شادی بیاہ پر موسیقی
اس عنوان کے تحت جناب غامدی صاحب اور ان کے ہمنواؤں نے جو کچھ لکھا اس کی حقیقت ہم پہلے تشت از بام کر چکے ہیں۔ اور اسی ضمن میں یہ بھی عرض کیا گیا کہ: شادی کے موقعے پر عورتوں کی مجلس میں لونڈیوں یا بچیوں کا گانا درست ہے بشرطیکہ وہ گیت جائز ہوں ان میں حسن و جمال کی داستانیں نہ ہوں اور فسق و فجور اور عشق بازی کا تذکرہ نہ ہو، اسطرح کے گانے سے محفل موسیقی کے لئے جواز ثابت کرنا متجددین کا کام تو ہو سکتا ہے دین کے کسی سچے خادم کا نہیں۔ اہل اشراق نے کمال دیانت کے ساتھ ہمارے اسی موقف کو نقل کیا اور آخری سطر میں جو کہا گیا تھا کہ اس طرح کے گانے سے محفل موسیقی کے لئے جواز ثابت کرنا متجددین کا کام تو ہو سکتا ہے دین کے کسی سچے خادم کا نہیں، اسے حذف کر دیا اور بڑی معصومیت سے فرمایا کہ ’الاعتصام نے ہمارے استدلال کو اصلاً تسلیم کر لیا ہے۔ [لا حول ولا قوة إلا بالله]
کہاں بچیوں یا لونڈیوں کا گانا اور کہاں ،،موسیقی۔ ہم نے صاف صاف لکھا تھا شادی بیاہ کے موقعے پر فی الجملہ بچیوں یا لونڈیوں کا گانا تو جائز ہے، اسے محفل موسیقی کی دلیل قرار دینا جائز و ناجائز اور حلال و حرام کے مابین فرق نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ اتنی وضاحت کے باوجود افسوس کہ اہل اشراق فرماتے ہیں الاعتصام نے اصلاً ہمارے استدلال کو تسلیم کر لیا ہے۔ سبحان الله
شادی بیاہ کے موقعے پر موجودہ دور میں بینڈ باجے، مختلف سُروں میں گیت اور وہ بھی جو عشق و معاشقہ پر مبنی ہوں، اس کے ساتھ ڈانس معروف موسیقاروں اور فن کاروں کا اسٹیج پر فن موسیقی کا مظاہرہ اور وہ بھی آزاد، بالغ مردوں اور عورتوں کا، شرم آنی چاہیے ان حضرات کو جو اس نوعیت کی موسیقی کو عہد نبوی میں بچیوں اور لونڈیوں کے گانے پر قیاس کر کے جواز مہیا کرتے ہیں۔ عہد نبوی میں جو گیت گائے جاتے تھے ان کا تذکرہ احادیث و تاریخ کی کتابوں میں موجود، مگر کیا موجودہ دور میں گائے جانے والے گیت بھی اسی نوعیت کے ہوتے ہیں اور گانے والے کون ہوتے ہیں؟
ہم نے الاعتصام میں یہ بھی عرض کیا تھا یہ بھی متجددین کی کرشمہ سازی ہے کہ ابن ماجہ کی اسی حدیث [أرسلتم معها من يغنی] کا ترجمہ یوں کرتے ہیں ،،کیا اس کے ساتھ کوئی گانے والا بھیجا ہے۔ ترجمہ ہی نہیں استدلال میں بھی کہا گیا کہ آپ نے شادی کے موقعے پر گانے والے کو دلہن کے ہمراہ بھیجنے کی ترغیب دی۔ یہ ترجمہ اور استدلال اس بات کی دلیل ہے کہ اہل اشراق سمجھتے ہیں کہ ،،موسیقی،، کا یہ شوق مرد بھی رکھتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی موسیقی کے ،،فن کار،، موجود تھے، ہماری یہ بات اہل اشراق کو بڑی ناگوار گزری تو فرمایا گیا ہے کہ روایت میں چوں کہ [من یغنی] کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس لئے یہ ضروری تھا کہ اس کا ترجمہ تذکیر میں کیا جاتا دنیا کی تمام بڑی زبانوں کا یہ قاعدہ ہے کہ جب جنس کی تخصیص مقصود نہ ہو تو بالعموم مذکر ہی کا صیغہ استعمال ہوتا ہے۔ (اشراق:ص44)
