مضمون کے اہم نکات
لا یمکن ولاء بین الکفار والمسلمین
مسلمانوں اور کافروں میں دوستی ناممکن ہے
مسلمان اور کافر دو مختلف گروہ ہیں، جن میں اتحاد یا دوستی ممکن نہیں۔
[قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ]،[لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ]،[وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ]،[وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡ]،[وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ]،[لَکُمۡ دِیۡنُکُمۡ وَلِیَ دِیۡنِ]
(اے محمد!) کہہ دو، اے کافرو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جس کی عبادت تم کرتے ہو، نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین۔
(سورۃ الکافرون:1تا6)
❀ [عَنْ جَرِیْرِبْنِ عَبْدِاللّٰہِ رَضی اللّٰه عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم لاَ تَرَایَا نَارَاہُمَا]
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں اور کافروں کی آگ اکٹھی نہیں جل سکتی۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔
[سنن ابی داود:2645]
مسلمانوں اور کافروں کی شریعت الگ الگ ہے، لہٰذا دونوں میں اتفاق اور اتحاد ناممکن ہے۔
[وَ لَئِنۡ اَتَیۡتَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَکَ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبۡلَتَہُمۡ ۚ وَ مَا بَعۡضُہُمۡ بِتَابِعٍ قِبۡلَۃَ بَعۡضٍ ؕ]
تم ان اہل کتاب کے پاس کوئی سی نشانی لے آؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے نہ ہی تمہارے لئے ممکن ہے کہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو ان دونوں گروہوں میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلہ کی پیروی کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔ (سورۃ البقرۃ:145)
مسلمان اور کافر اگر باپ بیٹا بھی ہوں تب بھی ان کے راستے الگ الگ ہیں۔
[قَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِہَتِیۡ یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ لَاَرۡجُمَنَّکَ وَ اہۡجُرۡنِیۡ مَلِیًّا]
(سیدنا ابراہیم کی دعوت کے جواب میں) باپ نے کہا ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا بس تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجا۔ (سورۃ مریم:46)
مومنوں اور کافروں کے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہے۔
[وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ]،[ وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوۡرُ]،[وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الۡحَرُوۡرُ]،[وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ]
اندھا (یعنی کافر) اور بینا (یعنی مسلمان) برابر نہیں، نہ ہی تاریکی (میں زندگی گزارنے والا) اور روشنی (میں زندگی گزارنے والا) برابر ہے نہ ہی (آخرت میں) سایہ (میں جگہ پانے والا) اور گرمی (میں جگہ پانے والا) برابر ہے نہ ہی زندہ (مسلمان) اور مردہ(کافر) یکساں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے سنوا دیتا ہے اور جو قبروں میں پڑے ہیں (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!) تو ان کو نہیں سنا سکتا۔ (سورۃ فاطر:19تا22)
کفار مسلمانوں کو گمراہ سمجھتے ہیں، مسلمان کفار کو گمراہ سمجھتے ہیں۔
[اِنَّ الَّذِیۡنَ اَجۡرَمُوۡا کَانُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یَضۡحَکُوۡنَ]،[ وَ اِذَا مَرُّوۡا بِہِمۡ یَتَغَامَزُوۡنَ]،[وَ اِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤی اَہۡلِہِمُ انۡقَلَبُوۡا فَکِہِیۡنَ]،[وَ اِذَا رَاَوۡہُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوۡنَ]
مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے جب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر ان کی طرف اشارے کرتے جب اپنے گھر والوں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے اور جب مسلمانوں کو دیکھتے تو کہتے یہ تو گمراہ لوگ ہیں۔ (سورۃ المطففین:29تا32)
❀ [فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ مَّشۡہَدِ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ]،[اَسۡمِعۡ بِہِمۡ وَ اَبۡصِرۡ ۙ یَوۡمَ یَاۡتُوۡنَنَا لٰکِنِ الظّٰلِمُوۡنَ الۡیَوۡمَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ]
ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کیا بڑے دن کی حاضری سے جس روز وہ ہمارے پاس آئیں گے اس روز وہ خوب سن اور دیکھ رہے ہوں گے لیکن آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں پڑے ہیں۔ (سورۃ مریم:37-38)
کافروں اور مسلمانوں کا مقصد حیات الگ الگ ہے۔
[اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِیَآءَ الشَّیۡطٰنِ ۚ اِنَّ کَیۡدَ الشَّیۡطٰنِ کَانَ ضَعِیۡفًا]
جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میں قتال کرتے ہیں پس شیطان کے دوستوں سے قتال کرو بے شک شیطان کی چال کمزور ہے۔ (سورۃ النساء:76)
کافروں اور مسلمانوں کا انجام بھی الگ الگ ہے۔
[اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ]
جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے شدید عذاب ہے اور وہ لوگ جو ایمان لائے نیک عمل کئے ان کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (سورۃ فاطر:7)