عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: کیا سنت کے بغیر قرآن حکیم کو سمجھا جا سکتا ہے؟
جواب: سنت کے بغیر قرآن حکیم سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کے بعد سب سے زیادہ تاکید اقامتِ صلوٰۃ کی فرمائی مگر سنت کے بغیر اس حکم پر عمل بھی ممکن نہیں۔ چند آیات ملاحظہ فرمائیں: [حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الۡوُسۡطٰی] نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص وسطیٰ نماز کی۔(البقرۃ:238)
وسطیٰ نماز سے کیا مراد ہے؟ جب تک نمازوں کی کل تعداد معلوم نہ ہو، وسطیٰ نماز کیسے معلوم ہو سکتی ہے۔ نمازوں کی تعداد کا ذکر قرآن حکیم میں نہیں۔ معلوم ہوا کہ وحی خفی کے ذریعے مسلمانوں کو اطلاع دی ہوئی تھی۔ اسی طرح فرمایا:جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کر کے پڑھو۔اس آیت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نماز کو سفر میں کتنا کم کیا جائے۔ پھر نماز کے کم کرنے کا تصور اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ معلوم ہو سکے کہ پوری نماز کتنی ہے۔ یہ بھی فرمایا: [فَاِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا اَوۡ رُکۡبَانًا ۚ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ] اگر تم خوف میں ہو تو نماز پیدل یا سواری پر پڑھ لو لیکن جب امن ہو جائے تو اسی طریقہ سے اللہ کا ذکر کرو، جس طرح اس نے تمہیں سکھایا اور جس کو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔ (البقرۃ:239)
اس آیت میں واضح ہے کہ نماز پڑھنے کا کوئی خاص طریقہ مقرر ہے جو بحالتِ جنگ معاف ہے اس طریقہ تعلیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا۔ نماز کا طریقہ اور اس کے اوقات وغیرہ قرآن مجید میں کہیں مذکور نہیں پھر اللہ نے کیسے سکھایا، معلوم ہوا کہ قرآن مجید کے علاوہ وحی آئی ہے۔ یہ آیت بھی قابلِ غور ہے: [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنۡ یَّوۡمِ الۡجُمُعَۃِ فَاسۡعَوۡا اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ ذَرُوا الۡبَیۡعَ] اے ایمان والو! جب تمہیں جمعہ کے دن نماز کے لیے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ (الجمعة:9)
معلوم ہوا کہ جمعہ کی نماز کا اہتمام باقی دنوں کے علاوہ خاص درجہ رکھتا ہے۔ اس نماز کا وقت کون سا ہے؟ بلانے کا طریقہ کیا ہے؟ اس کی رکعات کتنی ہیں؟ قرآن مجید اس سلسلہ میں خاموش ہے اور کوئی شخص آیاتِ قرآنی کے ذریعے نماز کی تفصیل نہیں جان سکتا، جب تک وہ حدیث کی طرف رجوع نہ کرے۔
سوال: کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی قرآن مجید کا مفہوم حدیث کے بغیر سمجھنے میں غلطی کھا سکتے ہیں؟
جواب: یقیناً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی قرآن مجید کا مفہوم سمجھنے کے لیے حدیثِ رسول کے محتاج ہیں۔ قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی: [اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ] اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کے اندر ظلم کی ملاوٹ نہیں کی وہی امن پانے والے ہیں اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (الأنعام:82)
مذکورہ بالا آیتِ کریمہ سے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو ظلم سمجھا، اس لیے یہ آیت ان لوگوں پر گراں گزری۔ لہٰذا عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم میں کون ہے کہ جس نے ایمان کے ساتھ کوئی گناہ نہ کیا ہو؟ تو آپﷺ نے فرمایا: اس ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے قرآن حکیم میں لقمان (علیہ السلام) کا یہ قول نہیں پڑھا: [اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ] شرک ظلمِ عظیم ہے۔ [بخاری، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، باب ما جاء في المتأولين:6937]،[مسلم، كتاب الإيمان، باب صدق الإيمان وإخلاصه: 124]
سوال: کیا سنت قرآن مجید کی آیت میں موجود شرط کو ختم کر سکتی ہے؟
جواب: جی ہاں اور اس کی مثال سفر میں نمازِ قصر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَلَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوۃِ ٭ۖ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ یَّفۡتِنَکُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا] اور جب تم سفر پر جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کچھ کم کر کے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر تم کو ایذا دیں گے۔ (النساء: 101)
آیتِ بالا میں نمازِ قصر ایسے سفر کے ساتھ مشروط ہے جس میں خوف بھی ہو، اس لیے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺسے سوال کیا کہ اب تو امن کا زمانہ ہے اور ہم پھر بھی قصر کرتے ہیں تو رسول اللہﷺنے فرمایا:اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ ہم حالتِ امن کے سفر میں قصر کریں، یہ تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی رعایت ہے، پس اس رعایت کو قبول کرو۔ [مسلم، کتاب الصلاة المسافرين وقصرها، باب صلاة المسافرين وقصرها:686]