زبانوں کا یہ قاعدہ معلوم و معروف ہے۔ لیکن بات صرف ترجمہ کی نہیں استدلال کی بھی ہے، کیا اہل اشراق نے استدلالاً نہیں کہا کہ ،آپ نے شادی کے موقعے پر گانے والے کو دلہن کے ہمراہ بھیجنے کی ترغیب دی۔ اس کے بعد ترجمہ میں تذکیر کا عذر، عذرِ گناہ بدتر از گناہ کا مصداق ہے۔ ترجمہ میں تذکیر کی اگر گنجائش ہے تو کیا استدلال میں تذکیر کا جملہ ،،گانے والے،، لانے کی بھی گنجائش ہے؟ بلکہ روایات میں ،جاریہ، کے بارے میں اہل اشراق نے لکھا ہے کہ اس میں شبہ نہیں کہ جاریہ کا لفظ بچی کے معنی میں بھی آتا ہے مگر یہاں لازم ہے کہ اس سے لونڈیاں ہی مراد لیا جائے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ دوسرے طریق میں [جاریتان] کے بجائے [قینتان] کے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔ (اشراق:ص20 مارچ2004ء)
اسی طرح جوار کے بارے میں لکھتے ہیں: یہاں جوار کا ترجمہ بچیاں کرنا درست نہیں کیوں کہ دوسرے طریق میں اس کی بجائے قینات (مغنیات) آیا ہے۔ (اشراق، ایضاً: 25)
باقی تفصیل سے قطع نظر گزارش ہے کہ دوسرے طریق کی بنا پر اگر جوار اور جاریہ کا ترجمہ بچیاں کرنا درست نہیں تو اسی روایت میں طبرانی کی روایت کے مطابق، جس میں ہے [فهل بعثتم معها جارية] کہ کیا تم نے اس کے ساتھ کسی بچی کو بھی بھیجا ہے۔ من کا ترجمہ ،،گانے والا،، اور ،،گانے والے،، کرنا کیوں کر درست ہے۔
اہل اشراق کی نظرِ عمیق کی داد دینی چاہیے کہ انھیں اپنی بے جا ہمنوائی میں جاریہ یا جوار کے معنی متعین کرنے میں اس روایت کی دوسری سند اور اس کا متن تو نظر آ جاتا ہے مگر موقف کے مخالف کسی روایت کے لفظ کے معنی متعین کرنے میں اس کی دوسری سند اور متن بالکل نظر نہیں آتا ہے۔ سبحان الله
ابن ماجہ کی اس روایت کے بارے میں اہل اشراق نے لکھا تھا کہ محدثین نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔ اس بارے میں ہم عرض کر چکے کہ کن ،،محدثین،، نے اسے حسن قرار دیا ہے؟
اس کے ساتھ یہ بھی عرض کیا گیا کہ یہ روایت تو سند کے اعتبار سے قطعاً ضعیف ہے۔ البتہ دیگر شواہد کی بنیاد پر یہ روایت حسن، صحیح ہے بلکہ اصل روایت اختصار کے ساتھ صحیح بخاری وغیرہ میں بھی ہے، اس پر اہل اشراق کی بے چارگی دیکھیے، لکھتے ہیں اگر آپ نے حدیث کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے تو پھر جرح کس بات پر ہے، اگر کچھ کہنا ہی تھا تو کیا اتنا کافی نہیں تھا کہ اس روایت کو فلاں سند کی بجائے فلاں سند سے نقل کیا جائے، نوٹ فرما لیجیے کہ عصر حاضر کے جلیل القدر محدث علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ (اشراق:ص44)
جب ابن ماجہ کی روایت سے استدلال کیا اور فرمایا گیا کہ ،،محدثین،، نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ ہم نے باحوالہ عرض کیا کہ اس کی سند قطعاً حسن نہیں تو اس پر اہل اشراق چیں بہ جبیں کیوں ہیں؟ ،،محدثین،، میں سے کم سے کم دو کا ذکر ہی کیا ہوتا۔ لیکن وہ یہ تو نہ کر سکے الٹا کہہ دیا کہ جب حدیث کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے تو جرح کس بات پر، حدیث کو جس حیثیت اور جس معنی میں ہم نے قبول کیا، کیا اہل اشراق اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو اس سخن سازی کا فائدہ؟
اہل اشراق کی ایک اور بے خبری
