنَکُمۡ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ کُلِّہٖ ۚ وَ اِذَا لَقُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚ٭ۖ وَ اِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَیۡکُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَیۡظِ ؕ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَیۡظِکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ]

(مسلمانو!) تم ان (غیر مسلموں) سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم تمام (آسمانی) کتب کو مانتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی (تمہارے رسول اور کتاب کو) مانتے ہیں لیکن جب تم سے الگ ہوتے ہیں تو غصے کے مارے اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں، کہو اپنے غصے میں جل مرو، بے شک اللہ تعالیٰ سینوں کے بھید تک جانتا ہے۔ (سورۃ آل عمران:119)

مسلمانوں کو کسی معاملے میں فائدہ پہنچے تو کفار کو بُرا لگتا ہے اگر نقصان اٹھائیں توکفار کو خوشی ہوتی ہے۔

[اِنۡ تَمۡسَسۡکُمۡ حَسَنَۃٌ تَسُؤۡہُمۡ ۫ وَ اِنۡ تُصِبۡکُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّفۡرَحُوۡا بِہَا ؕ وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا لَا یَضُرُّکُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡـًٔا ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ]

اگر تمہیں کوئی بھلائی حاصل ہو تو انہیں بری لگتی ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے تو اس سے یہ خوش ہوتے ہیں اگر تم صبر سے کام لو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی کوئی چال تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گی جو کچھ یہ کررہے ہیں اللہ اسے گھیرے ہوئے ہے۔ (سورۃ آل عمران:120)

کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف چھپی ہوئی دشمنی، اس دشمنی سے کہیں زیادہ ہے، جس کا اظہار وہ اپنی زبانوں سے کرتے ہیں۔

کافر مسلمانوں کو ملیا میٹ کرنے میں اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنۡ دُوۡنِکُمۡ لَا یَاۡلُوۡنَکُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاہِہِمۡ ۚۖ وَ مَا تُخۡفِیۡ صُدُوۡرُہُمۡ اَکۡبَرُ ؕ قَدۡ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ]

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اپنے مومن ساتھیوں کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا راز دار نہ بناؤ، کیونکہ وہ تمہیں ہلاک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے جس بات سے تمہیں تکلیف پہنچے اس سے وہ خوش ہوتے ہیں ان کا بغض ان کی زبانوں سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ ان کے سینوں میں چھپا ہے وہ اس سے کہیں بڑا ہے ہم نے تمہیں صاف صاف باتیں بتا دیں ہیں اگر تم عقلمند ہو (تو ان سے دوستی کرنے میں احتیاط برتو) (سورۃ آل عمران:118)

کافر مسلمانوں کو دین اسلام سے ہٹا کر لا دینیت اور گمراہی کی راہ پر لانا چاہتے ہیں۔

[وَدَّتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یُضِلُّوۡنَکُمۡ ؕ وَ مَا یُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ]

اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹا دے حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے لیکن انہیں اس کا شعور نہیں۔ (سورۃ آل عمران:69)

کفار چاہتے ہیں کہ مسلمان ماڈریٹ اسلام کے علمبردار بنیں۔

[فَلَا تُطِعِ الۡمُکَذِّبِیۡنَ]،[وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡہِنُ فَیُدۡہِنُوۡنَ]

اے نبی! جھٹلانے والوں کی بات نہ مانو وہ تو چاہتے ہیں کہ اگر تم ڈھیلے پڑ جاؤ تو وہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔ (سورۃ القلم:8-9)

جب تک مسلمان اپنا دین نہیں چھوڑتے کافر مسلمانوں سے دشمنی کرتے رہیں گے۔

[وَ لَنۡ تَرۡضٰی عَنۡکَ الۡیَہُوۡدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمۡ ؕ]

یہودی اور عیسائی تم سے ہر گز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ (سورۃ البقرۃ:120)

کافر مسلمانوں کو قولاً فعلاً ہر طرح سے اذیت پہنچانا چاہتے ہیں۔

[اِنۡ یَّثۡقَفُوۡکُمۡ یَکُوۡنُوۡا لَکُمۡ اَعۡدَآءً وَّ یَبۡسُطُوۡۤا اِلَیۡکُمۡ اَیۡدِیَہُمۡ وَ اَلۡسِنَتَہُمۡ بِالسُّوۡٓءِ وَ وَدُّوۡا لَوۡ تَکۡفُرُوۡنَ ؕ]

(کافروں کا تمہارے ساتھ طرز عمل یہ ہے کہ) اگر وہ تم پر قابو پالیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں ہاتھ اور زبان سے تمہیں اذیت پہنچائیں وہ چاہتے ہیں کہ (ان کی اذیتوں سے تنگ آکر) کسی طرح تم بھی کافر ہوجاؤ۔ (سورۃ الممتحنہ:2)

کافر اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں۔

[یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ]

کافر اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے اس نور کو پھیلا کررہے گا، خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ (سورۃ الصف:8)

اسلام کا غلبہ، مشرکوں کوسخت ناگوار ہے۔

[ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ]

وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ (سورۃ التوبہ:33)

کافر چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو کوئی بھلائی نہ ملے۔

[مَا یَوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ وَ لَا الۡمُشۡرِکِیۡنَ اَنۡ یُّنَزَّلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ خَیۡرٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ]

اہل کتاب میں سے کافر ہوں یا مشرک، ہر گز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے چن لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔ (سورۃ البقرۃ:105)

کفار چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے اسلحہ سے غافل ہوں اور وہ یکبارگی حملہ کر کے مسلمانوں کو تہس نہس کردیں۔

[وَدَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ تَغۡفُلُوۡنَ عَنۡ اَسۡلِحَتِکُمۡ وَ اَمۡتِعَتِکُمۡ فَیَمِیۡلُوۡنَ عَلَیۡکُمۡ مَّیۡلَۃً وَّاحِدَۃً ؕ]

کافر چاہتے ہیں کہ تم لوگ اپنے ہتھیاروں اور سامان حرب کی طرف سے جیسے ہی غافل ہو تو وہ تم پر اچانک ٹوٹ پڑیں۔ (سورۃ النساء:102)