رہی یہ بات کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ابن ماجہ میں حسن کہا ہے۔ تو ہم نے اسے ان کے فرمانے کے مطابق ،،خوب نوٹ،، کر لیا۔ مگر صحیح ابن ماجہ میں ،،حسن،، کا لفظ دیکھ کر بغلیں بجانا اہل اشراق کی بے خبری کی کھلی دلیل ہے اور علامہ البانی کے اسلوب سے ناواقفی کا نتیجہ ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صراحت کی ہے کہ صحیح ابن ماجہ میں ہم نے بہت سی ایسی احادیث کو ذکر کیا ہے جن کی اسانید ضعیف ہیں۔ صحیح ابن ماجہ میں اس کے خلاف حکم ان شواہد اور دوسرے طرق کی بنا پر ہے اور یہ اسی قبیل سے ہے جسے محدثین صحیح لغیرہ یا حسن لغیرہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں: [لقد قويت أحاديث كثيرة أسانيدها في هذا الكتاب ضعيفة، وذلك لطرق أخرى أو شواهد فيه أو في غيره من كتب الحديث، فهي من النوع الذي يعبر عنه أهل الحديث بأنه صحيح لغيره أو حسن لغيره] (مقدمہ ضعیف سنن ابن ماجہ:ص43)
علامہ البانی رحمہ اللہ کی اس وضاحت کے بعد بتلائیے! ہے کوئی جان اس دفاع میں جس کا اہتمام اہل اشراق نے کیا۔ بلکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کے بعد اسی نوعیت کے حکم پر غلط فہمی میں مبتلا ہونے والوں کو اس فن میں نو آموز اور جلد باز قرار دیا، ہم اہل اشراق کے بارے میں یہ تبصرہ تو نہیں کر سکتے تاہم ان کا صحیح ابن ماجہ میں ’حسن‘ کا لفظ دیکھ کر بڑے طمطراق سے فرمانا کہ نوٹ فرما لیجیے، بہر حال اسی زمرہ میں آتا ہے۔ [ولدينا مزيد] اہل اشراق سے عرض ہے کہ اگر انھوں نے علامہ البانی کا فیصلہ ہی قبول کرنا ہے تو وہ خود نوٹ فرما لیں کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ہی (ضعیف الجامع الصغیر، رقم:1420) میں ابن ماجہ کی اسی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور اشارہ کیا ہے اس کی تفصیل (سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ، رقم:2981) میں دیکھ لیجیے۔ اہل اشراق سے عرض ہے کہ وہ یہ تفصیل خود دیکھیں اور بتلائیں کہ جس سبب سے اس نا کارہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا اور علامہ البوصیری رحمہ اللہ کے حوالے سے اس پر کلام نقل کیا، کیا اسی کا ذکر علامہ البانی رحمہ اللہ نے نہیں کیا؟ اس لیے صحیح ابن ماجہ سے اہل اشراق کو جو غلطی لگی یہ ان کی بے خبری کا نتیجہ ہے۔ حقیقتِ حال کا انھیں اگر علم ہوتا تو وہ یہ جسارت قطعاً نہ کرتے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ علامہ البانی نے السلسلۃ الضعیفہ میں یہ بھی فرمایا ہے: [وفي الباب ما يغنى عنه] اس باب میں دوسری روایات ہیں جن سے اس روایت کی ضرورت نہیں رہتی۔ اہل اشراق علامہ البانی رحمہ اللہ سے بھی تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب حدیث کی حیثیت سے اسے قبول کر لیا ہے تو پھر جرح کس بات پر ہے؟ مگر فنِ حدیث سے وابستہ کوئی طالبِ علم یہ نہیں کہہ سکتا۔ ایک حدیث کی سند کا ضعیف ہونا مگر شواہد و متابعات کی بنا پر اس کا حسن یا صحیح ہونا دو علیحدہ باتیں ہیں۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی شواہد کی بنا پر حسن کہا مگر ابن ماجہ کی سند کے اعتبار سے ضعیف قرار دیا ہے۔ مزید دیکھیے: (ارواء الغلیل:ج7، ص52، رقم 1995)،( آداب الزفاف: ص 109) اُس سند اور حدیث کے الفاظ کو جس کے بارے میں اہل اشراق کا دعویٰ ہے کہ محدثین نے اس کو حسن کہا ہے۔ اہل اشراق کا فرض بنتا ہے کہ اس دعویٰ کو ثابت کریں۔ ادھر ادھر کی بے سروپا باتوں میں اپنے حواریوں کو نہ الجھائیں۔
قارئین کرام! شادی بیاہ پر موسیقی کے عنوان سے یہ ہے حقیقت ہماری معروضات پر، اہل اشراق کی تنقیدات کی۔ اب آئیے اس کا جائزہ لیجیے جو کچھ اس کے بعد’جشن پر موسیقی‘ کے تحت اہل اشراق نے رقم فرمایا ہے۔
جشن پر موسیقی
اہل اشراق نے جشن پر موسیقی کے عنوان سے اور راقم نے جشن موسیقی کے تحت جو کچھ لکھا اس کے متعلق اہل اشراق کا اول وہلہ میں سوال یہ ہے کہ ہمارے مضمون میں عنوان کے طور پر یا متن کے اندر جشن موسیقی کے الفاظ کہیں استعمال نہیں ہوئے۔ زبان و بیان سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والا شخص بھی پکار اٹھے گا کہ ان دونوں عنوانات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جشنِ موسیقی کا مطلب ہے کہ موسیقی کا جشن منایا جا رہا ہے اور جشن پر موسیقی سے مراد ہے کہ کسی قومی یا علاقائی جشن کی تقریبات کے موقعہ پر موسیقی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ (اشراق:ص45)
،،جشن موسیقی،، کے عنوان سے اگر اہل اشراق کی دل شکنی ہوئی ہے تو ہم معذرت خواہ ہیں۔ ہمیں جشن پر موسیقی ہی لکھنا چاہیے تھا تاکہ اہل اشراق دو صفحات سیاہ کرنے سے تو بچ جاتے۔ لیکن اس ضمن میں کیا ہم یہ دریافت کرنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ قومی اور علاقائی جشن منانے کی شرعی پوزیشن کیا ہے؟ عیدین کے علاوہ کیا رسول اللہ ﷺ یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کسی قومی دن میں جشن کا اہتمام کیا؟ ہمارے ہاں جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ، جشنِ بہاراں، جشنِ آزادی، جشنِ سالِ نو، جشنِ سال گرہ منائے جاتے ہیں، اور ان میں جو کچھ روا رکھا جاتا ہے اس کا شرعی جواز کیا ہے؟ جشن کے معنی خوشی معلوم شد، مگر بتلایا جائے وہ کون سا جشن ہے جس میں ناچ رنگ گانا، عیش و نشاط، گل چھرے، اڑنگے تڑنگے اور دیگر وہ سب طریقے اختیار نہیں کیے جاتے جو سفلی جذبات کو بھڑکاتے اور حیوانی جبلت کو ابھارتے ہیں، بات خوشی تک محدود رہتی ہوتی تو ہم بھی ایسے جشن کی مخالفت نہ کرتے۔
مگر جب اس حقیقت کا اعتراف اہل اشراق کو بھی ہے کہ جشن میں ایسی چیزیں در آئی ہیں تو پھر وہ اس کے جواز کی سند کس بنیاد پر عنایت فرما رہے ہیں؟
”جشن پر موسیقی“ کے لئے جن روایات کو اہل اشراق نے ذکر کیا تھا ان میں ایک روایت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، جو ابن ماجہ میں مروی ہے، وہ صحیح ہے۔ اس کے علاوہ ابن عائشہ رحمہ اللہ اور طبرانی کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایات ذکر کی گئی تھیں جن کے بارے میں عرض کیا کہ یہ دونوں ضعیف اور نا قابلِ استدلال ہیں۔ ان دونوں پر ہماری تنقید کو تو اہل اشراق نے قبول کیا، البتہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کی بنیاد پر اب فرمایا گیا ہے کہ ہمارا بنیادی استدلال ابن ماجہ کی صحیح روایت پر تھا کہ نبی ﷺ کی آمد کی خوشی میں باندیوں نے آلہ موسیقی دف بجا کر گیت گائے، آپ نے ان پر نکیر نہیں فرمائی۔ (اشراق:ص 46-47)
بڑی عجیب بات ہے کہ ہماری تنقید کے نتیجہ میں اب فرمایا گیا ہے کہ ہمارا بنیادی استدلال ابن ماجہ کی صحیح روایت پر تھا سوال یہ ہے کہ ابن ماجہ کی جس حدیث سے اہل اشراق نے بنیادی استدلال کیا، اس کو تو انھوں نے دوسرے نمبر پر ذکر کیا ہے، جب کہ [سیرۃ الحلبیہ] کے حوالے سے ابن عائشہ کی ضعیف روایت پہلے، نمبر ① پر ذکر کی ہے اور سب سے پہلے نمبر ① کے تحت یہ استدلال کیا کہ ابن عائشہ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو عورتوں اور بچوں نے یہ گیت گائے۔ (اشراق: ص 24 مارچ 2004ء)
اور اسی روایت کی بنا پر اہل اشراق نے بحث کے اختتام پر یہ نتیجہ بھی نکالا کہ اس موقع پر عام عورتوں اور بچوں اور مغنیات نے دف بجا کر استقبالیہ نغمے بھی گائے۔ (ایضاً: ص 26) مگر ابن عائشہ کی اس روایت پر تنقید اور اس بات کی بالدلیل وضاحت کہ ’عام عورتوں‘ کا اس موقعہ پر گیت گانا ہی ثابت نہیں، کے بعد اب اہل اشراق بڑی چابک دستی سے فرماتے ہیں: ہمارا بنیادی استدلال ابن ماجہ کی روایت پر تھا چلیے یہی بنیادی استدلال تھا مگر اس سے عام ’عام عورتوں‘ کے نغمے گانے کی ضد تو ٹوٹی۔ الحمد لله
پہلے تو ابن عائشہ کی ضعیف روایت کی بنا پر آپ ﷺ کی مدینہ طیبہ تشریف آوری پر عام عورتوں کو گیت گانے والی بچیوں اور لونڈیوں میں شامل سمجھا گیا، مگر اب اس حقیقت کا اعتراف کر لیا گیا ہے کہ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ اس زمانے میں عرب میں گانے یا غنا کا پیشہ بالعموم لونڈیوں ہی سے وابستہ تھا، وہ تہواروں کے موقع پر اور خوشی کی تقریبات میں اس کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ آزاد عورتیں اور لڑکیاں نہ اس فن کو سیکھتی تھیں اور نہ اس کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ (اشراق: ص32 مارچ2006ء)
ہم نے بھی تو یہی عرض کیا تھا کہ یہ جو کچھ ہوا، وہ بچیوں اور لونڈیوں کا معاملہ تھا اسے معروف معنی میں ’جشنِ آمد‘ قرار دینا کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں۔ نہ ”عام عورتوں“ نے اس میں حصہ لیا، نہ مردوں نے دف بجائی نہ گیت ہی گائے۔ بڑوں نے استقبال کیا، بچیوں اور لونڈیوں نے گیت گائے اور دف بجائی۔ کیا ’جشن‘ اسی کو کہتے ہیں، اس حقیقت کے اعتراف کے باوجود اپنے ضمیر کا بوجھ کم کرنے کے لئے۔ (الرحیق المختوم: ص 240)،(سیرت سرورِ عالم: ص 744 ج 2) کے حوالے سے آپ ﷺ کی آمد کا نقشہ اہل اشراق نے نقل کیا ہے۔ مگر غور فرمایے کہ اس کا یہاں فائدہ کیا؟ الرحیق المختوم میں یہ کہاں ہے کہ ’عام عورتوں‘ نے بھی اس میں حصہ لیا؟ اس کے تو الفاظ ہی یہ ہیں کہ ’انصار کی بچیاں خوشی و مسرت سے ان اشعار کے نغمے بکھیر رہی تھیں،‘ مگر اہل اشراق پہلے فرماتے تھے ’عام عورتوں اور بچوں اور مغنیات‘ نے نغمے گائے، اب اگر کچھ تبدیلی آئی ہے تو بچوں کے ساتھ مغنیات کو نتھی کرنا ضروری سمجھتے ہیں، لیکن یہ چیز الرحیق المختوم میں قطعاً نہیں۔
البتہ سیرت سرورِ عالم میں ہے کہ عورتیں چھتوں پر چڑھ کر یہ گیت گا رہی تھیں،اور اسی سے غالباً اہل اشراق اپنے قارئین کے تحت الشعور یہ بات ڈالنا چاہتے ہیں کہ اس عمل میں عام عورتیں بھی شامل تھیں۔ حالانکہ ہم بالدلائل ثابت کر آئے ہیں کہ عورتوں کا یہ عمل کسی بھی صحیح روایت میں ثابت نہیں۔ اس لئے ان دونوں کتابوں کے حوالے بھی محض زیبِ داستاں سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ مزید دیکھیے: (السلسۃ الضعیفہ:رقم:6508)
ابنِ ماجہ کی حدیث پر بحث، اہل اشراق کا خبط
قارئین کرام آپ پڑھ آئے ہیں کہ ’جشن موسیقی‘ کے عنوان پر ہماری تنقید کے جواب میں اب فرمایا گیا ہے کہ ’ہمارا بنیادی استدلال ابن ماجہ کی صحیح روایت پر مبنی ہے کہ نبی ﷺ کی آمد کی خوشی میں باندیوں نے آلہ موسیقی دف بجا کر گیت گائے یہی کچھ اس سے پہلے اشراق (ص 25 مارچ 2004ء) میں بھی کہا گیا کہ شہر میں داخل ہونے کے بعد جب نبی ﷺ مدینہ کی ایک گلی میں گزرے تو کچھ باندیاں دف بجا کر گیت گا رہی تھیں۔ یہ روایت سنداً بلا شبہ درست ہے مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ ابن ماجہ کی یہ روایت آپ ﷺ کی مدینہ طیبہ تشریف آوری کے وقت ہے بھی یا نہیں؟ امام ابنِ ماجہ نے اسے عیسیٰ بن یونس ثنا عوف عن ثمامة بن عبد الله عن أنس کی سند سے ذکر کیا ہے، یہی روایت امام بیہقی نے دلائل النبوۃ (ص 508 ج 2) میں اور امام طبرانی نے المعجم الصغیر میں عیسیٰ بن یونس کی سند سے ذکر کی ہے، اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہجرت کے موقعے کی تفصیل ہے، مگر اہل اشراق کو یاد ہونا چاہیے کہ عصر حاضر کے جلیل القدر محدث علامہ ناصر الدین البانی نے فرمایا ہے کہ ہجرت کے موقعے پر دف بجانے کا ذکر صحیح نہیں، یہ صرف شادی بیاہ کے موقعے پر تھا۔ چنانچہ ہجرت کے موقعے پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ایک اور سند سے ذکر کر کے، جس میں عورتوں کے استقبال میں شامل ہونے اور دف بجانے کا ذکر ہے، فرماتے ہیں:
[ولقصة الجواري والضرب بالدف شاهد من حديث أنس ولكن ليس فيه أن ذلك كان عند قدومه صلى الله عليه وسلم المدينة، بل في رواية أن ذلك كان في عرس وهو الراجح كما تقدم بيانه في تخريج حديث أنس برقم: 3154 من المجلد السابع من الصحيحة]
بچیوں کا قصہ اور دف بجانے کا شاہد حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے لیکن اس میں آپ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری پر اس (دف) کا ذکر نہیں بلکہ ایک روایت میں ہے کہ یہ شادی کے موقع پر تھا اور یہی راجح ہے، جیسا کہ اس کی وضاحت الصحيحة کی جلد سات میں رقم الحدیث: 3154 کے تحت گزر چکی ہے۔ (السلسلة الضعيفة: رقم6508)
[السلسلة الصحيحة] کی محولہ روایت کے تحت حضرت انس کی روایت بحوالہ [ابن السنی رقم:228] ذکر کی ہے، جس میں ذکر ہے عورتوں، بچیوں اور خدام کا۔ یہ استقبال شادی سے واپسی پر تھا اور اسی میں آپ نے انہیں فرمایا تھا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ (الصحيحة: رقم3154)
شیخ البانی رحمہ اللہ کی اس وضاحت سے تو یہ عقدہ بھی حل ہو گیا کہ ”جشن پر موسیقی“ کی یہ بنیاد بھی بے بنیاد ہے۔ دوسری روایتوں کا ضعف تو وہ تسلیم کر چکے، کیا شیخ البانی رحمہ اللہ کی بات بھی تسلیم ہے یا نہیں؟
سفر پر موسیقی
سفر میں حُدی خوانی اہل بادیہ کا عام طریقہ تھا۔ نبی کریم ﷺ نے بھی سفر کے دوران میں اسے سنا اور اس سے محظوظ ہوئے جیسا کہ [صحیح بخاری:رقم3960] میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے۔ اسی حُدی خوانی کو جناب غامدی صاحب اور ان کے ہمنوا ،،موسیقی،، قرار دیتے ہیں۔ ہم نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے حوالے سے بداہتاً لکھا کہ حُدی کو موسیقی کہنا درست نہیں، مگر یہ بات اہل اشراق کو ناگوار گزری تو فرمایا گیا کہ جب تسلیم کیا گیا کہ حُدی خوانی غنا ہے تو فقط یہی روایت غنا کے جواز پر دلیلِ قاطع نہیں۔ یہ کہاں کی منطق ہے کہ اگر کوئی بدوی نغمہ سرا ہو تو جائز اور حضری نغمہ سرا ہو تو ناجائز، لمبی آواز نکال کر شتر سواروں کے مخصوص سر میں گائے تو درست، کسی دوسرے سر میں گائے تو غلط، فطری صلاحیت کی بنا پر خوش الحانی کرے تو قبول اور اگر اکتسابِ فن کے بعد خوش الحانی کرے تو رد۔ (اشراق: ص 48- 49)
مگر عجلت اور جذباتی انداز میں کہی گئی یہ بات بول بول کر کہہ رہی ہے کہ ’خوش الحانی‘ اور ’اکتسابِ فن‘ بہر حال دو علیحدہ حقیقتیں ہیں۔ اس ”اکتسابِ فن“ یعنی موسیقی ٹریننگ سنٹر۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قائم کیا؟ اگر اہل اشراق تاریخ کے اوراق سے کرید کر یہ دکھا دیں کہ یہ ہے اصحابِ صفہ کے پہلو بہ پہلو موسیقی ٹریننگ سنٹر، تو ہم ان کے شکر گزار ہوں گے اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو خوش الحانی کوئی بھی کرتا ہے وہ بدوی ہو یا حضری اسے کرنے دیں، لیکن اکتسابِ فن کے جھمیلے میں اسے نہ الجھائیں۔
قارئین کرام غور فرمائیں! حُدی خوانی کو پہلے اہل اشراق نے ”موسیقی“ قرار دیا اور اس سے ”سفر پر موسیقی“ کے لیے استدلال کیا، مگر کیا اب ان کی مندرجہ بالا عبارت نہیں بتلا رہی کہ حُدی، غنا ہے ’اکتسابِ فن‘ کے بعد خوش الحانی کچھ اور (موسیقی) ہے۔ اگر دونوں میں اہل اشراق نے اب فرق سمجھا ہے تو پھر ”سفر پر موسیقی“ کا عنوان تو بہر نوع غلط ہی ثابت ہوا۔
بہت سوچ کر دل لگایا تھا غالب
نئی بات آپ اور کیا سمجھا رہے ہیں
کوئی من چلا کہے کہ حلالہ بھی نکاح ہے کہ اس میں بھی ایجاب و قبول، مہر وغیرہ ہوتا ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں، اسی طرح متعہ اور نکاح میں بھی کوئی فرق نہیں، سود اور بیع میں بھی کوئی فرق نہیں، کہ دونوں میں معاملہ فریقین کی رضا مندی سے ہوتا ہے، تو شاید اہل اشراق کے ہاں بھی ان میں کوئی فرق نہ ہو۔ اگر ان میں کوئی فرق ہے تو یقین کیجیے فطری خوش الحانی سے شعر پڑھنے اور ’اکتسابِ فن‘ کے بعد اشعار پڑھنے میں بھی فرق ہے۔ غنا کی ٹریننگ، اس کی تربیت گاہیں، آلاتِ موسیقی کی سُروں کی تعلیم کا اہتمام بہر حال نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دورِ مسعود میں نہ تھا۔ اہل اشراق عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہ میں ایسے ”تعلیمی اور تربیتی سنٹر“ دکھلا دیں ہم بھی موسیقی کو تسلیم کر لیں گے، اگر نہیں تو امت کو امورِ جاہلیت سے بچائیں، دین و ملت کی یہی خدمت ہے۔ دوبارہ دورِ جہالت میں شامل کرنے کی جسارت مت کیجیے، اسی میں اس کا بھلا ہے۔